عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'
لائیو کوریج
امریکی میڈیا کا کابل میں ڈرون حملے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار
افغانستان میں امریکی افواج کے ڈرون حملے کو امریکی میڈیا میں چیلنج کیا گیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا، لیکن حقیقت میں ایک فلاحی کارکن کو مارا گیا۔
امریکی فوج کی جانب سے اخباری رپورٹوں میں ان اطلاعات کی بھی تردید کی گئی ہے کہ بمبار نے دوپہر کے بعد امریکی فوجی اڈے کے سامنے حملہ کیا۔
پینٹاگون کے ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی یقین ہے کہ ایک ’ممکنہ خطرہ‘ ٹل گیا ہے۔
متاثرین کے رشتہ داروں نے 8 اگست کو بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملے میں ان کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
امریکی فوج ہائی الرٹ تھی کیونکہ تین دن پہلے ایک خودکش حملہ آور نے 100 سے زائد شہریوں اور 13 امریکی فوجیوں کو کابل ایئر پورٹ کے باہر ہلاک کر دیا تھا۔
ٹائمز اور پوسٹ کی تصاویر اور ویڈیو کلپس کا جائزہ لینے اور ماہرین سے مشاورت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ٹارگٹڈ گاڑی میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں رکھا گیا تھا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اسے اس شخص کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک تھا۔
لیکن ٹائمز اور پوسٹ کے مطابق جس شخص کو نشانہ بنایا گیا اس کا نام زمرائی احمدی تھا، جس نے این آئی اے نامی فلاحی ادارے کے لیے خوراک اور تعلیم کے شعبے میں کام کیا، اس ادارے کا صدر دفتر کیلیفورنیا میں ہے۔
پنجشیر میں شہریوں کی گرفتاریوں اور’فیلڈ ٹرائلز‘ کی اطلاعات، طالبان کی تردید
،تصویر کا ذریعہSocial Media
افغان سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پنجشیر میں طالبان افواج ’فیلڈ ٹرائلز‘ کر رہی ہیں۔
ان ویڈیوز میں سے ایک میں طالبان کو پنجشیر روڈ پر ایک شخص پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
پنجشیر کے ضلع انابا میں اماج نیوز نیٹ ورک کے مطابق، ویڈیو میں ایک غیر مسلح شہری بظاہر طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اسی ویڈیو میں سویلین کپڑوں میں ملبوس ایک اور شخص کو حراست میں لیا جا رہا ہے، وہ طالبان فورسز سے بھیک مانگ رہا ہے کہ وہ ایک شہری ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’میرے پاس میرا کارڈ ہے۔ میں ایک سویلین ہوں۔‘
طالبان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گروپ کی افواج عام شہریوں کو کچھ نہیں کہہ رہیں اور انھوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پنجشیر نہ چھوڑیں۔
طالبان کے ترجمان عبدالحق وثیق نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزامات درست نہیں ہیں۔
وثیق نے کہا کہ ’ان (پنجشیر کے لوگوں) کو اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ پنجشیر میں ’نہ جنگ ہے اور نہ ہی کسی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘
حالیہ دنوں میں صوبہ پنجشیر میں شہریوں کی گرفتاریوں اور ’فیلڈ ٹرائلز‘ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دریں اثنا افغان ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ شہرزاد اکبر نے ان رپورٹس کو ’چونکا دینے والا‘ قرار دیا اور طالبان سے آزادانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اکبر نے لکھا ’پنجشیر سے آنے والی رپورٹیں چونکا دینے والی ہیں۔ شہریوں کا جان بوجھ کر قتل جنگی جرم ہے۔ طالبان کو آزادانہ تفتیش میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بی بی سی کے نامہ نگار حسیب عمار نے ان کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’مجھے پنجشیر کے علاقے عمرز کے رہائشیوں کی تصاویر اور آڈیو کلپ موصول ہوئی ہیں جو کہ علاقے میں شہریوں کے وحشیانہ قتل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔ لیکن یہ تصاویر اتنی دردناک ہیں کہ میں انھیں دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے مزید لکھا ’مجھے بتایا گیا کہ لاشیں کچھ عرصے سے زمین پر پڑی ہوئی ہیں اور کوئی بھی انھیں دفن نہیں کر سکتا۔‘
افغان سوشل میڈیا پر پنجشیر وادی کے اندر گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے کی تصاویر وائرل رہا ہے، کہا جا رہا ہے یہ افراد طالبان کے حکم پر صوبہ چھوڑ رہے ہیں۔
صحافی سمیع مہدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر کے مطابق لوگوں کو پنجشیر سے زبردستی منتقل کیا جا رہا ہے۔
مہدی نے کہا ’میرے ایک ہم جماعت، جو پنجشیر بازار کے رہائشی ہیں، نے مجھے بتایا کہ تقریبا 90 فیصد آبادی علاقہ چھوڑ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بازار کے ملیہ گاؤں کے تمام باشندوں میں سے صرف ایک خاندان باقی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے ’پنجشیر کی پراسرار وادی میں واقعی کیا ہو رہا ہے؟‘ اس رپورٹ کے مطابق تسنیم کے رپورٹرز طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد پہلی بار وسطی پنجشیر گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چند خاندانوں اور طالبان افواج کے علاوہ کوئی بھی پنجشیر میں موجود نہیں ہے اور کچھ علاقوں میں بجلی منقطع ہے۔
بہت سے رہائشیوں نے اپنے گھر اور دکانیں بند کر کے شہر چھوڑ دیا ہے۔ ’شہر میں زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہے اور بچ جانے والوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر جو بائیڈن کی ’نااہلی‘ پر تنقید، یادگاری تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گیارہ ستمبر حملوں کے 20 برس مکمل ہونے پر امریکہ کے افغانستان سے انخلا کو ’نہایت برا‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ صدر جو بائیڈن کی ’نااہلی‘ پر تنقید کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے ایک پولیس سٹیشن کے دورے پر تھے۔
’ایسا لگا جیسے ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں، جیسے ہم نے ہار مان لی ہے۔ جس کے لیے سرینڈر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔‘
’مگر ہم نے سرینڈر نہیں کیا، ہمارے لوگوں نے سرینڈر نہیں کیا اور ہمارے سپاہیوں نے تو بالکل بھی سرینڈر نہیں کیا۔‘
اپنے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت امریکہ کو مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لینی تھیں۔
بدلے میں طالبان سے یقین دہانیاں حاصل کی گئیں۔
مگر انخلا اُن کے بعد صدر جو بائیڈن کے دور میں مکمل ہوا۔ طالبان نے 15 اگست کو ہی کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کو دو ہفتوں کی مہلت دی تاکہ وہ اپنے شہریوں اور اُن کے افغان سہولت کاروں کو ملک سے نکال لیں۔
ٹرمپ آج نیو یارک میں گراؤنڈ زیرو پر ہونے والی تقریب میں بھی نہیں گئے تھے جو ہر سال گیارہ ستمبر کے موقع پر منعقد کی جاتی ہے، حالانکہ بائیڈن اور سابق صدور بل کلنٹن اور باراک اوبامہ یہاں موجود تھے۔
نائن الیون: اب بھی 40 فیصد ہلاک لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ جاننا بہت حیران کُن ہو سکتا ہے کہ 20 سال گزر جانے کے بعد اب بھی گیارہ ستمبر حملوں کے کئی شکار افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ان عمارتوں میں آتشزدگی اتنی بھیانک تھی اور تباہی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی تھی کہ ہلاک ہونے والے بہت سے لوگوں کی شناخت کبھی نہیں ہو سکی۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں انشورنس بروکر کے طور پر کام کرنے والی ڈوروتھی مورگن حملے کے دن سے اب تک لاپتا تھیں۔
مگر اب رواں ہفتے اُنھیں 1646 ویں ہلاک شخص کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے جبکہ اسی ہفتے 1647 ویں شخص کی بھی شناخت ہوئی ہے۔
ڈی این اے ٹیکنالوجی میں ترقی سے اب ہڈیوں کے چھوٹے سے ٹکڑوں کا بھی ڈی این اے تجزیہ کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ کون لوگ تھے۔
واضح رہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہونے والی 2753 ہلاکتوں میں سے 40 فیصد لوگوں کی شناخت اب بھی نہیں ہو پائی ہے۔
طبی تحقیق کار اب بھی انسانی باقیات کے 22 ہزار ٹکڑوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انھیں شناخت دی جا سکے۔
نیویارک شہر کی چیف میڈیکل ایگزامنر ڈاکٹر باربرا سیمپسن کہتی ہیں: ’11 ستمبر 2001 کو چاہے جتنا بھی عرصہ گزر جائے، ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارے پاس جو بھی وسائل ہیں، ہم اُنھیں استعمال کرنے کا عہد کرتے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کو اُن کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔‘
افغان پناہ گزینوں کا معاملہ: ’جن ممالک کی پالیسیوں سے حالات یہاں تک پہنچے، اُن کی بنیادی ذمہ داری ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنروسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور قطری وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی ماسکو میں، 11 ستمبر 2021
روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے افغان پناہ گزین افراد کے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں بنیادی کردار اُن ممالک کا ہونا چاہیے ’جن کی افغانستان میں پالیسی کی وجہ سے یہ افسوسناک حالات پیدا ہوئے ہیں۔‘
ماسکو میں اپنے قطری ہم منصب محمد بن عبدالرحمان الثانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا ’ہم (روس اور قطر) افغانستان کے انسانی مسائل کے حل کو ترجیحی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ جو کچھ ہوا اُس کے انسانی نتائج بہت سنگین ہیں۔‘
’ہمیں افغانستان سے پناہ گزینوں کے پڑوسی ملک جانے کے حوالے سے مشترکہ تشویش ہے، جن میں سے کئی لوگ یورپ جانے کی کوشش کریں گے مگر اس دوران اُن ممالک کے لیے سخت مشکلات پیدا کریں گے جہاں وہ بن بلائے طور پر جا پہنچیں گے۔‘
’ہم نے اس مسئلے کے فوری حل کے لیے زور دیا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام دلچسپی رکھنے والے ممالک کی صلاحیتیں شامل ہوں، خاص طور پر وہ ممالک جن کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات اس افسوسناک نہج تک پہنچے ہیں۔‘
کابل میں 11 ستمبر حملوں کے بارے میں لوگ کیا سوچ رہے ہیں؟, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز، کابل
،تصویر کا ذریعہSecunder Kermani
گیارہ ستمبر کے حملوں کے نتیجے میں امریکہ کے بعد جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ افغانستان تھا جہاں آج کابل شہر میں بمشکل ہی کسی کو معلوم ہے کہ دنیا آج گیارہ ستمبر کو یاد کر رہی ہے۔
کچھ لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ 20 سال قبل نیویارک میں ہوا کیا تھا جبکہ کچھ لوگوں کی اس سانحے سے جڑی یادوں میں اپنے ملک کے لیے پیدا ہونے والے مشکلات بھی شامل ہیں۔
ایک شخص نے مجھ سے کہا: ’مجھے مارے جانے والوں سے ہمدردری ہے مگر ہم نے افغانستان میں گیارہ ستمبر سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔‘
مگر گیارہ ستمبر کے حملوں کے کچھ ہی ماہ بعد پیدا ہونے والے ایک شخص کے تاثرات کچھ مثبت تھے: ’اُنھوں نے ہماری زندگیاں بدل دیں۔‘
وہ خواتین کی تعلیم کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔
اور اب وہ خود انتہائی مضطرب ہیں اور ملک سے نکلنے کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔
حکومت خاتمے کے بیس سال بعد آج کابل میں ایک مرتبہ پھر طالبان کے پرچم لہرا رہے ہیں۔
کئی شہری ماضی کا سوچ کر تلخ ہو جاتے ہیں مگر اُن کی توجہ موجودہ وقت پر زیادہ ہے۔
ایک عمر رسیدہ خاتون نے ہم سے کہا: ’میں چاہتی ہوں کہ امن ہو، تحفظ ہو، غربت ختم ہوں اور نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں۔‘
پشاور میں ماحول کیسا ہے؟, جان سمپسن، ایڈیٹر، ورلڈ افیئرز
درّہ خیبر ایک ہیبت ناک جگہ ہے جہاں ماضی کے تنازعے کی علامات جا بجا نظر آتی ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہاں طورخم کی سرحدی چیک پوسٹ ہے اور یہاں پاکستان میں داخل ہونے کی آس لیے سینکڑوں افغان شہری جمع ہیں۔
یہاں پاکستانی اور طالبان سپاہی ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود ہیں اور ایک طرف پاکستان کا سبز پرچم ہے تو دوسری جانب طالبان کا سفید پرچم۔
صرف اُن لوگوں کو پاکستان میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے جن کے پاس دستاویزات ہیں کہ اُنھیں پاکستان میں علاج کی ضرورت ہے۔
جو لوگ داخل نہیں ہو پاتے، وہ کامیاب ہونے والوں کو حسرت و حسد بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔
طالبان سپاہی بات کرنے پر رضامند تھے مگر جس سے میں بات کر رہا تھا اسے اُس کے کمانڈر نے ڈپٹ کر بھگا دیا۔
میں اب جن طالبان سے مل رہا تھا وہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت کے طالبان سے ایک پوری نسل بعد کے تھے۔
میں نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے اور بعد میں طالبان کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے اور یہ اب بھی ویسے ہی معلوم ہو رہے ہیں جیسے کہ پہلے ہوا کرتے تھے۔
لگتا نہیں کہ ان میں کچھ بھی تبدیل ہوا ہے، اُن کا رویہ اور تصورات تو بالکل بھی نہیں۔
گیارہ ستمبر حملوں کو بیس سال مکمل، امریکہ میں تقریبات جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کی دوسری جانب امریکہ میں آج گیارہ ستمبر کے حملوں کو 20 سال مکمل ہونے پر یادگاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
اس حوالے سے مرکزی تقریب نیو یارک شہر میں ہو رہی ہے جہاں صدر جو بائیڈن اور خاتونِ اوّل جِل بائیڈن بھی شریک ہیں۔
اُن کے ہمراہ سابق صدور بارک اوبامہ اور بل کلنٹن بھی موجود ہیں۔
اس موقع پر دو مرتبہ ایک ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز سے طیارے ٹکرائے تھے۔
گیارہ ستمبر 2001 کو آٹھ بج کر 46 منٹ پر پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے ٹکرایا تھا اور پھر نو بج کر 3 منٹ پر جنوبی ٹاور سے دوسرا طیارہ ٹکرایا تھا۔
ان حملوں کے نتیجے میں تین ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
اب اس جگہ پر ایک میوزیم اور ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر نامی بلند و بالا عمارت قائم ہے۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں کے فوراً بعد امریکہ نے القاعدہ نامی شدت پسند تنظیم کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے افغانستان پر حملہ کر دیا۔
امریکہ کا مؤقف تھا کہ طالبان نے القاعدہ کو محفوظ ٹھکانہ فراہم کیا جس کے باعث وہ امریکہ پر حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔
افغانستان پر حملے کے بعد دسمبر 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور مئی 2011 میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن میں ہلاک ہوئے۔
بیس سال تک جاری رہنے والی افغان جنگ کا اختتام 31 اگست کو اس وقت ہوا جب آخری امریکی فوجی بھی افغان سرزمین سے چلے گئے۔
اس سے پہلے 15 اگست کو ہی طالبان کابل سمیت پورے ملک کا قبضہ سنبھال چکے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا نے 9/11 سے متعلق سازشی نظریات کو کیسے بڑھاوا دیا
طالبان کی نئی عبوری کابینہ میں کون کون شامل ہے؟
افغانستان میں طالبان کی نئی عبوری کابینہ کی حلف برداری کی تقریب 11 ستمبر کو متوقع تھی لیکن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ حلف برداری کی تقریب ’اب پلان کا حصہ نہیں-‘
تاہم اس عبوری کابینہ میں کون کون سے اہم طالبان لیڈر شامل ہیں؟ جانیے خدائے نور ناصر اور محمد ابراہیم کی اس ویڈیو میں۔
’لیتھیم کا سعودی عرب‘ کہلائے جانے والے افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟
،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان کی معیشت کی حالت ’نازک‘ ہے اور اس کا انحصار بیرونی مالی امداد پر ہے۔
طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے چند ماہ پہلے ہی ورلڈ بینک نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں یہ پریشان کُن تجزیہ پیش کیا تھا۔
افغانستان کی معیشت کا مستقبل اب مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس کو ملنے والی مالی امداد مستقبل میں بھی ملتی رہے گی یا نہیں اس پر شک و شبہات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں امداد دینے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
افغانستان کے پاس کافی تعداد میں معدنی وسائل ہیں لیکن موجودہ سیاسی صورتحال نے اُن کا صحیح استعمال کرنے کی سارے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔
افغانستان جس طرح سے بیرونی مالی امداد پر انحصار کرتا ہے یہ ایک حیران کُن بات ہے، سنہ 2019 میں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ترقیاتی کاموں کی مد میں ملنے والی امداد ملک کی گراس نیشنل آمدن کا 22 فیصد تھی۔
یہ اعدادوشمار بہت گھمبیر ہیں لیکن آج سے دس برس قبل ورلڈ بینک نے ہی اس شرح کو 40 فیصد بتایا تھا۔
لیکن اب یہ مالی امداد جاری رہے گی یا نہیں اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔
بریکنگ, پی آئی اے کی وضاحت: کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے وضاحت کی ہے کہ کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔
خیال رہے کہ کچھ دیر قبل ترجمان پی آئی اے نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ پی آئی اے پیر سے کابل کے لیے پروازیں بحال کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔
ترجمان پی آئی اے
کا مزید کہنا ہے کہ پروازوں کی روانگی سے قبل اس بارے میں مکمل معلومات مہیا کی جائیں گی اور چارٹر پروازوں کے حصول کے لیے پی آئی اے کے کابل یا اسلام آباد آفس سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
کیا پاکستانی کرنسی میں تجارت افغانستان کی معیشت ’کنٹرول‘ کرنے کی کوشش ہے؟
1997 میں طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟
سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے۔
اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر ایڈٹ: محمد ابراہیم
پاکستان کی طرف سے امدادی سامان کی تیسری کھیپ خوست پہنچا دی گئی
پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا عمل جاری ہے اور اب سےکچھ دیر قبل امدادی سامان کی تیسری کھیپ صوبہ خوست پہنچا دی گئی ہے۔
پاکستانی سفیر برائے افغانستان منصور احمد خان کے مطابق پاکستان سے ایک اور C-130 تھوڑی دیر پہلے خوراک، ادویات سمیت امدادی سامان لے کر خوست پہنچا ہے۔
امدادی سامان کی اس کھیپ کو خوست کے صوبائی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
طالبان کا افغانستان: 23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا
15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا اور ملک کے صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔
طالبان اس سے قبل نوے کی دہائی میں افغانستان میں برسراقتدار رہ چکے ہیں۔ جانیے اس وقت کا مرتضیٰ بلخی کا آنکھوں دیکھا حال
کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟
،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔
وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔
ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔
مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔
پی آئی اے کا پیر سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اگلے ہفتے اسلام آباد سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایئرلائن کے ترجمان نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے گذشتہ ماہ اقتدار پر قبضے کے بعد یہ پہلی غیر ملکی کمرشل سروس ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا ’ہمیں فلائٹ آپریشن کے لیے تمام تکنیکی منظوری مل گئی ہے۔ ہمارا پہلا کمرشل طیارہ ، (ای) ایئربس اے 320، 13 ستمبر کو اسلام آباد سے کابل کے لیے روانہ ہوگا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘
چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔
ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس
خواتین کے معاملے پر ترکی نے طالبان کو کیا مشورہ دیا؟
،تصویر کا ذریعہReuters
ترک وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں خواتین کی حقوق کے معاملے پر افغانستان کی عبوری حکومت کو ایک اہم مشورہ دیا گیا۔
ترکی کے ساتھ ساتھ میکسیکو، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے افغانستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی اور حملے میں ہلاک ہونے والے افغان، امریکی اور برطانوی عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
اس مشترکہ بیان میں طالبان سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی خواتین کی شرکت کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
افغانستان کی عبوری حکومت کی کابینہ میں خواتین کی کوئی موجودگی نہیں ہے اور طالبان نے بارہا کہا ہے کہ خواتین حکومت میں بطور وزیر موجود نہیں ہوں گی۔
اس کے ساتھ ہی ہرات سے کابل تک خواتین کے برقعے میں دکھائی دینے کی اطلاعات ہیں۔
ترکی نے ان تمام ممالک کے ساتھ مل کر طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ پچھلے سالوں میں افغانستان کی خواتین کی طرف سے کی گئی پیش رفت کو ضائع نہ ہونے دیں۔