عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. ملالہ یوسفزئی کا حامد کرزئی سے رابطہ: ’افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں‘

    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ انھوں نے افعانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے کہا ہے کہ وہ افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

    ٹوئٹر پر یہ خبر شئیر کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں پر مارچ کرنے والی خواتین کے تحفظ، تعلیم اور کام کاج کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. اقوامِ متحدہ: امداد کو روکا نہ جائے لیکن ضمانت دیں طالبان غلط استعمال نہیں کریں گے

    EPa

    اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ افغان حکومت کے لیے اربوں ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ ​​روکنے سے شدید کساد بازاری اور ملک بھر میں بھوک اور غربت میں ریکارڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر موجودہ بحران حل نہ ہوا تو افغانستان کی تقریباً 97 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے آسکتی ہے۔

    ’معیشت اور معاشرتی نظام کے مکمل خاتمے کو روکنے کے لیے‘ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی ڈیبورا لائنز نے جمعرات کو مندوبین سے کہا کہ امداد کی رقم افغانستان بھیجی جائے لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی ضمانت دی جائے کہ طالبان اس کا غلط استعمال نہ کریں۔

    ڈیبورا لیونز نے مزید کہا کہ افغانستان کو ’کئی نسلیں پیچھے جانے کا خطرہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’افغانستان کی معیشت کو کچھ مزید مہینوں تک سنبھلنے کی اجازت دی جانی چاہیے اور طالبان کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ حقیقی لچک اور عزم ظاہر کریں، خاص طور پر انسانی حقوق کے حوالے سے۔‘

    امریکہ نے طالبان کے عروج کے بعد افغان حکومت کے تقریباً 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے (جنھوں نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا) فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ نے اصرار کیا ہے کہ وہ طالبان پر عائد پابندیوں کو کم نہیں کرے گا اور نہ ہی اسلامی گروہوں کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندیاں ختم کرے گا۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے افغان حکومت کے خاتمے کے بعد سے تقریباً 440 ملین ڈالر تک طالبان تک رسائی روک دی ہے۔

    جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں سینئر امریکی سفارت کار جیفری ڈیلورینٹیس نے کہا کہ طالبان بین الاقوامی جواز اور حمایت کے خواہاں ہیں۔ ہمارا پیغام آسان ہے: کوئی بھی جواز اور حمایت حاصل کی جانی چاہیے۔

    سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین نے افغان حکومت پر طاقت استعمال کرنے یا پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔

    Social Media
  3. طالبان اور القا‏‏عدہ کے درمیان بیعت کا معاملہ کتنا گھمبیر ہے؟

  4. افغانستان: پرائمری تک لڑکیوں کے سکول کھلے ہیں مگر اساتذہ کو مستقبل کے خدشات لاحق, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز کابل

    ببث

    ہوا میں اپنے ہاتھ لہراتے ہوئے، چھ اور سات سالہ لڑکیوں کی ایک کلاس بے تابی سے اپنے استاد کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ، ہر ایک کی خواہش ہے کہ فارسی گرائمر کے بارے میں کیے جانے والے سوال کا جواب دینے کے لیے اسے ہی چنا جائے۔

    کابل میں منوچہری پرائمری سکول 2001 میں امریکی حملے اور طالبان کی شکست کے بعد لڑکیوں کے لیے دوبارہ کھلنے والا پہلا سکول تھا۔

    اس وقت یہاں صرف ایک ہی کمرہ تھا، جس میں طالبات مٹی کے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتی تھیں۔

    سنہ 1996 میں شروع ہونے والے طالبان کے دور میں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی اور خواتین اساتذہ کو گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    عائشہ مصباح انھی اساتذہ میں سے ایک تھیں۔ اب وہ ہیڈ ٹیچر ہیں اور فخر کے ساتھ نئے تعمیر کیے گئے کلاس روم دکھاتی ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ ان کی بہت سی شاگرد ڈاکٹر، انجینئر یا سکول میں ہی اساتذہ بن چکی ہیں ’یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہماری طالبات بہت ذہین ہیں۔ وہ بہت تخلیقی صلاحیتوں کی مالک ہیں اور ایسی ایسی خوبصورت چیزیں بناتی ہیں کہ ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ طالبان یہ سب جاری رکھنے دیں گے۔‘

    BBC
  5. ’ہماری آواز تاریخ بدلے گی‘

    کابل میں منگل کے روز سینکڑوں لوگ سڑکوں پر خواتین کے حقوق اور طالبان کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے نکلے۔ مظاہرین پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پاکستان طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    جائے وقوعہ کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان نے اس بڑے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے شدید فائرنگ کی۔

    مزید جانیے سکندر کرمانی، ملک مدثر کی اس ویڈیو میں۔۔

  6. طالبان کے تابع افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز کیسا ہے

  7. اقوام متحدہ کے سربراہ: طالبان سے مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے

    اقوام متحدہ، طالبان، مذاکرات، معیشت

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیریز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ ملک میں ’معاشی بدحالی‘ سے ممکنہ طور پر لاکھوں افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

    اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان سے مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے جن میں ہم انھیں براہ راست اپنے اصولوں سے آگاہ کر سکیں۔ ان مذاکرات سے ہم افغانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرسکتے ہیں۔‘

    ااقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ ان مذاکرات سے کیا حاصل ہوگی، اس کی ’کوئی ضمانت نہیں‘۔

    ’مگر مذاکرات لازم ہیں ’اگر ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ نہ بنے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خواتین اور لڑکیاں اپنے وہ تمام حقوق نہ کھو دیں جو انھوں نے گذشتہ عرصے میں حاصل کیے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مختلف نسلوں کے لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔‘

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ میں (طالبان پر سے) پابندیاں اٹھانے یا تسلیم کرنے کی بات نہیں کر رہا۔ میں افغان معیشت کی بحالی کے لیے مخصوص اقدامات کی بات کر رہا ہوں۔‘

    انٹونیو گٹیریز کا کہنا تھا کہ طالبان چاہتے ہیں انھیں عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے، ان پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں اور ان کی مالی معاونت کی جائے۔ ’اس سے عالمی برادری پر ان دباؤ ڈال سکتی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا احترام چاہتے ہیں۔۔۔ منشیات کے خلاف جنگ میں طالبان کو تعاون کرنا ہوگا۔‘

  8. ’افغانستان میں معاشی، سماجی نظام کی مکمل تباہی کو روکا جائے‘, اقوام متحدہ کی سفیر کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں بیان

    کابل

    افغانستان کے غیر ملکی اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے تاکہ یہ طالبان کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ مگر اب اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ’شدید معاشی بحران‘ آسکتا ہے جو مزید لاکھوں افغانوں کو غربت اور بھوک میں دھکیل دے گا۔

    اقوم متحدہ کی خصوصی سفیر برائے افغانستان ڈیبرا لوئنز نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ ایک راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس سے ملک میں پیسے داخل کیے جاسکیں تاکہ ’معاشی اور سماجی نظام کی مکمل تباہی کو روکا جائے۔‘ ساتھ انھوں نے کہا کہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ یہ پیسے طالبان کی جانب سے غلط استعمال نہ کیے جائیں۔

    ’معیشت کو کچھ ماہ کے لیے سانس لینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ طالبان کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اس بار مختلف اقدامات کر سکیں جن میں انسانی حقوق، صنفی برابری، انسداد دہشتگردی شامل ہیں۔‘

    افغان سنٹرل بینک کے 10 ارب ڈالر کے اثاثوں کی اکثریت دوسرے ممالک میں ہے۔ خیال ہے کہ اس کی مدد سے مغربی ممالک طالبان پر دباؤ ڈال سکیں گے۔

    امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس طالبان پر پابندیاں نہیں ہٹائیں گے۔ جبکہ آئی ایم ایف نے بھی افغانستان کے لیے قریب 44 کروڑ ڈالر بطور ایمرجنسی امداد بلاک کر دی ہے تاکہ طالبان اسے استعمال نہ کرسکیں۔

    اقوام متحدہ کی سفیر نے تسلیم کیا کہ انھیں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ’انھوں نے کچھ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو محدود کر دیا ہے اور افغانستان میں خواتین کے امور کے محکمے کو بند کر دیا ہے۔‘

    اس اجلاس میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی میں موجود تھیں جنھوں نے افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیم و تحفظ پر زور دیا۔

  9. کابل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی پر امریکہ کا خیر مقدم

    کابل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی پر امریکہ کا خیر مقدم

    امریکی دفتر خارجہ نے جمعرات کو کابل سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی اور اپنے شہریوں کی دوحہ روانگی کا خیر مقدم کیا ہے۔

    ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکہ کو توقع ہے کہ مزید لوگ افغانستان سے ہوائی یا کسی اور طریقے سے نکل سکیں گے۔

    اس بیان میں طالبان حکام سے کہا گیا ہے کہ ’ایسے مزید اقدامات پر عالمی برادری خوش ہوگی۔‘

    تاہم انھوں نے اس پر بات نہیں کی کہ اس پرواز پر کتنے امریکی شہری سوار تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے 30 امریکیوں اور مستحق افراد کو بلایا تھا مگر تمام افراد نے یہ پیشکش قبول نہیں کی تھی۔

    خیال رہے کہ برطانوی سمیت درجنوں بین الاقوامی مسافر افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پہلی بار لوٹ رہے ہیں۔ جمعرات کو قطر ایئرویز کی چارٹر پرواز دوحہ پہنچی ہے اور ایسی ہی ایک دوسری پرواز جمعے کو پہنچے گی۔

    دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں اس پرواز کو ’محتاط، مشکل سفارتکاری اور رابطوں‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

  10. طالبان کی نئی عبوری حکومت کی افتتاحی تقریب میں کون کون سے ممالک شریک ہوں گے؟

    طالبان جو اپنے آپ کو امارات اسلامی افغانستان کہلاتے ہیں کی نئی عبوری حکومت کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان سمیت مختلف ممالک کو دعوت نامے بھجوا دیے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    طالبان کے مطابق اس تقریب میں پاکستان ،چین، ترکی، مصر، قطر ، متحدہ عرب امارت، روس اور ازبکستان، کے نمائندے شرکت کریں گے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کو دعوت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔

  11. قطر کی ’سمارٹ پاور‘: چھوٹا سا خلیجی ملک ایک مضبوط عالمی ثالث کیسے بنا؟

  12. پہلی پرواز میں امریکی اور دیگر مغربی ممالک کے باشندے بھی موجود ہوں گے: قطری حکام

    plane

    قطری اور طالبان حکام کا کابل ایئرپورٹ پر کی گئی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ لینڈنگ کے آلات، ریڈار اور دیگر آلات مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں تاہم ابھی کچھ تکنیکی مسائل ہیں اور اسے 90 فیصد بحالی کہا جا سکتا ہے۔

    اس موقع پر جب صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ پہلی پرواز پر کون کون ہو گا، تو ان کا کہنا تھا کہ اس پر غیر ملکی، امریکی اور مقامی افراد بھی موجود ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں اسے ’انخلا‘ نہیں بلکہ ’آزادانہ منتقلی‘ کا نام دینا چاہیے۔

    اس دوران ذبیح اللہ مجاہد نے کابینہ سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے اجتناب کیا اور کہا کہ اس وقت صرف ایئرپورٹ سے متعلق سوالات کیے جائیں۔

  13. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کے آغاز کا اعلان

    کابل ہوائی اڈہ

    قطری حکام نے کابل ایئرپورٹ پر منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے اور اب یہ 90 فیصد آپریشنل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ قطر ایئرویز کی ایک پرواز غیرملکی مسافروں کو لے کر جمعرات کو ہی کابل سے روانہ ہو گی۔

    خیال رہے کہ امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ کے انخلا پروگرام کے ختم ہونے کے بعد بھی افغانستان میں موجود امریکی شہریوں میں سے 200 کو چارٹر طیارے سے اپنے ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

  14. بریکنگ, طالبان کی جانب سے پابندی کے باوجود افغانستان میں جمعرات کو پھر مظاہرے

    افغانستان میں مظاہرے (فائل فوٹو)

    طالبان کی جانب سے پیشگی اجازت کے بغیر مظاہروں پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود افغانستان کے کئی علاقوں میں جمعرات کو ایک بار پھر مظاہرے ہوئے ہیں۔

    دارالحکومت کابل میں مظاہرین پاکستانی سفارتخانے کے قریب جمع ہوئے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں منتشر کرنے کے لیے طالبان نے فائرنگ بھی کی۔

    کابل میں ہونے والے مظاہرے میں شامل افراد ’ہم آزادی چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

    کابل کے علاوہ کپیسا، پروان اور نمروز کے صوبوں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ اعماج نیوز کے مطابق پروان میں بھی طالبان کی جانب سے ایک مظاہرے کے شرکا پر گولی چلائی گئی ہے۔

    اس مظاہرے کے شرکا ’ہماری آواز کوئی نہیں دبا سکتا‘ اور ’پاکستان مردہ باد‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

    اس سے قبل بدھ کو بدخشاں میں درجنوں خواتین نے ملک کی عبوری حکومت میں ایک بھی خاتون کو شامل نہ کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

    طالبان کے وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ مظاہروں پر پابندی کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ان کی آڑ میں سکیورٹی کو ناکام بنانے، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش میں ہیں۔

  15. مشرقی افغانستان میں ریڈیو سٹیشنز مالی مشکلات کے باعث بند ہونے کے قریب, بی بی سی مانیٹرنگ

    radio
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    نجی ٹی وی چینل شمشاد ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیا میں متعدد نجی ریڈیو سٹیشن مالی مشکلات کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں۔

    حکام کے مطابق ریڈیو سٹیشنز کو ملنے والے اشتہارات طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے رک گئے ہیں جس کے باعث مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    اس وقت پکتیا میں چھ ریڈیو سٹیشنز کام کر رہے ہیں جن میں سے دو ریڈیو سٹیشن چمکنی ضلع میں موجود ہیں۔

    ریڈیو سٹیشن میں کام کرنے والے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر شمشاد ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نشریات میں کچھ تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ خاص طور پر موسیقی چلانے سے متعلق۔

    ایک اور ورکر نے کہا کہ ’ہمیں تاحال جان کا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہمیں مالی مشکلات کی وجہ سے تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔‘

  16. کوئٹہ میں پناہ ڈھونڈنے والے 50 افغان خاندان ڈی پورٹ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔

    اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔ مزید جانیے محمد کاظم، خیر محمد اور نعمان مسرور کی اس رپورٹ میں۔

  17. کابل ڈائری: بش بازار میں شاپنگ پر نکلے طالبان

  18. ازبک سرحد پر طالبان نے بائیو میٹرک آلات نصب کر دیے, بی بی سی مانیٹرنگ

    uzbek crossing

    ریڈیو لبرٹی کی ازبک سروس ازودلک کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان ازبک سرحد پر بائیو میٹرک ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے مخصوص آلات لگائے گئے ہیں۔

    ازودلک کے ذرائع نے ازبکستان کے جنوب میں سرحد سے متصل شہر ترمز سے اطلاع دی ہے کہ یہاں نصب کیے گئے بائیو میٹرک آلات بنیادی طور پر اس وقت افغانستان سے ازبکستان جانے والے افراد کی اکثریت کا ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔

    ویب سائٹ کے مطابق کاروباری شخصیات اور دیگر سامان کو آمو دریا کے ذریعے افغانستان میں لایا جاتا ہے۔ ویب سائٹ کو مزارِ شریف سے ایک ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ خصوصی آلات پانچ ستمبر کو نصب کیے گئے تھے۔

    ان کے مطابق ’انھیں افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے چلایا جا رہا ہے جو گذشتہ حکومت کے ساتھ بھی منسلک تھے۔ وہ مجرمان، جلا وطن کیے گئے اور غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی ایسی فہرستوں کو مرتب کر رہے ہیں جو گذشتہ حکومت نے بنائی تھیں۔

    ’طالبان ان فہرستوں سے ایسے نام بھی نہیں نکال رہے جن کے ازبک ویزے ہیں۔‘

    اس سے قبل یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ طالبان نے گھر گھر جا کر ایسے لوگوں کی تلاش کی ہی جنھوں نے غیرملکی افواج کے ساتھ تعاون کیا تھا یا وہ پنجشیر کے مزاحمتی محاذ سے منسلک تھے۔‘

  19. اشرف غنی کی حکومت کے آخری چند گھنٹے کیسے تھے؟

    Ashraf Ghani

    چند ہی گھنٹوں میں صدر اور اعلیٰ عہدے دار فرار ہو چکے تھے۔ افغان فوج اور پولیس کے اہلکاروں میں جو بچ گئے، انھوں نے اپنے یونیفارم اتارے اور کہیں چھپ گئے۔ مختلف ذرائع سے انٹرویو کر کے بی بی سی نے افغان حکومت کے آخری چند گھنٹوں کی کہانی جاننے کی کوشش کی ہے۔

  20. سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات

    cia and pak army

    امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ( سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم جوزف برنز نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے معاملات، خطے میں سلامتی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق فوجی حکام کی جانب سے یہ باور کروایا گیا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کی خطے میں امن کے لیے معاونت کرنے کے لیے تیار ہے اور افغان عوام کے ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کا خواہاں ہے۔

    اعلامیے کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی، خاص کر انخلا کے کامیاب آپریشن، خطے میں استحکام کی کوششوں کو سراہا گیا۔