عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. ’لیتھیم کا سعودی عرب‘ کہلائے جانے والے افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟

    ذریعہEPA

    افغانستان کی معیشت کی حالت ’نازک‘ ہے اور اس کا انحصار بیرونی مالی امداد پر ہے۔

    طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے چند ماہ پہلے ہی ورلڈ بینک نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں یہ پریشان کُن تجزیہ پیش کیا تھا۔

    افغانستان کی معیشت کا مستقبل اب مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس کو ملنے والی مالی امداد مستقبل میں بھی ملتی رہے گی یا نہیں اس پر شک و شبہات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں امداد دینے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

    افغانستان کے پاس کافی تعداد میں معدنی وسائل ہیں لیکن موجودہ سیاسی صورتحال نے اُن کا صحیح استعمال کرنے کی سارے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔

    افغانستان جس طرح سے بیرونی مالی امداد پر انحصار کرتا ہے یہ ایک حیران کُن بات ہے، سنہ 2019 میں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ترقیاتی کاموں کی مد میں ملنے والی امداد ملک کی گراس نیشنل آمدن کا 22 فیصد تھی۔

    یہ اعدادوشمار بہت گھمبیر ہیں لیکن آج سے دس برس قبل ورلڈ بینک نے ہی اس شرح کو 40 فیصد بتایا تھا۔

    لیکن اب یہ مالی امداد جاری رہے گی یا نہیں اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

    سکیورٹی خدشات اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی افغانستان کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جس کا سیدھا مطلب ہے کہ افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری بہت کم ہے۔ تو اب افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟ پڑھیے بی بی سی کے نامہ نگار برائے اقتصادی امور، اینڈریو واکر کی یہ تحریر >>

  2. بریکنگ, پی آئی اے کی وضاحت: کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے وضاحت کی ہے کہ کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔

    خیال رہے کہ کچھ دیر قبل ترجمان پی آئی اے نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ پی آئی اے پیر سے کابل کے لیے پروازیں بحال کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔

    ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ پروازوں کی روانگی سے قبل اس بارے میں مکمل معلومات مہیا کی جائیں گی اور چارٹر پروازوں کے حصول کے لیے پی آئی اے کے کابل یا اسلام آباد آفس سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  3. کیا پاکستانی کرنسی میں تجارت افغانستان کی معیشت ’کنٹرول‘ کرنے کی کوشش ہے؟

  4. 1997 میں طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

    سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے۔

    اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر ایڈٹ: محمد ابراہیم

  5. پاکستان کی طرف سے امدادی سامان کی تیسری کھیپ خوست پہنچا دی گئی

    پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا عمل جاری ہے اور اب سےکچھ دیر قبل امدادی سامان کی تیسری کھیپ صوبہ خوست پہنچا دی گئی ہے۔

    پاکستانی سفیر برائے افغانستان منصور احمد خان کے مطابق پاکستان سے ایک اور C-130 تھوڑی دیر پہلے خوراک، ادویات سمیت امدادی سامان لے کر خوست پہنچا ہے۔

    امدادی سامان کی اس کھیپ کو خوست کے صوبائی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. طالبان کا افغانستان: 23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا

    15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا اور ملک کے صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔

    طالبان اس سے قبل نوے کی دہائی میں افغانستان میں برسراقتدار رہ چکے ہیں۔ جانیے اس وقت کا مرتضیٰ بلخی کا آنکھوں دیکھا حال

  7. کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

    EPA

    افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔

    مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔

  8. پی آئی اے کا پیر سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    bbc

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اگلے ہفتے اسلام آباد سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایئرلائن کے ترجمان نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے گذشتہ ماہ اقتدار پر قبضے کے بعد یہ پہلی غیر ملکی کمرشل سروس ہے۔

    پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا ’ہمیں فلائٹ آپریشن کے لیے تمام تکنیکی منظوری مل گئی ہے۔ ہمارا پہلا کمرشل طیارہ ، (ای) ایئربس اے 320، 13 ستمبر کو اسلام آباد سے کابل کے لیے روانہ ہوگا۔‘

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔

    ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس

  10. خواتین کے معاملے پر ترکی نے طالبان کو کیا مشورہ دیا؟

    reuters

    ترک وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں خواتین کی حقوق کے معاملے پر افغانستان کی عبوری حکومت کو ایک اہم مشورہ دیا گیا۔

    ترکی کے ساتھ ساتھ میکسیکو، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے افغانستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    بیان میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی اور حملے میں ہلاک ہونے والے افغان، امریکی اور برطانوی عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

    Reuters

    اس مشترکہ بیان میں طالبان سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی خواتین کی شرکت کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کی کابینہ میں خواتین کی کوئی موجودگی نہیں ہے اور طالبان نے بارہا کہا ہے کہ خواتین حکومت میں بطور وزیر موجود نہیں ہوں گی۔

    اس کے ساتھ ہی ہرات سے کابل تک خواتین کے برقعے میں دکھائی دینے کی اطلاعات ہیں۔

    ترکی نے ان تمام ممالک کے ساتھ مل کر طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ پچھلے سالوں میں افغانستان کی خواتین کی طرف سے کی گئی پیش رفت کو ضائع نہ ہونے دیں۔

  11. ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی خود کو حراست میں لیے جانے کی تردید

    @DrabdullahCE

    افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے سابقہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے خود کو حراست میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔

    گذشتہ روز انڈین میڈیا نے دعوی کیا تھا کہ طالبان نے ڈاکٹر عبداللہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

    انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے صحافی نوین کپور نے ٹویٹ کیا کہ ’چند منٹ پہلے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اس خبر کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس صحافی سے کہتا ہوں کہ وہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کریں اور شائع کرنے سے پہلے حقائق کو چیک کر لیا کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے افغانستان کے دیہی علاقوں کے عام لوگ

    افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاوں سے یہ رپورٹ۔

  13. زلمے خلیل زاد: امریکیوں کے انخلا میں مدد اور تعاون کے لیے قطر اور طالبان کا شکریہ

    US4AfghanPeace

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین دنوں میں امریکی شہریوں سمیت 250 سے زائد غیر ملکیوں نے کابل چھوڑا ہے۔

    ٹویٹ میں قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد قطری پروازوں کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے کابل روانہ ہوئے۔

    ’ان پروازوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے قطر کا شکریہ اور ہم اس اہم کوشش میں طالبان کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے شہریوں، دیگر غیر ملکیوں اور افغانیوں کے لیے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے قطر کی حکومت، طالبان اور دیگر سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اس سے قبل امریکہ نے جمعرات کو طالبان کی تعریف کی تھی کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکیوں کو پروازوں کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے اسے ’ایک مثبت پہلا قدم‘ قرار دیا تھا۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ’طالبان امریکی شہریوں اور مستقل ویزا رکھنے والوں کی روانگی میں سہولت فراہم رہے ہیں، انھوں نے لچک دکھائی ہے اور اس کوشش میں انھوں نے کاروباری اور پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

  14. افغانستان کوریج کے لیے گئے پاکستانی صحافی جنھیں طالبان نے جاسوس سمجھا

  15. پنجشیر کے علاقہ مکینوں کو ’طالبان کا نقل مکانی کرنے کا حکم‘

    Social Media

    افغان سوشل میڈیا پر پنجشیر وادی کے اندر گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے کی تصاویر وائرل ہیں، کہا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کے کہنے پر صوبہ چھوڑ رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پنجشیر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ طالبان نے پنجشیر کے مختلف علاقوں میں خاندانوں سے کہا تھا کہ ’وہ اپنے گھر چھوڑ کر کابل چلے جائیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ طالبان پنجشیر کے لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں اور انھیں بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    ایک ویڈیو میں پنجشیر وادی میں کھڑی بسوں اور ٹرکوں سمیت درجنوں کاریں دکھائی گئی ہیں۔

    سڑک کے کنارے قافلے کا انتظار کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ طالبان نے قافلے کو جو سینکڑوں خاندانوں پر مشتمل ہے، گھنٹوں کیوں روکا۔

    ایک اور نے بتایا ’متعدد خاندانوں کے افراد جنھیں زبردستی کابل منتقل کیا گیا تھا، طالبان نے انھیں حراست میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔‘

    قومی مزاحمتی محاذ کے بیرونی تعلقات کے ذمہ دار علی نظاری نے فون کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کی ریلیز کے ساتھ لکھا کہ ہزاروں افراد کو ان کے گھروں پنجشیر سے نکال دیا گیا ہے۔

    انھوں نے لکھا ’طالبان نسلی قتلِ عام کر رہے ہیں اور دنیا بے حسی سے دیکھ رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے ان جنگی جرائم کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. کابل کی میک اپ آرٹسٹ: ’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے‘

    make up artist

    جس دن طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر غلبہ حاصل کیا، بیوٹی پارلروں کے باہر لگے خواتین کے عروسی ملبوسات کے اشتہارات پر رنگ پھیر دیا گیا اور شہر بھر میں سیلون بند کر دیے گئے۔

    کئی مالکان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اپنا کاروبار کھول لیں گی لیکن بعض کو مستقبل کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

    افسوں (فرضی نام) ایک میک اپ آرٹسٹ بتاتی ہیں کہ افغان خواتین کے لیے بیوٹی کی صنعت کس قدر اہم ہے۔

    دری زبان میں 'تکان جوردم' لفظ کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہے۔

  17. پناہ ڈھونڈنے والے 50 افغان خاندان ڈی پورٹ

    تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔

    اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

  18. طالبان کی 11 ستمبر کو تقریب حلف برداری ’اب پلان کا حصہ نہیں‘

    سہیل شاہین

    پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل بول نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ عبوری کابینہ کی حلف برداری کے لیے تقریب ’اب پلان کا حصہ نہیں ہے۔‘

    اس سے قبل نائن الیون حملوں کے 20 سال مکمل ہونے کے دن طالبان نے نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب کا اعلان کیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پہلے پروگرام میں تھا کہ ہم حلف برداری کی تقریب رکھیں گے۔ لیکن اس کے لیے ضرورت تھی کہ دوسرے ممالک سے وفد مدعو کیے جائیں۔ ادھر پروٹوکول کے انتظامات کی بھی ضرورت تھی۔ جس کے لیے وقت درکار تھا۔‘

    ’دوسری طرف عوام کے لیے سروسز کی بہت ضرورت تھی۔ اس لیے لیڈرشپ نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر وزرا کا اعلان کریں، وہ اعلان ہوچکا ہے۔ ابھی وہ تقریب کینسل ہوچکی ہے۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو طالبان کی طرف سے حلف برداری کی تقریب کے لیے سرکاری اطلاع نہیں دی گئی ’دعوت کی اطلاع ہے نہ تاریخ کی۔‘

    ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شامل نہیں ہوگا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے کوئی تقریب حلف برداری منعقد نہیں کی جا رہی۔

    انھوں نے اسے افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نئی افغان حکومت کی تقریب حلف برداری کچھ روز قبل منسوخ کر دی گئی تھی۔۔۔ کابینہ نے پہلے سے ہی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔‘

  19. امریکی ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے بجائے ایک انجینیئر کو نشانہ بنایا گیا: نیو یارک ٹائمز

    امریکی ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے بجائے ایک انجینیئر کو نشانہ بنایا گیا: نیو یارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ویڈیو کے جائزے کے بعد کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے ڈرون حملے میں نام نہاد دولت اسلامیہ جنگجوؤں کے بجائے ایک امدادی کارکن کو نشانہ بنایا۔

    پینٹاگون نے دعویٰ کیا تھا کہ کابل میں 29 اگست کے ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے دہشتگردوں کو ہدف بنایا گیا۔ مگر کابل کے رہائشی نے دعویٰ کیا کہ اس کار پر اس حملے میں اس کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے۔

    نیو یارک ٹائمز نے سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج کا جائزہ لینے بعد کہا ہے کہ امریکی فوج نے کیلیفورنیا میں قائم میں امدادی تنظیم سے تعلق رکھنے والے الیکٹریکل انجینیئر ازمرائی احمدی کو نشانہ بنایا۔

  20. ’ٹی ٹی پی چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے پاکستانی حکومت عام معافی کا سوچ سکتی ہے‘, پاکستانی صدر عارف علوی کا بیان

    ٹی ٹی پی، پاکستان، عارف علوی

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ان اہلکاروں کے لیے عام معافی پر غور کرسکتی ہے جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں اور ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستانی آئین کی پاسداری کا اعلان کرتے ہیں۔

    ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے ’ایک خطرہ ہے۔‘

    ’ان کی ٹاپ لیڈرشپ نہیں بلکہ سیکنڈ یا تھرڈ ٹیئر کی جانب سے یہ بات آئی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ ہمارے ہاں رہیں مگر کوئی حرکت پاکستان کے خلاف نہیں کریں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستانی حکومت نے کہا کہ (جو لوگ) ہتھیار ڈال کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، اسے منظور کر کے، تو پاکستان بھی سوچے گا کہ ان کو ایمنسٹی (عام معافی) دے یا نہ دے۔ ایک قدم ہے۔ پاکستان سوچے گا۔‘

    اس سوال پر کیا پاکستان میں دہشتگرد حملے کرنے والوں، جیسے مولوی فضل اللہ، کو عام معافی دینے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، پاکستانی صدر نے کہا کہ ’میں کسی کا نام نہیں لے رہا۔ ایسے لوگ جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں نہیں رہے۔ سب سے پہلی بات تو وہ ہے۔ وہ اپنے ٹی ٹی پی والے نظریات چھوڑ کر پاکستان کے آئین کی پابندی کرنے کے اعتبار سے آنا چاہیں تو حکومت سوچ سکتی ہے کہ کوئی معافی کا ڈکلیریشن کرے۔‘

    ’امن کا طریقہ تو یہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستانی ہیں اور جتنے ہزار بھی ہیں وہ باہر رہیں کہ ہم نے انھیں پورا نامنظور کردیا ہے۔‘