عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. طالبان نے امراللہ صالح کے بھائی کو ہلاک کر دیا: روئٹرز

    طالبان، امراللہ صالح

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان نے سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کے بڑے بھائی روح اللہ عزیزی کو ہلاک کر دیا ہے۔ امراللہ پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمتی اتحاد کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

    روح اللہ عزیزی کے بھانجے نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھوں نے میرے انکل کو قتل کر دیا ہے۔‘

    ’انھوں نے گذشتہ روز انھیں قتل کیا اور وہ ہمیں یہ اجازت بھی نہیں دے رہے کہ ہم انھیں دفن کر سکیں۔ وہ کہتے رہے کہ ان کی لاش کو گلنے سڑنے دیا جائے۔‘

    طالبان سے منسلک ٹوئٹر پر الامارہ نامی اکاؤنٹ نے کہا ہے کہ ’اطلاعات کے مطابق امراللہ صالح کا بڑا بھائی روح اللہ پنجشیر میں لڑائی کے دوران مارا گیا ہے۔‘

    تاحال یہ معلوم نہیں کہ مزاحمتی اتحاد کے دیگر رہنما احمد مسعود اور امراللہ صالح کہاں ہیں۔

  2. اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت

    اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت

    اقوام متحدہ نے طالبان کی جانب سے اپنے مخالفین کے خلاف ’بڑھتے ہوئے پُرتشدد ردعمل‘ کی مذمت کی ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ حالیہ مظاہروں میں طالبان کے جنگجوؤں نے چار افراد کو ہلاک کیا ہے۔

    افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف مظاہرے دیکھے گئے ہیں جن میں ان سے آزادی اور خواتین کے حقوق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ طالبان نے مظاہرین کے خلاف براہ راست اسلحے، لاٹھیاں اور کوڑے استعمال کیے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پُرامن احتجاج کرنے والے افراد اور مظاہروں کی کوریج پر جانے والے صحافیوں کے خلاف طاقت کا استعمال اور من مرضی حراست (جیسے اقدامات) روکے جائیں۔‘

  3. ’والد طالبان کے خوف سے کوئٹہ آئے اور یہاں مارے گئے‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی پانچوی قسط ایک ایسے خاندان کہ کہانی ہے جنہوں نے جنگی حالات کی وجہ سے دو بات افغانستان سے حجرت کی۔ کاشان اکمل کی آواز میں سنیے محمد کازم کی تحریر۔

    ایڈیٹنگ: محمد ابراہیم

  4. روس طالبان حکومت کی تقریب حلف برادی میں شرکت نہیں کرے گا

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شامل نہیں ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ اسی لیے ہمارے خیال میں ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ افغانستان کی موجودہ قیادت کے اقدامات کیا ہوں گے۔

    اس سے پہلے آغاز ہفتہ پر روس کے ایوان بالا کے سپیکر نے کہا تھا کہ حلف برادی کےموقع پر سفیر کی سطح کے حکام روس کی نمائندگی کریں گے۔

    جمعرات کو صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ روس دوسرے ممالک کے شہریوں کے افغانستان سے انخلا میں سہولت کے لیے طالبان سے بات چیت کر رہا ہے۔

    ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’بہت سے لوگ کچھ افغان باشندوں کو بھی افغانستان سے نکالنے میں مدد کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ہم یہ چھپ چھپا کر نہیں کر رہے۔ ہم طالبان رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔‘

  5. چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔

    ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس

  6. ایم آئی 5 کی تشویش کے پیچھے کیا ہے؟, گورڈن کوریرا، بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار

    گزشتہ دو دہائیوں سے ایم آئی 5 دہشت گردی سے نمٹنے میں ہی مصروف رہی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اہم تبدیلیوں کے ساتھ۔ اس نے 7 جولائی 2005 کے حملوں کے بعد پوری طرح سمجھا کہ خطرہ اندرونی بھی تھا اور بیرونی بھی۔ تاہم گیارہ ستمبر کی 10 ویں برسی پر یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ القاعدہ کی طرف سے خطرہ شاید کم ہو رہا ہے اور ایم آئی 5 کو اب دوسرے مسائل پر دھیان دینا چاہیئے، جیسا کہ دوسرے ممالک کی جاسوسی وغیرہ۔ لیکن پھر عراق اور شام سے دولتِ اسلامیہ کا گروہ نمودار ہوا اور ایک نئی لہر شروع ہو گئی۔ کم منظم لیکن پھر بھی جان لیوا۔ گذشتہ کچھ برسوں میں ایک بار پھر یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ جہادی خطرہ شاید کم ہو رہا ہے اور ایم آئیو فائیو نے روس اور چین پر زیادہ توجہ شروع کر دی تھی۔ لیکن حالیہ واقعات نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ جہادی خطرہ ایک بار پھر پیدا ہو سکتا ہے اور افغانستان سے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ترغیب مل سکتی ہے یا مغربی انخلا ان گروپوں کے لیے نئے محفوظ ٹھکانے پیدا کر رہا ہے جہاں سے وہ کام کر سکتے ہیں اور مزید پیچیدہ حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے گیارہ ستمبر کے برسوں میں کیا تھا۔

    ایم آئی 5 کا صدر دفتر
    ،تصویر کا کیپشنلندن میں ایم آئی 5 کا صدر دفتر
  7. طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں، اقوامِ متحدہ میں سابق حکومت کے نمائندے کا مؤقف

    طالبان

    اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے سفیر نے، جو معزول حکومت کے رکن ہیں، عالمی ادارے پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان پر پابندیاں نافذ کرے۔

    اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے نمائندے غلام اسحاق زئی نے جمعرات کو عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے اور عبوری کابینہ میں شامل رہنماؤں پر اقوام متحدہ کی موجودہ پابندیوں کو نافذ کرے، جس میں ان کے بین الاقوامی سفر پر پابندی بھی شامل ہوں۔

    انھوں نے جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر حالیہ احتجاج ’طالبان کو ایک مضبوط پیغام تھا کہ افغان چاہے ان کا تعلق کسی بھی پس منظر اور مسلک سے ہو، وہ اپنے آپ پر مسلط کردہ مطلق العنان نظام کو قبول نہیں کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا: ’لہذا میں آپ سے کہتا ہوں کہ افغانستان میں کسی بھی حکومت کی کسی بھی شناخت کو روک دیں جب تک کہ اس میں حقیقی طور پر سبھی شامل نہ ہوں اور وہ لوگوں کی مرضی کے مطابق تشکیل پائے۔‘

    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے خبر رساد ادارے اے ےیف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی ہو گی۔

  8. کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

    طالبان

    افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔

    مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔

  9. 1997 میں طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے۔

    اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر ایڈٹ: محمد ابراہیم

  10. وہ پانچ سبق جو 9/11 کے بعد ہم نے سیکھے (یا نہیں)

  11. برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ: افغانستان کے حالات سے شدت پسندوں کو شہ مل سکتی ہے

    bbc

    برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے سے برطانیہ کے نام نہاد شدت پسندوں کو شہ مل سکتی ہے۔

    کین میک کولم نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ دہشت گردی کا خطرہ راتوں رات نہیں بدلے گا، لیکن انتہا پسندوں کے ’حوصلے بڑھ سکتے ہیں‘۔

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ کو دہشت گردی میں اضافے سے ’چوکس‘ رہنا ہوگا۔

    میک کالم نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں میں برطانیہ میں 31 دہشت گردانہ حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اس میں صرف وبائی مرض کورونا کے دوران ناکام بنائے گئے چھ منصوبے بھی شامل ہیں۔

    reuters

    اگرچہ وہ بڑی حد تک اسلامی انتہا پسندانہ سازشیں تھیں ، لیکن ان میں دائیں بازو کے انتہا پسند شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی ’بڑھتی ہوئی تعداد‘ بھی موجود تھی۔

    انھوں نے مزید کہا ’مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ برطانیہ کے لیے دہشت گردی کا خطرہ ایک حقیقی اور پائیدار چیز ہے۔‘

    میک کولم نے 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بتایا کہ چھوٹے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیاں ایم آئی فائیو کو درپیش خطرات کی سب سے بڑی تعداد ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں ہونے والے واقعات نے ان میں سے کچھ شدت پسندوں کو حوصلہ دیا ہو گا اور ہماری توجہ اسی قسم کے خطرات پر مرکوز رہی ہے۔

  12. پنجشیر: ’لڑائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ پہاڑوں پر جا کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں‘

    gettyimages

    پنجشیر کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر پنجشیر کی طرف جانے والی سڑکیں نہیں کھولی گئیں تو صوبے کے لوگ بھوکے مریں گے۔

    طلوع نیوز کے مطابق کچھ خاندان جو پنجشیر سے کابل بھاگ کر آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں ٹیلی کمیونیکیشن، بجلی اور رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

    ایک خاندان جس کا نوجوان بیٹا پنجشیر جنگ میں مارا گیا تھا، کا کہنا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔

    متاثرہ خاندان کی شائستہ مہرابن نے بتایا کہ لڑائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ پہاڑوں پر جا کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی سابق جہادی رہنما عبدالرسول سیاف نے شہریوں اور ان کی املاک کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔

    سیاف کا کہنا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی فوری طور پر رکنی چاہیے۔

    دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔

    طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ پنجشیر میں حالات اب نارمل ہیں۔

    سمنگانی کا کہنا ہے کہ ’پنجشیر میں حالات نارمل ہیں۔ یہ علاقہ اب امارت اسلامیہ مجاہدین کے کنٹرول میں ہے اور بہت سے شہریوں کو ہلاک اور تشدد کا نشانہ بنانے والی افواہیں جھوٹی ہیں۔‘

  13. لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے افغانستان کے دیہی علاقوں کے عام لوگ

    افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاوں سے یہ رپورٹ۔

  14. طالبان کی ویب سائٹ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ آف لائن, بی بی سی مانیٹرنگ

    gettyimages

    گذشتہ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ طالبان کی کثیر السانی (مختلف زبانوں میں) ویب سائٹس آف لائن ہو گئی ( رسائی ممکن نہیں ہو سکی) جس سے گروپ اپنے تازہ ترین بیانات کو لنک شیئرنگ کی مشہور ویب سائٹ justpaste.it کے ذریعے شائع کرنے پر مجبور ہوا۔

    مثال کے طور پر طالبان کے عربی زبان کے اکاؤنٹ سے 8 ستمبر کی شام کو ملک میں ہونے والے مظاہروں پر تبصرہ پوسٹ کیا گیا۔

    ٹویٹ میں عربی میں ان کے مکمل بیان کے متن کے لیے ایک justpaste.it لنک شامل ہے۔ دری کے ایک ورژن کو طالبان ترجمان نے ٹویٹ کیا۔

    طالبان کے عربی ٹوئٹر اکاؤنٹ نے مکمل بیان کے لیے ایک اور justpaste.it شیئر کیا جس میں امریکہ اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ طالبان وزرا کو اپنی بلیک لسٹ سے نکالیں۔

  15. افغانوں پر تشدد اور ہراساں کرنے کے بڑھتے واقعات، اقوامِ متحدہ کو تشویش

    GETTY IMAGES

    افغانستان میں میڈیا اور اقوام متحدہ میں کام کرنے والے افغانوں کے خلاف تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مقامی عملے کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے بارے میں بہت پریشان ہے۔

    افغان صحافیوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔

    طالبان جنگجوؤں نے ایک اخبار کے دو رپورٹروں کو الیکٹرک کیبلز سے باندھا اور کوڑوں سے بری طرح پیٹا۔

    دیگر صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں حراست میں لیا گیا اور متعدد بار تھپڑ مارے گئے اور ان کا سامان ضبط کر لیا گیا۔

    یہ وہ افغان صحافی ہیں جو ملک کے مختلف شہروں میں جاری مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔

    افغان خبر رساں ادارے ’اطلاعات روز‘ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اس کے پانچ صحافیوں کو حراست میں لیا گیا اور ان میں سے دو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ’اطلاعات روز‘ کے ایڈیٹر ذکی دریابی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان دو صحافیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں، جنھیں طالبان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

    ZDARYABI
  16. اشرف غنی حکومت کے خاتمے سے قبل مچی افراتفری: جب صدارتی محل سے ہدایات آنا بند ہو گئیں

    GETTY IMAGES

    طالبان نے اقتدار کھونے کے 20 سال بعد اب پھر افغانستان میں نئی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایک ایسی نسل جو تعلیم، بین الاقوامی سرمایہ کاری، اور جمہوری مستقبل کی امید کے ساتھ بڑی ہوئی، ان کے لیے یہ اعلان شاید ناقابلِ یقین ہو۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت اتنی جلدی کیسے گِر گئی؟

    طالبان نے ملک میں کسی بڑے شہر کا کنٹرول سنبھالنے سے کابل کے دروازے تک پہنچنے میں صرف دس دن لگائے۔

    مگر خیال کیا جا رہا تھا کہ دارالحکومت کا معاملہ ذرا مختلف ہو گا۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ جب تک مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو گا تب تک کابل پر طالبان کا قبضہ نہیں ہو سکے گا۔

    REUTERS

    مگر اتوار 15 اگست کو سب کچھ بدل گیا۔

    چند ہی گھنٹوں میں صدر اور اعلیٰ عہدے دار فرار ہو چکے تھے۔ افغان فوج اور پولیس کے اہلکاروں میں جو بچ گئے، انھوں نے اپنے یونیفارم اتارے اور کہیں چھپ گئے۔

    کھربوں ڈالر کی عسکری امداد اور بیس سال کی تربیت والی مغربی ممالک کی حمایت یافتہ افغان حکومت ایسے غائب ہو گئی جیسے کہ برف پگھل جاتی ہے۔

  17. شاہ محمود قریشی: ’محدود وسائل کے باوجود افغان بھائیوں کی مدد کے لیے پُرعزم ہیں‘

    @SMQureshiPTI

    پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اور خوشحالی چاہتا ہے اور محدود وسائل کے باوجود افغان بھائیوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔

    افغانستان کی صورتحال پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران افغان عوام ، خطے اور دنیا کے مفاد میں نہیں ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان نے جمعرات کو کابل کو دوائیوں اور خوراک کی شکل میں امدادی سامان بھیجا۔ انھوں نے کہا کہ ہم کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے انھیں امدادی سامان بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں طالبان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر طالبان عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترتے ہیں تو وہ اپنے اور اپنے ملک کے لیے معاملات کو آسان بنا لیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    @ambmansoorkhan
  18. غیر ملکیوں کے انخلا میں تعاون پر امریکہ کی جانب سے طالبان کی تعریف

    Social Media

    جمعہ کو کابل سے دوحہ کے لیے ایک اور خصوصی پرواز چلائی جا رہی ہے جب کہ برطانیہ اور امریکی شہریوں سمیت 200 افراد جمعرات کو افغانستان سے باہر جا چکے ہیں۔

    کابل کے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے کے لیے طالبان کے ساتھ کام کرنے والے قطری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ائیر پورٹ چل رہا ہے مگر اس وقت صرف خصوصی چارٹرڈ پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔

    طالبان کا کہنا ہے کہ تجارتی پروازیں جلد ہی دوبارہ شروع ہو جائیں گی، لیکن ایئر پورٹ کی سیکورٹی کو کون سنبھالے گا اس بارے میں وضاحت ضروری ہوگی۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں طالبان سے بات کر رہے ہیں۔

    امریکہ نے جمعرات کو طالبان کی تعریف کی کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکیوں کو پروازوں کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے اسے ’ایک مثبت پہلا قدم‘ قرار دیا۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ’طالبان امریکی شہریوں اور مستقل ویزا رکھنے والوں کی روانگی میں سہولت فراہم رہے ہیں، انھوں نے لچک دکھائی ہے اور اس کوشش میں انھوں نے کاروباری اور پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعرات کو رات گئے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ تقریباً 40 امریکی شہریوں یا مستقل ویزا رکھنے والوں کو پرواز میں سوار ہونے کی دعوت دی گئی تھی لیکن صرف 21 افراد سوار تھے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. پناہ کے متلاشی 50 افغان خاندان جنھیں ملک بدر کر دیا گیا

    تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔

    اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

  20. مزاحمتی کمانڈر کا طالبان پر پنجشیر میں ’قتل و بربریت‘ کا الزام

    Social Media

    افغان قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجو صالح محمد ریگستانی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے طالبان پر پنجشیر میں ’قتل و بربریت‘ کا الزام لگایا ہے۔ طالبان نے ابھی تک ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

    ریگستانی نے ویڈیو میں کہا ’طالبان نے افغانستان کے محفوظ ترین صوبے پنجشیر پر حملہ کر دیا ہے اور دہشت گردی، قتل اور بربریت کی وارداتیں کی ہیں۔‘

    گذشتہ روز 9 ستمبر کو احمد شاہ مسعود کے قتل کی بیسویں برسی تھی۔ ان کے ساتھ لڑنے والے کمانڈروں نے بیس سال بعد احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف ’دوسری مزاحمت‘ جاری رکھی ہوئی ہے۔

    فوجی وردی پہنے ریگستانی کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’پنجشیر میں طالبان کا داخلہ جنگ کا اختتام نہیں بلکہ جنگ کا آغاز ہے۔‘

    انھوں نے طالبان کو ایک ’جنونی اور جابرانہ گروہ‘ قرار دیا۔

    بی بی سی فارسی نے طالبان کے ترجمانوں سے پنجشیر کی صورتحال اور مبینہ طور پر شہریوں کے قتل کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک بی بی سی کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔