عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. قطر کی ’سمارٹ پاور‘: چھوٹا سا خلیجی ملک ایک مضبوط عالمی ثالث کیسے بنا؟

  2. پہلی پرواز میں امریکی اور دیگر مغربی ممالک کے باشندے بھی موجود ہوں گے: قطری حکام

    plane

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطری اور طالبان حکام کا کابل ایئرپورٹ پر کی گئی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ لینڈنگ کے آلات، ریڈار اور دیگر آلات مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں تاہم ابھی کچھ تکنیکی مسائل ہیں اور اسے 90 فیصد بحالی کہا جا سکتا ہے۔

    اس موقع پر جب صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ پہلی پرواز پر کون کون ہو گا، تو ان کا کہنا تھا کہ اس پر غیر ملکی، امریکی اور مقامی افراد بھی موجود ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں اسے ’انخلا‘ نہیں بلکہ ’آزادانہ منتقلی‘ کا نام دینا چاہیے۔

    اس دوران ذبیح اللہ مجاہد نے کابینہ سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے اجتناب کیا اور کہا کہ اس وقت صرف ایئرپورٹ سے متعلق سوالات کیے جائیں۔

  3. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کے آغاز کا اعلان

    کابل ہوائی اڈہ

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    قطری حکام نے کابل ایئرپورٹ پر منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے اور اب یہ 90 فیصد آپریشنل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ قطر ایئرویز کی ایک پرواز غیرملکی مسافروں کو لے کر جمعرات کو ہی کابل سے روانہ ہو گی۔

    خیال رہے کہ امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ کے انخلا پروگرام کے ختم ہونے کے بعد بھی افغانستان میں موجود امریکی شہریوں میں سے 200 کو چارٹر طیارے سے اپنے ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

  4. بریکنگ, طالبان کی جانب سے پابندی کے باوجود افغانستان میں جمعرات کو پھر مظاہرے

    افغانستان میں مظاہرے (فائل فوٹو)

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کی جانب سے پیشگی اجازت کے بغیر مظاہروں پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود افغانستان کے کئی علاقوں میں جمعرات کو ایک بار پھر مظاہرے ہوئے ہیں۔

    دارالحکومت کابل میں مظاہرین پاکستانی سفارتخانے کے قریب جمع ہوئے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں منتشر کرنے کے لیے طالبان نے فائرنگ بھی کی۔

    کابل میں ہونے والے مظاہرے میں شامل افراد ’ہم آزادی چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

    کابل کے علاوہ کپیسا، پروان اور نمروز کے صوبوں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ اعماج نیوز کے مطابق پروان میں بھی طالبان کی جانب سے ایک مظاہرے کے شرکا پر گولی چلائی گئی ہے۔

    اس مظاہرے کے شرکا ’ہماری آواز کوئی نہیں دبا سکتا‘ اور ’پاکستان مردہ باد‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

    اس سے قبل بدھ کو بدخشاں میں درجنوں خواتین نے ملک کی عبوری حکومت میں ایک بھی خاتون کو شامل نہ کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

    طالبان کے وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ مظاہروں پر پابندی کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ان کی آڑ میں سکیورٹی کو ناکام بنانے، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش میں ہیں۔

  5. مشرقی افغانستان میں ریڈیو سٹیشنز مالی مشکلات کے باعث بند ہونے کے قریب, بی بی سی مانیٹرنگ

    radio

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    نجی ٹی وی چینل شمشاد ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیا میں متعدد نجی ریڈیو سٹیشن مالی مشکلات کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں۔

    حکام کے مطابق ریڈیو سٹیشنز کو ملنے والے اشتہارات طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے رک گئے ہیں جس کے باعث مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    اس وقت پکتیا میں چھ ریڈیو سٹیشنز کام کر رہے ہیں جن میں سے دو ریڈیو سٹیشن چمکنی ضلع میں موجود ہیں۔

    ریڈیو سٹیشن میں کام کرنے والے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر شمشاد ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نشریات میں کچھ تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ خاص طور پر موسیقی چلانے سے متعلق۔

    ایک اور ورکر نے کہا کہ ’ہمیں تاحال جان کا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہمیں مالی مشکلات کی وجہ سے تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔‘

  6. کوئٹہ میں پناہ ڈھونڈنے والے 50 افغان خاندان ڈی پورٹ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔

    اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔ مزید جانیے محمد کاظم، خیر محمد اور نعمان مسرور کی اس رپورٹ میں۔

  7. کابل ڈائری: بش بازار میں شاپنگ پر نکلے طالبان

  8. ازبک سرحد پر طالبان نے بائیو میٹرک آلات نصب کر دیے, بی بی سی مانیٹرنگ

    uzbek crossing

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ریڈیو لبرٹی کی ازبک سروس ازودلک کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان ازبک سرحد پر بائیو میٹرک ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے مخصوص آلات لگائے گئے ہیں۔

    ازودلک کے ذرائع نے ازبکستان کے جنوب میں سرحد سے متصل شہر ترمز سے اطلاع دی ہے کہ یہاں نصب کیے گئے بائیو میٹرک آلات بنیادی طور پر اس وقت افغانستان سے ازبکستان جانے والے افراد کی اکثریت کا ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔

    ویب سائٹ کے مطابق کاروباری شخصیات اور دیگر سامان کو آمو دریا کے ذریعے افغانستان میں لایا جاتا ہے۔ ویب سائٹ کو مزارِ شریف سے ایک ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ خصوصی آلات پانچ ستمبر کو نصب کیے گئے تھے۔

    ان کے مطابق ’انھیں افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے چلایا جا رہا ہے جو گذشتہ حکومت کے ساتھ بھی منسلک تھے۔ وہ مجرمان، جلا وطن کیے گئے اور غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی ایسی فہرستوں کو مرتب کر رہے ہیں جو گذشتہ حکومت نے بنائی تھیں۔

    ’طالبان ان فہرستوں سے ایسے نام بھی نہیں نکال رہے جن کے ازبک ویزے ہیں۔‘

    اس سے قبل یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ طالبان نے گھر گھر جا کر ایسے لوگوں کی تلاش کی ہی جنھوں نے غیرملکی افواج کے ساتھ تعاون کیا تھا یا وہ پنجشیر کے مزاحمتی محاذ سے منسلک تھے۔‘

  9. اشرف غنی کی حکومت کے آخری چند گھنٹے کیسے تھے؟

    Ashraf Ghani

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چند ہی گھنٹوں میں صدر اور اعلیٰ عہدے دار فرار ہو چکے تھے۔ افغان فوج اور پولیس کے اہلکاروں میں جو بچ گئے، انھوں نے اپنے یونیفارم اتارے اور کہیں چھپ گئے۔ مختلف ذرائع سے انٹرویو کر کے بی بی سی نے افغان حکومت کے آخری چند گھنٹوں کی کہانی جاننے کی کوشش کی ہے۔

  10. سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات

    cia and pak army

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ( سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم جوزف برنز نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے معاملات، خطے میں سلامتی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق فوجی حکام کی جانب سے یہ باور کروایا گیا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کی خطے میں امن کے لیے معاونت کرنے کے لیے تیار ہے اور افغان عوام کے ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کا خواہاں ہے۔

    اعلامیے کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی، خاص کر انخلا کے کامیاب آپریشن، خطے میں استحکام کی کوششوں کو سراہا گیا۔

  11. پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی سراج حقانی کی تصویر

    COURTESY ALJAZEERA

    ،تصویر کا ذریعہCOURTESY ALJAZEERA

    افغانستان کے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ایسی شخصیت ہیں جن کی شاید ایک ہی تصویر منظرِ عام پر آ سکی ہے۔ مگر یہ تصویر کہاں سے آئی؟

  12. طالبان کا صحافیوں پر تشدد: ’کابینہ کے اعلان کے بعد اب حکومتی عہدیدار مار پیٹ کریں گے؟‘

  13. وہ پاکستانی مدرسہ جس کے سابق طلبہ نئی طالبان کابینہ میں بھی شامل ہیں

    JAMIA HAQQANIA

    ،تصویر کا ذریعہJAMIA HAQQANIA

    پاکستان میں وہ کون سا مدرسہ ہے جس سے فارغ التحصیل متعدد طلبہ افغانستان اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے اور عسکری تحریکوں میں پیش پیش رہتے ہیں؟

  14. پاکستانی سی 130 طیارہ امداد لے کر کابل پہنچ گیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. طالبان کی نئی حکومت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    طالبان کی نئی حکومت

    افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے 23 دن بعد افغان طالبان کے ترجمان نے وزیراعظم اور ان کے دو معاونین سمیت طالبان کی 34 رکنی عبوری کابینہ اور حکومت کا اعلان کیا جس میں 20 وزرا اور سات نائب وزرا شامل ہیں۔ مگر افغان طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

  16. کابل میں لوگ بیرون ملک جانے کے لیے پھر قطاروں میں, ملک مدثر، بی بی سی کابل

    کابل

    کابل کے سرینا ہوٹل کے باہر ایک بار پھر چھ سے سات بسیں موجود ہیں اور لوگ قطاروں میں لگ کر اپنا اندراج کروا رہے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ جو افراد امریکہ کے انخلا کے پروگرام میں بیرون ملک نہیں جا پائے تھے اور ان کے پاس پاسپورٹ اور غیر ملکی شہریت اور ویزہ موجود ہے وہ اب باہر جا سکیں گے۔

    خیال رہے کہ کابل ایئر پورٹ انٹرنیشنل اور کمرشل پروازوں کے لیے ابھی فعال نہیں ہو سکا۔

    اس حوالے سے حکام نے ابھی تفصیلات تو فراہم نہیں کیں تاہم اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ 200 افراد کابل سے بیرون ملک ایک چارٹر طیارے کے ذریعے جا سکیں گے۔

  17. سابق افغان حکومت نے طالبان کابینہ کو مسترد کر دیا, نیاز فاروقی، بی بی سی اردو، نئی دہلی

    نئی دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں طالبان کے ’نام نہاد کابینہ‘ کو ’ناجائز اور بلا جواز‘ قرار دیا گیا ہے۔

    اس بیان میں جو کہ گذشتہ حکومت کی نمائندگی کرتا ہے کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان، جو لوگوں کی آزاد مرضی کا تنیجہ ہے اور لاکھوں شہریوں کے بصارت اور خواہشات کی علامت ہے جنہوں نے اپنے ملک کی آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کے مقصد کے لیے حتمی قربانی دی ہے۔‘

    اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ افغانستان کے عوام کی اکثریت، بین الاقوامی معاہدوں، متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہے۔

    اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ طالبان نے ایک بار پھر واضح طور پر بنیادی حقوق اور افغان خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے اہم کردار کی خلاف ورزی کی تصدیق کی ہے۔

    یہ بیان طالبان حکومت کی جواز اور سابقہ حکومت کی طرف سے بھیجے گئے افغانستان کے مشن پر سوالانیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔

    انڈیا کی طرف سے، جو کہ یو این ایس سی کا غیر مستقل رکن ہے اور یو این ایس سی کی پابندیوں کی کمیٹی کی قیادت کر رہا ہے، ابھی تک نہ ہی طالبان حکومت کے اعلان پر اور نہ ہی انڈیا میں افغان سفارتخانے کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

    انڈیا نے طالبان پر ’ویٹ اینڈ واچ‘ کی پالیسی اختیار کی ہے اور عوامی طور پر طالبان کے ساتھ صرف ایک ملاقات ہونے کی خبر کی تصدیق کی ہے۔ اگست کو قطر میں انڈیا کے سفیر دیپیک متل نے 31 شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی جو کہ نئی حکومت میں نائب وزیر خارجہ مقرر کئے گئے ہیں اور انڈین ملٹری اکیڈمی کے سابق طالب علم رہ چکے ہیں۔

  18. چین کا افغانستان کے لیے تین کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    afghan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    چین نے افغسنستان کے لیے تین کروڑ دس لاکھ ڈالر کی امدادی اشیا دینے کا وعدہ کیا ہے جس میں خوراک اور کورونا کی ویکسین شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ اس امداد سے پہلے چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ طالبان کی حکومت کے ساتھ اپنے رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    افغانستان میں نئی عبوری حکومت کے قیام کو چین نے نظم و ضبط کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کو ایک میٹنگ جس میں افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان بھی شامل تھے، کے موقع پر افغانستان کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان ممالک سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد میں تعاون کریں۔

    انھوں نے بتایا کہ چین افغانستان کو کورونا وائرس ویکسین کی کی تیس لاکھ خوراکیں فراہم کرے گا۔

  19. طالبان: حقانی خاندان کے افراد کو امریکی بلیک لسٹ میں شامل کرنا دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے

    منگل کو طالبان کی کابینہ کے اعلان کے بعد کئی حلقوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ نئی حکومت کے کئی اراکین ابھی بھی امریکہ کے اہداف کی فہرست یا بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’(جلال الدین) حقانی کے اہل خانہ کو امریکی اہداف کی فہرست میں شامل کرنا۔۔۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ترجمان نے بیان میں کہا کہ حقانی کا خاندان بھی طالبان کی ’اسلامی امارات‘ کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی علیحدہ شناخت یا تنظیم نہیں۔

    بیان کے مطابق دوحہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ طالبان کے تمام حکام کو امریکی اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کر دیا جائے گا اور یہ مطالبہ اب بھی برقرار ہے۔

    واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی عالمی مطلوب افراد کی فہرست میں کابینہ کے 27 اراکین میں سے کم سے کم 14 افراد اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں تاہم یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعامی رقم 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ ڈالر کر دی ہے۔

    haqqani

    ،تصویر کا ذریعہFBI

  20. ’طالبان صحافیوں کی گرفتاریاں، ان پر تشدد فوری طور پر بند کریں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں میں طالبان نے تقریباً 14 صحافیوں کو گرفتار کیا جو کابل میں مظاہرے کی کوریج کر رہے تھے۔

    ذرائع کے مطابق چھ صحافیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر تششد کیا گیا۔

    بہت سے صحافیوں، جن میں بی بی سی سے منسلک صحافی بھی شامل ہیں، کو گذشتہ روز کیے جانے والے احتجاج کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے روکا گیا۔

    سی جے پی کے ایشیا میں پروگرام کوارڈینیٹر سٹیون بٹلر نے کہا ہے کہ طالبان نے یہ بہت جلدی ہی ثابت کر دیا ہے کہ ان کی جانب سے کیے جانے والے وعدے، کہ وہ میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیں گے، بے معنی ہیں۔

    ’ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے پہلے کیے جانے وعدوں کو پورا کریں۔ رپورٹرز کو مارنا اور گرفتار کرنا روک دیں، انھیں ان کا کام کرنے دیں اور میڈیا کو بنا کسی انتقامی کارروائی کے خوف کے کام کرے۔‘

    لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق کابل میں جاری مظاہروں کی کوریج کرنے والے ویڈیو ایڈیٹر تقی دریابی اور ویڈیو رپورٹر نعمت اللہ نقدی کو طالبان نے گرفتار کر رکھا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان ددنوں صحافیوں کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا تھا اور انھیں وہاں الک الگ کمرے میں رکھا گیا۔ ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور انھیں تاروں کے ساتھ مارا پیٹا گیا۔

    لاس اینجلس ٹائمز کا کہنا ہے کہ صحافیوں پرحراست کے دوران تشدد کیا گیا تاہم سی پی کے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔