عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. ’کسی نے توقع نہیں کی تھی کہ افغانستان میں یہ ہوگا‘

    عمران خان نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے امریکہ کے صدر سے افغانستان سے انخلا کے بعد سے اب تک بات نہیں کی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ جو بائیڈن ’ایک مصروف آدمی ہیں۔‘

    جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ بائیڈن کا کال نہ کرنا کیا پاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے پر سزا دینا ہے، تو اُنھوں نے کہا کہ یہ اُن سے پوچھا جانا چاہیے۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے پر بے پناہ مشکلات اٹھائیں۔ ’ایک موقع پر 50 عسکریت پسند ہمارے خلاف حملے کر رہے تھے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بریکنگ, عمران خان: افغانستان تاریخی دو راہے پر ہے، کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا آگے کیا ہوگا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہCNN/Becky Anderson

    پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی بیکی اینڈرسن کو اسلام آباد میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پر اگر دوسرے راستے پر گیا تو ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور ہمیں اس حوالے سے بہت فکر ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ امریکہ یہاں دہشتگردوں سے لڑنے کے لیے آیا تھا، اور غیر مستحکم افغانستان، پناہ گزینوں کا بحران، اور دوبارہ یہاں سے دہشتگردی (کا خدشہ ہے۔) اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال ’باعثِ تشویش‘ ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ افغانستان کہاں جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اُنھوں نے کہا کہ طالبان نے جو مثبت وعدے کیے ہیں ان سے لگتا ہے کہ وہ بین الاقوامی طور پر خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو کبھی بھی باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اُنھیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اُنھیں فوائد کی پیشکش کرنی چاہیے۔

    عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت یہ واضح طور پر سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی طور پر مدد کے بغیر وہ عوام کی مدد نہیں کر سکتے اور اس بحران سے نہیں نمٹ سکتے اس لیے ہمیں انھیں فوائد فراہم کرنے چاہییں۔

    بیکی اینڈرسن نے سوال کیا کہ طالبان نے کہا ہے کہ خواتین کو کرکٹ نہیں کھیلنا چاہیے، کوئی بھی کھیل نہیں کھیلنا چاہیے، خواتین باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں، کیا آپ اس مقصد کی حمایت کرتے ہیں؟

    اس سوال پر اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا غلطی ہے کہ باہر سے بیٹھ کر کوئی افغان خواتین کو حقوق دے سکتا ہے۔

    عمران خان نے خواتین کے حقوق کے بارے میں کہا کہ افغان خواتین مضبوط ہیں، اُنھیں وقت دینا چاہیے، اُنھیں حقوق مل جائیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں شریک ہونا چاہیے مگر جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خواتین کو حقوق نہ دینے پر طالبان کی حمایت نہیں کریں گے، تو اُنھوں نے کہا کہ نہیں وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ خواتین کو حقوق باہر سے بیٹھ کر نہیں دیے جا سکتے۔

  3. بلوچستان: غیر قانونی طریقے سے آنے والوں اور اُنھیں پناہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan

    بلوچستان کے حکام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی طریقے سے آنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور کہا ہے کہ غیر ملکی باشندوں کو پناہ دینے والے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ فیصلہ چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا۔

    اس اجلاس میں آئی جی پولیس محمد طاہر رائے، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی دوست علی بلوچ، بریگیڈیئر عابد، سپیشل سیکریٹری داخلہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    حکام نے صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، بالخصوص غیر ملکی باشندوں کا غیر قانونی طریقے سے صوبے میں آمد، داخلی راستوں پر کڑی چیکنگ سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    چیف سیکریٹری بلوچستان نے صوبے کے تمام داخلی راستوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر صوبے میں داخل ہونے والے غیر ملکی باشندوں کے خلاف فارنرز ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  4. طالبان کا بینکوں میں ’ماضی سے بہتر آپریشنز‘ کا دعویٰ

    افغانستان، بینک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان کے مرکزی بینک میں طالبان کے تعینات کردہ قائم مقام سربراہ حاجی محمد ادریس کا کہنا ہے کہ ملک کے بینک محفوظ ہیں اور ان میں ’ماضی سے بہتر‘ آپریشنز چلائے جا رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر مغربی ممالک نے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد رکھے اور مغربی بینکوں نے افغان ہم منصبوں سے تعلقات محدود رکھے تو افغان بینک اور کمپنیوں میں جلد پیسے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

    حاجی محمد ادریس نے اپنے بیان میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ’ملک میں تمام کمرشل بینک سنجیدہ سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور پہلے سے بہتر آپریشنز چلا رہے ہیں۔‘

    ’ملک میں معاشی صورتحال کے پیش نظر تمام بینک، ملکی تاجر اور تمام فارن ایکسچینج کمپنیاں جلد معمول کے مطابق باقاعدگی سے چل سکیں گے اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے کاروباری امور چلا سکیں گے۔‘

    خیال رہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کابل کے بینکوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

  5. ایران اور افغانستان کے درمیان پروازیں بحال: ایرانی میڈیا

    کابل ایئرپورٹ، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سرکاری چینل العالم کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان مسافر پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔

    بدھ کو ایران کی ایئر لائن ماہان ایئر کا طیارہ کابل پہنچا جس میں 19 مسافر سوار تھے۔

    گذشتہ ماہ طالبان کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے بعد ایران اور افغانستان کے درمیان مسافر پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔

  6. کابل میں دولتِ اسلامیہ کے ’ہمدرد‘ سمجھے جانے والے مذہبی رہنما کے قتل کے محرکات کیا ہیں؟

  7. یورپی یونین کا افغانستان کے لیے 10 کروڑ یورو امداد کا اعلان

    یورپی یونین، افغانستان، امداد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لین نے افغانستان کے لیے اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ 27 ملکوں کا اتحاد ’افغان شہریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    اپنے خطاب میں یورپی یونین کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے طور پر تمام اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ قحط اور انسانی بحران کے خطرات کو ٹال سکیں۔‘

    ’اور ہم خود بھی اس حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد میں 10 کروڑ یورو کا اضافہ کریں گے۔‘

  8. افغان ویمن فٹبالرز کی پاکستان آمد

    افغان، ویمن فٹبالرز

    ،تصویر کا ذریعہPFF

    افغانستان کی خواتین کھلاڑیوں کی فٹبال ٹیم گذشتہ روز طورخم سرحد کے راستے پاکستان پہنچی ہے۔ صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان ویمن فٹبالرز اپنی فیملیز اور کوچز کے ہمراہ لاہور میں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں کل 115 افراد کو ویزے جاری کیے جبکہ پہلے مرحلے میں 79 افراد پاکستان آئے ہیں جن کا استقبال پی ایف ایف اور سپورٹس بورڈ پنجاب کے حکام نے کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ وہ افغان کھلاڑیوں اور ان کے سپورٹنگ سٹاف کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ’افغانستان کے دستے کے قیام کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔‘

    ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان تمام کھلاڑیوں کے پاس افغان پاسپورٹ اور پاکستان کے ویزے ہیں۔

  9. ’لو لیٹر ٹو افغانستان‘: ’افغانستان میں لاہور سے بہتر موسیقی سُننے والے ہیں‘

  10. پاکستان نے پیدل چلنے والوں کے لیے طورخم سرحد کھول دی

    پیدل چلنے والوں کے لیے طورخم سرحد کھول دی گئی

    مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق پاکستان نے پیدل چلنے والے لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے افغانستان کے ساتھ طورخم سرحد کی کراسنگ کھول دی ہے۔

    طورخم دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دو بڑی کراسنگز میں سے ایک ہے۔ پیر کو اسلام آباد نے سرحد پر جمع تمام افغانوں کی اپنے ملک آمد کو مسترد کیا تھا اور اس کے بعد طالبان نے کراسنگ بند کر دی تھی۔

    ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر منصور ارشد کے مطابق سرحد کھلنے پر دونوں طرف پھنسے لوگ اپنے اپنے ملک جاسکیں گے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان سے صرف ایسے لوگوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنھیں طبی مدد کی ضرورت ہے۔ جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان 18 سرحدی کراسنگز ہیں جن میں سے سب سے زیادہ طورخم اور چمن کو استعمال کیا جاتا ہے۔

  11. ’خواتین کی کرکٹ پر پابندی کی سزا مردوں کی ٹیم کو نہیں ملنی چاہیے‘

    خواتین، کرکٹ، افغانستان، مرد، ٹیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغان خواتین کرکٹ ٹیم کی سابقہ ڈائریکٹر طوبیٰ سنگر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹرز کو افغانستان کی مردوں کی ٹیم کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر طالبان خواتین کی کرکٹ پر پابندی عائد کرتے ہیں تو اس کی سزا مردوں کی کرکٹ ٹیم کو نہیں ملنی چاہیے۔

    انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مردوں کی ٹیم کا بائیکاٹ کوئی اچھا خیال نہیں۔ انھوں نے افغانستان کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ انھوں نے مثبت انداز میں دنیا کو افغانستان سے متعارف کرایا۔‘

    28 سالہ طوبیٰ افغانستان کرکٹ بورڈ میں 2014 سے 2010 تک خواتین کی کرکٹ کی ڈائریکٹر رہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’اگر ہماری مردوں کی ٹیم بھی نہ ہوئی تو کرکٹ کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔‘

    حال ہی میں کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر طالبان نے خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تو وہ پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔

    طالبان نے اپنے گذشتہ دور میں کھیلوں سمیت کئی تفریحی سرگرمیوں پر پابندی لگائی تھی۔

  12. ’افغانستان میں القاعدہ ایک سے دو سال کے اندر امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے‘, امریکی انٹیلیجنس حکام

    ’افغانستان، القاعدہ، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ ایک سے دو سال کے اندر اندر کالعدم تنظیم القاعدہ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے۔

    امریکی خفیہ اداروں کے دو سینیئر اہلکاروں نے متنبہ کیا ہے کہ انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کی واپسی کی ابتدائی علامات دیکھی جاسکتی ہیں۔

    خیال رہے کہ غیر ملکی افواج کی افغانستان مداخلت اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک سے القاعدہ کو کافی حد تک ختم کیا جاچکا ہے۔

    قومی سلامتی پر ایک اجلاس میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ابتدائی طور پر کچھ علامات نظر آئی ہیں جن میں ممکنہ طور پر القاعدہ کی جانب سے افغانستان میں واپسی کی جا رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فی الحال (اس کے) ابتدائی دن ہیں اور ظاہر ہے ہم اس پر نظر رکھیں گے۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل سکاٹ بیریئر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسی کانفرنس میں ان کے ساتھ ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کے لیفٹیننٹ جنرل سکاٹ بیریئر نے کہا کہ ’موجودہ جائزے میں محتاط اندازے کے مطابق القاعدہ ایک سے دو سال میں اتنی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے کہ کم از کم ہمارے ملک (امریکہ) کو دھمکی دے سکے۔‘

    کاٹ بیریئر نے یہاں لفظ ’محتاط‘ استعمال کیا، یعنی یہ وقت سے پہلے بھی ہوسکتا ہے۔

  13. ’طالبان نے کہا دو دن میں اپنا گھر چھوڑ دو‘, قندھار میں سینکڑوں مظاہرین کا دعویٰ

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ’طالبان نے حکم دیا ہے گھر چھوڑ دو۔ مگر ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔‘ قندھار کی رہائشی زارہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو یہ بتایا ہے۔ ان کے مطابق یہ گھر طالبان کے جنگجوؤں کو دیے جائیں گے۔

    افغانستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر قندھار میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے انھیں اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

    قندھار کے مرکزی علاقے میں قریب تین ہزار خاندان ایک ایسی زمین پر مقیم ہیں جو اطلاعات کے مطابق وزارت دفاع کی ملکیت ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں مردوں اور خواتین کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان نے انھیں اپنے گھر چھوڑنے کے لیے دو دن کا وقت دیا ہے۔

    شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ قندھار میں کئی برسوں سے مقیم افراد وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں۔

    قندھار کے ایک مقامی صحافی کے مطابق اس حکومتی زمین پر بعض لوگوں نے خود اپنے پیسوں سے گھر تعمیر کیے تھے۔ ان میں سے اکثر خاندان غریب ہیں اور بعض کا کوئی سربراہ بھی نہیں ہے۔

    جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا ہے، کچھ خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ طالبان نے ان سے گھر چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ جنگجو وہاں رہائش پذیر بھی ہو رہے ہیں۔

    خیال ہے کہ سابقہ افغان حکومت نے لوگوں کو ان علاقوں سے نکال کر یہاں پارک تعمیر کرنے تھے مگر وہ اس میں ناکام رہی۔

    بی بی سی نے اس پر طالبان کے ترجمان سے ردعمل جاننے کی کوشش کی ہے مگر اب تک ان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

    قندھار کو طالبان کا گڑھ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی تحریک ابتدائی طور پر وہیں سے شروع ہوئی تھی۔

    قندھار کے گورنر نے مقامی رہنماؤں سے بات چیت کے بغیر کسی کو گھر سے نکالنے کی کارروائی روک دی ہے۔ ایک بیان کے مطابق یہ تمام گھر حکومتی کوارٹر نہیں بلکہ کچھ گھر لوگوں نے خود تعمیر کیے ہیں۔

  14. ’چار سو طرح کے کھیلوں کی اجازت ہوگی، خواتین کے بارے میں مزید سوال نہ پوچھیں‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان کے محکمہ کھیل و جسمانی تربیت کے سربراہ بشیر احمد رستم زئی نے کہا ہے کہ طالبان تیراکی سے لے کر فٹ بال اور دوڑ سے لے کر گھڑ سواری تک 400 کھیلوں کی اجازت دیں گے تاہم اُنھوں نے اس بات پر تبصرہ نہیں کیا کہ خواتین کو کھیلنے کی اجازت ہو گی یا نہیں۔

    اُنھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہا:’برائے مہربانی خواتین کے بارے میں مزید سوالات مت پوچھیں۔‘ رستم زئی نے کہا کہ ’ہم کسی کھیل پر پابندی نہیں لگائیں گے جب تک کہ وہ شرعی قوانین کے خلاف نہ ہوں۔ چار سو طرح کے کھیلوں کی اجازت ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اسلامی قوانین کی پاسداری کرنے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ کچھ نہیں بدلے گا۔

    ’اس سے زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوتا‘ اور کہا کہ مثال کے طور پر فٹ بال یا موئے تھائی باکسرز کو ’تھوڑے لمبے شارٹس پہننے ہوں گے جو گھٹنوں سے نیچے آتے ہوں۔‘

    جب اُن سے کھیلوں میں خواتین کی شرکت کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ اب بھی طالبان کی اعلیٰ قیادت سے احکامات ملنے کے منتظر ہیں۔

    ’ہمارے بڑوں (سینیئر طالبان) کی آراء اہم ہیں۔ اگر وہ ہمیں خواتین کو اجازت دینے کا کہیں گے تو ہم دیں گے، ورنہ نہیں دیں گے۔ ہم اُن کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

  15. ’نہیں جانتے کہ ڈرون حملے میں جنگجو کی ہلاکت ہوئی یا امدادی کارکن کی‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ افغانستان میں امریکی فضائی حملے میں امدادی کارکن کی ہلاکت ہوئی تھی یا شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کی۔

    واضح رہے کہ امریکہ کے افغانستان میں آخری دنوں کے دوران کابل ایئرپورٹ کے باہر بم دھماکے میں درجنوں افغان شہری اور امریکی سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

    دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس کے چند دن بعد ہی ایک ڈرون نے کابل میں ایک کار کو نشانہ بنایا تھا جس کے بارے میں پینٹاگون کا کہنا تھا کہ اس سے کابل ایئرپورٹ پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ایک اور حملے کی منصوبہ بندی ناکام ہوئی ہے۔

    تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ہلاک ہونے والے امریکی امدادی کارکن عزمرائی احمدی کے بھائی نے بتایا کہ اُن کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    بعد میں اخبار نیویارک ٹائمز کی ویڈیو انویسٹیگیشن میں پایا گیا کہ احمدی پانی کے کین منتقل کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ شک کی زد میں آئے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلنکن سے جب سینیٹ کی اُمورِ خارجہ کمیٹی کے روبرو پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کیونکہ ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

  16. ازبکستان سے تقریباً 500 ’فوجی اور سویلین‘ افغانوں کو نکالنے کا امریکی دعویٰ

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے کہا ہے کہ اُس نے ازبکستان سے تقریباً 500 ’فوجی و سویلین‘ افغانوں کو نکال لیا ہے اور اب ازبکستان کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین پر کوئی افغان پناہ گزین موجود نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے جب ملک کے مختلف حصوں پر قبضے کی مہم جاری تھی تو کئی افغان فوجی ازبکستان اور تاجکستان فرار ہو گئے تھے۔

    ازبکستان نے اب تک افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد اور صورتحال پر تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم منگل کو امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ازبکستان کے جنوبی ایئرپورٹ ترمیز سے 494 ’فوجی اور سویلین‘ افغانوں کو نکال لیا ہے۔

    گذشتہ ماہ افغان سفارت خانے میں ایک اہلکار نے اے ایف پی بتایا تھا کہ طالبان کی جانب سے مزارِ شریف پر قبضے کے بعد ازبکستان آنے والے لوگوں کی تعداد 1500 تک ہو سکتی ہے۔

  17. امریکہ: جب تک طالبان بین الاقوامی مطالبات تسلیم نہیں کرتے، پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ تب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے جب تک کہ طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کر دیتے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کانگریس کی اُمورِ خارجہ کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ’پاکستان سمیت تمام ممالک کو عالمی برادری کی اُن توقعات پر اصرار کرنا چاہیے جو اس نے طالبان سے تسلیم کیے جانے کے بدلے میں وابستہ کر رکھی ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ترجیحات یہ ہیں کہ طالبان افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کو ملک سے باہر جانے دیں، خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں، اور ملک کو دوبارہ ’دوسرے ملکوں کے لیے دہشتگردی کے خطرے‘ کا محفوظ ٹھکانہ نہ بننے دیں۔

    ’اس لیے پاکستان کو بین الاقوامی برادری کی وسیع اکثریت کے ساتھ مل کر ان مقاصد کے حصول اور ان توقعات کے پورا کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔‘

    بلنکن نے کہا کہ ’کئی مواقع پر‘ پاکستان کی پالیسیاں ’ہمارے مفادات کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں اور کچھ مواقع پر ان مفادات کی حمایت میں رہی ہیں۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ ملک ہے جو طالبان کے ارکان بشمول حقانیوں کو پناہ دینے میں شامل رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دہشتگرد قرار دیے گئے حقانی نیٹ ورک کے ارکان طالبان کی نئی کابینہ میں شامل ہیں۔

    وزیرِ خارجہ بلنکن کے علاوہ بھی کئی کانگریس ارکان نے اس موقع پر پاکستان کے حوالے سے سخت مطالبات کیے۔ ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس خوکین کاسترو نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد کا ’نان نیٹو اتحادی‘ کا درجہ ختم کرنے پر غور کرے جس کے تحت پاکستان کو امریکی ہتھیاروں تک ترجیحی رسائی ملتی ہے۔

  18. طالبان وزیر خارجہ: امداد کے وعدوں پر عالمی برادری کا شکریہ، ’امریکہ بڑا ملک ہے، دل بھی بڑا ہونا چاہیے‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ملک کی امداد بحال کی جائے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اپنی امداد سیاست کی نذر نہیں کرنی چاہیے۔

    امیر خان متقی نے مزید کہا کہ تمام سفارت خانوں کو پیغام بھیج دیا گیا ہے کہ سفارت کار اپنا کام معمول کے مطابق جاری رکھیں۔

    اس کے علاوہ اے ایف پی کے مطابق اُنھوں نے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد امداد کے وعدے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا اور امریکہ سے ’ظرف‘ کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا۔

    اُنھوں نے کہا: ’امارتِ اسلامی اس امداد کو ضرورت مند لوگوں تک شفاف انداز میں پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔‘ ’امریکہ بڑا ملک ہے، اس کا دل بھی بڑا ہونا چاہیے۔‘

    امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان کو حال ہی میں پاکستان، قطر اور ازبکستان سے امداد ملی ہے تاہم اُنھوں نے مزید تفصیلات واضح نہیں کیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُن کی چین کے سفیر سے کورونا وائرس ویکسین اور دیگر انسانی مسائل کے متعلق بات چیت ہوئی ہے اور بیجنگ نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا اعلان کیا ہے جو ’جلد‘ ہی افغانستان کے لیے دستیاب ہو جائیں گے۔

  19. پاکستانی سفیر کی طالبان وزیرِ خارجہ سے ملاقات، دو طرفہ معاملات پر گفتگو

    کابل میں پاکستان کے سفیر منصور علی خان نے طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے آج ملاقات کی ہے۔

    طالبان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران سپن بولدک اور چمن کے راستے سے شہریوں کی نقل و حمل کے معاملے پر بات کی گئی۔

    طالبان کے مطابق پاکستانی سفیر نے یقین دلایا کہ اس حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین، امداد، اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. اقوامِ متحدہ میں افغان سفیر: ’عالمی برادری انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے‘

    سابقہ افغان حکومت کے اقوامِ متحدہ میں سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ناصر احمد اندیشہ نے طالبان کی جانب سے 15 اگست کو کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات پر زور دیا۔

    ’آج کروڑوں لوگ اپنی زندگیوں اور انسانی حقوق کے متعلق خوف زدہ ہیں اور عالمی برادری نہ ایسے وقت میں چپ رہ سکتی ہے نہ اسے چپ رہنا چاہیے جب ملک میں ایک انسانی بحران جنم لے رہا ہو۔‘

    ناصر احمد اندیشہ کو سابق صدر اشرف غنی نے جنیوا میں تعینات کیا تھا اور افغانستان کے نئے حکمرانوں نے اب تک اُن کی تبدیلی کی گزارش نہیں کی ہے اس لیے وہ اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کے سربراہ مشیل بشیلیٹ اور یورپی یونین نے بھی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے اور ان کو دستاویزی شکل میں لانے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کریں۔

    طالبان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف مقامات پر خواتین مظاہرین پر تشدد کی ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں جبکہ متعدد صحافیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے اُنھیں ایسے مظاہروں کی کوریج کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

    طالبان کی جانب سے ان دعووں کی تردید کی گئی ہے۔

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters