عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'
لائیو کوریج
’قطر واضح معاہدے کے بغیر کابل ایئرپورٹ کی ذمہ داری نہیں لے گا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قطر نے متنبہ کیا ہے کہ وہ تمام فریقین کے ساتھ ’واضح‘ معاہدے کے بغیر کابل ایئرپورٹ کی ذمہ داری نہیں سنبھالے گا۔
قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے منگل کو کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ واضح طور پر ہر چیز کا اظہار کیا جائے ورنہ۔۔۔
’ہم ایئرپورٹ کی ذمہ داری نہیں لے سکیں گے (اگر) تمام چیزوں پر بات نہیں کی جاتی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’موجودہ حالت میں مذاکرات جاری ہیں۔‘
خیال رہے کہ موجودہ صورتحال میں قطری حکام نے کابل ایئرپورٹ پر غیر ملکیوں کے انخلا کا آپریشن سنبھالا ہوا ہے۔ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد قطر کی مدد سے کابل ایئرپورٹ کو اس قابل بنایا گیا کہ وہاں سے پروازیں اڑائی جا سکیں۔
’جنگی جرائم کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں‘, طالبان کے ترجمان کا بیان

،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے افغانستان میں جنگی جرائم کے الزامات کو ’سختی سے مسترد‘ کیا ہے۔
ان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان تنظیموں سے زمینی حقائق جان کر کسی نتیجے پر پہنچنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہیومن رائٹ واچ کی حالیہ رپورٹس میں طالبان پر سابقہ حکومت، فوج، صحافیوں اور سماجی کارکنان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے دوران مبینہ جرائم سے ممکنہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انڈیا کی طرف سے افغانوں کی مدد کی پیشکش

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغان شہریوں کی مدد کا اعلان کیا ہے مگر اس سلسلے میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے کسی مالی مدد کا وعدہ نہیں کیا گیا۔
انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق افغانستان کے موضوع پر اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں تقریر کے دوران جے شنکر نے ایک بار بھی طالبان کا ذکر نہیں کیا۔
جبکہ اخبار دی ہندو کے مطابق انڈیا نے افغانستان کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے کلیدی کردار کی حمایت کی ہے۔
ایس جے شنکر نے عالمی برادری سے کہا کہ ’افغانستان میں کافی سنجیدہ صورتحال پیدا کی گئی ہے۔‘
’انڈیا افغان شہریوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے۔‘
’ہم ترکی کو مسلمان بھائی سمجھتے ہیں، تعاون کے خواہاں ہیں‘, طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا بیان

،تصویر کا ذریعہReuters
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان اور ترکی کے درمیان تعلقات تاریخی اہمیت کے ہیں اور ملا حسن اخوند کی نئی حکومت ترکی کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتی ہیں۔
ترک خبر رساں ادارے ہیبرلر کو اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت ترکی کے ساتھ کئی جگہوں پر باہمی تعاون بڑھا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ترک اور دیگر انجینیئر افغانستان میں کام کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی اہمیت رکھتی ہے۔
سہیل شاہین نے بتایا کہ ’ہم ترکی کے ساتھ تعلیم، تعمیرات اور معیشت میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔‘
ترک صدر طیب اردوغان کی خارجہ پالیسی سے متعلق ایک سوال پر طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر بناتا ہے اور ’ہم اس کی عزت کرتے ہیں۔‘
’اگر ترکی ایک مسلمان بھائی بن کر سامنے آتا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ ہم ترکی کو ایک ’مسلمان بھائی‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘
طالبان کے ترجمان نے یہ بھی لکھا کہ کابل ایئرپورٹ کا آپریشن سنبھالنے کے سلسلے میں ترکی اور قطر سے بات چیت جاری ہے۔
خیال رہے کہ ترک صدر اردوغان نے افغانستان کی عبوری حکومت بننے پر کہا تھا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ عبوری حکومت کتنی دیر تک قائم رہ سکے گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ اسے مستقل حکومت کہنا مشکل ہے اور یہ کہ ترکی افغانستان کی عبوری حکومت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ترکی کسی جلدی میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے افغانستان خانہ جنگی کی طرف نہیں جائے گا۔۔۔ ہم کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے قطر اور امریکہ سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘
ازبکستان میں پھنسے کچھ افغان پائلٹ ’متحدہ عرب امارات چلے گئے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ازبکستان میں ایک ماہ سے پھنسے کچھ افغان پائلٹ پہلے مرحلے میں اپنے خاندانوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات روانہ ہو رہے ہیں۔
افغان ایئر فورس کے یہ پائلٹ اس وقت اپنے خاندانوں کے ساتھ ازبکستان چلے گئے تھے جب طالبان نے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق امریکی حکام ان پائلٹس کے مستقبل کے حوالے سے طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ طالبان چاہتے تھے کہ یہ پائلٹ فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سمیت واپس افغانستان آئیں۔ مگر متعدد ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا کہ انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ایک پائلٹ نے نام ظاہر کیے بغیر روئٹرز کو بتایا کہ ’پہلے مرحلے میں کچھ پائلٹ متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں اور امید ہے انھیں وہاں سے امریکہ لے جایا جائے گا۔‘
امریکہ، ازبکستان یا اقوام متحدہ نے اس موضوع پر اب تک بات نہیں کی ہے۔ افغان ایئر فورس کے وہ طیارے جن کی مدد سے یہ پائلٹ ملک سے فرار ہوئے تھے ان کا مسقبل بھی تاحال غیر واضح ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ممکنہ طور پر کچھ ہیلی کاپٹر امریکی حکومت کو واپس کر دیے جائیں گے۔
طالبان پنجشیر میں: وادی پر قبضے کے بعد کی صورتحال
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع وادیِ پنجشیر کو طالبان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ کہا جاتا رہا ہے۔
لیکن گذشتہ چند دنوں میں طالبان جنگجو اور کمانڈر اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں۔
مزاحمت کا آخری گڑھ سمجھے جانے والی یہ وادی آخر طالبان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟
’میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤ‘, افغان خواتین کی سوشل میڈیا پر مہم

،تصویر کا ذریعہDR BAHAR JALALI
افغانستان کی بعض خواتین نے طالبان کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جس کا نام ’ڈو ناٹ ٹچ مائی کلوتھس‘ یعنی میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤ‘ ہے۔
اس مہم میں خواتین آن لائن اپنے روایتی کپڑوں میں اپنی تصاویر پوسٹ کر رہی ہیں۔
افغانستان کا سوشل میڈیا ہو یا پاکستان اور انڈیا کا، کچھ تصاویر جو ہر جگہ گذشتہ چند دن سے وائرل نظر آ رہی ہیں ان میں متعدد خواتین کو سر تا پا سیاہ لباس اور برقع پہنے کابل یونیورسٹی کے لیکچر تھیٹر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان نقاب پوش خواتین کی تصاویر نے ملک میں افغان طالبان کی حکومت میں خواتین کی حیثیت اور اہمیت کے علاوہ اس بات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس قسم کا لباس جس میں عورت کی آنکھیں تک دکھائی نہ دیں کیا افغانستان کی ثقافت کا حصہ ہے؟
سوشل میڈیا پر چند افغان اور پاکستانی صارفین اس برقعے کو ’سعودیہ سے امپورڈ شدہ سلفی نظریات کا تحفہ‘ یا ’عربنائزیشن‘ قرار دے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ ’سیاہ برقع ہمارے معاشروں کو سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے سخت گیر نظریات کا تحفہ ہے۔‘
چند خواتین صارفین کا کہنا ہے کہ یہ سیدھا سیدھا ’سعودی فیشن‘ ہے کیونکہ افغان خواتین یا تو نیلے ٹوپی والے برقعے پہنتی ہیں یا سفید برقع یا چادر یا سکارف لیتی ہیں۔
مزید پڑھیے
’افغانستان کے مستقبل پر امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا‘, انٹونی بلنکن

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنی تعلقات کی طرف توجہ مرکوز کرے گا۔ اس دوران یہ جائزہ لیا جائے گا کہ افغانستان کے مستقبل میں واشنگٹن کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور پاکستان سے کیا توقعات رکھتا ہے۔
کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ’متعدد مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے مفادات سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان (مفادات) میں سے ایک افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مستقل طور پر کوششیں کرنا ہے۔ طالبان کے ممبران کی پشت پناہی۔۔۔ (ان مفادات میں) ہمارے ساتھ انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون شامل ہے۔‘
جب ان کے پوچھا گیا کہ آیا وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنا چاہیے، بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جلد یہ کرنے جا رہی ہے۔
’یہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں ہم آئندہ دنوں اور ہفتوں میں نظر رکھیں گے۔ گذشتہ 20 برسوں کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے (اور) وہ کردار جو ہم آئندہ برسوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے کیا درکار ہوگا۔‘
انٹونی بلنکن نے امریکی پارلیمان میں خارجہ امور کی کمیٹی سے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں بدترین صورتحال کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
’ہمیں ڈیڈ لائن ملی تھی۔ (گذشتہ انتظامیہ کی طرف سے) ہمیں کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی ترجیح امریکیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا تھی۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکی افواج کی موجودگی میں حکومتی فورسز کابل میں اتنی جلد پسپا ہوجائیں گی اس کی پیشگوئی نہیں کی گئی تھی۔
بلنکن کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل کی طرف تیز مارچ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
طالبان حکومت کے ڈپٹی وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر منظر نامے سے غائب کیوں ہیں؟
پنجشیر میں طالبان کے ہاتھوں 20 شہریوں کا قتل

بی بی سی کو علم ہوا ہے کہ طالبان اور قومی مزاحمتی محاذ کے درمیان ہونے والی لڑائی کا مرکز رہنے والی افغانستان کی وادی پنجشیر میں کم از کم 20 شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
پنجشیرسے اطلاعات کا حصول مشکل ہے لیکن بی بی سی کے پاس ثبوت ہیں کہ طالبان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کے اعلانات کے باوجود انھوں نے شہریوں کو ہلاک کیا۔
پنجشیر سے ملنے والی ایک فوٹیج میں فوجی وردی پہنے ایک شخص کو طالبان کے نرغے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر فائرنگ کی آواز آتی ہے اور وہ شخص زمین پر گر جاتا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ مرنے والا شخص افغان فوج کا رکن تھا کہ نہیں۔ ویڈیو میں ایک راہ گیر ضرور یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک عام شہری تھا۔
بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ پنجشیر میں ایسی 20 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مرنے والوں میں عبدالسمیع نامی دکاندار بھی تھا جو دو بچوں کا باپ تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کے پنجشیر میں آنے کے بعد اس نے انھیں بتایا کہ ’میں ایک غریب دکاندار ہوں جس کا جنگ سے کوئی واسطہ نہیں۔‘ تاہم اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس پر مزاحمتی محاذ کے ارکان کو سم کارڈ بیچنے کا الزام لگایا گیا اور پھر چند دن بعد اس کی لاش اس کے گھر کے پاس پھینک دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق عبدالسمیع کی لاش پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔
اقوامِ متحدہ کی اپیل پر افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کریں اور افغان عوام کو انتہائی ضروری امداد کی ’لائف لائن‘ فراہم کریں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیکریٹری جنرل گتیریس پیر کو جنیوا میں تھے جہاں اُنھوں نے افغانستان کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔
کانفرنس کا مقصد 60 کروڑ ڈالر کے عطیات جمع کرنا تھا مگر کانفرنس کے نصف تک پہنچنے تک ہی مختلف ممالک کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زائد کے عطیات کا وعدہ کیا جا چکا تھا۔
اس موقع پر انتونیو گتیریس نے کہا: ’ملک کے ڈی فیکٹو حکام (طالبان) سے بات چیت کیے بغیر افغانستان کے اندر انسانی امداد پہنچانا ناممکن ہے۔
اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا نہایت اہم ہے۔‘ اُنھوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ’افغان معیشت کو رقم کا سہارا دینے کے لیے طریقے ڈھونڈیں‘ تاکہ معیشت کا انہدام روکا جا سکے جس کے ’افغانستان اور وسیع تر خطے کے لیے تباہ کُن نتائج ہوں گے۔‘
’طالبان حکومت تسلیم کرنا ترجیح نہیں ہے، طالبان مثبت بیانات پر عمل کریں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کی افغانستان پر حکومت کو تسلیم کرنا ’ترجیح نہیں ہے‘ بلکہ اس گروپ کے لیے اہم یہ ہے کہ یہ دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ یاں ویز لیدریان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ہم نے طالبان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بطور ثالث قطر کا کردار حقیقت پسندانہ ہے اور دنیا سے تنہائی اختیار کرنا حل نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ روز قطری وزیرِ خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا تھا جہاں اُنھوں نے طالبان کے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن اخوند سمیت افغانستان سے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ ’اس وقت تسلیم کرنے پر زور دینے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا‘۔
ساتھ ہی شیخ محمد نے مزید کہا کہ طالبان کے لیے یہ مددگار ثابت ہو گا کہ وہ اپنے دیے گئے ’مثبت بیانات‘ پر قائم رہتے ہوئے اُن پر عمل پیرا ہوں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان نے مزید کہا کہ طالبان نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ عالمی برادری سے تعلقات قائم کرتے ہوئے سفارت خانے کھولنا چاہتے ہیں۔
قطری وزیرِ خارجہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ اس کے لیے ’اُن کی جانب سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اس کے علاوہ دیگر افغان رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ قطر نے افغانستان میں قومی مفاہمت پر زور دیا ہے۔
’افغانستان میں مستقبل کے استحکام کے لیے قومی مفاہمت واحد راستہ ہے۔‘
’شاید میں اپنے والد کی طرح اپنے بچوں کو یہ نہ کہہ سکوں کہ ہم پھر افغانستان جائیں گے‘
کابُل: طالبان حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی ’پہلی کمرشل پرواز‘
افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی ’پہلی بین الاقوامی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی ہے۔
سی ای او پی آئی اے مارشل ارشد ملک کے مطابق پرواز کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین خیر سگالی کو فروغ دینا اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشن کو مضبوط کرنا ہے۔
طالبان کا امراللہ صالح کے گھر سے لاکھوں ڈالر اور سونا برآمد کرنے کا دعویٰ
طالبان سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کی سکیورٹی فورسز کو افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے گھر سے 65 لاکھ ڈالر اور سونے کی متعدد اینٹیں ملی ہیں۔
ان وائرل ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو مختلف سفری بیگوں سے نقدی کے بنڈل اور سونے کی اینٹیں گنتے اور واپس رکھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
طالبان کے اس دعوے پر امراللہ صالح کی جانب سے اب تک کوئی ردِعمل نہیں دیا گیا۔
بی بی سی آزادانہ طور پر طالبان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کا مستقبل: کیا چین طالبان حکومت کو عالمی تنہائی سے بچا پائے گا؟
طالبان کی خواتین کے متعلق پالیسیاں: تین افغان خواتین برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال پر
طالبان کی خواتین کے حوالے سے پالیسیوں کے خلاف تین افغان خواتین چار روز سے برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
ان تین افغان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے دور میں متاثرہ خواتین کے لیے ’آواز اٹھانا‘ چاہتی ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اشرف غنی حکومت کے خاتمے سے قبل مچی افراتفری

،تصویر کا ذریعہReuters
طالبان نے اقتدار کھونے کے 20 سال بعد اب پھر افغانستان میں نئی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک ایسی نسل جو تعلیم، بین الاقوامی سرمایہ کاری، اور جمہوری مستقبل کی امید کے ساتھ بڑی ہوئی، ان کے لیے یہ اعلان شاید ناقابلِ یقین ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت اتنی جلدی کیسے گِر گئی؟
طالبان نے ملک میں کسی بڑے شہر کا کنٹرول سنبھالنے سے کابل کے دروازے تک پہنچنے میں صرف دس دن لگائے۔
مگر خیال کیا جا رہا تھا کہ دارالحکومت کا معاملہ ذرا مختلف ہو گا۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ جب تک مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو گا تب تک کابل پر طالبان کا قبضہ نہیں ہو سکے گا۔
مگر اتوار 15 اگست کو سب کچھ بدل گیا۔
چند ہی گھنٹوں میں صدر اور اعلیٰ عہدے دار فرار ہو چکے تھے۔ افغان فوج اور پولیس کے اہلکاروں میں جو بچ گئے، انھوں نے اپنے یونیفارم اتارے اور کہیں چھپ گئے۔
کھربوں ڈالر کی عسکری امداد اور بیس سال کی تربیت والی مغربی ممالک کی حمایت یافتہ افغان حکومت ایسے غائب ہو گئی جیسے کہ برف پگھل جاتی ہے۔
افغانستان کی معیشت: ’لوگ مالی طور پر کمزور ہوگئے ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں‘
افغانستان کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک غیر ملکی امداد اور ترسیلات پر رہا ہے لیکن ملک کا کنٹرول طالبان کے سنبھالنے کے بعد ان دونوں شعبوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
لوگوں کو ملک میں کام مل نہیں رہا اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں ان کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔
بی بی سی نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے چند لوگوں سے بات کی اور پوچھا کہ وہ ان مشکل حالات میں کیسے گزر بسر کر رہے ہیں؟
