’خواتین کی کرکٹ پر پابندی کی سزا مردوں کی ٹیم کو نہیں ملنی چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان خواتین کرکٹ ٹیم کی سابقہ ڈائریکٹر طوبیٰ سنگر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹرز کو افغانستان کی مردوں کی ٹیم کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر طالبان خواتین کی کرکٹ پر پابندی عائد کرتے ہیں تو اس کی سزا مردوں کی کرکٹ ٹیم کو نہیں ملنی چاہیے۔
انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مردوں کی ٹیم کا بائیکاٹ کوئی اچھا خیال نہیں۔ انھوں نے افغانستان کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ انھوں نے مثبت انداز میں دنیا کو افغانستان سے متعارف کرایا۔‘
28 سالہ طوبیٰ افغانستان کرکٹ بورڈ میں 2014 سے 2010 تک خواتین کی کرکٹ کی ڈائریکٹر رہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’اگر ہماری مردوں کی ٹیم بھی نہ ہوئی تو کرکٹ کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔‘
حال ہی میں کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر طالبان نے خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تو وہ پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔
طالبان نے اپنے گذشتہ دور میں کھیلوں سمیت کئی تفریحی سرگرمیوں پر پابندی لگائی تھی۔
















