عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'
لائیو کوریج
افغانستان کے لیے انسانی امداد: اقوام متحدہ کا اجلاس آج جنیوا میں ہو رہا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے زیراہتمام پیر کو جنیوا میں افغانستان کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس ہونے والی ہے۔
اس اجلاس سے پہلے، افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’طالبان رہنما افغانستان میں خواتین کے حقوق کے متعلق عالمی برادری کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔‘
آج کی میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی آدھی آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔
مارٹن گریفتھس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پیر کو طالبان کے نائب وزیر اعظم سے تحریری یقین دہانی حاصل کرنے کی امید کرتے ہیں کہ فلاحی ادارے اور ان کے اتحادی افغانستان میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں گے اور انھیں اپنے معاملات پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گا۔
توقع ہے کہ اس کانفرنس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اس سال کے آخر تک پانچ ملین افغانیوں کو پانچ ملین ڈالر کی امداد فراہم کریں۔
گریفتھس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے تاکہ وہ موجودہ مشکل صورتحال میں افغانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں۔
مارٹن گریفتھس جنھوں نے حال ہی میں ملک میں بے گھر افراد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کابل کا دورہ کیا، نے کہا کہ بے گھر ہونے والوں میں سے دو تہائی نے انھیں بتایا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔
بریکنگ, طالبان حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی ’پہلی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی
،تصویر کا ذریعہPIA
افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی پہلی ’پہلی بین الاقوامی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی ہے۔
پی آئی اے کی پرواز پی کے 6249 اسلام آباد سے آج صبح کابل روانہ ہوئی اور مقامی وقت کے مطابق 9:45 پر پہنچی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ پہلی کمرشل پرواز ہے تاہم متعدد میڈیا ذرائع اسے مسترد کرتے ہوئے پہلی چارٹرڈ فلائٹ کہہ رہے ہیں۔
اس پرواز میں پی آئی اے کا عملہ بین القوامی صحافیوں کو کابل لے کر گیا اور عالمی بنک اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی ٹیم کو واپس لے کر آیا۔
سی ای او پی آئی اے مارشل ارشد ملک کے مطابق کابل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ پہلی بین الاقوامی مسافر پرواز تھی۔ پرواز کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین خیر سگالی کو فروغ دینا اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشن کو مضبوط کرنا ہے۔
ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پی آئی اے اور پوری دنیا کے لیے یہ آپریشن بہت اہم ہے ’سب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ رابطے بحال کیے جائیں اور امید ہے جلد ہم مکمل طور پر آپریشن بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہPIA
پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر ائیر کموڈور جواد ظفر سی ای او پی آئی اے کے نمائندے کی حیثیت سے خود جہاز میں موجود تھے۔
پی آئی اے کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر سروسز کے لیے افغان سول ایویشن اور مقامی پی آئی اے کے عملے نے خصوصی انتظامات سنبھال رکھے تھے اور اس سلسلے میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور دیگر سفارتی عملے کی مدد بھی شامل رہی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد سے فلائٹ پر سوار خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز میں تقریباً 10 افراد تھے۔۔۔ مسافروں سے زیادہ عملہ موجود تھا۔
پی آئی اے کے ترجمان نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افراتفری میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کو شدید نقصان پہنچا۔ طالبان قطر اور دیگر ممالک کی تکنیکی مدد سے اسے دوبارہ فعام کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
قطر ایئرویز نے گذشتہ ہفتے کابل سے کئی چارٹر پروازیں چلائی تھیں جن میں زیادہ تر غیر ملکی اور افغانی تھے۔
طالبان کی حامی خواتین کی وائرل تصاویر: کیا سر تا پا سیاہ برقع افغان کلچر ہے؟
نائن الیون حملوں کے 20 برس بعد القاعدہ کہاں کھڑی ہے؟
قطری وزیرِ خارجہ کا دورہ افغانستان، طالبان، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں
،تصویر کا ذریعہSocial Media
قطر کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے آج افعانستان کا مختصر دورہ کیا ہے جس میں اُنھوں نے ملک کے نئے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن آخوند سے ملاقات کی ہے۔
قطر کے وزیرِ خارجہ طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہاں کا دورہ کرنے والی پہلی اعلیٰ سطحی غیر ملکی شخصیت ہیں۔
اس کے علاوہ اُن کی سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حوالے سے تفصیل حاصل نہیں ہو سکی ہے کہ طالبان اور قطر کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ہے۔
افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے نامہ نگار عبدالحق عمری نے قطری وزیرِ خارجہ کی آمد کی ویڈیو بھی ٹویٹ کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
،تصویر کا ذریعہTolo News, Afghanistan
واضح رہے کہ قطر ایک طویل عرصے سے طالبان اور امریکہ کے درمیان افغانستان کے معاملے پر ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اس وقت امریکہ کی جانب سے افغانستان سے نکالے گئے ہزاروں شہری قطر میں موجود ہیں جو اپنی حتمی منزلوں تک پہنچنے سے پہلے وہاں ٹھہرائے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہSocial Media
،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن آخوند
،تصویر کا ذریعہTolo News, Afghanistan
،تصویر کا کیپشنقطری وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان کی سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات
القاعدہ رہنما الاظواہری کی نئی ویڈیو منظر عام پر، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بات
القاعدہ کے رہنما ایمن الاظواہری کی ایک تازہ ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ 9/11 کے حملوں کی بیسویں برسی کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ایمن الاظواہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایس آئی ٹی ای (سائیٹ) انٹیلیجینس گروپ کا، جو جہادی ویب سائٹس کو مانیٹر کرتا ہے، کہنا ہے کہ یہ ویڈیو سنیچر کو ریلیز کی گئی ہے۔
اس ویڈیو میں القاعدہ رہنما نے کہا ہے کہ وہ یروشلم کو کبھی بھی یہودیت کا مرکز نہیں بننے دیں گے اور انھوں نے القاعدہ کے حملوں کا نہ صرف دفاع کیا ہے بلکہ جنوری میں شام میں روسی فوجیوں پر حملے کی بھی تعریف کی ہے۔
سائیٹ کے مطابق الاظواہری نے افغانستان سے بیس سال بعد امریکہ فوجیوں کے انخلا پر بھی بات کی ہے۔
سائیٹ کے مطابق اس ویڈیو سے یہ نشاندہی نہیں ہوتی کہ یہ حالیہ ریکارڈنگ ہے کیونکہ طالبان کے ساتھ امریکہ نے انخلا کا معاہدہ فروری 2020 میں کیا گیا تھا۔
الاظواہری نے ویڈیو میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول سے متعلق بھی کچھ نہیں کہا۔ مگر الاظواہری نے جنوری میں شمالی شام کے شہر رقہ میں روسی افواج پر حملے کا ذکر ضرور کیا ہے۔
گذشتہ برس کے آخر میں یہ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ الاظواہری بیماری سے مر گئے ہیں۔ اس کے بعد ان کے زندہ ہونے سے متعلق کوئی ویڈیو یا ثبوت منظر عام پر نہیں آیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان کے اعلی تعلیم کے وزیر: طالبات کے لیے علیحدہ کلاس رومز اور اسلامی لباس کی شرائط ہوں گی
،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان کے ہائیر ایجوکیشن کے وزیر نے اتوار کو کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین کو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔ ان کے مطابق یہ کئی دہائیوں سے جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لیے بہت ضروری اقدام ہے۔ تاہم ان کے مطابق صنفی علیحدگی اور اسلامی لباس ضروری شرائط ہوں گی۔
گذشتہ ہفتے طالبان کے وزیر برائے اعلی تعلیم مقرر ہونے والے عبدالباقی حقانی نے کہا ہے کہ وہ ملک کی از سر نو تعمیر یہیں سے کریں گے جہاں آج ملک پہنچ چکا ہے بجائے 20 سال پہلے والے دن جب طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جہاں تک ممکن ہو سکے گا طالبات کو خواتین اساتذہ ہی پڑھائیں گی اور شرعی قوانین کے عین مطابق طالبات کے کلاس رومز بھی علیحدہ ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے پاس خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد موجود ہے اور اس حوالے سے ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کے وزر برائے اعلی تعلیم نے اتوار کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اساتذہ تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
خواتین کی تعلیم سے متعلق طالبان کو اس اہم سوال کا سامنا رہتا تھا کیونکہ طالبان عالمی برادری کو یہ باور کرانے کوشش کر رہے تھے کہ وہ کافی حد تک بدل چکے ہیں اور اب وہ 90 کی دہائی والے سخت گیر طالبان نہیں رہے ہیں۔ یاد رہے کہ طالبان کے پہلے دور اقتدار میں خواتین پر تعلیم یا روزگار کے سلسلے میں باہر جانے پر پابندی عائد تھی۔
اب طالبان کا مؤقف ہے کہ خواتین کو شرعی قوانین اور مقامی ثقافتی روایات کے مطابق تعلیم اور روزگار حاصل کرنے کی اجازت ہو گی اور ان کو خاص طور پر اسلامی لباس کی شرط کا خیال رکھنا ہوگا۔
عبدالباقی حقانی نے کہا ہے کہ طالبات کے لیے پردہ لازمی ہو گا تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس پردے میں سر یا منہ کو ڈھانپنا لازمی ہوگا یا نہیں۔
واضح رہے کہ سنیچر کو خواتین جو بظاہر طالبات تھیں کے ایک ایسے گروپ کو سامنے لایا گیا جو علیحدہ کلاس رومز میں سر سے لے کر پاؤں تک کالے پردے میں ملبوس بیٹھی تھیں۔
طالبان کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ جہاں اشد ضرورت ہو گی تو وہاں مرد اساتذہ بھی پڑھا سکیں گے تاہم طالبات کو علیحدہ بٹھانے سے متعلق خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
ان انتظامات کے تحت خواتین کے لیے پردہ، علیحدہ کلاس رومز اور ممکن ہوا تو طالبات کو لائیو سٹریمنگ یا کلوز ٹی وی سرکٹ کے ذریعے پڑھایا جائے گا۔
طالبان نے آنے والے مہنیوں میں تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کا بھی اعلان کیا ہے۔
طالبان: تمام لین دین افغانی کرنسی میں ہوگا، پاکستانی روپے کے استعمال کی خبروں میں صداقت نہیں
افغان طالبان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ افغانستان میں تجارتی لین دین کے لیے پاکستانی کرنسی کا استعمال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ایک پاکستانی حکومتی عہدیدار کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ کابل کو امریکی ڈالر کے ذخائر برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے افغانستان سے تجارت پاکستانی روپے میں کی جائے گی۔
تاہم اب طالبان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک مختصر سے بیان میں ان اطلاعات کو رد کیا ہے۔
ٹویٹ میں کہا گیا: ’تمام تجارتی لین دین افغانی کرنسی میں ہی ہو گا۔ بڑے تجارتی لین دین میں پاکستانی روپے کے استعمال کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘
طالبان نے مزید کہا کہ ’ہماری شناخت ہمارے لیے بہت اہم ہے اور ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جو وطن کے مادی و روحانی مفادات کے خلاف ہو۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی سراج حقانی کی تصویر
،تصویر کا ذریعہCOURTESY ALJAZEERA
طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے تقریباً تین ہفتے بعد عبوری کابینہ کا اعلان دنیا بھر کے اخبارات اور نشریاتی اداروں کے لیے بڑی خبر تھی وہیں ایک مسئلہ یہ بھی درپیش رہا کہ کابینہ کے کئی ارکان کی بھی مصدقہ تصویر موجود نہیں ہے۔
چاہے وہ وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب ہوں یا پھر وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی میڈیا اور عام لوگ ان کی شکل سے واقف نہیں۔
افغانستان کے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ایسی شخصیت ہیں جن کی تلاش میں مدد دینے والے فرد کے لیے انعام کی رقم کا جو پوسٹر امریکی حکام کی جانب سے شائع کیا گیا اس پر ان کے دو خاکے اور ایک ایسی تصویر موجود ہے جس میں ان کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
اس تصویر کو سراج الدین حقانی کی وہ واحد تصویر قرار دیا جاتا ہے جو عام ریکارڈ میں موجود ہے اور یہ تصویر بنانے اور اس کی اشاعت کی کہانی انتہائی دلچسپ و عجیب ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے افغانستان کے دیہی علاقوں کے عام لوگ
افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاوں سے یہ رپورٹ۔
طالبان کمانڈر کی کال آنے کے بعد افغان پولیس کابل ائیرپورٹ پر لوٹ آئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل میں گذشتہ حکومت کے خاتمے کے بعد افغان پولیس طالبان کی سکیورٹی کے ساتھ کابل ائیر پورٹ کے چیکنگ پوائنٹس پر کام کرنے کے لیے سنیچر کو واپس لوٹی ہے۔
جب گذشتہ ماہ طالبان نے حکومت پر قبضہ کیا تو پولیس نے مستقبل کے ڈر سے اپنی چوکیاں چھوڑ دیں تھیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو افسران نے بتایا کہ وہ طالبان کمانڈروں کی کال موصول ہونے کے بعد سنیچر کو کام پر واپس آئے تھے۔
اے ایف پی کے ایک نمائندے نے اتوار کے روز ہوائی اڈے پر سرحدی پولیس کے ارکان کو ایئر پورٹ کی مرکزی عمارتوں کے باہر کئی چوکیوں پر تعینات دیکھا، جن میں اندرونِ ملک پروازوں والا ٹرمینل بھی شامل ہے۔
پولیس فورس کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ’میں دو ہفتوں سے زیادہ دنوں بعد کل کام پر واپس آیا ہوں۔‘
ایک اور افسر نے بتایا کہ مجھے ایک سینئر طالبان کمانڈر کا فون آیا جس نے مجھ سے واپس آنے کو کہا ’کل بہت اچھا دن تھا، میں کام پر واپس آ کر خوش ہوں۔‘
طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سابقہ حکومت کے لیے کام کرنے والے ہر فرد کو عام معافی دی ہے - بشمول فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں میں کام کرنے والے افراد کے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے مدثر ملک کے مطابق ائیر پورٹ پر صفائی کی صورتحال بھی بہتر دکھائی دے رہی ہے
،تصویر کا کیپشنکابل ائیر پورٹ کے اندورنی مناظر
کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔
وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔
ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔
مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔
طالبان ترجمان سہیل شاہین: افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط ہیں
،تصویر کا ذریعہgeo.tv
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں کوئی فنڈریزنگ سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔
گذشتہ رات پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے سوال کہ ’اگر القاعدہ ایک بار پھر 9/11 جیسی کوئی دہشت گردی کی واردات کرتی ہے تو طالبان حکومت القاعدہ سے متعلق کیا رویہ اپنائے گی‘ کا جواب دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پالیسی بنائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہم قانون بھی بنائیں گے اور نگرانی بھی کریں گے، ہماری سکیورٹی فروسرز اور انٹیلیجنس ایجنسیاں زیادہ فعال نظر آئیں گی۔‘
سہیل شاہین نے یو این سکیورٹی کونسل کی رپورٹ جس میں افغانستان میں القاعدہ کے سینکڑوں کارکنان کی موجودگی کا ذکر ہے، کے متعلق کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایسی رپورٹوں میں کن ممالک سے را ڈیٹا اور معلومات آتی ہیں۔‘
’یہ سارے ہمارے مخالف ممالک کا سرکل ہے جو بے بنیاد دعوے اور رپورٹس فراہم کرتے ہیں۔‘
طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی لیے کئی بار ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کیونکہ یہ حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی فنڈریزنگ سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔ ابھی تک کسی نے ایسے سینٹر کی نشاندہی نہیں کی، اگر یو این کہتی ہے کہ ایسے سینٹر موجود ہیں تو ہمیں بتائیں کہ کہاں ہیں۔
طالبان کی عبوری حکومت کی تقریب حلف برداری کیوں نہ ہو سکی؟
چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘
چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔
ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس
افغانستان کے تھیلے میں بلی: آمنہ مفتی کا کالم
پاکستانی صحافی جنھیں طالبان نے جاسوس سمجھا، قید میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا
’پہلے گوگل میپ ہمارے لیے مصیبت بن گیا اور اس کے بعد ہمارے ملکی شناختی دستاویزات، جن کی بنیاد پر ہمیں 11 روز تک کابل میں قید میں رکھا گیا۔‘
یہ کہانی ہے بلوچستان میں خضدار سے تعلق رکھنے والے 92 نیوز چینل کے نمائندے محمد اقبال مینگل اور کیمرا مین شہزاد سلطان کی جو طالبان کے آنے کے بعد افغانستان کوریج کے لیے گئے اور کابل میں راستہ بھٹکنے پر طالبان کے ہاتھوں پکڑے گئے۔
'صرف قید میں رکھا جاتا تو کوئی بات نہیں تھی۔‘ یہ اقبال مینگل کے الفاظ ہیں جنھیں افغانستان کی کوریج کرنے جانے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا۔ وہ کہتے ہیں ’لیکن اس کے ساتھ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا اور (ہمیں) پاکستانی ہونے کے ناطے نفرت انگیز جملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ان سے پوچھتے رہے کہ اسلام میں کہاں اجازت ہے کہ جرم کے ثبوت کے بغیر تشدد کیا جائے۔ لیکن انھوں نے ہماری کوئی بات نہیں سنی اور ہم پر (قید میں) تشدد کرتے رہے۔‘
92 نیوز چینل کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کی جانب سے دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے گئے اور اب یہ دونوں پاکستان واپس آ چکے ہیں۔
تاہم افغان طالبان کے ایک ترجمان نے پاکستانی صحافیوں کو 11 روز تک حراست میں رکھے جانے کے کسی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مجاہدین نے ’کسی پاکستانی صحافی کو حراست میں نہیں رکھا۔‘
اقبال مینگل نے بتایا کہ طالبان کے آنے کے بعد چونکہ افغانستان میں 20 سال بعد ایک مرتبہ پھر بڑی تبدیلی آئی تھی اس لیے ’دنیا اور پاکستان کے دیگر درجنوں صحافیوں کی طرح ہم بھی افغانستان کوریج کرنے گئے۔‘
طالبان جھوٹ بول رہے ہیں، فرانس طالبان حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھے گا: فرانسیسی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانسیسی وزیر خارجہ جین یویس لی ڈریان نے سنیچر کی رات قطر روانگی سے قبل کہا کہ طالبان جھوٹ بول رہے ہیں اور فرانس کا ان کی نئی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
افغانستان سے مزید لوگوں کو واپس لانے کے لیے اتوار کو قطر میں مذاکرات ہونے ہیں اور فرانس اس میں حصہ لے رہا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے فرانس 5 ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’طالبان نے کہا کہ وہ کچھ غیر ملکیوں اور افغانیوں کو اپنی مرضی سے ملک چھوڑنے دیں گے اور یہ بھی کہا کہ وہ ایک جامع حکومت بنائیں گے۔ لیکن وہ جھوٹ بول رہے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فرانس اس حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا اور اس کا طالبان حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ہم طالبان سے اقدامات چاہتے ہیں۔ انھیں کچھ مالی مدد اور بین الاقوامی تعلقات کی ضرورت ہوگی۔ لیکن یہ ان کے اقدامات پر منحصر ہے۔‘
فرانس نے افغانستان سے تقریباً 3000 افراد کو نکالا ہے اور اس سلسلے میں اس نے طالبان سے مذاکرات کیے تھے۔
دوحہ روانگی سے قبل انھوں نے کہا کہ اب بھی کچھ فرانسیسی شہری اور فرانس سے منسلک رہنے والے چند سو افغانی افغانستان میں موجود ہیں۔
پناہ ڈھونڈنے والے 50 افغان خاندان ڈی پورٹ
تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔
اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔