آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. طالبان: ایئرپورٹ حملوں میں امریکی فوجیوں سے زیادہ نقصان اٹھایا

    ایک طالبان رہنما نے دعوی کیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ان کے کم از کم 28 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

    روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ہمیں امریکیوں سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔‘

    جمعرات کو ہونے والے حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور یہ 2011 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لیے سب سے زیادہ خونریز دن ہے۔

    طالبان رہنما کے مطابق اس حملے کے باوجود امریکہ کو اپنے انخلا کی تاریخ میں توسیع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

  2. کابل: خوفناک حملے کے بعد پہلی صبح

    کابل میں صبح ہو چکی ہے اور کابل میں بیدار ہونے والے لوگوں ایک مختلف کیفیت میں ہیں۔

    امریکہ کی انخلا کے اعلان کے بعد سے ہی شہر میں خوف اور خدشات تو تھے ہی۔ پھر جب طالبان نے دارالحکومت اور پورے ملک پر قبضہ کر لیا تو یہ خوف اور بڑھ گیا۔

    گذشتہ ہفتے سے ہم نے ہزاروں افراد کو کابل ایئرپورٹ کی طرف آتے دیکھا۔ یہ سب 31 اگست سے پہلے پہلے ملک سے نکلنے کے لیے بیتاب تھے۔

    لیکن جمعرات کو ہونے والے دھماکوں نے کئی خاندانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا دلخراش تصاویر، دکھی پیغاموں اور جذباتی پوسٹس سے بھرا ہوا ہے۔

  3. بریکنگ, امریکی کمانڈر مزید حملوں کے لیے تیار، بائیڈن کا دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف انتقامی کارروائی کا اعلان

    اگرچہ افغانستان سے انخلا کا عمل جاری رہے گا تاہم کابل اور واشنگٹن میں امریکی حکام مزید حملوں کے خطرے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

    امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکنزی کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے راکٹ حملوں یا کار بم کے ذریعے مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’ہم تیار رہنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘

    جمعرات کو صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ حملوں کے باوجود انخلا کا عمل جاری رہے گا اور انھوں نے ایئرپورٹ حملے کا بدلہ لینے نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف کارروائی کے لیے پینٹاگون کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دولت اسلامیہ خراسان نے دعوی کیا تھا کہ اس کے ایک خودکش بمبار نے امریکے فوج کے مترجم اور حامیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

  4. ’تین روز سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا‘

  5. بریکنگ, امریکہ کو نقصان پہنچانے والوں کو ہم معاف نہیں کریں گے: جو بائیڈن

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے دشمنوں کو معاف نہیں کریں گے۔

    جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل کے لیے ایک ’مشکل دن‘ قرار دیا۔

    اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا یہ ’دہشت گرد‘ حملہ اسی قسم کا تھا جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں اور جس کی ہمیں فکر تھی۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’کابل میں بدلتی صورتحال سے مجھے مسلسل باخبر رکھا جارہا ہے۔‘

    انھوں نے ان فوجیوں کی تعریف کی جو ان کے بقول ’دوسروں کی زندگیاں بچانے کے خطرناک مشن میں مصروف‘ تھے۔

    جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی ’ان تمام افغان خاندانوں کے لیے دکھی ہیں جنھوں نے اس ظالمانہ حملے میں بچوں سمیت اپنوں کو کھو دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’ہم غصہ ہونے کے ساتھ ساتھ دل شکستہ بھی ہیں۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا ’ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں صرف ثابت قدم رہنا ہے۔‘

    ’ہم اپنا مشن مکمل کریں گے اور فوجیوں کے انخلا کے بعد ہم ان ذرائع کی وضاحت کریں گے جن کے ذریعے ہم کسی بھی امریکی کو تلاش کر سکتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔‘

    ’ہم انہیں ڈھونڈیں گے اور ہم انہیں باہر نکالیں گے۔‘

    امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’یہ حملہ کرنے والے اور ان کے علاوہ جو کوئی بھی امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے وہ یہ جان لے: ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے۔ ہم آپ کا شکار کریں گے اور آپ کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘

    ان کے خیال میں یہ حملہ آور شاید ان جیلوں سے آئے ہوں گے جو طالبان نے افغانستان پر اپنی فتح کے دوران کھول دے تھیں۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا ’ہم دہشت گردوں سے گھبرائیں گے نہیں۔ ہم مشن کو نہیں روکیں گے۔ ہم انخلا جاری رکھیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔

  6. اسلام آباد کے ہوٹلوں میں تین ہفتوں کے لیے نئی بکنگ بند

    افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا اور ان کی پاکستان آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے تمام ہوٹلوں کو جمعے سے کم از کم تین ہفتے کے لیے نئی بکنگ نہ کرنے اور کمرے افغانستان سے آنے والے مسافروں کے لیے دستیاب رکھنے کے لیے کہا ہے

  7. کابل میں رات کو ہونے والے دھماکے امریکیوں نے کیے، عوام پریشان نہ ہوں: ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کابل کے عوام کو بتایا ہے کہ رات کو شہریوں نے جن دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں وہ امریکی فوج نے ایئرپورٹ کے اندر کیے تھے جن کا مقصد اپنا سازوسامان تباہ کرنا تھا۔

    طالبان کے ترجمان نے کابل کے عوام سے کہا ہے کہ وہ فکرمند نہ ہوں

  8. بریکنگ, دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    گروپ نے کہا کہ ایک خودکش حملہ آور نے جس کی تنظیم نے شناخت بھی ظاہر کی ہے، افغانوں اور امریکی افواج کے درمیان دھماکہ خیز مواد سے بھرے جیکٹ سے دھماکہ کیا۔

    امریکی محکمہ دفاع نے بھی کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان حملوں کے پیچھے دولت اسلامیہ کے علاقائی شدت پسند تھے۔

  9. انخلا کا عمل جاری رہے گا: پینٹاگون

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میک کینزی کا کہنا ہے کہ ’ہم اس حملے کے باوجود انخلا کے مشن پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ تقریباً 1،000 ایک ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

    انھوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ اب حملے جاری رہیں گے۔

    جنرل میک کینزی کا کہنا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور ان حملوں سے نمٹنے کے لیے ہم ممکن تیاررہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ گروپ پر عائد کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ذمہ داروں کے پیچھے جائے گا۔

  10. ’اس بچی نے میرے بازوؤں میں دم توڑ دیا‘

    امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے ایک افغان مترجم نے کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس مترجم نے جسے سی بی ایس نیوز میں ’کارل‘ کے نام سے پکارا گیا بتایا کہ کس طرح اس نے ایک بچی کو سنبھالنے کی کوشش کی جو پھر اس کے ہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔

    انھوں نے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو زخمی ہوتے دیکھا اور بہت سے لوگ زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔

    ’ان میں میں نے ایک بچی بھی دیکھی جو زخمی تھی۔ میں اسے اٹھا کر ہسپتال کی طرف چل پڑا۔‘

    ’میں اسے ہسپتال لے کر پہنچا لیکن وہ میرے ہاتھوں میں مر گئی۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس کی عمر غالباً پانچ برس تھی۔

    ’یہ سب جو ہو رہا ہے دل توڑ دینے والا ہے۔ پورا ملک ٹوٹ رہا ہے۔‘

    ’میں نے کوشش کی۔ میں جو کر سکتا تھا میں نے کیا۔‘

  11. بریکنگ, کابل دھماکوں میں 12 امریکی فوجیوں سمیت کم سے کم 60 ہلاک

    کابل میں محکمہ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ خودکش حملے تھے جن میں مرنے والوں میں 11 امریکی میرینز اور امریکی بحریہ کے طبی عملے کا ایک رکن بھی شامل ہے جبکہ 15 فوجی ان دھماکوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یہ افغانستان میں ایک دن میں امریکی فوج کے بڑے جانی نقصانوں میں سے ایک ہے جبکہ فروری 2020 کے بعد افغانستان میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت کا پہلا واقعہ بھی ہے

  12. کیا اب امریکہ افغانستان سے نکلنے میں جلدی کرے گا؟, جوناتھن بیل، بی بی سی نامہ نگار دفاعی امور

    امریکہ کی توجہ اس وقت افغانستان میں موجود اہلکاروں کو نکالنے پر ہو گی۔ 31 اگست کی ڈیڈ لائن تو پہلے ہی موجود ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس حملے کے بعد وہاں سے فوجیوں کو نکالنے کا عمل تیز ہو جائے گا۔ انخلا میں ایک رسک بھی ہے کہ پھر وہاں زمین پر فوجیوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ ان کے لیے اس طرح کے ایک اور حملے کا امکان بھی فکر کی بات ہو گی۔

    امریکی صدر کے پاس بہت سے راستے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس ڈرون، جیٹ اور بی 52 بمبار ہیں جن سے وہ ہوائی اڈے کی فضائی حدود کو محفوظ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں موجود فوجیوں کو نکالا جا سکے۔

    اب سوال یہ پیدا پوتا کہ انخلا کا عمل جو پہلے ہی تیزی سے مکمل کیا جا رہا تھا اس حملے کی وجہ سے مزید تیز ہو جائے گا۔

  13. ناروے نے دھماکے کے بعد اپنے شہریوں کو کابل سے نکالنے کا عمل روک دیا

    ناروے کے وزیر خارجہ کے مطابق ناروے اب اپنے باقی شہریوں کو کابل سے نکالنے کام عمل جاری نہیں رکھ سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور لوگوں کو وہاں لانا ممکن نہیں ہے۔

    کابل میں دھماکے اسی روز ہوئے جب کئی ممالک نے سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے وہاں سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک دیا تھا۔

  14. بریکنگ, کابل دھماکوں میں متعدد امریکی فوجی بھی ہلاک

    پینٹاگون کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں افغان شہریوں کے علاوہ متعدد امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جان کربی کی جانب سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد تو نہیں بتائی گئی تاہم امریکی میڈیا کے مطابق چار امریکی میرینز اس دھماکے میں مارے گئے ہیں۔

  15. بے چین افغان شہری حملوں کی وارننگ پر کان نہیں دھر رہے تھے, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز، کابل

    بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی کے مطابق اس کے باوجود کے حکام نے حملے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر دیا تھا مگر کابل کے ایئرپورٹ کے باہر جہاں دھماکہ ہوا ہے وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

    کابل میں لوگ اس قدر بے چین تھے کہ انھوں نے اس طرح کے حملوں کی خبر پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اگرچہ وہ ہر طرح کی افواہوں کے بارے میں سن رہے ہیں اور ان کی توجہ صرف ملک سے باہر نکلنے پر ہی مرکوز ہے۔

    اس صورتحال تک پہنچنے کے لیے وہ پہلے ہی بہت کچھ بھگت چکے ہیں۔ پریشان کن صورتحال میں بہت سے افغان شہریوں نے ایئرپورٹ کے باہرے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ جس خطرے کے بارے میں وہ تذبذب میں تھے وہ انھیں ایئرپورٹ کا رخ کرنے سے نہ روک سکا۔

  16. شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کا دعویٰ

    افغان اسلامک پریس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نےے کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    یہ کابل کے طالبان کے قبضے میں جانے کے بعد وہاں ہونے والا پہلا حملہ ہے۔ اب تک اس حملے میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت اور 50 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  17. ’لاشیں نالے میں پھینک دی گئیں‘

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد دلخراش واقعات سامنے آئے ہیں۔

    میلاد، جو دھماکے کے وقت اس جگہ پر موجود تھا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ لاشوں، گوشت اور لوگوں کو قریبی ہی ایک نالے میں پھینک دیا گیا۔

    جب لوگوں نے دھماکے کے بارے میں سنا تو ہر طرف افرا تفری پھیل گئی۔ ایک دوسرے عینی شاہد کے مطابق اس صورتحال میں لوگوں کو گیٹ سے ہٹانے کے لیے طالبان نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔

    عینی شاہد کے مطابق میں نے ایک شخص کو ہاتھ میں ایک زخمی بچے کو اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

    عینی شاہد، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے، کے مطابق اس نے وہ کاغذات پھینک دیے جو اسے اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت بیرون ملک سفر کرنے میں مدد فراہم کر سکتے تھے۔

    عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ شخص یہ کہہ رہا تھا اب میں ایئرپورٹ کی طرف دوبارہ کبھی رخ نہیں کرونگا۔ وہ امریکہ اور اس امریکہ کا انخلا کے لیے ویزہ پروگرام کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔

  18. دھماکے کے مقام کی سکیورٹی کی ذمہ دار امریکی افواج تھیں: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جہاں دھماکہ ہوا وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری امریکی افواج کی ہے۔ انھوں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی امارت عوام کی سکیورٹی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

  19. یہ ابتدا ہے، ابھی ہمیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر کا کابل دھماکوں پر رد عمل

    امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والا حملہ ابتدا ہے۔

    جنرل میک ماسٹر، جو افغانستان میں ایک سینیئر افسر کے طور پر کام کر چکے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکہ نے سنگین تنائج کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کو جہنم بنانے کو ترجیح دی ہے اور ایک دہشتگرد تنظیم کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔

    سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے امریکی انخلا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ کر افغانستان میں ایک دہشتگرد اور جہادی تنظیم کے لیے حکومت بنانے کا رستہ ہموار کر دیا ہے، جس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔

  20. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بعد کے مناظر

    پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دو دھماکوں میں متعدد امریکی اور افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔