برطانیہ کے وزیرِ دفاع بین والیس نے کہا ہے کہ ’مغرب کو یہ لگتا ہے کہ وہ یہاں آئیں گے، کچھ چیزیں کریں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘
سکائی نیوز سے گفتگو کے دوران جب اُن سے پوچھا گیا کہ تاریخ افغانستان میں مغرب کی کارروائیوں کو کیسے دیکھے گی، تو بین والس نے کہا کہ ’افغانستان جیسے مسائل کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔‘
’افغانستان جیسے مسائل ٹھیک نہیں کیے جاتے۔ یہاں ایک ہزار سالہ قبائل لڑائیاں اور جنگ ہے۔ آپ انھیں صرف 'سنبھالتے‘ ہیں۔ اگر آپ یہاں قوم سازی کرنا چاہتے ہیں یا اس قوم کو پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا چاہتے ہیں، تو یہ کرنے کا بہتر طریقہ کسی بین الاقوامی ادارے کے طور پر ہی ہے، اور آپ کو پھر یہاں طویل عرصے تک موجودگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے لوگوں کو افغانستان سے نکالنے کا مشن اب سے ’کچھ گھنٹوں‘ میں ختم ہو جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سب لوگ نہیں نکل سکیں گے۔‘
بین والیس نے کہا کہ مزید لوگوں سے ایئرپورٹ آنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ برطانیہ نے بیرن ہوٹل بند کر دیا ہے جہاں برطانیہ جانے والے لوگوں کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے مغربی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے کے قریب پہنچے گا، ویسے ویسے کابل ایئرپورٹ کے گرد مزید حملوں کا خطرہ بھی بڑھے گا۔
’جب ہم جانے لگیں گے تو داعش جیسے گروہوں کا بیانیہ یہی ہوگا کہ اُنھوں نے برطانیہ اور امریکہ کو ملک سے نکال دیا ہے۔‘