آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. طالبان سے تعلقات کا انحصار ان کے رویے پر ہوگا: ایران

    ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران اور افغانستان کے تعلقات کا انحصار طالبان کے رویے پر ہوگا کہ وہ ایران سے کیسے تعلقات چاہتے ہیں۔

    ’ایران کے دیگر ممالک سے تعلقات اُن ممالک کے اپنے رویے پر منحصر ہے کہ وہ ایران سے کیسا رشتہ رکھنا چاہتے ہیں۔‘

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے ایران کے رہبر اعلی کی جانب سے یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بیان ملک کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں دیا۔

    ان سے منسوب بیان میں کہا گیا: ’ہم افغان عوام کے حامی ہیں۔ انتظامیہ، ماضی کی طرح، آتی جاتی رہتی ہیں لیکن افغان قوم یہیں ہے۔‘

    ایرانی رہبر اعلی نے 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے پر اپنے گہرے دکھ کا بھی اظہار کیا۔

    ایران کے رہبر اعلی نے افغانستان کے حالات کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام بحران امریکہ کی وجہ سے ہوا ہے جنھوں نے 20 سال سے ملک پر قبضہ کیا ہوا تھا اور لوگوں پر جبر مسلط کیا ہوا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بیس سالوں میں افغانستان نے ذرا سی بھی ترقی نہیں کی اور امریکہ نے شادیوں اور جنازوں پر بمباری کی، نوجوانوں کو قتل کیا اور ہزاروں افراد کو بلا قصور حراست میں لیا گیا۔

  2. کابل کی شاہراؤں سے اٹھتا تعفن اور سناٹے میں غیر یقینی کی کیفیت

  3. طالبان کا صحت کے شعبے سے منسلک خواتین کو کام پر واپس لوٹنے پر زور

    طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ خواتین جو وزارت صحت کے لیے کام کرتی ہیں وہ اپنی نوکریوں پر دوبارہ جانا شروع کریں۔

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین عملہ کابک اور ملک کے دیگر صوبوں میں ’اپنی معمول کی ذمہ داریاں‘ نبھائے۔

    انھوں نے کسی اور شعبے سے منسلک خواتین کے لیے ایسا پیغام نہیں دیا۔ دو ہفتے قبل کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان خواتین نے اپنے ڈر و خوف کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان طالبان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل شہر کے افراد ’اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سرکاری چیزیں‘ ایک ہفتے کے اندر واپس کر دیں۔

  4. ’ہم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود شہریوں کو 31 اگست سے پہلے باہر نکالنے کے لیے ہم ’آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘۔

    بارس جانسن نے کہا کہ انھیں ب’ہت پشیمانی‘ ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود وہ افغانستان سے ہر کسی کو باہر نہیں نکال سکیں گے۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے کابل میں باہر جانے والے افراد کی دستاویزات جانچنے والے مراکز بند کردیے ہیں اور اب وہ کسی کو ایئرپورٹ نہیں بلا رہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات تمام غیر ملکی فوجی اس مہینے کے اختتام پر واپس چلے جائیں گے۔

  5. ’افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسی وقت ہوگا جب وہاں مختلف گروہ کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں‘

    اقوام متحدہ میں تعینات پاکستانی سفیر منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں شراکت پر مبنی حکومت کا خواہشمند ہے لیکن انھیں تسلیم کرنے کا سوال اسی وقت پیدا ہوگا جب وہاں موجود مختلف گروپس کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں۔

    قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منر اکرم نے کہا کہ پاکستان علاقائی پڑسیوں سے رابطے میں ہے تاکہ نہ صرف افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کے بارے میں بات چیت کی جائی بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل بھی طے ہو جس کی مدد سے افغانستان کو مستحکم بنایا جا سکے۔

    ’ہماری ترجیح ہے کہ افغانستان کو مستحکم کیا جائے اور اس کے لیے ہمیں امداد کی اشد ضرورت ہے، وہاں کی معیشت کو بحال کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات لینے ہیں اور ایک شراکت پر مبنی حکومت قائم کرنی ہے۔‘

  6. بریکنگ, ’برطانیہ سنیچر کو افغانستان سے انخلا کا آپریشن ختم کر دے گا‘

    برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان سے شہریوں کے انخلا کا آپریشن آج یعنی سنیچر کو ختم کر دے گا۔

    بی بی سی کے ریڈیو فور پروگرام سے بات کرتے ہوئے جنرل نک کارٹر نے کہا کہ برطانیہ اب اس آپریشن کی تکمیل کی جانب پہنچ رہا ہے آج شہریوں کے انخلا کا کام مکمل ہوگا اور پھر اس کے بعد وہاں رہ جانے والے فوجیوں کو واپس لے جانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    جنرل نک کارٹر نے کہا کہ کابل سے شہریوں کو لے کر چند پروازیں ابھی بھی برطانیہ آ رہی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کی کم ہے۔

    ’ہم ہر کسی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ اور وہاں ہمیں بہت مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔‘

    برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے جمعے کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں 800 سے 1100 افغان جنھوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا، وہ برطانیہ نہ جا سکیں گے۔

    واضح رہے کہ وزارت دفاع کے مطابق انھوں نے گذشتہ دو ہفتوں میں اب تک 14500 سے زیادہ افغان اور برطانوی شہریوں کو کابل سے نکال لیا ہے۔

  7. افغان اویغور: ’ہمیں خوف ہے کہ طالبان ہمیں پکڑ کر چین کے حوالے کر دیں گے‘

  8. ’افغانستان مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے‘

    رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے گذشتہ شب ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انھوں نے امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے افغانستان کے موضوع پر بات چیت کی۔

    لنڈسے گراہم نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی شہریوں، اتحادیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو نکالنے میں بہت مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے۔

    ’ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور ایک طالبان کا پاکستانی گروہ ہے جو پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ یہ بہت پیچیدہ خطہ ہے اور یہ پرخطر وقت ہے۔‘

  9. یکم ستمبر سے کابل ایئرپورٹ کا کیا ہوگا؟

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کا مستقبل اس وقت واضح نہیں ہے اور اس بارے میں نہ صرف قیاس آرائیاں جاری ہیں بلکہ اس کے بارے میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔

    امریکی افواج کے انخلا کے بعد یکم ستمبر سے طالبان ایئرپورٹ کے امور سنبھال لیں گے اور انھوں نے جمعے کو دعوی کیا کہ ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا انتظام اب ان کے پاس ہے۔

    دوسری جانب جمعے کو ہی امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ 31 اگست تک ملک چھوڑ دے گا اور ایئرپورٹ افغان افراد کے زیر انتظام ہوگا۔

    ’ائیرپورٹ چلانا کوئی بہت پیچیدہ کام نہیں ہے۔ لیکن یہ سمجھنا شاید مناسب نہیں ہوگا کہ بدھ کے بعد سے ایئرپورٹ پر معمول کی کارروائی ہوگی۔‘

    لیکن ائیرپورٹ کے عارضی طور پر بند ہونے کا اشارہ سب سے پہلے امریکی سیکریٹری سٹیٹ انٹونی بلنکن نے ہی دیا تھا جب انھوں نے بدھ کو کہا کہ متعدد علاقائی ممالک اس بارے میں اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایئرپورٹ کو یا تو کھلا رکھیں یا اگر یہ کچھ عرصے کے لیے بند ہو جاتا ہے تو اسے بعد میں دوبارہ فعال بنا لیں۔

    انٹونی بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ ائیرپورٹ طالبان کے لیے بہت ضروری ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنے گذشتہ دورِ حکومت کی طرح ایک بار پھر دنیا سے کٹ جائیں۔

  10. افغانستان سے انخلا: امریکہ کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے حملوں کے خدشات کے باوجود امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے افغان افراد کے انخلا کا سلسلہ ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا۔

    جمعرات کو شہر کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی۔

    امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ ابھی بھی ایئرپورٹ کے خلاف حملہ ہونے کے خدشات ہیں۔

    امریکہ اس وقت افغان افراد کو ملک سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ ناٹو ممالک کی اکثریت اپنے ایمرجنسی آپریشن ختم کر چکی ہے۔

    فرانس نے جمعے کے روز لوگوں کے انخلا کے لیے اپنی آخری پرواز چلائی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب وہ مزید پرواز نہیں چلا سکتے۔ فرانس کے مطابق انھوں نے افغانستان سے تین ہزار لوگوں کو باہر نکالا ہے۔

    سپین بھی اپنا آپریشن مکمل کر چکا ہے۔

    امریکہ اپنے فوج کو 31 اگست کو مکمل طور پر واپس بلا لے گا۔

    طالبان کے ایک ترجمان نے جمعے کی شب کہا کہ طالبان نے ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم پینٹاگون نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق اس وقت پانچ ہزار افراد کابل ایئرپورٹ کے اندر موجود ہیں اور جانے کی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے۔

  11. ’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘

  12. کابل ائیر پورٹ حملے کے منصوبے ساز کے خلاف امریکی ڈرون حملہ

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں دولت اسلامیہ گروپ کے ایک رکن کے خلاف فضائی حملہ کیا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ حملے کا ہدف وہ شخص تھا جس نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کی منصوبے بندی کی تھی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ننگرہار میں کی گئی اس کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا گیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہدف کو ہلاک کر دیا ہے۔

  13. کابل ایئرپورٹ حملہ: نام نہاد دولتِ اسلامیہ یا داعش خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

    گرچہ مغربی ممالک کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پھر بھی اس کے حملہ آور کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے قریب واقع بیرن ہوٹل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    اس حوالے سے کئی لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ تنظیم کیا ہے اور اگر طالبان کا واقعی پورے ملک پر قبضہ ہے تو دولت اسلامیہ خراسان کابل کی سب سے اپم عمارت یعنی ہوائے اڈے کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

    اس سوال کا جواب دینے سے قبل ہمیں اس تنظیم کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  14. طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں: امریکہ

    وائٹ ہاؤس میں بریفینگ کے دوران پریس سیکرٹری جین ساکی نے مستقبل قریب میں افغانستان میں طالبان کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے منصوبوں کو مسترد کردیا۔

    ان کا کہنا تھا ’میں واضح کرنا چاہتی ہوں امریکہ یا اس کا کوئی بھی بین الاقوامی حلیف جس سے ہم نے بات کی ہے کو انہیں تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔‘

    حالیہ ہفتوں میں طالبان اور امریکی فوج کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں پوچھے جانے پر پریس سیکرٹری کا کہنا تھا ’یہ دنیا کی واحد جگہ نہیں ہے جہاں ہم مخالفین کے ساتھ کام کررہے ہیں۔‘

  15. لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

  16. بریکنگ, افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد ’170‘ ہے: افغان اہلکار

    افغانستان میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کو کابل کے ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 90 سے بڑھ کر 170 ہو گئی ہے۔ اہلکاراپنا نام نہیں بتانا چاہتے تھے۔

    ہلاکتوں کی تعداد میں یہ اضافہ ابھی غیر تصدیق شدہ ہے لیکن مختلف ذرائع ابلاغ بھی یہی خبر دے رہے ہیں۔ بی بی سی اس کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہداری قبول کی تھی۔

  17. افغانستان میں طالبان: ’طالبان کا رویہ برا نہیں ہے لیکن ہم خطرہ مول لینا نہیں چاہتے‘

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

  18. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ’دو برطانوی شہری بھی شامل تھے‘

    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کابل میں کل ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی شہری بھی شامل ہیں جن میں سے ایک برطانوی شہری کا بچہ ہے۔

    مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  19. افغانستان میں مزید حملوں کی ’توقع‘ ہے: پینٹاگون

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اس وقت بریفنگ میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انخلا کی کوششوں میں ’دیر ہوئی‘ لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اب بھی یہی خیال ہے کہ مزید حملوں کا خطرہ ہے۔ بلکہ مخصوص اور مصدقہ ذرائع سے یہ خطرات موجود ہیں۔‘

    بریفنگ کے آغاز میں کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکہ ملک سے مزید پروازوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نئے طریقے سوچے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مرحلے میں ضروری نہیں ہے کہ امریکی فوج بھی شامل ہو۔‘

  20. کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی، طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش؟