آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. امریکی کانگریس اراکین کے دورہ کابل پر واشنگٹن میں تنقید

    امریکی ایوانِ نمائندگان کے دو اراکین نے منگل کو افغانستان کا دورہ کیا ہے۔

    ڈیموکریٹ پارٹی کے سیٹھ مولٹن اور ریپبلکن جماعت کے پیٹر میجیئر دونوں سابق امریکی فوجی ہیں اور عراق کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کانگریس کے نمائندوں کی حیثیت سے معلومات حاصل کرنے کابل گئے تھے۔

    ’امریکہ پر اپنے شہریوں اور وفادار اتحادیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ ذمہ داری نبھائی جا رہی ہے۔‘

    اپنے دورے کی دوران انھوں نے کابل ایئرپورٹ پر انتظامات کا جائزہ لیا۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا: کہ وہ ایک ایسے طیارے پر کابل گئے جس میں خالی نشستیں موجود تھیں تاکہ ان کی موجودگی سے کسی کا حق نہ مارا جائے۔

    انھوں نے کہا افغانستان جانے سے پہلے وہ انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی حمایت کر رہے تھے تاہم کابل کی صورتحال دیکھ کر اور وہاں موجود کمانڈروں سے بات کرنے کے بعد ’یہ بات واضح ہے کہ ہم نے انخلا کا عمل شروع کرنے میں تاخیر کی کہ ہم جتنی بھی کوشش کر لیں، ہم 11 ستمبر تک بھی یہ کام مکمل نہیں کر سکیں گے۔

    تاہم ان کانگریس اراکین کو اپنے دورے پر تنقید کا سامنہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

    دورے کے بعد اراکین کو بھیجے گئے ایک خط میں ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجیئر کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے دورے امریکیوں کو نکالنے کے کام میں خلل پیدا کر سکتے ہیں اور ان سے قیمتی وسائل ضائع ہوتے ہیں۔

    انھوں نے بعد میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے کئی اراکین افغانستان جانا چاہتے ہیں تاہم ان کا خیال تھا اس وقت ایسا کرنا نادانی ہوگی۔

  2. امریکہ کے بغیر کابل ایئرپورٹ کیوں نہیں چل سکتا؟

  3. بریکنگ, عالمی بینک کا افغانستان کو دی جانے والی امداد معطل کرنے کا اعلان

    طالبان کی جانب سے ملک کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد عالمی بینک نے افغانستان کو دی جانے والی امداد معطل کر دی ہے۔

    عالمی بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں افغانستان کی صورت حال اور ملک کی ترقی کے امکانات بالخصوص خواتین پر اثرات کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔‘

    ترجمان نے کہا کہ بینک افغانستان میں ’مشکل سے حاصل ہونے والی بہتری‘ کو محفوظ بنانے اور ان سے وابستہ رہنے کے طریقے ڈھونڈ رہا ہے۔

    بینک کی ویب سائٹ کے مطابق عالمی بینک کے اس وقت افغانستان میں دو درجن سے زائد ترقیاتی منصوبے ہیں اور انھوں نے 2002 کے بعد سے 5.3 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔

  4. بریکنگ, جتنی جلدی ہم ختم کریں گے اتنا ہی بہتر ہے: جو بائیڈن

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جی سیون رہنماؤں کے ساتھ ساتھ نیٹو اور اقوام متحدہ کے رہنما سے بھی بات کی۔

    ان کا کہنا تھا ’میں نے اظہار یکجہتی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ 14 اگست سے اب تک 70،700 افراد کو کابل سے نکالا جا چکا ہے۔

    جو بائیڈن کا کہنا تھا ’ہم فی الحال 31 اگست تک انخلا مکمل کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ہم ختم کریں گے اتنا ہی بہتر ہے۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’طالبان ہمارے لوگوں کو نکالنے میں مدد کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ، ’ہم سب نے آج اتفاق کیا کہ ہم اپنے موجودہ حلیفوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر افغانستان میں چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے، جیسا کہ ہم نے برسوں سے کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم متحد رہیں گے۔‘

    کچھ امریکی اتحادی امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فوجیوں کے انخلا کی آخری تاریخ میں توسیع کرے لیکن بائیڈن 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔

  5. 4000 امریکیوں کو کابل سے کامیاب انخلا

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق امریکہ نے 4،000 سے زیادہ امریکی پاسپورٹ رکھنے والوں اور ن کے اہل خانہ کو کابل سے نکال لیا ہے۔

    عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو جلد از جلد کابل سے نکالنے کی کوشش کی وجہ سے رپورٹنگ میں ابتدائی تاخیر ہوئی۔

    عہدیدار نے مزید کہا، ’ہم توقع کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد بڑھتی رہے گی۔‘

    دریں اثنا، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ افغان باشندوں کو امریکہ لانے کے فیصلہ کی وجہ سے صدر بائیڈن پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ’بائیڈن نے افغانستان کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا اور شہریوں سے پہلی فوج کو نکال کر ہزاروں امریکیوں کو مرنے کے چھوڑ دیا۔ اب تک صرف 4000 امریکیوں کو نکالا گیا۔

    انھوں نے کہا ، ’آپ یقین کر سکتے ہیں کہ طالبان، جو اب مکمل کنٹرول میں ہیں انھوں نے انخلاء کی ان پروازوں میں بہترین اور ذہین ترین افراد کو سوار نہیں ہونے دیا۔‘

    انھوں نے ثبوت دیے بغیر دعویٰ کیا کہ ’ہزاروں دہشت گردوں کو افغانستان سے دنیا بھر میں بذریعہ ہوائی جہاز منتقل کیا گیا ہے۔‘

  6. کابل کے ایئرپورٹ پر کس ملک کی کتنی فوج موجود ہے؟

    کابل کے بین الاقوامی حامد کرزئی ایئرپورٹ پر اس وقت سب سے زیادہ فوجی امریکہ کے ہی تعینات ہیں۔

    ان امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً چھ ہزار بنتی ہے۔

    اس وقت کابل کی فضا میں بڑی تعداد میں امریکی طیارے اور لڑاکا ہیلی کاپٹرز دیکھے جا سکتے ہیں۔

    جبکہ کابل کے ہوائی اڈے پر ایک ہزار سے زائد برطانوی فوجی موجود ہیں، جس میں فوجی 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ بھی شامل ہے۔

    محدود تعداد میں نیٹو اتحاد میں شامل فرانس، جرمنی اور ترکی کی افواج بھی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ ایئربیس پر ناروے نے ایک ہسپتال بھی قائم کر رکھا ہے۔

    نیٹو کے مطابق اس وقت اس کے آٹھ سو سے زائد سویلین کنٹریکٹر افغانستان میں موجود ہیں جن کی بڑی تعداد ایئرپورٹ پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔

  7. برطانوی وزیر اعظم مزید افراد کو افغانستان سے نکالنے کے لیے ’پراعتماد‘

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اب تک 57 پروازوں کے ذریعے نو ہزار افراد کو کابل سے نکالا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آخری حد تک جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’پراعتماد ہیں‘ کہ برطانیہ ’افغانستان سے مزید ہزاروں افراد کو نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’کابل ایئرپورٹ پر صورتحال میں بہتری نہیں آ رہی ہے۔

    ’وہاں سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والوں کے بہت دلخراش اور افسوسناک مناظر سامنے آ رہے ہیں۔‘

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جی سیون نے افغانستان سے انخلا کے لیے ’مشترکہ حکمت عملی‘ اپنانے پر نہ صرف اتفاق کیا ہے بلکہ طالبان کے ساتھ رابطے کے لیے ایک ’روڈ میپ‘ بھی بنایا ہے۔

  8. بریکنگ, برطانیہ کا 31 اگست کے بعد بھی افغانستان سے محفوظ انخلا کا پر اصرار

    برطانیہ کے وزیر اعظم نے جی سیون ممالک کے افغانستان کی صورتحال اور انخلا کی تاریخ میں توسیع پر مشاورتی اجلاس کے بعد افغانستان سے 31 اگست کے بعد بھی محفوظ انخلا پر زور دیا ہے۔

    جی سیون ممالک کے اجلاس کے بعد، برطانیہ کے وزیر اعظم جانسن کا کہنا ہے کہ:’ جس پہلی شرط پر ہم اصرار کر رہے ہیں وہ یہ کہ 31 اگست تک انخلا کے ابتدائی مرحلے کے بعد ان افراد کو محفوظ راستہ دینا چاہیے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔‘

    جی سیون ممالک کا افغانستان کی صورتحال اور انخلا کی تاریخ میں توسیع پر مشاورت کے بارے میں ورچوئل اجلاس ہوا جس میں برطانیہ سمیت رکن یورپی ممالک نے امریکہ سے افغانستان سے محفوظ انخلا کی تاریخ میں ممکنہ توسیع کا مطالبہ کیا۔

    اس اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے سات منٹ تک رکن ممالک کے رہنماؤں سے بات کی۔ جبکہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اس اجلاس کی سربراہی کی۔

  9. بریکنگ, امریکی صدر 31 اگست تک انخلا کے فیصلے پر قائم

    امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن 31 اگست تک انخلا کے فیصلے پر قائم ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پینٹاگون کی سفارش پر 31 اگست تک انخلا کا فیصلہ امریکی افواج کو افعانستان میں درپیش سکیورٹی خطرات و خدشات کی بنیاد پر سوموار کو کیا گیا ہے۔

  10. جی سیون ممالک کا ورچوئل اجلاس جاری

    جی سیون ممالک کا افغانستان کی صورتحال اور انخلا کی تاریخ میں توسیع پر مشاورت کے بارے میں ورچوئل اجلاس جاری ہے۔

    اس اجلاس میں برطانیہ سمیت رکن یورپی ممالک امریکہ سے افغانستان سے محفوظ انخلا کی تاریخ میں ممکنہ توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اس اجلاس کی سربراہی کر رہے ہیں۔

    ورچوئل اجلاس کی تصاویر جاری کی گئیں ہیں جس میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں دکھائی دے رہے ہیں۔

    اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان افغانستان سے انخلا کی 31 اگست کت تاریخ میں توسیع پر زور دے رہے ہیں۔

    اس اجلاس کے فیصلوں اور تازہ ترین معلومات ہم آپ تک پہنچاتے رہے گے۔

  11. اب تک افغانستان سے تقریباً 64 ہزار افراد کا انخلا ہو چکا ہے: پینٹاگون

    امریکی فوج کے میجر جنرل ولیم ہانک ٹیلر کے مطابق جولائی سے لے کر اب تک امریکہ نے افغانستان سے 63900 افراد کا انخلا ممکن بنایا ہے، جن میں امریکی اور نیٹو کے افراد سمیت افغانستان کے عام شہری بھی شامل ہیں۔

    ان کے مطابق افغانستان سے نکالے گئے یہ لوگ اب ایک بہتر زندگی گزارنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

    امریکی فوجی افسر کے مطابق کابل ایئر پورٹ سے ہر 45 منٹ بعد ایک طیارہ پرواز بھر رہا ہے۔ ان کے مطابق ہم مزید افراد کے انخلا کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ صرف سوموار کو 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے 21600 افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔

  12. طالبان کے الفاظ نہیں بلکہ طرز عمل اہمیت کا حامل ہے:‘ سابق برطانوی سفیر

    افغانستان کے لیے برطانیہ کے سابق سفیر سٹیفن ایونز نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ طالبان کے صرف الفاظ پر یقین نہیں کرنا چائیے کہ جیسا کہ طالبان کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے پاس ان افراد کی ایسی کوئی فہرست نہیں ہے جن کے خلاف انتقامی کارروائی کرنی ہے۔

    ان کے مطابق ہمیں یہ بہت محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں طالبان کا طرز عمل کیا ہوگا۔

    سابق برطانوی سفیر کے مطابق ’الفاظ نہیں بلکہ طالبان کا طرز عمل اہمیت کا حامل ہے۔‘

    سٹیفن ایونز کے مطابق طالبان کی پریس کانفرنس میں کچھ باتیں بہت پریشان کن تھیں۔ ان کے مطابق طالبان کے ترجمان نے اس بات کی یقین دہانی نہیں کرائی ہے کہ ایسے افغان شہری جن کے پاس کسی مغربی ممالک کا ویزہ ہے کیا وہ ایئرپورٹ جا سکیں گے۔

    سابق برطانوی سفیر کے مطابق اب دنیا کو طالبان کی باتوں کے بجائے ان کے طرز عمل پر نظر رکھنا ہو گی۔

  13. طالبان جنگجو نے پوچھا ’کیا آپ افغانستان واپس آئیں گی؟ میں نے کہا نہیں، ہم آپ سے ڈرتے ہیں‘

  14. داعش خراسان کے سربراہ کی ہلاکت کی اطلاعات پر طالبان کی خاموشی کیوں؟

  15. ’جو کچھ بھی شریعت کے مطابق ہو گا اس کی اجازت ہو گی‘: ذبیح اللہ مجاہد

    ملک میں گلوکاروں اور فلمسازوں کا مستقبل کیا ہو گا کے سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شرعی قانون لے کر آئیں، اگر اسلامی شریعت میں رہتے ہوئے فلمیں یا ڈرامے بناتے ہیں اور گانے بناتے ہیں اس کی اجازت ہو گی۔

    مگر اگر وہ اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہو گا تو وہ اپنے پروفیشن کو بدل لیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور اسلامی احکامات کا احترام کریں جس کے لیے ہم نے بہت قربانی دی ہے۔بہتر ہے کہ ہم شرعی زندگی گزاریں۔‘

  16. افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کی نفی ہے: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کے خلاف ہے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کہ کیا طالبان انخلا کی تاریخ میں توسیع کے لیے تیار ہیں کا جواب دیتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقررہ تاریخ تک اپنا انخلا مکمل کر لے تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم اس پر بعد میں اپنا موقف دیں گے۔‘

  17. ’کابل ایئرپورٹ کی اندرونی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے‘: طالبان

    کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے حادثے کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم نے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ ہوائی اڈے کے اندر کی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے۔‘

    صحافیوں نے پریس کانفرنس کے دوران کابل ایئر پورٹ پر فلمنگ کی اجازت نہ دی جانے کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے محفوظ فاصلہ رکھ کر دور رہ کر کام کریں۔‘

    خواتین کے منسٹری کے دفاتر میں نہ جا سکنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’ان کی سکیورٹی کی خاطر ہم خواتین کو وہاں نہیں جانے دے رہے۔ وہاں ہمارے جنگجو موجود ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہاں پر جو بیت المال کا سامان ہے وہ چوری نہ ہو اس لیے اس کو بند کیا ہوا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملک کے آئین کے حوالے سے ابھی دیکھ رہے ہیں۔

  18. ہم انسانی ہمدردی کے تحت امداد کا خیرمقدم کریں گے: طالبان

    طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت دی جانے والی امداد کا خیرمقدم کریں گے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کہ افغانستان کو کتنی امداد کی ضرورت ہے کے جواب میں کہا ہے کہ ’ہمیں ممالک کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی ضرورت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن ہم اس مدد کے حق میں نہیں ہیں جو ہماری آزادی یا شناخت کی قیمت پر ہو۔‘

  19. بریکنگ, ’ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن اس کی فوج ملک میں نہیں چاہتے:‘ طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ترکی سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن ہم اس کی فوج اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔‘

    کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہیے ہیں اور کسی بھی ملک کے متعلق منفی تاثر نہیں رکھتے ہیں۔‘

    سی آئی اے ڈائریکٹر کی عبدالغنی سے ملاقات کے سوال پر طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس ملاقات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تاہمذبیح اللہ کا کہنا تھا تمام سفارتخانوں سے ہمارے نمائندے بات کر رہے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔

    ایک خاتون صحافی جن کا تعلق بلخ سے تھا انھوں نے پوچھا کہ آپ بین الاقوامی صحافیوں کے تحفظ کی بات تو کر رہے ہیں لیکن مقامی صحافیوں کا کیا ہو گا جس صوبے سے میں آئی ہوں میں وہاں واپس نہیں جا سکتی۔

    اس کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ صحافی بالکل ہمارے نشانے پر نہیں ہیں انھوں نے کوئی جنگ نہیں کی وہ عام شہری ہیں۔

    ہم صرف ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف جنگ کی ہے۔ آپ بلخ جا کر کام کر سکتی ہیں شاید کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا ہو کوئی ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن میں پھر بھی اس کو دیکھوں۔

  20. بریکنگ, پنجشیر کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’پنجشیر کا مسئلہ‘ ایک معمولی مسئلہ ہے اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔‘