آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کیا ہے اور یہ گروپ طالبان کے خلاف کیوں ہے؟

      • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ

    گذشتہ رات امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی سپاہیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے۔

    اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) سے امریکی فوجیوں کو لاحق ممکنہ خطرے سے خبردار کیا تھا۔

    خراسان ایک تاریخی خطے کا نام ہے جو موجودہ دور کے افغانستان اور پاکستان پر مشتمل تھا۔

    دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان میں پہلے افغانستان اور پاکستان دونوں شامل تھے تاہم سنہ مئی 2019 میں دولتِ اسلامیہ نے صوبہ پاکستان کے نام سے ایک نئی شاخ کا اعلان کیا تھا۔

    دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کا قیام جنوری 2015 میں عمل میں آیا تھا اور اس میں مبینہ طور پر پاکستانی اور افغان طالبان کے سابقہ ارکان شامل ہیں۔

    یہ افغان طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت گیر ہے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔

    اس گروہ کے نزدیک طالبان ’مرتد‘ ہیں اور اس لیے دولتِ اسلامیہ کے مطابق ان کا قتل جائز ہے۔

    دولتِ اسلامیہ کی جانب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری 2020 کو ہونے والے امن معاہدے کو بھی مسترد کیا گیا تھا اور انھوں نے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

    اسی طرح اس گروپ نے طالبان کے افغانستان پر حالیہ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے خفیہ معاہدے کے تحت افغانستان طالبان کے حوالے کر دیا۔

    سنہ 2019 کے اواخر میں عسکری جھڑپوں میں پہنچنے والے نقصانات اور اپریل 2020 میں سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سے دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کو کافی دھچکا پہنچا ہے۔

    تاہم اس تنظیم نے دوبارہ سر اٹھاتے ہوئے طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران ہونے والے حملوں اور دھماکوں کی ذمہ دار قبول کی تھی۔

    اپنے قیام سے اب تک اس گروہ نے افغانستان بھر میں کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔

    یہ گروپ سب سے زیادہ فعال مشرقی صوبے ننگرہار اور اس کے دارالخلافہ کابل میں ہے، مگر اس نے کُنڑ، جوزجان، پکتیا، قندوز اور ہرات میں بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز، افغان سیاست دانوں اور وزارتوں، طالبان، مذہبی اقلیتوں بشمول شیعہ مسلمانوں اور سکھوں، امریکی اور نیٹو افواج اور بین الاقوامی اداروں بشمول امدادی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ستمبر 2018 میں اس نے ایران میں ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

  2. امریکہ نے مزید 19 ہزار افراد کو افغانستان سے نکال لیا

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ نے منگل کو مزید 19 ہزار لوگوں کو افغانستان سے نکالا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ایک ترجمان نے ٹویٹ میں آگاہ کیا کہ 14 اگست سے اب تک امریکہ نے امریکی فوجی اور اتحادی ممالک کی پروازوں کے ذریعے 82 ہزار 300 افراد کو وہاں سے نکالا ہے۔

    جولائی کے اواخر سے اب تک افغانستان سے نکال لیے گئے افراد کی کُل تعداد 87 ہزار 900 ہو چکی ہے۔

  3. افغانستان سے نکل کر نئی منزل کی تلاش

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں سے اب تک ہزاروں افغان شہریوں کو نکالا جا چکا ہے لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے منتظر ہیں۔ کابل سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے افراد کو دنیا کے مختلف ممالک میں لے جایا گیا ہے۔

  4. کابل میں عارضی بندش کے بعد بینک دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے

    15 اگست کو افغان دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے لگ بھگ دس روز بعد بینک دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اب بھی اپنی اکاؤنٹس تک رسائی اور رقم نکلوانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    بینک آف کابل نے صارفین سے ڈیل کرنا شروع کر دیا ہے مگر صارفین کو زیادہ رقم نکلوانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    دیگر نجی بینک بھی کھلے ہیں مگر صارفین کو ان کے اکاؤنٹس سے یہ کہتے ہوئے ادائیگیاں نہیں کی جا رہی کہ مرکزی بینک سے کیش کی ترسیل کا نظام متاثر ہے۔

    حالیہ دنوں میں کابل میں بینکوں کی بندش کے باعث یہاں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ویسٹرن یونین نے افغانستان بھر میں اپنے آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  5. ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف مظاہرہ

    ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کی ملک میں ممکنہ آمد کے خلاف ہونے والی ایک مظاہرہ افراتفری کا شکار ہو گیا جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈھائی سو کے لگ بھگ مظاہرین اس آرمی کیمپ کے باہر جمع ہوئے جہاں افغانستان سے آنے والے تقریباً 800 پناہ گزینوں کو ٹھہرایا جائے گا۔

    مظاہرین ابتدا میں پرامن تھے مگر صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب پولیس نے انھیں منتشر ہونے کی وارننگ دی جسے مظاہرین نے ماننے سے انکار کر دیا۔

    مظاہرین نے قوم پرست گانے گائے، تشدد پر آمادہ کرنے والے بینرز لہرائے اور ٹائروں کو نذرِ آتش کیا۔

    اس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

    یاد رہے کہ ہالینڈ میں 800 پناہ گزینوں کو رکھنے کے انتظامات کیے ہیں اور پناہ گزینوں کی پہلی کھیپ منگل کی شام نیدرلینڈ پہنچ چکی ہے۔

    یہ آرمی کیمپ ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم کی گئی چار پناہ گاہوں میں سے ایک ہے۔

  6. طالبان کے حوالے سے ایران کا رویہ نرم کیوں ہو رہا ہے؟

  7. گھر بار چھوڑنے والے افغانوں میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں: اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس جن افغان شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے ان میں سے 60 فیصد کے قریب بچے ہیں۔

    یو این اوچا کے دفتر سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق مئی سے اب تک چار لاکھ سے زیادہ افغانوں کی بطور پناہ گزین رجسٹریشن کی گئی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں برس اپنا گھر بار چھوڑنے والے افغانوں کی کل تعداد ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

  8. فرانس کی جانب سے انخلا کا عمل جمعرات سے روکنے کا امکان

    فرانس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع سے انکار کے بعد وہ جمعرات سے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک سکتا ہے۔

    یورپی امور کے فرانسیسی وزیر کلیمنٹ بیون نے بدھ کو خبردار کیا اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان کا ملک انخلا کی کارروائی جمعرات سے روک سکتا ہے۔

  9. کیا افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت ہے؟, یوگیتا لمائے

    افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے عمل میں شامل افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان کے اس اعلان کے بعد کہ اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی، کچھ افغان شہریوں کو بدھ کی صبح ہوائی اڈے کے راستے پر واقع شناختی چوکیوں پر روکا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں روکنے والے کون تھے۔

    بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ افغان شہری جن کی ملک سے روانگی بدھ کو طے تھی انھوں نے ملک سے باہر جانے کا ارادہ فی الحال ترک کر دیا ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستے پر ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    افغانستان سے انخلا کا عمل جاری ہے تاہم طالبان کے اعلان کے بعد یہ خدشات ہیں کہ کابل کے ہوائی اڈے سے اڑنے والی کئی پروازوں پر لوگ نہیں ہوں گے۔

  10. عالمی برادری طالبان کی حکومت پر کڑی نظر رکھے

    اقوامِ متحدہ کے لیے افغانستان کے سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی رعایات دینے سے قبل ان کے طرزِ حکومت پر کڑی نظر رکھے۔

    غلام اسحاق زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان پر اعتماد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ’اس سارے معاملے میں اصل بات حکومت کو تسلیم کرنے کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ’تشدد میں کمی یا القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے حوالے سے اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا اس لیے میرے خیال میں طالبان کو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ رعایتیں دی جا چکی ہیں۔

    ’میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ ہم ذرا پیچھے ہوں اور کہیں کہ ہم اصل بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا طالبان نے حقیقت میں کام کیا ہے اور پھر ہم اس چیز کو قدم بہ قدم آگے بڑھائیں گے۔‘

  11. ملالہ یوسفزئی: طالبان کی ایک گولی کا زخم جو نو برس بعد بھی بھر نہیں سکا

  12. کابل ایئرپورٹ کی نئی سیٹلائٹ تصاویر

  13. روس بیلاروس، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور یوکرین کے شہری بھی نکالے گا

    روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے روسی شہریوں کے علاوہ بیلاروس، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور یوکرین کے شہریوں کے انخلا کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔

    وزارتِ دفاع کی جانب سے صحافیوں کو بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں چار فوجی طیارے استعمال کیے جائیں گے۔

    روسی حکام کے مطابق یہ طیارے الیانووسک کے فضائی اڈے پر تیار کھڑے ہیں اور ان پر ایک مکمل طبی ٹیم بھی افغانستان جائے گی تاکہ وہاں سے نکالے جانے والے افراد کو ضرورت پڑنے پر طبی امداد مہیا کی جا سکے۔

  14. طالبان: کام کرنے والی خواتین ’وقتی طور پر گھروں میں رکیں‘

    طالبان نے کہا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کو اس وقت تک گھروں میں بیٹھنا چاہیے جب تک ان کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ’یہ ایک عارضی اقدام ہے‘ اور افغان خواتین پر پابندیاں بہت تھوڑے عرصے کے لیے ہوں گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری سیکیورٹی فورسز کو پتا نہیں ہے کہ خواتین کے ساتھ معاملات کیسے کرنے ہیں، خواتین سے بات کیسے کرنی ہے۔ جب تک ہمارے پاس مکمل سیکیورٹی نہیں ہے، ہم خواتین سے کہیں گے کہ وہ گھروں میں رکیں۔‘

    کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے طالبان نے اپنا قدرے اعتدال پسند تاثر دینے کی کوشش کی ہے اور خواتین اور لڑکیوں کی آزادی اور کسی حد تک آزادیِ اظہار رائے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    تاہم اقوام متحدہ نے طالبان جنگجوؤں کی جانب سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی ’صدقہ اطلاعات‘ کی نشاندہی کی ہے۔

  15. ’افغان پیرالمپک کھلاڑیوں کو ملک سے بحفاظت نکال لیا گیا‘

    بدھ کے روز انٹرنیشنل پیرا اولمپک کمیٹی (آئی پی سی) نے بتایا کہ افغانستان کے دو پیرا اولمپک کھلاڑیوں کو بحفاظت ملک سے نکال لیا گیا ہے۔

    دونوں ٹائیکوانڈو کھلاڑیوں زکیہ خدادادی اور حسین رسولی کو ٹوکیو پیرالمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا تھی۔

    مگر افغانستان میں طالبان کی کامیابی کے بعد دونوں ان ہزاروں لوگوں میں سے تھے جو کہ ملک سے باہر نہیں جا پا رہے تھے۔

    ان کھیلوں کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل پیرا اولمپک کمیٹی نے کھلاڑیوں کو یہ کہہ دیا تھا کہ وہ مقابلوں میں شرکت نہیں کر سکیں گے اور کھیلوں کے آغاز میں افغان پرچم صرف علامتی طور پر لہرایا گیا اور ایک رضاکار اسے لے کر گراؤنڈ میں اترا۔

    آئی پی سی کے ترجمان کریگ سپینس نے بدھ کے روز کہا کہ ’انھیں افغانستان سے نکال لیا گیا ہے اور اب وہ ایک محفوظ مقام پر ہیں۔ میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ کہاں ہیں کیونکہ یہ کھیلوں کا نہیں بلکہ انسانی جان کو محفوظ رکھنے کا معاملہ ہے۔‘

    اگر ان کا خواب پورا ہو جاتا تو 23 سالہ زکیہ خدادادی ان کھیلوں میں افغانستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون ہوتیں۔

  16. بریکنگ, امریکی فوجیوں کا پہلا دستہ افغانستان سے روانہ

    اگرچہ دیگر اتحادی اس پر ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے وباؤ ڈال رہے ہیں، امریکی صر جو بائیڈن کے بیان کے مطابق امریکہ 31 اگست تک افغانستان سے اپنے تمام اہلکار نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق سینکڑوں امریکی فوجی افغانستان سے روانہ ہو چکے ہیں تاہم سی این این سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ ان کے جانے سے افغانستان میں امریکی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    طالبان نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی توسیع سے انکار کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کابل سے لوگوں کو نکالنے کا کام رفتار پکڑ رہا ہے اور منگل کو 12 گھنٹوں میں وہ 12 ہزار افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ان میں سے 6400 افراد کو امریکی فوجی طیاروں پر جبکہ دیگر کو اتحادی ممالک کے جہازوں میں بھیجا گیا۔

    امریکہ نے 14 اگست سے اب تک 70 ہزار سے زیادہ افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔

    تاہم دیگر ممالک کا ماننا ہے کہ 31 اگست تک تمام شہریوں، اہلکاروں اور ان کے افغان اتحادیوں کو ملک سے بحفاظت نکالنا ممکن نہیں ہوگا اور امریکی صدر سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی اپیل کی ہے۔

  17. نیٹو سفارت کار: ہمسایہ ممالک کو افغان پناہ گزین کے لیے سرحدیں کھول دینی چاہییں

    افغانستان میں نیٹو کے ایک سفارت کار نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو اپنی افغان شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دینی چاہییں تاکہ زیادہ سے زیادہ پناہ گزین وہاں سے نکل سکیں۔

    کابل میں موجود سفارت کار نے روئٹرز کو بتایا: ’ایران، پاکستان اور تاجکستان کو پروازوں کے ذریعے یا زمینی راستوں سے اور لوگوں کو نکالنا چاہیے۔‘

    فلاحی اداروں کے مطابق افغانستان کو طالبان کے قبضے کے دوران انسانی بحران کا سامنا کرنا ہو سکتا ہے۔

    نیٹو کے سفارت کار کے مطابق کئی بین الاقوامی امدادی ادارے اپنے افغان کارکنوں کو ہمسایہ ممالک پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کے مطابق ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ طالبان افغانستان میں سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جن میں ہتھیار ڈالنے والے افغان شہریوں اور فوجیوں کا قتل بھی شامل ہے۔

    طالبان نے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی واقعے کی تحقیقات کریں گے۔

  18. وادی پنجشیر: طالبان سمیت بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ

  19. منی سکرٹ سے برقعے تک: افغان خواتین کی زندگیاں کیسے بدلیں

  20. تجزیہ: کابل میں کئی لوگ مایوس ہوں گے, ٹارا میک کلوی، بی بی سی وائٹ ہاؤس رپورٹر

    عملہ بالکل وقت پر آیا اور وائٹ ہاؤس کے روزویلٹ روم میں مقررہ وقت پر سب تیاریاں مکمل تھیں۔

    لیکن جب ان کی تقریر کا وقت آیا تو صدر خود وہاں موجود نہیں تھے۔ وہ اوول آفس میں اپنے مشیروں کے ساتھ اپنے تقریر پر کام کر رہے تھے۔

    جوں جوں وقت گزرتا گیا، مجھے نیوزروم میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے ٹیکسٹ آنا شرو ہوگئے۔

    جب تقریر کا وقت بار بار ملتوی ہوتا رہا تو ایک ساتھی نے پوچھا ’وہاں کیا ہو رہا ہے؟‘

    وہ ہی نہیں، کابل میں کئی ہزاروں لوگ صدر کی یہ تقریر سننے کے لیے بیتاب تھے۔

    تاہم جب صدر بائیڈن نے آخرکار شام پانچ بجے اپنا خطاب شروع کیا تو اس میں ان کے لیے کوئی خوشخبری نہیں تھی۔

    صدر نے کہا کہ وہ 31 گست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔ یہ خبر یقیناً کابل میں کئی لوگوں کے لیے دکھ کا باعث ہوگی کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ افغانستان سے شاید کبھی نہ نکل سکیں۔

    پسِ پردہ، وائٹ ہاؤس میں تقریر سے پہلے کہرام برپا تھا اور کوئی چیز وقت پر نہیں ہو پا رہی تھی، کچھ کے خیال میں بالکل ان کی افغان پالیسی کی طرح۔