آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. افغان صحافیوں پر تشدد کے واقعات، صحافی تنظیموں کا تشویش کا اظہار

    طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہے جس پر بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ایک تازہ واقعے میں نجی افغان چینل طلوع نیوز کے دو صحافیوں کو اپنے کام کے دورانمارا پیٹا گیا اور ان کے کیمرے اور دیگر آلات توڑ دیے گئے۔

    طلوع کے رپورٹر زیار یاد نے کے مطابق طالبان نے انھیں اور ان کے کیمرہ مین کو کابل کے شهرنو علاقے میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون اور کیمرے ضبط کر لیے گئے۔

    زیار یاد کا کہنا تھا انھوں نے طالبان کو اپنے پریس کارڈ بھی دکھائے لیکن انھوں نے پروا نہیں کی۔

    طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب احمداللہ واسق نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایک بیان میں کہا کہ اگست 17 اور 20 اگست کو طالبان نے دو صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے جبکہ گذشتہ 20 دنوں میں کم از کم چار دیگر صحافیوں کے گھروں کی تلاشی لی جا چکی ہے۔

  2. افغانستان پر طالبان کا کنٹرول، سعودی عرب اب تک خاموش کیوں ہے؟

  3. طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ

    کابل کے شمال میں, ہندو کش کی چوٹیوں سے گھری وادی پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ طالبان اور مزاحمتی فورس نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے درمیان لڑائی اور بات چیت دونوں جاری ہے۔ پنجشیر وادی میں صورتحال کیا ہے اور اس کو مزاحمت کا گڑھ کیوں کہا جاتا ہے؟

    جانیے ہمارے ساتھی خدائے نور ناصر سے۔

  4. افغانستان سے پیدل سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ, یوگیتا لمائے، بی بی سی نیوز

    ملک سے نکلنے کے خواہش مند افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی سرحد پر موجود ہے۔ اب تک افغانستان کی جانب سے کسی بھی شخص کو سرحد پار کرنے سے روکے جانے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    یہاں سامان کے نام پر محض چند بیگ تھامے لوگ اپنے پورے خاندانوں کے ساتھ سرحد پار کرنے آئے ہیں۔

    یہ سب طالبان سے بھاگ رہے ہیں اور سپین بولدک میں موجود لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے

    طالبان کی جانب سے رواں ہفتے کام کرنے والی خواتین کو گھر رہنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد بی بی سی کی کئی ایسی خواتین سے بات ہوئی ہے جنھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کام پر آنے سےمنع کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی اب ملک چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں۔

  5. کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم: ’یہ لوگ ملک سے نکلنا چاہتے ہیں، چاہے ان کی جان ہی چلی جائے‘

    غیر ملکی شہریوں کو تو حملے کے خطرے کے حوالے سے انتباہ جاری ہوا ہے لیکن اس سے ہوائے اڈے کے باہر موجود ہجوم کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    ایک جانب کابل ایئرپورٹ میں تعینات مغربی فوجی وہاں جمع مجمعے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف طالبان جنگجو ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی کی نگرانی کر رہے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اب بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو ایئرپورٹ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ایک افغان سِول ایوی ایشن اہلکار کے مطابق ہدایات کے باوجود لوگ اب بھی ایئرپورٹ کی جانب آنے کو کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے روئٹرز کو بتایا: ’کسی بھی خودکش بمبار کے لیے لوگوں سے بھری راہداریوں پر حملہ کرنا بہت آسان ہے اور لوگوں کو بار بار خبردار کیا جا چکا ہے۔‘

    لیکن اہلکار کے مطابق لوگ وہاں سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ’وہ اس ملک سے نکلنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی راہ میں جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہر کوئی اپنی جان پر کھیل رہا ہے۔‘

    ایک نیٹو کے سفارتکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اگرچہ طالبان نے ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے تاہم دولت اسلامیہ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ایک اور اہلکار نے بتایا کہ بدھ کو انخلا کی رفتار میں سستی آئی تاہم جمعرات کو اس میں اضافہ متوقع ہے۔

  6. ’ذبیح اللہ کا اجازت نامہ بھی شاید آپ کو طالب کے تھپڑ سے نہ بچا سکے‘

  7. تجزیہ: ایئرپورٹ پر خودکش حملے کا خطرہ, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز

    برطانوی دفتر خارجہ نے پہلے ہی اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سفر کرنے سے منع کرتے ہویے کہا تھا کہ وہاں ’دہشت گرد حملوں کا خطرہ‘ ہے۔

    تاہم ان کی تازہ ہدایات بہت مخصوص ہیں: کابل ایئرپورٹ کی طرف مت جائیں۔ اگر آپ علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام کی طرف جائیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

    حکام نے تاحال اس خطرے کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں لیکن یہ الرٹ صدر بائیڈن کے خطاب کے 24 گھنٹوں بعد جاری ہوا ہے۔

    امریکی صدر نے اپنی حالیہ تقریر میں نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے خطرے کا ذکر کیا تھا۔

    ایئرپورٹ کے گرد جمع ہونے والے دیوہیکل مجمعے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنے والے کمانڈرز بھی حملے کے خطرے سے واقف ہیں۔

    تاہم ان ہدایات کا برطانوی انخلا آپریشن پر کیا اثر پڑے گا، یہ تاحال واضح نہیں ہے۔

  8. بریکنگ, ایئرپورٹ پر حملے کا خطرہ، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا اپنے شہریوں کے لیے انتباہ

    کئی مغربی حکومتوں نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کابل کے ہوائے اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہ وہاں جانے سے گریز کریں۔

    امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ سے چلے جائیں اور سکیورٹی خطرات کے باعث وہاں جانے سے گریز کریں۔

    تینوں ممالک کی جانب سے بدھ اور جمعرات کو جاری ہونے والے الرٹ میں کہا گیا ہے۔

    ہزاروں لوگ اب بھی ہوائی اڈے کے اندر اور باہر انتظار کر رہے ہیں۔

    کابل پر 10 روز قبل طالبان نے قبضہ حاصل کر لیا تھا جس کے بعد وہاں سے تقریباً 82 ہزار سے زائد افراد کو ہوائی اڈے کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔

    مغربی ممالک 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے مطابق طالبان نے ڈیڈ لائن میں توسیع کی مخالفت کی ہے لیکن غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کو 31 اگست کے بعد بھی ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز ایک انتباہ میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایبی گیٹ، ایسٹ گیٹ اور نارتھ گیٹ پر انتظار کرنے والوں سے کہا کہ وہ ’فوری طور پر نکل جائیں۔‘

    اس سے قبل برطانیہ نے اسی طرح کی ہدایات جاری کی تھیں اور لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ’محفوظ مقام پر چلے جائیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔‘

  9. طالبان 31 اگست کے بعد بھی لوگوں کو افغانستان سے جانے کی اجازت دیں: امریکہ

    امریکہ کا کہنا ہے کہ طلبان 31 اگست کے بعد بھی خطرے سے دوچار لوگوں کو ملک سے باہر جانے کی جانے کی اجازت دیں گے۔

    یہ بات امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے بریفنگ کے دوران بتائی۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ وہاں سے جانا چاہتے ہیں ان کی مدد کرنے کی امریکی کوششیں اس تاریخ کو ختم نہیں ہوں گی۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ہزار امریکی شہری یا شاید اس بھی زیادہ اب بھی افغانستان میں ہو سکتے ہیں اور انتظامیہ ان کا سراغ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    ایک رپورٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ امریکہ کو وہ کرنا چاہیے جو طالبان چاہتے ہیں، بلنکن نے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ امریکی شہریوں اور دوسروں کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’اس مقصد کے لیے ہمیں ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں کیونکہ زیادہ تر ملک ان کے کنٹرول میں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک عملی اقدام کے طور پر ، یہ ہمارے مفادات کے حق میں ہے۔‘

  10. ترکی نے افغانستان سے اپنی فوج نکالنا شروع کر دی

    ترکی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے افغانستان سے اپنی فوج نکالنا شروع کر دی ہے۔

    نیٹو فورس کے ایک حصے کے طور پر 500 سے زائد فوجی ملک میں تعینات تھے۔

    اس سے قبل یہ قیاس کیا جا رہا تپا کہ 31 اگست کے بعد ترک فوجیوں کی موجودگی برقرار رہ سکتی ہے تاکہ کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے میں مدد کی جا سکے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ترک صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ افغانستان کے لیے استحکام ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ترکی اس مقصد کے حصول کے لیے افغانستان میں تمام فریقوں کے ساتھ قریبی بات چیت جاری رکھے گا۔

  11. بریکنگ, خواتین کی تعلیم جاری ہے، لوگ طالبان سے خوش ہیں: ملا عبدالسلام ضعیف

    پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا ہے کہ اُن کا اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ ’اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں۔‘

    ملا عبدالسلام ضعیف 20 سال قبل افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں پاکستان کے لیے سفیر تھے۔

    پاکستان دنیا کے اُن تین ممالک میں شامل تھا جنھوں نے امارتِ اسلامی افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا تھا۔

    بعد میں امریکی حملے میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو ملا عبدالسلام ضعیف کو بھی امریکہ نے گرفتار کر لیا تھا مگر بعد میں وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے میں بھی شامل رہے۔

    ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا: ’خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جا سکتی ہیں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ کچھ افغان کابل ایئرپورٹ پر ہونے والی افراتفری کو بغیر دستاویزات ملک سے باہر جانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے طالبان کے بارے میں کوریج کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

    ’یہ طالبان کے خلاف بڑی سازش ہے، یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں اور وہ عوام اور تعلیم کے خلاف ہیں۔‘

    ’جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ طالبان کسی سے کوئی بدلہ نہیں لے رہے، یہاں تک کہ کابل ایئرپورٹ جانے والوں کو بھی طالبان نہیں روک رہے، اگر وہ قانونی انداز میں جائیں۔‘

  12. ’ہم روزانہ کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں سے بات کر رہے ہیں‘

    پریس سیکریٹری جان کربی سے ان اطلاعات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ طالبان لوگوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوج کے ساتھ 30 سے زیادہ قونصلر حکام تعینات ہیں جو اہل لوگوں کو پرواز تک پہنچنے میں مدد کر رہے ہیں۔

    جان کربی نے کہا: ’اس کے باہر طالبان نے ناکے لگا رکھے ہیں اور ہم روزانہ کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں سے بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کون لوگ اندر چاہییں، وہ کیسے لگتے ہیں اور اُن کے پاس کیا دستاویزات ہوں گی۔‘

    ’یہ بات چیت روزانہ ہوتی ہے۔ ہم طالبان سے کھلے طور پر بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کون لوگ چاہییں۔‘

  13. شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی افغانستان کے معاملے پر گفتگو

      • مصنف, کیری ایلن
      • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

    چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔‘

    شی جن پنگ نے ’زور دیا کہ چین افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ’چین افغانستان کے داخلی اُمور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔‘

    واضح رہے کہ افغانستان میں چین کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے مگر اس نے وہاں پل پل بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں موجود چینیوں سے اپنا اندراج کروانے کے لیے کہہ رکھا ہے۔

    آج چین کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’چین کی طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘

    حالیہ چند دن میں چینی میڈیا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ بس اپنی مرضی سے افغانستان سے نہیں نکل سکتا۔

    میڈیا اداروں نے وزارتِ خارجہ کے حکام کے تبصروں کو نمائندہ جگہ دی ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے ’جلد بازی‘ میں کیے گئے انخلا کے باعث ’افراتفری‘ پھیلی ہے۔

  14. ’جرمنی طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے‘

    جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ اُن کا ملک گذشتہ 20 سالوں میں افغانستان میں حاصل ہونے والے فوائد کے ’تحفظ‘ کی خاطر طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے تاہم طالبان کو کوئی غیر مشروط پیشکش نہیں کی جائے گی۔

    بدھ کو جرمن پارلیمان سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ جرمنی کے ساتھ کام کرنے والے فوجی اور امدادی اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا تب تک جاری رہے گا جب تک کہ ضرورت ہوگی۔

    اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں امداد فراہم کرنے والے اداروں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

    اینگلا مرکل نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بارے میں کہا کہ ’یہ نئی حقیقت تلخ حقیقت ہے مگر ہمیں اس سے نمٹنا ہوگا۔‘

    واضح رہے کہ فرانس پہلے ہی افغانستان سے انخلا کے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ امریکہ نے 31 اگست کو انخلا کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  15. ’یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کو افغانستان سے نکلنا ہو اور ہم کوشش نہ کریں‘

    پینٹاگون کی اسی پریس بریفنگ میں امریکی وزارتِ دفاع کے پریس سیکریٹری جان کربی سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے منصوبے کا انجام کیا ہوگا۔

    اُنھوں نے کہا: ’ہم آخر تک عوام کو وہاں سے نکالتے رہیں اگر ہمیں کرنا پڑا اور ہمیں ضرورت پڑی۔‘

    ’مگر ہم نے گذشتہ چند دنوں میں فوجیوں اور فوجی صلاحیتوں کو افغانستان سے نکالنے کو ترجیح دینی شروع کی ہے۔‘

    ’مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر آپ کو افغانستان سے نکلنا ہے اور ہم اس کے لیے کوشش نہیں کریں گے۔‘

    امریکہ کے افغانستان سے انخلا کی تاخیر منگل 31 اگست تک ہے۔

  16. ’اب بھی 10 ہزار لوگ کابل ایئرپورٹ پر اپنے انخلا کے منتظر ہیں‘

    امریکی دفاعی اور فوجی حکام اب پینٹاگون میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

    امریکی فوج کے میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے آپریشن کی توجہ اب بھی اس بات پر ہے کہ ’محفوظ اور مؤثر انداز میں جتنے زیادہ لوگوں کو نکالنا ممکن ہو، نکالا جائے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے 42 طیارے جن میں 37 سی 17 اور پانچ سی 130 شامل ہیں، نے گذشتہ روز افغانستان سے 11 ہزار 200 امریکیوں اور 48 اتحادی ممالک کے 7800 افغان اہلکاروں کو افغانستان سے نکالا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ سے ہر 39 منٹ میں ایک طیارہ ٹیک آف کر رہا ہے۔

    میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا کہ اب بھی کابل ایئرپورٹ پر 10 ہزار سے زیادہ افراد اپنے انخلاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے امکان ظاہر کیا کہ مزید لوگ بھی ایئرپورٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

  17. ’وہ شہر جس سے مجھے محبت تھی اب وہاں کچھ محفوظ نہیں تھا‘

  18. طالبان کا پوست کی کاشتکاری پر ریکارڈ کیا ہے؟

  19. طالبان نے ڈالر اور نوادرات ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی لگا دی

    طالبان نے کہا ہے کہ اُنھوں نے افغان شہریوں پر ڈالر اور مقامی نوادرات باہر منتقل کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

    افغان اسلامک پریس سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان ترجمان نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان پر عالمی سطح پر مالیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    افغانستان کے مرکزی بینک کے پاس کوئی نو ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ہیں جن کی اکثریت امریکہ میں ہے۔

    مگر امریکہ نے یہ اثاثے منجمد کر رکھے ہیں چنانچہ انھیں استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔

    اس کے علاوہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی افغانستان کے لیے اپنے قرض اور اپنی امداد بھی معطل کر دی ہے۔

  20. تاجکستان کے صدر اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات، افغانستان کے مسئلے پر بات چیت

      • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ

    تاجکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

    تاجک صدر امام علی رحمان نے بدھ کو دوشنبے میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

    شاہ محمود قریشی اس کے بعد ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کا دورہ بھی کریں گے۔

    تاجکستان کی صدارتی ویب سائٹ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے متوقع دورہ تاجکستان کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔

    دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور تعلقات سمیت علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل اُمور بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ افعانستان دوبارہ مسلط کی گئی خونی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    صدارتی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ تاجکستان نے ہمیشہ پڑوسی ملک کے طور پر افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کی حمایت کی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں ریاستی ڈھانچے کا تعین ریفرینڈم کے ذریعے اور ملک کے تمام شہریوں کے مؤقف کے مطابق کرنا چاہیے۔

    اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ تاجکستان زبردستی کے ذریعے قائم کی گئی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں افغان لوگوں اور بالخصوص اقلیتوں کا خیال نہ رکھا گیا ہو۔