افغان صحافیوں پر تشدد کے واقعات، صحافی تنظیموں کا تشویش کا اظہار
طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہے جس پر بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک تازہ واقعے میں نجی افغان چینل طلوع نیوز کے دو صحافیوں کو اپنے کام کے دورانمارا پیٹا گیا اور ان کے کیمرے اور دیگر آلات توڑ دیے گئے۔
طلوع کے رپورٹر زیار یاد نے کے مطابق طالبان نے انھیں اور ان کے کیمرہ مین کو کابل کے شهرنو علاقے میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون اور کیمرے ضبط کر لیے گئے۔
زیار یاد کا کہنا تھا انھوں نے طالبان کو اپنے پریس کارڈ بھی دکھائے لیکن انھوں نے پروا نہیں کی۔
طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب احمداللہ واسق نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایک بیان میں کہا کہ اگست 17 اور 20 اگست کو طالبان نے دو صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے جبکہ گذشتہ 20 دنوں میں کم از کم چار دیگر صحافیوں کے گھروں کی تلاشی لی جا چکی ہے۔