آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. ہم آخری لمحے تک افغانستان سے لوگوں کے انخلا کو یقینی بنائیں گے: امریکہ

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ کابل ایئرپورٹ سے لوگوں کے انخلا کا مرحلہ 31 اگست تک جاری رہے گا۔

    خیال رہے کہ 31 اگست امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن ہے۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ آخری لمحے تک کابل سے لوگوں کے انخلا کے مشن کو جاری رکھے گا۔‘

  2. بریکنگ, اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا افغانستان سے انخلا ممکن ہو سکا ہے: پینٹاگون

    میجر جنرل ولیم ٹیلر کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ ہزار سے زیادہ امریکیوں کی افغانستان سے محفوظ حالت میں واپس منتقلی ممکن ہو سکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے مشن کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا پروازوں کے ذریعے انخلا ممکن ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب بھی 5400 افراد کابل ایئرپورٹ پر انخلا کے منتظر ہیں۔

    ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت افغانستان میں پانچ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو لوگوں کی امداد میں مصروف ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ مشن کتنا خطرناک ہے لیکن دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکے گا۔‘

  3. زخمیوں کو علاج کے لیے جرمنی بھیجا گیا: میجر جنرل ولیم ٹیلر

    میجر جنرل ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز متعدد زخمیوں کو جرمنی لے جایا گیا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’دو پروازیں جرمنی اتریں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘

  4. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا: پینٹاگون

    امریکی محمکہ دفاع نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا تھا، جس میں 90 افراد مارے گئے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے۔

    مرنے والوں میں 13 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی فوج کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج کے مطابق جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک دھماکہ ہوا تھا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ہوٹل کے قریب دوسرا دھماکہ نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ جمعرات کو میڈیا میں یہ خبریں بھی نشر ہوئیں کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ ایک قریبی ہوٹل کے باہر ہوا ہے۔

    میجر جنرل ولیم ٹیلر نے کہا کہ وہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر صرف ایک ہی دھماکہ ہوا تھا۔

  5. ’بطور صدر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے پیاروں کے دکھ بانٹنے سے مشکل کوئی کام نہیں تھا‘

    امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں پر دلی دکھ پہنچا ہے۔

    اوباما نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش سے ورثے میں لی گئی اس جنگ کے دوران افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجی تعینات کیے تھے۔ انھوں نے امریکی فوجیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ ہیروز ہیں جو خطرناک مشنز پر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوسرے کی زندگیاں بچاتے ہیں۔

    اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ ’بطور صدر، ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دکھ بانٹنے سے مشکل کوئی کام نہیں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ ’ان امریکی اور افغان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔‘

    ’میں ان افغان خاندانوں کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں جن میں سے اکثر امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور وہ بہتر زندگی گزارنے کے لیے سب کچھ ِخطرے میں ڈالنے کے لیے تیار تھے۔‘

    سنہ 2001 سے اب تک امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق افغانستان میں 2400 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  6. ’داڑھی کا پوچھے تو سرٹیفیکیٹ دکھا دینا‘

    موجودہ حالات کے پیش نظر بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    آج کی قسط میں صحافی اقبال خٹک نے مارچ 2001 کے چند واقعات کا ذکر کیا ہے جب انھیں ایک مغربی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ کابل جانے موقع ملا۔ ویڈیو: سعد سہیل اور محمد ابراہیم

  7. کابل حملے عام شہریوں پر وحشت انگیز حملہ تھا: اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ کابل میں ہونے والے وحشت انگیز حملوں میں ملوث ہیں انھیں ’انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر روپرٹ کولوائل کا کہنا ہے کہ ’افغان دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر ہلاکت خیز حملوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عام شہریوں، بچوں، خواتین کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ حملے خاص طور پر دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے، اور ان کے باعث دہشت پھیلی۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان شدت پسند عناصر کو پکڑیں گے جنھوں نے 90 افغان اور 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔

  8. کابل: برطانوی سفارتخانے کی خالی عمارت سے بعض افغانوں کی دستاویزات ملنے کا انکشاف

  9. افغان خواتین غیر یقینی کا شکار

    طالبان کا دعویٰ ہے کہ خواتین کے حقوق کا اسلامی قوانین کے مطابق احترام کیا جائے گا۔ تاہم بہت لوگوں کو خدشہ ہے کہ خواتین کے کام کرنے اور بچیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

    تفصیل دیکھیے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی اس رپورٹ میں

  10. مزارِ شریف میں پاکستانی حکومت کی مدد سے ایئر برج بنانے کی کوشش کریں گے: عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طبی سامان کی ضرورت بہت زیادہ اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے خطے کے ایمرجنسی ڈائریکٹر رک برینن افغانستان میں سامان کی قلت سے متعلق بات کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اگلے دو سے تین روز میں مزارِ شریف میں پاکستانی حکومت کی مدد سے ایئر برج بنانے کی کوشش کریں گے۔

    برینن نے جنیوا میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتالوں میں درکار سازوسامان اور بچوں میں غذائی قلت سے متعلق ادویات اس وقت ترجیحات میں سب سے اوپر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت سکیورٹی صورتحال اور اور دیگر آپریشنل مسائل کے باعث کابل ایئرپورٹ کے ذریعے ایسا کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل ایئرپورٹ پر جمعرات کے روز دو خودکش حملوں میں کم سے کم 90 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 150 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

  11. ہرات سے ایک ڈائری: ’میں ایک قیدی کی طرح ہوں، میری زندگی رک گئی‘

  12. کابل ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے سے متعلق ترکی اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری

    ترکی کے صدر طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا مشترکہ انتظام سنبھالنے میں مدد سے متعلق حتمی فیصلے کیے جا سکیں۔

    صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے طالبان سے تین سے چار گھنٹوں پر محیط بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کہ ترکی ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنےکے لیے تیار ہے لیکن اس کی سکیورٹی کے انچارج طالبان ہوں گے۔

    ایئرپورٹ کا انتظام کیسے سنبھالا جاتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ بنایا جاتا ہے یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اس کا متحرک ہونا افغانستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہو گا۔

    ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے اور یہ اس اتحادی افواج کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔ ترکی نے گذشتہ چھ سالوں سے ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔

    تاہم طالبان ترکی سمیت تمام بین الاقوامی افواج کا ملک سے انخلا چاہتے ہیں۔ صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کی افواج ایئرپورٹ پر موجود رہیں گی یا نہیں۔

  13. ’خطے کی دیگر افواج سے کوئی براہ راست رابطے نہیں‘

    چین اور ازبکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے عسکری تعاون کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی افواج میں کوئی براہ راست رابطے نہیں ہیں اور یہ حکومتی سطح پر ہی محدود ہیں۔

  14. ’افغانستان میں ابھی خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں‘

    پنجشیر میں جنم لینے والی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے تاہم اس وقت صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی اور اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    تاہم ان کے مطابق افغانستان میں ابھی خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں۔

  15. ’طالبان کی حکومت بنی تو حکومتی سطح پر رابطہ ہوگا‘

    ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کی حکومت قائم ہوتی ہے تو پاکستان کی حکومت کا ان کے ساتھ یقیناً رابطہ ہوگا۔

  16. ’کوئی پناہ گزین پاکستان نہیں آ رہے‘

    ایک صحافی نے جب ان سے چمن پر آنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے سوال کیا تو میجر جنرل بابر افتخار نے کہا: ’ہمارے ہاں کوئی پناہ گزین نہیں آئے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر چمن کے مقام پر بڑی تعداد میں افغان پاکستان کی جانب آ رہے ہیں۔

    ان کے مطابق سرحد پر افراتفری کی صورتحال نہیں ہے اور ہر آنے جانے والا متعلقہ دستاویزات کے ساتھ آ رہا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان یا کسی اور گروہ کے رکن پناہ گزین بن کر پاکستان میں داخل نہیں ہو جائیں گے تو میجر جنرل بابر افتخار نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔

  17. میجر جنرل بابر افتخار: امید ہے کابل سے انڈیا کا اثر ختم ہو جائے گا

    جب میجر جنرل بابر افتخار سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا اور افغان انٹیلیجنس کا گٹھ جوڑ برقرار ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں حکومت سازی کا انتظار کرنا پڑے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ انڈیا کا اثر وہاں سے ختم ہو جائے گا۔

    ’انڈیا کا وہاں کیا کردار رہا ہے؟ جو بھی انھوں نے وہاں سرمایہ کاری کی وہ صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کیا گیا۔ انھیں افغان عوام سے کوئی لگاؤ نہیں۔

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق ہم نے افغان رہنماؤں سے رابطے رکھنے کی کوشش کی لیکن جب بھی ہم مل کر واپس آنے تو کوئی منفی بیان سامنے آ جاتا

    ان کے مطابق این ڈی ایس را کے لیے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرتی رہی۔ اگر وہ اپنا کام کرتی تو ایسا نہ ہوتا جو ان کے ساتھ ہوا۔

  18. ’ٹی ٹی پی سے کوئی خطرہ ہوا تو ہم تیار ہوں گے‘

    ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان نے طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے لیکن اگر افغان طالبان ایسا نہیں کرتے تو کیا پاکستان کوئی فوجی آپریشن کرے گی۔

    اس سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دلایا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے پاکستان یا کسی بھی اور ملک کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس لیے وہ وہاں آزادی سے نہیں رہ سکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف کوئی مسئلہ ہوا تو وہ اس کے لیے تیار ہوں گے۔

  19. ’سی پیک منصوبوں پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی‘

    سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آ ر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان تمام حملوں کو منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور سب کو خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی حمایت حاصل تھی۔

  20. ’سرحد پر باڑ لگانے کا کام بہت بڑی اور اہم کاوش تھی‘

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جب مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن چل رہے تھے اور مشرقی سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے جامع بارڈر مینیجمنٹ سسٹم کا انعقاد کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بڑے بارڈر ٹرمینل کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔

    افغان سرحد پر باڑ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی اور اہم کاوش تھی۔

    اس کام کے دوران کئی پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام ہو رہا ہے اور 50 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔