آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. ’قریب 300 امریکی شہری اب بھی افغانستان میں ہیں‘

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ قریب 300 امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جنھیں وطن واپسی کا انتظار ہے۔

    نیوز چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب 300 یا اس سے کم امریکیوں پر پہنچ گئے ہیں جو گراؤنڈ پر ہیں اور اس وقت میں بھی کام کر رہے ہیں۔ تاکہ باقیوں کی واپسی ممکن ہوسکے۔‘

    بلنکن کا کہنا ہے کہ کچھ امریکیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کی 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد بھی وہ وہاں موجود رہیں گے لیکن ’وہ افغانستان میں پھنسنے والے نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ان کی واپسی کا بھی راستہ موجود ہے۔

  2. کابل میں امریکہ کی فوجی کارروائی

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے دو امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ امریکہ نے اتوار کو کابل میں فوجی کارروائی کی ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان اہلکاروں نے بتایا کہ اس کارروائی میں دولت اسلامیہ خراسان کے مبینہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی فورسز نے اس فوجی کارروائی میں ایک ممکنہ خودکش بمبار کو نشانہ بنایا جو کار کے ذریعے کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابتدائی معلومات کا حوالہ دے رہے ہیں، اور متنبہ کیا ہے کہ یہ معلومات بدل بھی سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس فضائی حملے میں کار میں بیٹھے ایک خودکش بمبار کو نشانہ بنایا ہے جو کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

    اس امریکی آپریشن سے متعلق مزید معلومات موجود نہیں ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس کا تعلق ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے راکٹ حملے سے ہے۔

  3. اُن افراد کی زندگی کیسی ہوتی ہے جو برطانیہ میں پناہ کی تلاش میں آتے ہیں؟

  4. ویڈیو: کابل میں دھماکے کے بعد کا منظر

    ٹوئٹر پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کے بعد کی صورتحال کیا ہے۔

    یہ ویڈیو صحافی شفیع کریمی نے پوسٹ کی ہے۔

    ابتدائی طور پر بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کرسکا۔ لیکن مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

  5. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے قریب راکٹ حملے کی اطلاعات

    کابل سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایئرپورٹ کے قریب ایک دھماکے کی اونچی آواز سنی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر موجود کچھ تصاویر میں عمارتوں کے اوپر سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔

    وزارت صحت کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں دھماکہ ہوا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ دھماکے کی وجہ کیا ہے اور بی بی سی مزید تفصیلات ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کی سابقہ حکومت کے ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات سے پتا چلا کہ ’راکٹ ایک گھر پر گرا ہے۔‘

    وزارت صحت کے اہلکار نے بھی بی بی سی کو یہی بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ایئرپورٹ کے قریب ایک گھر پر راکٹ آگرا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ راکٹ ایئرپورٹ پر نہیں گرا۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے متنبہ کیا تھا کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی طرح مزید حملوں کا خطرہ موجود ہے۔

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں افغان شہریوں کے علاوہ امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

  6. ’خدا کی قسم ہم طالبان کے ساتھ ہیں‘: وسعت اللہ خان کا کالم

  7. افغانستان: کیا طالبان پر دیگر ممالک سے تجارت جاری رکھنے کا دباؤ ہوگا؟

  8. ’کابل ایئرپورٹ پر اب بہت کم طیارے موجود ہیں‘

    کابل ایئرپورٹ کے گرد و نواح سے تازہ اطلاعات کے مطابق وہاں اب بہت کم طیارے کھڑے ہیں۔ اتوار کو وہاں بہت کم صحافی موجود ہیں جبکہ حملوں کے خدشات کے دوران طالبان نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

    کابل میں موجود الجزیرہ کی نامہ نگار شارلٹ بیلس کہتی ہیں کہ ’آج صبح، کابل ایئرپورٹ پر ایک امریکی طیارہ بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ اور گذشتہ روز کے کے مقابلے فضا میں اور بھی کم پروازیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں افراد اب بھی وہاں سے نکلنے کی کوششوں میں ہیں۔ انھوں نے طالبان سے رابطہ کر کے بسوں کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ صرف ایئرپورٹ کے باہر کھڑے رہنے کے بجائے اندر داخل ہوسکیں۔

  9. آپریشن سائیکلون: جب امریکہ نے افغانستان میں ’طالبان‘ کو تیار کیا

  10. ’ہم طالبان سے بات چیت کریں گے لیکن ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘, طالبان مخالف گروہوں کا موقف

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے کابل کے شمال میں واقع پنجشیر وادی میں طالبان مخالف گروہ سے بات کی ہے۔ یہ وہ واحد علاقہ ہے جو افغانستان میں طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ تاہم طالبان نے اسے چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔

    روئٹرز نے بلخ صوبے کے سابق گورنر کے بیٹے خالد نور سے بات کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ طالبان مخالف گروہ ایک ساتھ مل کر طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ ان مذاکرات میں ملک کے سابق نائب صدر اور ازبک رہنما عبدالرشید دوستم بھی شامل ہوں گے۔

    تاہم یہ واضح نہیں کے طالبان کے خلاف یہ گروہ کتنے متحد ہوں گے۔ خالد نور کا کہنا ہے کہ یہ ’بڑا خدشہ‘ ہے کہ مذاکرات ناکام ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر افغانستان پر حکومت کرنا ’ناممکن ہے۔‘

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف گروہوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انھوں نے کامیابی کی شرح ’60 فیصد‘ تک بتائی ہے۔

  11. ’ہم ایک پُرامن افغانستان کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کی کوئی بیرونی مداخلت نہ ہو‘

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ یہ ایک مسئلہ ضرور ہیں لیکن ناقابل حل مسئلہ نہیں ہیں اور غیر ملکی افواج کے جانے کے بعد پنجشیر کے مخالف جنگجو اور دولت اسلامیہ دونوں اس قابل نہیں رہیں گی کہ افغانستان کا امن خراب کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپی ممالک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لے کر آئیں گے اور افغانستان کی جانب خود مختار پالیسی اپنائیں گے بجائے صرف امریکی نقش قدم پر چلنے کے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم ایک پر امن افغانستان کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کی کوئی بیرونی مداخلت نہ ہو اور افغان عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، لیکن سب سے پہلے اس کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہوگا تاکہ ایک عبوری حکومت کا قیام ہو اور آنے والے سو دنوں کی منصوبہ بندی کی جائے۔

  12. افغانستان میں ایران اور پاکستان سے زیادہ معدنیات ہیں: گلبدین حکمت یار

    حزب اسلامی کے سربراہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں معاشی مسائل ہیں اور ملک بحران کی کیفیت سے گزر رہا ہے لیکن انھیں امید ہے کہ جب ملک میں ایک اچھی حکومت قائم ہوگی تو حالات بہتر ہوں گے۔

    انھوں نے افغانستان میں معدنیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس قدرتی دولت سے مالامال ہے اور یہاں سونا، تانبا، لوہا، لیتھیم ، تیل، گیس موجود ہے جس کی مدد سے افغانستان کی حالت بہتر کی جا سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایران اور پاکستان سے زیادہ معدنیات ہیں اور اگر ہم اپنے ملک میں پانی کے وسائل کا بہتر استعمال کریں تو پورے ملک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ ماضی میں چین کی خواہش تھی کہ وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کرے لیکن امریکہ نے ایسا ہونے نہیں دیا اور کہا کہ اب ایسا نہیں ہوگا اور ہم ایسے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کریں گے۔

  13. کوئی اکیلا فریق افغانستان کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا: گلبدین حکمت یار

    افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ملکی حالات اچھے نہیں ہیں لیکن اگر تمام فریق مل جل کر کام کریں تو ہم حالات کو سنبھال سکتے ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلے اس پورے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہی کچھ ہمیں طالبان کی جاب سے بھی سننے میں آ رہا ہے۔

    تاہم انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت نہیں چاہتا اور شاید وہ اس وجہ سے یہاں کی حکومت کو کچھ عرصے تک تسلیم بھی نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ چند ممالک نے مثبت اشارے دیے ہیں اور دباؤ ڈالنے کے بجائے وقت دینے کا کہا ہے۔

  14. ’انڈیا کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ وہ یقین دلائیں کہ اب وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے‘

    گلبدین حکمت یار نے پریس کانفرنس میں انڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اخلاقی اور سیاسی ذمے داری یہ تھی کہ وہ دنیا کو اور افغانستان کو یقین دلائیں کہ وہ اب افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے لیکن بجائے ایسا کرنے کے، انھوں نے تو ایک جنگجو گروپ کی حمایت کرنی شروع کر دی۔

    افغان مجاہدین کے سابق کمانڈر نے کہا کہ ماضی میں بھی جب سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو اس وقت بھی انڈیا نے سویت یونین کا ساتھ دیا تھا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ انڈیا بھی پاکستانی وزیر اعظم کی طرح اس بات کی معافی مانگے جس میں عمران خان نے تسلیم کیا کہ امریکہ کی جنگ میں حصہ بننا ایک غلطی تھی۔

    گلبدین حکمت یار نے کہاں کہ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک سابق انڈین فوجی افسر کھلے عام احمد مسعود کے جنگجو گروہ کو مسلح کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور وہ ایسا کرنے سے اجتناب برتیں۔

    انھوں نے ناٹو افواج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بھی اتنی فوجی یہاں تھے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا اور ہمارا مشورہ یہ ہے کہ جنگ اور اس قسم کی حمایت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    پنجشیر میں موجود افغان طالبان مخالف جنگجؤں کا حوالہ دیتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہاں کہ چند امریکی قانون ساز اُن جنگجوؤں کی ابھی بھی حمایت کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید امریکہ ابھی بھی افغانستان سے جانا نہیں چاہتا اور اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح سے جنگ کو طوالت دے۔

  15. ’دنیا نے افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں لیکن انڈیا نے مجھے واپس بھیج دیا‘

  16. افغان عوام چاہتی تھی کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور ایسا ہو گیا: گلبدین حکمت یار

    افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار کہتے ہیں کہ افغان عوام ان تبدیلیوں سے خوش ہیں اور وہ اس کے خواہشمند تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور یہ ہو گیا۔

    ’اب شکر ہے کہ ایسا ہو گیا ہے اور سوائے پنجشیر کے پورے ملک میں امن ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ افغانستان پر جنگ باہر سے مسلط کی گئی تھی اور بیرونی قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پر امن طریقے سے اقتدار کی منتقلی نہ ہو اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ جنگ ختم ہو لیکن اب ان کا ایجنڈا ناکام ہو گیا۔

    گلدبین حکمت یار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان نے کابل شہر میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اشرف غنی کے چلے جانے کے بعد انھیں موقع ملا جس کے بعد وہ شہر میں داخل ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ طالبان کو امریکیوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کسی قسم کا خون خرابہ نہیں ہو گا اور انھوں نے بھی طالبان کو یہی مشورہ دیا تھا کہ کابل داخل ہونے میں مسلح جنگجوؤں کو وہاں نہ بھیجا جائے، اہم حالات نے انھیں مجبور کیا اور وہ شہر میں داخل ہوئے اور حالات کو قابل میں کیا۔

  17. یقین ہے طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے: گلبدین حکمت یار

    گلبدین حکمت یار نے افغانستان سے باہر جانے والے شہریوں اور خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ باہر جانا چاہتے ہیں تو وہ ان کی اپنی مرضی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ غیر ملکیوں سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے خواتین کو کپڑوں کے علاوہ اور کیا دیا ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

    گلبدین حکمت یار نے کہا کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے اور انھوں نے بھی طالبان کو مشورہ دیا تھا کہ خواتین کو شریعت کی رُو سے کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔

    اسی حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم مغرب کے ’غیر اخلاقی تعلقات‘ کے خلاف ہیں اور اسلام نے مرد اور عورت کے لیے لباس اور ان کے حقوق کا تعین کیا ہوا ہے اور انھیں وہ حقوق پورے ملنے چاہیے۔

  18. بریکنگ, افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو: گلبدین حکمت یار

    افغانستان میں حزب اسلامی کے رہنما اور ماضی میں روس کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کی قیادت کرنے والے گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو۔

    کابل میں ایک پریس کانفرنس سے بات چیت کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ غیر ملکی لوگ افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ طالبان پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں اور کہہ رہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ ’اپنے لوگوں‘ کو حکومت میں لانا چاہتے ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ افغان عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرے اور اس بات کو مد نظر رکھے کہ ان کے مذہبی اور قومی اقدار کیا ہیں۔

    گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ان کی جماعت طالبان کی حمایت کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ دیگر ممالک افغانستان پر پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔

    انھوں نے کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری اس کے پاس ہونی چاہیے جو افغانستان کے بارے میں بری نیت نہ رکھتا ہو تاکہ ہم دنیا کے لیے کھلے رہیں اور اس طرح ہماری نقل و حرکت بند نہیں ہو گی۔

  19. ’طالبان نے پنجشیر میں انٹرنیٹ، ٹیلی کام سہولیات منقطع کر دی ہیں‘

    بی بی سی نیوز کی اینکر یلدا حکیم نے مقامی ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹر پر خبر دی ہے کہ طالبان نے پنجشیر صوبے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولیات کو منقطع کر دیا ہے۔

    خبروں کے مطابق کابل کے شمال میں واقع پنجشیر ملک کا واحد صوبہ ہے جو اس وقت طالبان کے قبضے میں نہیں ہے اور ملک میں موجود بیشتر طالبان مخالف رہنما اس وقت وہیں قیام پذیر ہیں۔

    طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی پنجشیر طالبان مزاحمت کا مرکز تھا۔

  20. ’ہم مل جل کر مذاکرات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘

    افغان رہنماؤں کا ایک گروپ طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگلے چند ہفتوں میں آپس میں ملاقات کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ طالبان سے نئی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کر سکے۔

    افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے سابق گورنر عطا نور محمد کے بیٹے خالد نور نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گروپ میں ازبک عسکری رہنما عبدالرشید دوستم سمیت طالبان مخالف رہنما شامل ہیں۔

    ’ہم لوگ مل جل کر مذاکرات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ افغانستان کے مسائل کوئی ایک شخص نہیں حل کر سکتا۔ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی پوری سیاسی کمیونٹی ساتھ بیٹھے ، بالخصوص وہ روایتی رہنما، جنھیں عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔‘

    عطا نور اور عبدالرشید دوستم افغانستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے جاری لڑائیوں میں شامل رہے ہیں اور اگست میں جب طالبان نے مزار شریف شہر پر قبضہ کر لیا تو دونوں رہنما لڑائی کیے بغیر ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔

    27 سالہ خالد نور نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کا ’بڑا خدشہ‘ ہے اور ان کا گروہ طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے کے لیے تیاری شروع کر چکا ہے۔ ’ہتھیار ڈالنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘