آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. افغانستان سے ریسکیو مشن میں نکالے گئے دو کھلاڑی پیرالمپکس میں شرکت کرنے ٹوکیو پہنچ گئے

    افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی جاپان میں معذور کھلاڑیوں کے لیے جاری پیرالمپکس میں شرکت کرنے ٹوکیو پہنچ گئے ہیں۔

    انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی (آئی پی سی) کے عہدے دار نے جاپان کی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو افغانستان سے بچا کر نکالنا اور پھر ان کھیلوں میں شرکت کرنے جاپان پہنچانا اور یہاں خوش آمدید کرنا ’بہت ہی جذباتی‘ لمحہ تھا۔

    ان کھلاڑیوں میں ایک خاتون ٹائی کوانڈو کھلاڑی ذکیہ خدادی اور دوسرے ٹریک اینڈ فیلڈ کھلاڑی حسین رسولی ہیں۔

    ان دونوں کھلاڑیوں کو گذشتہ ہفتے افغانستان سے نکالا گیا تھا اور وہ ہفتے کی شام ٹوکیو بذریعہ پیرس پہنچے ہیں۔

    آئی پی سی کے مطابق یہ دونوں کھلاڑی اب اولمپکس ولیج میں قیام پذیر ہیں اور اپنے کھیلوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

    آئی پی سی کے صدر اینڈریو پارسنس نے ایک بیان میں کہا کہ ذکیہ اور حسین اپنے خواب کی تکمیل کرنے اب ٹوکیو میں موجود ہیں اور دنیا بھر میں لوگوں کو امید کا پیغام دے رہے ہیں۔

    آئی پی سی کے ترجمان کریگ سپینس نے مزید بتایا: ’ان سے ملاقات بہت ہی جذباتی تھی۔ اس کمرے میں موجود ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ بہت ہی زبردست میٹنگ تھی۔‘

    واضح رہے کہ آئی پی سی نے پہلے کہا تھا کہ وہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹوکیو تک نہیں پہنچا سکیں گے لیکن اس کے بعد متعدد ممالک کی حکومتوں اور مختلف تنظیموں نے ایک ’مشترکہ عالمی آپریشن‘ کیا تاکہ ان دونوں کی مدد کی جا سکے اور انھیں ٹوکیو تک پہنچایا جا سکے۔

  2. ’طالبان کہتے ہیں نوکریوں پر جائیں لیکن جب لوگ کام پر جاتے ہیں تو اُنھیں واپس بھیج دیتے ہیں‘

  3. انخلا کا امریکی آپریشن بھی تکمیل کے نزدیک، ’شہریوں کے انخلا کا عمل اتوار کو مکمل ہو جائے گا‘

    افغانستان سے شہریوں کے انخلا کے عمل کا سلسلہ اب اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور امریکی افواج کی جانب سے کابل ایئرپورٹ میں موجود ہزار سے سے زیادہ شہریوں کو لے جانے والی آخری پرواز اتوار کو روانہ ہو جائے گی۔

    ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آپریشن کے اختتام کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی ہے تاہم امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔

    سکیورٹی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ حکام کی پوری کوشش ہے کہ ہر غیر ملکی شہری اور وہ جو خطرات کا شکار ہیں انھیں نکال لیا جائے اور اس کے بعد فوجییوں کے انخلا کا عمل شروع ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو ہفتے کو بتایا تھا کہ اب ایئرپورٹ پر چار ہزار سے کم فوجی رہ گئے ہیں۔

  4. برطانوی فوجی، سفارتی عملہ انخلا کے آپریشن کے بعد وطن کے لیے روانہ

    افغانستان میں دو دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد برطانوی فوجی دستے اور سفارتی عملہ ہفتے کی شب وطن کے لیے واپس روانہ ہو گیا ہے۔

    شہریوں اور اتحادیوں کے انخلا کے لیے تقریباً دو ہفتے سے جاری ’آپریشن پٹنگ‘ دوسری جنگِ عظیم کے بعد لوگوں کو متاثرہ علاقے سے نکالنے کے لیے برطانیہ کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔

    آپریشن پٹنگ کی تکمیل کے لیے برطانیہ نے ہزار سے زیادہ فوجی اور سفارتی عملہ افغانستان بھیجا تاکہ وہاں موجود برطانوی اور افغان شہری اور دیگر اتحادی ممالک کے شہریوں کو نکالا جا سکے۔

    واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔

    اس آپریشن میں 15 ہزار سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے رات گئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا مشن نہیں دیکھا اور میں اس میں مدد کرنے والے تمام افراد کا مشکور ہوں۔

    برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے افغانستان میں فوجی موجودگی نے دو دہائیوں سے القاعدہ کو برطانیہ سے دور رکھا اور آج وہ اسی وجہ سے محفوظ ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ آپریشن پٹنگ میں افغانستان سے نکالے جانے والے افراد میں 2200 کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔

    برطانیہ نے اس آپریشن میں پانچ ہزار برطانوی شہری اور ان کے خاندان والوں کو نکالا جبکہ اس کے علاوہ برطانیہ کے لیے کام کرنے والے آٹھ ہزار سے زیادہ افغان شہری اور ان کے خاندان والوں کو بھی برطانیہ لے جایا گیا جن کے بارے میں خدشہ تھا کہ طالبان انھیں نشانہ بنائیں گے۔

  5. آمنہ مفتی کا کالم: کابل، شہر افسوس!

  6. غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار

    افغانستان پر قبضہ حاصل کرنے والے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ امریکیوں کے اشارے کے منتظر ہیں جس کے بعد وہ کابل کے فضائی اڈے کا مکمل طور پر انتظام سنبھال لیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ٹیکنیکل ماہرین اور انجنئیرز کی ٹیم موجود ہے جو ایئرپورٹ کا نظام چلا سکتی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کو مزید بتایا کہ طالبان نے افغانستان کے 34 میں سے 33 صوبوں کے گورنر اور پولیس سربراہان منتخب کر لیے ہیں اور بہت جلد ملک کی معاشی حالات کو حل کرنے کے لیے کام شروع کر دیں گے۔

  7. کابل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے کا خدشہ، امریکی شہریوں کو علاقہ چھوڑ دینے کی ہدایت

    امریکہ نے سنیچر کو کابل ایئرپورٹ کے نزدیک ایک اور حملے کے ’مخصوص اور قابلِ اعتبار‘ خدشے کے تحت اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اُس علاقے سے دور ہو جائیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے ایک سیکیورٹی الرٹ میں شہریوں کو ایئرپورٹ سے دور ہو جانے کی ہدایت کی۔

    اپنے سیکیورٹی الرٹ میں سفارت خانے نے ایئرپورٹ کے جنوبی (ایئرپورٹ سرکل) گیٹ، وزارتِ داخلہ گیٹ اور شمال مغربی جانب واقع پنجشیر پیٹرول سٹیشن گیٹ کے حوالے سے موجود خطرات کا ذکر کیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے صدر جو بائیڈن کہہ چکے تھے کہ اُن کے ملٹری کمانڈرز نے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں نئے حملے کے خدشے کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ صورتحال اب بھی ’نہایت خطرناک‘ ہے۔

  8. ’والد کی ہلاکت سے بھی زیادہ صدمہ افغانستان چھوڑتے وقت ہوا‘

  9. بریکنگ, اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ حملے جیسے ایک اور حملے کا امکان ہے، بائیڈن

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی ملٹری کمانڈرز کے مطابق اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکوں جیسی ایک اور ہلاکت خیز دہشتگردانہ کارروائی کا ’بلند امکان‘ ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملنے والی بریفنگ کے بعد بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف ہونے والا ڈرون حملہ آخری نہیں تھا۔

    ’زمینی صورتحال اب بھی انتہائی خطرناک ہے اور ایئرپورٹ پر مزید حملوں کا خطرہ بلند ہے۔ ہمارے کمانڈرز نے بتایا ہے کہ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں ایک اور حملے کا بلند امکان ہے۔‘

    واضح رہے کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    سنیچر کو پینٹاگون نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک ڈرون حملے میں دو ’اہم‘ افراد ہلاک ہوئیے ہیں جو پینٹاگون کے مطابق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی رسد اور نقل و حمل کے ماہرین تھے۔

  10. ’کمرشل پروازوں کی بحالی کے بعد افغان شہری باعزت طریقے سے بیرون ملک جاسکیں گے‘, طالبان کے ترجمان کا ٹویٹ

    دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ڈپٹی ڈائریکٹر عباس ستانکزئی کا پیغام ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے جس میں ایسے افغان شہریوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’ایسے افغان شہری جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں وہ پاسپورٹ اور ویزے جیسے قانونی دستاویزات رکھ کر باعزت طریقے اور ذہنی سکون کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں جب ملک میں کمرشل پروازیں بحال ہوجائیں گی۔‘

  11. طالبان کی افغان سرزمین پر امریکی ڈرون حملے کی مذمت

    طالبان نے مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکہ نے اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ خراسان گروہ کے دو رکن ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ افغان سرزمین پر حملہ ہے۔‘

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ خراسان گروہ کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آئندہ کچھ گھنٹوں میں طالبان کابل ایئرپورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ نئی حکومت کو چلانے کے لیے اہلکاروں کا انتخاب کر رہے ہیں اور جلد ایک مکمل کابینہ کا اعلان کیا جائے گا۔

  12. ’افغانستان سے 117,000 افراد کو امریکہ لایا گیا‘

    پینٹاگون کی جانب سے پریس بریفننگ کے دوران میجر جنرل ولیم ٹیلر نے اس حوالے سے بھی بتایا کہ اب تک کابل ایئرپورٹ سے کتنے افراد کو امریکہ لایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی شہریوں اور مستحق افغانوں کو کابل سے نکالنے کے لیے ہمارا آپریشن جاری ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ قریب 1400 افراد کو آج سکریننگ کے بعد پروازوں کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔

    ’جیسا کہ میں نے کل کہا، ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ ہم آخر تک افغانستان سے فوجی طیاروں پر لوگوں کو لاسکتے ہیں۔‘

    میجر جنرل ٹیلر کے مطابق امریکہ اب تک ایک لاکھ 17 ہزار لوگوں کو افغانستان سے لاچکا ہے جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔

  13. ’افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان پر امریکی ڈرون حملے کے باوجود خطرہ برقرار ہے‘

    پینٹاگون کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے ایک پریس بریفننگ میں مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملے سے متعلق مزید تفصیلات دی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے دو ہائی پروفائل اہداف ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی سویلین اس حملے میں زخمی نہیں ہوا ہے۔

    اس سے قبل پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ ان اہداف کا تعلق دولت اسلامیہ خراسان سے تھا۔ ’ان اہداف کو نشانہ بنانا سنگل مشن تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں دولت اسلامیہ خراسان کے ’منصوبہ ساز اور سہولت کار تھے۔۔۔ یہی وجہ کافی تھی۔‘

    جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں 13 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

    کربی کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ ’ہم ایک منٹ کے لیے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ کل جو ہوا اس سے ہمارا راستہ صاف ہوگیا ہے۔‘

    کربی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دولت اسلامیہ کے ان اراکین پر ڈرون حملوں کے بعد اس کی جانب سے مزید حملوں کی صلاحیت مثاثر ہوچکی ہے۔

  14. بورس جانسن اور انگیلا میرکل کے درمیان افغانستان کی صورتحال پر بات چیت, انسانی حقوق اور محفوظ راستہ زیر بحث

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس بارے میں بات چیت کی ہے کہ طالبان کے افغانستان میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان سے کیسے نمٹا جائے۔

    سنیچر کو ایک فون کال میں دونوں رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’نئی افغان حکومت سے نمٹنے کے لیے جی سیون ممالک کی حکمت عملی پر اتفاق کیآ۔‘

    ’برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان کو منظور کرنا یا ان سے رابطہ ان شرائط پر مبنی ہونے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کو محفوظ راستے دیں گے جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں گے۔‘

    دریں اثنا ایک طالبان اہلکار، جو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شریک تھا، نے کہا ہے کہ طالبان کے زیر اثر ملک کی سرحدیں کھلی رہیں گے اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد جو افغان شہری جانا چاہتے ہیں وہ جاسکیں گے۔

    شیر محمد ستانکزئی نے کہا کہ ’اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔‘

    ’مستند اور قانونی دستاویزات کے ساتھ یہ لوگ کسی بھی وقت ملک سے باہر جا سکیں گے یا واپس آسکیں گے۔‘

  15. افغانستان میں زیر زمین سونا بھرا پڑا ہے، یہ خزانہ اب کس کے ہاتھ آئے گا؟

  16. قریب پانچ ہزار افغان شہری اٹلی پہنچ گئے

    اٹلی میں حکام کا کہنا ہے کہ قریب پانچ ہزار افغان شہریوں کو افغانستان سے اٹلی لایا گیا ہے جو طالبان کے قبضے کے بعد ’یورپی یونین کے کسی بھی ملک کے مقابلے سب سے بڑی تعداد ہے۔‘

    اٹلی کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’ہم افغان شہریوں، خواتین اور نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم کسی ایسے افغان شہری کو تنہا نہیں چھوڑیں گے جنھوں نے ان تمام برسوں کے دوران انقلاب کی خواہش ظاہر کی ہے اور جو تبدیلی چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد بھی مزید افغان شہریوں کو لانے کی اجازت دی جائے گی اور ایسے میں اقوام متحدہ، فلاحی تنظیمیں اور دیگر ممالک مدد کریں گے۔

    امریکہ، برطانیہ اور جرمنی بھی ہزاروں افراد کو افغانستان سے لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جرمنی قریب چار ہزار افغان شہریوں کو اپنے ملک لایا ہے۔

  17. بریکنگ, برطانیہ کی عام شہریوں کو افغانستان سے واپس لانے والی آخری پرواز کابل سے روانہ

    برطانیہ میں وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے عام شہریوں کو واپس لانے والی آخری پرواز کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوچکی ہے۔ اس طرح سویلینز کے انخلا کا آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔

    تاہم آنے والے دنوں میں برطانوی فوجیوں، سفارتکاروں اور کچھ افغان پناہ گزین کے انخلا کے لیے مزید پروازیں اڑائی جائیں گی۔

    برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر نِک کارٹر کا کہنا ہے کہ وہ تمام مستحق افراد کو ریسکیو نہیں کرسکے جس پر انھیں افسوس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے سینکڑوں افغان شہری جو برطانیہ آنے کے مستحق ہیں وہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

  18. ایمانویل میکخواں: ہمیں اپنا تحفظ جاری رکھنا ہوگا, فرانس کے صدر کی عراقی وزیر اعظم سے بغداد میں ملاقات

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے ایک بار پر دولت اسلامیہ کے حوالے سے اپنی تنبیہ دہرائی ہے۔ انھوں نے ایسا عراق پر ایک اجلاس کے دوران کیا۔

    بغداد میں انھوں نے عراقی وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں اپنا تحفظ جاری رکھنا ہوگا کیونکہ (دولت اسلامیہ) اب بھی ایک خطرہ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف لڑائی آپ کی حکومت کی ترجیح ہے۔‘

    مسلح جنگجوؤں کی جانب سے حملوں نے عراق کو ماضی میں کافی نقصان پہنچایا ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

  19. بینکوں کی بندش کے خلاف کابل میں احتجاجی مظاہرہ

    اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں درجنوں افراد بینک اور منی ایکسچینج کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی جاری کردہ ویڈیو میں یہ مظاہرا دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ مظاہرین بینک کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک کی معیشت پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ افغانی کرنسی کی قدر تیزی سے گِر رہی ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ملک میں لاکھوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔

  20. افغانستان میں شدید خشک سالی، اقوام متحدہ کی کسانوں کی فوری مدد کی اپیل

    اقوام متحدہ نے افغانستان کے ستر لاکھ کسانوں کی فوری مدد کی اپیل کی ہے جو ملک میں سخت خشک سالی کا شکار ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری شدید خشک سالی کے باعث کم تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جنھیں شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔

    کورونا وائرس کی وبا سے افغانستان میں ذراعت سے منسلک افراد پہلے ہی بہت متاثر تھے۔

    گذشتہ تین سالوں میں افغانستان دوسری بار شدید خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر تک ملک میں آٹا ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایف اے او نے کہا ہے کہ وہ خود اس وقت فنڈنگ کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں جس کے لیے انھیں ڈیڑھ کروڑ یوروز کی ضرورت ہے تاکہ وہ افغانستان میں اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر سکیں۔

    ادارے کو امید ہے کہ وہ ملک میں کم از کم 15 لاکھ لوگوں تک امداد پہنچا سکے اور سردیوں کے موسم میں ان کی مدد ہو سکے۔ لیکن فنڈنگ میں کمی کا مطلب ہے کہ وہ مطلوبہ ہدف تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

    اقوام متحدہ نے اس ہفتے کے شروع میں بھی تنبیہ کی تھی کہ ملک میں غذائی قلت بڑھتی جا رہی ہے اور ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔