’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام لانگ مارچ کے شرکاء کی کوئٹہ آمد, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    لانگ مارچ کشرکاء اسلام آباد سے گزشتہ روز روانہ ہوئے تھے اور آج کوئٹہ پہنچے جہاں ہزاروں افراد نے اُن کا استقبال کیا اور ان کے ہمراہ یونیورسٹی آف بلوچستان تک مارچ کیا۔

    لانگ مارچ کے شرکا وہ سب سے پہلے کوئٹہ کے جنوبی کنارے ہزار گنجی پہنچے جہاں ہزاروں لوگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

    ہزار گنجی سے وہ ایک ریلی کی شکل میں سریاب روڈ سے ہوتے ہوئے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے پہنچے جہاں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کیا۔

    خطاب کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ کا لہجہ سخت تھا اور انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں نے ہماری خواتین کی سروں سے چادر کھینچنے کے علاوہ انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچوں کو اپنی خواتین کے سروں سے چادر کھینچنے کے اقدام کو کبھی نہیں بھولنا چائیے اور نہ ہی اپنے ان لاپتہ بھائیوں کو بھولنا چائیے جو کہ ریاست کے زندانوں میں کئی برسوں سے اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں پہلے روز سے معلوم تھا کہ اسلام آباد سے ہمیں انصاف نہیں ملے گا، اسلام آباد سے ہمیں نہ پہلے کوئی توقع تھی اور نہ آئندہ رہے گی۔‘

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’بعض سرکاری سردار یہ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے مذاکرات کے زریعے دھرنا کو ختم کیا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ 'ہم نے کسی سے مذاکرات کی بنیاد پر دھرنے کو ختم نہیں کیا۔ ایسے سرکاری سرداروں کو شرم آنی چائیے جو اپنی سیاست کے لیے جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں۔‘

    انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ زندانوں میں بند اپنے لاپتہ بھائیوں کو نہیں بھولیں اور نہ ہی ہم آپ لوگوں کو یہ بھولنے دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر بلوچ نہیں اٹھے تو کل ان کی حالت بنگالیوں سے بھی بدتر ہوگی۔‘

    انھوں نے لوگوں سے 27 جنوری کو کوئٹہ میں ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس جلسہ عام میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی-‘

    لانگ مارچ کے شرکاء کی شہر میں داخلے سے قبل بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست مخالف بیانیے کے باوجود اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی گئی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دھرنے کے حوالے سے جائز خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب احتجاج کا رخ ریاستی اداروں اور اہلکاروں کی جانب مڑا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب پاکستانی ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں تو وہ محبت اور اچھی یادوں کی باتیں کرتے ہیں لیکن ماہ رنگ اب نفرت کی باتیں کریں گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دھرنے کے شرکاء کو بلوچستان اور اسلام آباد کے عوام نے مسترد کیا۔ یہ چند لوگ ہیں اور یہ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘

  2. بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر حملہ, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر ہونے والے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ کمیشن کا ڈرائیور معمولی زخمی ہوا۔

    تربت میں پولیس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم نے افراد الیکشن کمیشن کے دفتر پر فائرنگ کے علاوہ دستی بم پھینکا۔

    ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت نمروز کے نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے-

    ڈپٹی کمشنر کیچ حسین بلوچ نے بتایا کہ حملہ آور تین موٹرسائیکلوں پر آئے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کے دفتر میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن دفتر کے اندر موجود لیویز فورسز کے اہلکاروں نے جوابی کاروائی کی جس سے حملہ آور فرار ہوگئے۔

    بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ میر علی مردان ڈومکی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی ایک سازش اور کوشش قرار دیا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’حکومت عوام اور امیدواروں کو انتخابات کے لیے ایک پرامن اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔‘

    گزشتہ روز نگراں وزیر اعلیٰ نے تربت کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ضلع کیچ سمیت مکران ڈویژن میں انتخابات کے حوالے سے سیکورٹی کے امور کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی تھی۔

    تربت اور ضلع کیچ میں اب تک عام انتخابات کے حوالے سے چار واقعات پیش آئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے دفتر پر فائرنگ سے قبل ایک حملے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی کے امیدوار میر اسلم بلیدی زخمی ہوئے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کے امیدوار اصغر رند کے گھر پر دستی بم کے حملے کے علاوہ دشت میں نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کے امیدوار لالہ رشید کے قافلے پر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔

    اسی طرح کے تین حملے بلوچستان کے شہر خاران میں بھی ہوئے تھے۔

  3. سپریم کورٹ کا ’بلّے‘ کے نشان سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری: ’ہائیکورٹ سے متفق نہیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں الیکش کمیشن کا کوئی اختیار نہیں‘ سپریم کورٹ

    بلّے کا نشان

    سپریم کورٹ نے بلّے کے نشان سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی ارکان کو لاعلم رکھا، قانون کے مطابق پی ٹی آئی کو بلّے کا انتخابی نشان نہیں دیا جاسکتا۔‘

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے اولے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد اظہار وجوہ نوٹس جاری کیے جس کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے، الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔‘

    سپریم کورٹ کا اپنے تفصیلی فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ ’انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر انتحابی نشان واپس لیا جاسکتا ہے۔‘

    38 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن مئی2021 س تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کرانے کا کہہ رہا تھا، پی ٹی ائی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو متعدد شکایات موصول ہوئیں۔‘

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’شکایات کے مطابق پی ٹی ائی نے انٹرا پارٹی انتخابات اپنے ائین کے مطابق نہیں کرائے، ہائی کورٹ سے متفق نہیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں الیکش کمیشن کا کوئی اختیار نہیں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جس کے فرائض آئین میں درج ہیں۔‘

    مزید یہ کہ ’پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، دس جنوری 2024 کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ’الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر 2023 کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا، 20 دن بعد پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کچھ نہیں کر سکتا۔ پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار بھی نہ کیا۔‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’لاہور ہائیکورٹ میں یہ معاملہ لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت تھا، پشاور ہائیکورٹ کے سامنے محض سرٹیفکیٹ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تھا، اگر انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کے معاملے کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ’الیکشن کمیشن کا ایسے حالات میں مکمل اختیار ہے، پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کے اختیارات میں دخل اندازی اختیارات سے تجاوز ہے۔ ہائیکورٹ کیسے الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔‘

    سپریم کورٹ کی جانب سے بلّے کے نشان سے متعلق تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’انٹرا پارٹی الیکشن جیت کر آنے والوں کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ پارٹی امور چلائیں۔ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے پر انتخابی نشان نہ دیں۔ جب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے ایک سال کا وقت دیا اس وقت تحریک انصاف حکومت میں تھی۔‘

    سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، اس وقت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومتیں تھیں۔ متعدد نوٹسز جاری کرنے اور اضافی وقت دینے کے باوجود تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے۔‘ مزید یہ کہ ’تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا۔‘

  4. ’ایک شخص نے ہیلمٹ پہن کر گولی چلائی‘: راولا کوٹ کی مسجد میں قتل ہونے والے ابو قاسم کشمیری کون تھے؟

    تصویر

    پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کی ایما پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ کے شہری محمد ریاض کو قتل کرنے والے کرائے کے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا پاکستانی سرزمین پر ہونے والی اس ہلاکت ہلاکت سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا پاکستانی شہری محمد ریاض کو 8 اکتوبر 2023 کو فجر کی نماز کے دوران راولاکوٹ میں ایک مسجد کے اندر قتل کیا گیا تھا۔

    سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں کو انڈین ایجنٹس کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محمد ریاض نامی شہری کے قتل میں ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی نامی قاتل کا سُراغ لگایا اور اسے 15 ستمبر 2023 کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جہاز میں سوار ہونے سے قبل گرفتار کر لیا۔‘

    سائرس سجاد قاضی نے مزید دعویٰ کیا کہ ’تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ عبداللہ علی کو انڈین ایجنٹس اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار نے بھرتی کیا اور اُن ہی نے اس کی رہنمائی کی۔‘

    ’انڈین ایجنٹس نے محمد عبداللہ علی کو بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پیلٹ فارم ٹیلی گرام کا سہارا لیا۔‘

    پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ’محمد عبداللہ علی کو پیسے ایک تیسرے ملک میں موجود رابطہ کار نے بھیجے، قاتل کو اسلحہٰ بھی فراہم کیا گیا۔‘

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو پاکستان کے متعدد شہروں سے گرفتار کیا۔ سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’ہمارے پاس دستاویزی، مالی اور فرانزک شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں انڈین ایجنٹس ان ہلاکتوں کے ماسٹر مائنڈز تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ ان ہلاکتوں میں ملوث انڈین ایجنٹس کے پاسپورٹ کی تفصیلات جاری کر رہے ہیں اور ان ممالک سے بھی رابطہ کر رہے ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کی قتل کی منصوبہ بندی ہوئی۔

    یاد رہے کہ محمد ریاض عرف ابو قاسم کشمیری سابق کشمیری عسکریت پسند تھے۔ ان کے قتل کے بعد بی بی سی نے محمد ریاض عرف ابوقاسم کشمیری پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے آپ ذیل میں دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

  5. پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب اور ڈسکہ میں قتل ہونے والے مولانا شاہد لطیف کون تھے؟

    شاہد لطیف

    پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کی ایما پر پاکستانی شہری شاہد لطیف کو قتل کرنے والے کرائے کے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا پاکستانی سرزمین پر ہونے والی اس ہلاکت ہلاکت سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا پاکستانی شہری شاہد لطیف کو 11 اکتوبر 2023 کو سیالکوٹ میں ایک مسجد کے باہر قتل کیا گیا تھا۔

    انڈیا کی جانب سے فی الحال پاکستان کے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

    سائرس سجاد قاضی نے دعویٰ کیا کہ ’مفصل تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ایک انڈین ایجنٹ یوگیش کمار، جو کہ ایک تیسرے ملک میں مقیم تھا، نے یہ قتل کروایا۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’یوگیش کمار نے ایک تیسرے ملک میں کام کرنے والے ایک مزدور محمد عمیر کو پاکستان میں موجود جرائم پیشہ افراد کے رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا اور انھیں شاہد لطیف کو ڈھونڈ کر انھیں قتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بھرتی کیے گئے مقامی مجرم نے شاہد لطیف کو ڈھونڈا لیکن وہ شاہد لطیف کو قتل کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ مزید ناکامیوں کے بعد محمد عمیر کو ذاتی طور پر پاکستان شاہد لطیف کو قتل کرنے کے لیا بھیجا گیا۔‘

    پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’عمیر نے پانچ قاتلوں کا ایک گروہ تشکیل دیا جو 9 اکتوبر کو اس کام میں ناکام رہے، لیکن وہ 11 اکتوبر کو شاہد لطیف کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

    یاد رہے کہ انڈیا کو مطلوب مولانا شاہد لطیف پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب تھے۔ ان کے قتل کے بعد بی بی سی نے مولانا شاہد لطیف پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے آپ ذیل میں دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

  6. بریکنگ, دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے اُجرتی قاتلوں اور انڈین ایجنٹس کے درمیان روابط کے معتبر شواہد موجود ہیں: پاکستان کا دعویٰ

    تصویر

    پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کے ایما پر دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے ’کرائے کے قاتلوں‘ اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا دو پاکستانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین پر ہونے والی ہلاکتوں سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔‘

    انڈیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل فی الحال نہیں آیا ہے۔

    سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ اُجرتی قتل کے کیسز ہیں جس میں ایک منظم بین الاقوامی سیٹ اپ ملوث ہے جو کہ متعدد مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔‘

    سائرس سجاد قاضی نے دعویٰ کیا کہ ’انڈین ایجنٹس نے پاکستان میں قتل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور بیرونِ ملک واقع محفوظ ٹھکانوں کا استعمال کیا۔‘ سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ انڈیا نے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کو بھرتی کیا، ان کو مالی مدد اور حمایت فراہم کی اور انھیں دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر موجود اکاونٹس نے فوراً ان ہلاکتوں کی ذمہ داری لینا شروع کر دی اور نہ صرف انھیں سراہا گیا بلکہ اسے اپنی کامیابی قرار دیا گیا۔

    سائرس سجاد قاضی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’قاتلوں کو سوشل میڈیا کی مدد سے، ٹیلنٹ کو جانچنے والوں اور داعش کے جعلی اکاونٹس کے ذریعے بھرتی کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان ابھی صرف دو ایسے کیسز کی تفصیلات سامنے لا رہا ہے جبکہ ان کیسز سے مماثلت رکھنے والے مزید واقعات ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔

    پاکستانی شہری شاہد لطیف کا قتل

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی شہری شاہد لطیف کو 11 اکتوبر 2023 کو سیالکوٹ میں ایک مسجد کے باہر قتل کیا گیا تھا۔ سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’مفصل تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ایک انڈین ایجنٹ یوگیش کمار، جو کہ ایک تیسرے ملک میں مقیم تھا، نے یہ قتل کروایا۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 'یوگیش کمار نے ایک تیسرے ملک میں کام کرنے والے ایک مزدور محمد عمیر کو پاکستان میں موجود جرائم پیشہ افراد کے رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا اور انھیں شاہد لطیف کو ڈھونڈ کر انھیں قتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔‘

    ’بھرتی کیے گئے مقامی مجرم نے شاہد لطیف کو ڈھونڈا لیکن وہ شاہد لطیف کو قتل کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ مزید ناکامیوں کے بعد محمد عمیر کو ذاتی طور پر پاکستان شاہد لطیف کو قتل کرنے کے لیا بھیجا گیا۔‘

    پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’عمیر نے پانچ قاتلوں کا ایک گروہ تشکیل دیا جو 9 اکتوبر کو اس کام میں ناکام رہے، لیکن وہ 11 اکتوبر کو شاہد لطیف کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

    سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’اعترافی بیانات اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے حکام نے 12 اکتوبر کو ملک چھوڑنے کی کوشش کرنے والے محمد عمیر سمیت دیگر قاتلوں کو فوراً قاتلوں کر لیا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اُن کے خلاف عدالت میں ایک مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

    پاکستانی شہری محمد ریاض کا قتل

    سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں کو انڈین ایجنٹس کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محمد ریاض نامی شہری کے قتل میں ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ محمد ریاض کو 8 اکتوبر 2023 کو فجر کی نماز کے دوران راولاکوٹ میں ایک مسجد کے اندر قتل کیا گیا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی نامی قاتل کا سُراغ لگایا اور اسے 15 ستمبر 2023 کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جہاز میں سوار ہونے سے قبل گرفتار کر لیا۔‘

    سائرس سجاد قاضی نے مزید دعویٰ کیا کہ ’تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ عبداللہ علی کو انڈین ایجنٹس اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار نے بھرتی کیا اور اُن ہی نے اس کی رہنمائی کی۔‘

    ’انڈین ایجنٹس نے محمد عبداللہ علی کو بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پیلٹ فارم ٹیلی گرام کا سہارا لیا۔‘

    پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ’محمد عبداللہ علی کو پیسے ایک تیسرے ملک میں موجود رابطہ کار نے بھیجے، قاتل کو اسلحہٰ بھی فراہم کیا گیا۔‘

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد عبداللہ علی کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو پاکستان کے متعدد شہروں سے گرفتار کیا۔ سائرس سجاد قاضی کے مطابق ’ہمارے پاس دستاویزی، مالی اور فرانزک شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں انڈین ایجنٹس ان ہلاکتوں کے ماسٹر مائنڈز تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ ان ہلاکتوں میں ملوث انڈین ایجنٹس کے پاسپورٹ کی تفصیلات جاری کر رہے ہیں اور ان ممالک سے بھی رابطہ کر رہے ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کی قتل کی منصوبہ بندی ہوئی۔

  7. اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے نقض امن میں شہریوں کی گرفتاری کے اختیارات بحال کر دیے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا نقض امن کے خدشہ کے پیش نظر شہریوں کی گرفتاری کے لیے ایم پی او آرڈرجاری کرنے کا اختیار بحال کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ڈی سی اسلام آباد کا ایم پی او آرڈر جاری کرنے کے اختیار کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف چیف کمشنر اور سیکریٹری داخلہ کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ایم پی او آرڈر جاری کرنے سے روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

    سنگل بینچ کے فیصلے پر حکم امتناع سے معطل ڈی سی اسلام آباد کا ایم پی او آرڈر جاری کرنے کا اختیار عارضی طور پر بحال ہو گیا ہے۔

  8. 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں عمران خان کی درخواست پر سماعت، اعتراضات دور کرنے کی ہدایت, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی ہے۔

    عدالت نے عمران خان کے وکلا کو درخواست پر سات روز میں اعتراضات دور کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت سے اعتراض دور کرنے کے لیے وقت مانگ لیا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’آپ کو ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں اعتراض دور کر لیں۔‘

  9. سپریم کورٹ نے بھکر سے ثنااللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے این اے 91 بھکر سے آزاد امیدوار ثنااللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

    سپریم کورٹ میں این اے 91 بھکر سے آزاد امیدوار ثنااللہ مستی خیل کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کاغذات نامزدگی کیوں مسترد ہوئے ہیں؟

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے کاغذات منظور کیے، ہائی کورٹ نے مسترد کر دیے، ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا نہ ہی موقف سنا، بس یکطرفہ فیصلہ ہو گیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ثنااللہ مستی خیل اشتہاری ہیں، پیش کیوں نہیں ہوتے؟

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ثنااللہ مستی خیل سرنڈر کر چکے ہیں اور ضمانت پر ہیں۔ ثنااللہ مستی خیل پر الزام دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ہے۔

    عدالت نے مخالف فریق کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیے بغیر فیصلہ کیا؟

    وکیل نے بتایا کہ درست ہے کہ ہائی کورٹ نے نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کی کیا پوزیشن ہے؟ انھوں نے الیکشن کمیشن کے حکام سے استفسار کیا کہ کیا بیلٹ پیپرز چھپ چکے ہیں؟

    الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کے لیے تیار ہیں۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ثنااللہ مستی خیل کا نام ابتدائی لسٹ میں شامل تھا، انتخابی نشان بھی مل چکا ہے۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کا 5 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا اور ثنااللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ثنااللہ مستی خیل کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

  10. تحریک انصاف کی صنم جاوید نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    پی ٹی آئی کی نامزد امیدوار صنم جاوید نے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    صنم جاوید نے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں۔

    صنم جاوید کے این اے 119، این اے 120 اور پی پی 150 سے کاغذات مسترد ہوئے تھے۔ این اے 163 سے شوکت بسرا نے بھی اپیل دائر کر دی ہے۔

    اپیلوں میں ٹریبونلز کے فیصلے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

  11. بلوچستان کے ضلع آواران سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد اغوا، سرچ آپریشن جاری, محمد کاظم بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع آواران سے پانچ افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اغوا ہونے والے ان افرا د کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

    آواران سے متصل ضلع کیچ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے ان افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اغوا ہونے والے افراد میں ٹیکنیشن اور مزدور شامل ہیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اغوا ہونے والے پانچوں افراد ضلع آواران کے علاقے ساجدی بازار میں ایک موبائل ٹاور نصب کرنے گئے تھے۔

    اہلکار نے بتایا کہ یہ افراد جس گاڑی میں گئے تھے وہ ضلع آواران کی حدود سے اندازاً سات کلومیٹر دور ضلع کیچ کے علاقے ڈانڈار سے ملی۔

    انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ اغوا ہونے والے افراد جس کمپنی کا موبائل فون ٹاور لگانے گئے تھے اس کمپنی کے حکام نے بھی ان کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔

    اہلکار نے اغوا کے بعد ان افراد کی کیچ منتقلی کے امکان پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع کیچ میں بھی ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر حسین جان نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ تحصیل ہوشاپ سے پنجاب کے پانچ رہائشیوں کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق لیویز کی ٹیم روانہ کردی گئی ہے اور مختلف مقامات پر بازیابی کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

    خیال رہے کہ ضلع آوران کو بلوچستان کا سب سے زیادہ شورش زدہ ضلع سمجھا جاتا ہے۔ ضلع کیچ پولیس کے مطابق مغویوں نے اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے پولیس کو کوئی اطلاع فراہم نہیں کی تھی۔ ان لوگوں کے استعمال میں ایک کرولا گاڑی تھی۔

  12. عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ: ’احتساب عدالت کے جج اہم کیسز چھوڑ کر دو کیسوں کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ جاتے ہیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    IK

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    بدھ کے روز اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی تھی۔ اس بینچ کے دوسرے ممبر جسٹس طارق محمود جہانگیری تھے۔

    بُدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جیل ٹرائل نہیں ہو سکتا لیکن اس ضمن میں واضح کیے گئے پیرامیٹرز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے جس کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے جبکہ نیب کے پاس وفاقی حکومت کو جیل ٹرائل کیلئے لکھنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔‘

    اس پر سپیشل پراسیکیوٹر نیب امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    امجد پرویز نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 9 مئی کو 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد ریمانڈ سے متعلق سماعت ہونی تھی۔انھوں نے کہا کہ نیب نے وفاقی حکومت کو لکھا تھا کہ یہ وہ کیس ہے جس کی وجہ سے 9 مئی کے واقعات پیش آئے اور وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی جیل سماعت کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

    امجد پرویز نےاپنے دلائل کے حق میں بمبئی عدالت کا 1931 کا فیصلہ پیش کرتے ہوئے کہا اس فیصلے کی تین لائنوں میں موجودہ کیس کے تمام سوالات کا جواب ہے، اور جب ایک بار عدالت لگانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تو دوسرے کسی آرڈر کی ضرورت ہی نہیں۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون کے مطابق جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے۔

    دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا مگر اس سے پہلے ہی ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا۔ ’نوٹیفیکیشن اور سمری کے عمل کو دیکھیں تو اس پورے پراسیس میں غیرضروری جلد بازی واضح ہے۔ نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی۔ ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے۔‘

    اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی یہی بات نوٹ کر رہے ہیں اور یہی بات کہنے لگے تھے۔ اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے۔

    شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ کو احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا چاہیے کیونکہ احتساب عدالت کے جج تمام اہم کیسز کو چھوڑ کر دو کیسز کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ چلے جاتے ہیں۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  13. تین انتخابی امیدواروں پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے: نگران وزیرِ اعلیٰ

    بلوچستان کے نگراں وزیر اعلیٰ میر علی مردان ڈومکی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والے تین امیدواروں پر حملے ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے تربت میں عام انتخابات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے انتظامی سطح پر تیاریاں مکمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام ڈویژنز کے دورے کر کے عام انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا ہے اور انتخابات سے متعلق اٹھائے گئے انتظامات اطمینان بخش ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ نگراں وزیر اعلٰی نے کہا کہ بلوچستان ماضی میں بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے تاہم اب حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ انتظامیہ اور فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور بحالی امن کے لیے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں کمشنر آفس تربت میں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    کمشنر مکران سعید احمد عمرانی اور مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اجلاس میں انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔

    نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الیکشن کی تیاری مکمل ہے اور حکومت پرامن صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے صورتحال پہلے سے بہتر ہے اور بحالی امن کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔

  14. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمید

    25 جنوری سے پہلے کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  15. ’عقیدت کی سیاست‘: پاکستان میں پیروں، گدی نشینوں کی سیاست کا تصور کب آیا اور کیا وقت کے ساتھ اس میں کمی آ رہی ہے؟

  16. شریف خاندان اور بلاول بھٹو کا ’مشن لاہور‘: کیا پنجاب کی سیاست مستقبل کے وزیراعظم کا فیصلہ کرتی ہے؟

  17. ’ہم کوئی آزاد ہیں؟‘ عاصمہ شیرازی کا کالم

  18. پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جانب سے تین سو یونٹس تک مفت بجلی فراہم کرنے کے انتخابی وعدے معاشی طور پر قابلِ عمل ہیں؟

  19. ’گھر پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگانے پر‘ تلخی: پشاور میں باپ نے قطر پلٹ بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، پولیس