’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف
سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
لائیو کوریج
میرے خلاف فیصلے اوپر سے لکھوائے جا رہے ہیں، سامنے نظر آنے والی کٹھ پتلیاں ہیں: عمران خان
’جج صاحب جلدی آپ کو ہے، مجھے تو جیل میں ہی رہنا ہے‘: اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت اور سزا سنائے جانے کا احوال
عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں قید کی سزا: آخر معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا اور اب آگے کیا ہو گا؟
نئی اننگز مگر پرانا کھیل؟ عاصمہ شیرازی کا کالم
نوجوانوں کو مواقع دینے کے وعدے کرنے والی سیاسی جماعتیں انھیں ٹکٹ دینے سے ہچکچاتی کیوں ہیں؟
کرپشن کے الزامات اور کارکردگی پر سوالوں کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں بازی کیسے جیت لیتی ہے؟
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
مچھ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں نو حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر
وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے، عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے: چیئرمین تحریک انصاف

،تصویر کا ذریعہGohar Ali Khan
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ملک کی ایک بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ میں خلیج بدقسمتی ہے اور یہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی منشور کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح 50 فیصد سینیٹرز کا بھی براہ راست انتخاب ہونا چاہیے، اس سے ہارس ٹریڈنگ کم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات ضروری ہیں، ایک ٹروتھ کمیشن بننا چاہیے اور یہ پاکستان کے لیے اہم ہے۔
منشور میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مدت میں ایک، ایک سال کمی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اسمبلی کی مدت پانچ سال کچھ زیادہ ہی لگتی ہے اور یہ بہتر ہوتا ہے کہ چار سال کی مدت ہو، اگر چار سال قانون سازی پر توجہ دیتے رہیں اور مقامی حکومتیں بھی ساتھ چلتی رہیں تو چار سال اسمبلی کے لیے مناسب مدت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کا منشور دیکھا ہے اور اس کے لیے پوری ٹیم نے چھ مہینے بہت محنت کی ہے لیکن یہ بہت افسوس کی بات اور غیر آئینی طرز عمل ہے کہ ایک جماعت کو پورے انتخابی عمل سے باہر کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تمام ادارے آئین کے تابع ہونے چاہئیں، چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔
’یہ قابل شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قابلِ شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو اپنے منشور کی بجائے آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، اس طرح تو وہ سیاست دانوں کی خرید و فروخت کی سیاست کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ افسوس کہ الیکشن کمیشن ہمارے خلاف چل رہا ہے، عدالتی فیصلے سے پہلے ہی انتخابی نشان الاٹ کر دییے گئے۔
انھوں نے کہا کہ آزاد امیدوار ہمارے ہیں، سب کو ٹکٹ جاری کیے اور اگلے انٹرا پارٹی الیکشن میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی: آصف زرداری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔
بلوچستان کے علاقے حب میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ ’آپ اپنے دوستوں کو سمجھائیں جو ہتھیار اٹھاتے ہیں، جمہوریت ہی بلوچستان کا حل ہے۔‘
سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آپ نے جو جماعتیں بنائیں اور جو بنانے جا رہے ہیں وہ پاکستان کے مسائل نہیں سمجھ سکتیں، ورنہ آزما کے دیکھ لیں۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی صرف جمہوری راستے پر چلتے ہوئے ممکن ہے۔
آٹھ فروری کی جیت کے بعد ریاستی اداروں کا بھی احتساب ہو گا: علی امین گنڈہ پور کا جلسے سے آڈیو خطاب

،تصویر کا ذریعہHussin Ahmad
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈہ پورنے ڈی آئی خان کے حق نواز پارک میں جلسہ سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاستی اداروں، پولیس اور ایجنسیز نے ہمارے لوگوں کو دوسری پارٹیوں میں شمولیت مجبور کیا۔ ان کا بھی احتساب ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا بدلہ عوام آٹھ فروری کو لیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اٹھ فروری کو انشاءاللہ تحریک انصاف کی جیت ہوگی۔ آٹھ فروری کو ’کوئین‘ (سکے) پر مہر لگائیں ہم الیکشن جیتیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجبوری کا بہانہ بنا کر جانے والے واپس اجائیں۔ بزدلی کر کے چھوڑ جانے والے اب ہمارے ساتھی نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ صرف ووٹ دینا نہیں بلکہ اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ علی امین نے کہا کہ ’میں کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں جو اج ہمیں چھوڑ گئے ہیں انھیں دوبارہ نہیں آنے دیں گے۔‘
علی امین کے مطابق ’عوام ہمارے ساتھ ہیں وہ ہمارے کرتا دھرتا ہوں گے۔‘
ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد ججز کے خلاف مہم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے: مرتضیٰ سولنگی
نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ اسحاق جہانگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ججز کے خلاف توہین آمیز مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف حکومت نے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے کچھ دیگر ججز کے خلاف تنقید کی گئی، جس کے بعد ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل عمل لائی گئی۔
ایف آئی اے نے متعدد صحافیوں کو بھی نوٹس بھیجے کہ وہ وضاحت کریں کہ انھوں نے ججز کے خلاف ٹویٹ اور پوسٹ کیوں شیئر کیں۔
مرتضیٰ سولنگی کے مطابق جے آئی ٹی بننے کے بعد کسی کو اغوا، گرفتار یا ہراساں نہیں کیا گیا ہے۔
مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ تقریباً 110 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے، ان میں تقریباً 22 سیاسی کارکنان یا سیاستدان اور تقریباً 32 صحافی ہیں، ابھی تک قانون کے تحت صرف نوٹس جاری کیےگئے ہیں،کسی کو ہراساں نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عدالت اور قانون اپنا راستہ خود لے گا، اب تک ہونے والی کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے، آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں، اس پر مناسب پابندیاں موجود ہیں، بات تنقید کی نہیں بلکہ بات تضحیک اورکردارکشی کی ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پچھلے دنوں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ کسی طور بھی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ تنقیدکو تہذیب کے دائرے میں رکھیں اور بہتان تراشی سے گریز کریں۔
ڈی جی ایف آئی اے اسحاق جہانگیر نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نوٹس دینے کا مطلب ایف آئی آر درج کرنا ہی ہو۔ ان کے مطابق نوٹس ایک موقع ہوتا ہے کہ کوئی اپنا مؤقف پیش کر سکے۔
فلاحی، فاشسٹ، ہائبرڈ اور چھچھوری ریاست کا فرق: وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات
بریکنگ, کراچی اور ٹانک میں پی ٹی آئی کی ریلیوں پر پولیس کا کریک ڈاؤن، آنسو گیس کی شیلنگ

،تصویر کا ذریعہFayyaz Barki
پاکستان تحریک انصاف کی ٹانک اور کراچی میں منعقدہ انتخابی ریلیوں پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔
کراچی کے علاقے کلفٹن پر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی ہے جبکہ پولیس نے ریلی کے شرکا پر لاٹھی چارج کیا ہے۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے کلفٹن میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں لی تھی اس لیے پارٹی کارکنوں کو منتشر کیا گیا ہے۔
ادھر صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے ٹانک میں بھی پی ٹی آئی رہنما شیر افضل خان مروت کی قیادت میں لکی مروت سے ڈیرہ اسماعیل خان تک نکالی جانے والی ریلی پر پولیس نے مبینہ طور پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے آج ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بڑے سیاسی جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر آج ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قیادت میں لکی مروت سے ٹانک جانے والی ریلی جب ٹانک کی حدود میں داخل ہوئی تو گل امام کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی اور پولیس کی جانب سے ان پر آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے گئے ہیں۔
ٹانک ریلی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعلقہ پولیس سے ریلی کی اجازت لے رکھی تھی۔ جبکہ مقامی پولیس کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ریلی کے شرکا پر آنسو گیس شیل فائر نہیں کیے بلکہ اس وقت متعلقہ مقام پر کچھ شرپسند عناصر موجود تھے جنھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے ہیں۔
ٹانک ریلی میں شریک عبد المالک کا کہنا تھا کہ آنسو گیس کے شیل سے کارکنوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی تاہم انھوں نے پولیس کا مقابلہ کیا اور رکاوٹیں عبور کر کے ٹانک پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ریلی نکالی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تھے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم تمام دہشتگردوں کا مقابلہ کریں: بلاول

،تصویر کا ذریعہPMLN
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے اور وقت آگیا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ کوئی گڈ یا بیڈ طالبان نہیں بلکہ تمام دہشتگردوں کا مقابلہ کیا جائے۔
راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ملک خطرے میں ہے۔ ایک طرف معاشی بحران، دوسری طرف جمہوری بحران، تیسری طرف پورے معاشرے میں بحران پیدا ہوچکا ہے۔ ساتھ ساتھ وہی دہشتگرد جنھوں ہم نے قربانیاں دے کر شکست دلوائی، وہ ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پیپلز پارٹی ہی صرف اس ملک کو بچا سکتی ہے۔‘
بلاول نے کہا کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ دہشتگردی کا آج مقابلہ کریں۔۔۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں پاکستان میں کوئی گڈ طالبان یا بیڈ طالبان نہیں ہوگا۔ ہم تمام دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے۔ ہم صرف انھیں معاف کر سکتے ہیں جو آئین کو مانتے ہیں۔‘
’اگر کوئی ہمارے آئین کو نہ مانے اور ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو پھر پاکستان وہ منھ توڑ جواب دے گا جو صرف پیپلز پارٹی دلوا سکتی ہے۔‘
’ن لیگ ووٹ کی بے عزتی کر رہی ہے، تحریک انصاف کے تمام عہدیدار پلانٹڈ ہیں‘
آٹھ فروری کے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار بلاول نے کہا کہ ’ن لیگ ووٹ کی عزت نہیں ووٹ کی بے عزتی کر رہی ہے۔ اگر آپ کو جمہوریت کو بچانا ہے، اس سازش کو ناکام بنانا ہے تو شیر پر نہیں تیر پر ٹھپہ لگانا ہے۔‘
بلاول نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے وہی پرانی سیاست اپنائی جس سے انھوں نے توبہ کر لی تھی۔ ’ایک جماعت نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھول کر وہی پرانی سیاست اپنائی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آج سے چوتھی بار وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ انھیں سمجھ نہیں آتا اصل میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کر کے آپ کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘
بلاول نے شرکا سے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو سمجھائیں کہ ’ہم تین نسلوں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ عمران خان کسی صورت وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ تحریک انصاف کے تمام عہدیدار پلانٹڈ ہیں۔ انھیں یہ سمجھ ہونی چاہیے۔ یہ ان کے اپنے لوگوں کا قصور ہے جو (بلے کا) نشان نہیں ملا۔‘
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کے عہدیداروں کی اپنی ناکامی کی وجہ سے پارٹی کا نقصان ہوا۔ ’آزاد پر ووٹ ضائع کرنے کے بجائے۔۔۔ ہوشیار ہو کر تیر کو ووٹ دیں۔‘
’سیالکوٹ موٹروے اس معیار کی نہیں‘ نواز شریف کا لاہور سے سیالکوٹ ٹرین سروس شروع کرنے کا وعدہ

،تصویر کا ذریعہPMLN
آٹھ فروری کے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ہم نے سیالکوٹ موٹروے بنائی مگر اس کے افتتاح کا موقع نہیں مل سکا۔‘
سیالکوٹ میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ یہ ’وفاداروں کا شہر ہے۔ سب کے بڑا وفادار (خواجہ آصف) میرے ساتھ کھڑا ہے جس کے ساتھ 55 سال کا تعلق ہے۔‘
مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ سیالکوٹ موٹروے ’اس معیار کی نہیں جو نواز شریف بنانا چاہتا تھا۔ اس میں ریسٹ ایریاز ہونے چاہیے تھے، اس کا معیار بہتر ہونا چاہیے تھا۔۔ ہم اسے دوبارہ بنائیں گے۔
’ہم لاہور سے سیالکوٹ بہترین ٹرین سروس بنائیں گے۔‘
نواز شریف نے پوچھا ’کون کہتا ہے یوتھ مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں۔ یہ سارا جلسہ 30 سال سے کم عمر والوں کا ہے۔‘
’نوجوانوں کو 20، 20 سال کے قرضے دیں گے تاکہ وہ خود اپنا کاروبار بنائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’2017 کا پاکستان جو میں چھوڑ کر گیا تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔‘ ’ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو جلسے میں کوئی شخص ایسا نہ ہوتا جس کے پاس باعزت روزگار نہ ہوتا۔‘
ان کا سوال تھا کہ اس مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے۔ ’جنھوں نے ملک کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا، یہ ظلم قوم کے ساتھ کیا گیا۔ اپنے ساتھ کیا گیا ظلم برداشت کر رہا ہوں۔ آپ کے ساتھ ہوا ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔‘
ایران میں نو پاکستانیوں کی ہلاکت پر تحقیقات شروع: ’دشمن کو برادرانہ تعلقات خراب کرنے نہیں دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
سنیچر کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے جنوب مشرقی ایران میں پاکستانی سرحد کے قریب نو پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا جس کی اب ایران کی جانب سے مذمت کی گئی ہے اور اس کے بقول حملے کی تحقیقات شروع ہوچکی ہے۔
ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سنیچر کی صبح اس حملے کی مذمت کی جس میں سراوان کے نواحی علاقے میں نو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ انھوں نے پاکستانی حکومت اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات شروع کر چکے ہیں۔ ’ایران اور پاکستان دشمنوں کو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلق خراب کرنے نہیں دیں گے۔‘
دریں اثنا ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’دشمن ایران پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ہمسائیوں سے متعلق (خارجہ) پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
امیر عبداللہیان نے تہران میں منعقدہ ملٹی لیٹرلزم کی 7ویں کانفرنس میں اپنے خطاب میں خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمسائیگی کی پالیسی پر ہماری خصوصی توجہ ہے، علاقے کا امن و سلامتی اچھی ہمسایہ پالیسی میں مضمر ہے اور ہم دشمنوں کو خطے میں دوستی، امن اور سلامتی کو کبھی نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’گذشتہ دنوں ہم نے عراقی کردستان کے علاقے اور دوست اور برادر ملک پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں دہشت گردانہ نقل و حرکت دیکھی۔ ایران کی سلامتی، سرحدوں کی حفاظت اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے، پاکستان کے بلوچستان اور عراق کے کردستان کے علاقے میں جو کچھ ہوا، اس کے مشترکہ سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ہم نے ان ممالک کے حکام کے ساتھ تعمیری بات چیت کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج دشمن اسلامی جمہوریہ ایران پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ہمسائیگی کی پالیسی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
ارنا کے مطابق ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ڈپٹی سکیورٹی اینڈ لا انفورسمنٹ آفیسر علی رضا کا کہنا ہے کہ پولیس کی ٹیم جلد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی اور حملے میں بچنے والوں نے پولیس کو بتایا کہ تین مسلح افراد غیر ملکیوں پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے تھے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں جلسہ: ’ہمیں معلوم تھا کہ اسلام آباد ہمارے ساتھ انصاف نہیں کرے گا، ہم جمہوریت کو ایکسپوز کرنا چاہتے تھے‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام جو جلسہ منعقد ہوا ہے مبصرین کے مطابق یہ کوئٹہ کی تاریخ کے بڑے جلسہ عام میں سے ایک تھا۔
اس جلسے کے لیے بہت زیادہ تیاری نہیں کی گئی تھی بلکہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کے خاتمے کے بعد پریس کانفرنس میں اس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس جلسے کے لیے سریاب کے علاقے میں شاہوانی اسٹڈیم کا انتخاب کیا گیا تھا جو کہ لوگوں سے کچا کچ بھرا ہوا تھا۔ اس جلسہ عام کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے شرکا کی اکثریت نہ صرف نوجوانوں کی تھی بلکہ اس میں خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد شریک تھی۔
بعض مبصرین کی یہ رائے ہے کہ اس جلسے میں خواتین جس بڑی تعداد میں شریک تھیں ماضی میں کسی جلسے میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ جلسے میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔
لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو سٹیج پر بٹھایا گیا تھا جن کے ہاتھوں میں مبینہ طور پر جبری گمشدگی کے شکار ان کے رشتہ داروں کی تصاویر تھیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اس جلسے خطاب کرنے والے مقررین کی تعداد زیادہ تھی لیکن مرکزی مقرر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ تھیں۔ انھوں چار زبانوں بلوچی، براہوی، اردو اور انگریزی میں خطاب کیا۔
لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا وہ آج بہت خوش ہیں۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد گئے اور حکمرانوں کو کہا کہ اپنی عدالتوں کو عزت دو۔
’ہم نے کہا کہ اگر جبری طورپر لاپٹہ کیئے جانے والے لوگوں پر کوئی الزام ہے تو ان کو اپنی عدالتوں میں پیش کرو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ اسلام آباد ہمارے ساتھ انصاف نہیں کرے گا لیکن ہم اس لیے اسلام آباد گئے تاکہ اس ریاست کی جمہوریت کو ایکسپوز کریں اور دنیا کو بتائیں کہ یہاں کتنی جمہوریت ہے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جو مبینہ ڈیتھ سکواڈز بنائے گئے ان کو ختم کیا جائے۔
انھوں نے بلوچستان کی بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ دن کو دعویٰ تو قوم پرستی کا کرتے ہیں لیکن رات کو حکمرانوں سے ملکر بلوچوں کے خلاف سازشوں کا حصہ بنتے ہیں۔
انھوں نے بلوچستان کی خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور نہ صرف بلوچ قومی تحریک کا حصہ بنیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس تحریک کا حصہ بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جو تحریک اٹھی ہے اسے ظلم اور جبر سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔
لوگوں کی بڑی تعداد میں اس جلسے میں شرکت کے حوالے سے تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ آج کے اس ماحول میں جب سیاسی کارکن مایوس ہیں اس جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں نکلنا اہمیت کا حامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بلوچستان میں ایک بڑی تحریک کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کے لیے انتخابی منشور کا اعلا ن کردیا، غربت کا خاتمہ اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے اہداف شامل

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات سے قبل اپنا انتخابی منشور پیش کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے 2024 کے عام انتخابات کے لیے پارٹی کے منشور کا اعلان کیا، جس میں معاشی بہتری، ماحولیاتی استحکام ،ہمہ جہت ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی، غربت کا خاتمہ اور ساتھ ہی خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔
سنیچر کوسابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ اور پیپلز پارٹی کے نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے یہاں پارٹی آفس میں میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا، جس میں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری بھی موجود تھے۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی عدم استحکام اور بار بار آنے والی آب و ہوا کی تباہی نے عوام کی مالی طاقت کو مزید گرا دیا ہےجو دن بدن غریب ہوتے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پی پی پی ترقی پسند ٹیکسیشن اور عوامی بہبود کی وکالت کر رہی ہے اور جامع ترقی کو فروغ دینے والی شراکت داری پر یقین رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا وہی وژن ہے جیسا کہ اس نے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے موسمیاتی لچکدار رہائش گاہیں تعمیر کی ہیں۔
بی آئی ایس پی کے ذریعے سماجی تحفظ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب صدر نے کہا کہ اس منشور کے ذریعے ایک عوامی اقتصادی معاہدہ کیا ہے جو معمول کے مطابق کاروبار کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ پسماندہ طبقے کی بہتری اور معاشی اور سماجی طور پر ترقی کے لیے ٹھوس اور آؤٹ آف دی باکس تجاویز لے کر آتا ہے۔
