’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف
سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
لائیو کوریج
صحافیوں کو ایف آئی اے کے نوٹسز پر چیف جسٹس کا نوٹس، ’کیس کی سماعت پیر کو ہو گی‘
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی ایشن اور ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اعلامیے کا نوٹس لے لیا ہے۔
چیف جسٹس نے صحافیوں کے نمائندوں کو چیمبر میں بلا کر بتایا کہ وہ اس مقدمے پر پیر کو سماعت کرنے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے صحافی عقیل افضل، فیاض محمود اور عمران وسیم کو بتایا کہ ’آپ کی جو گزارشات ہیں عدالت میں بتائیں۔‘
ایران میں پاکستانی سرحد کے پاس نو پاکستانی مزدور قتل، پاکستان کا ایران سے تعاون کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ایران میں نو غیر ملکی شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔
مہر کے مطابق ابھی تک سیستان میں ان افراد کی قتل کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے۔ بلوچستان کے ایک سماجی حقوق پر کام کرنے والے گروپ ہالوش نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ قتل کیے جانے والے افراد پاکستان سے تعلق رکھنے والے مزدور تھے اور وہ ایک آٹو رپیئر شاپ پر رہ رہے تھے، جہاں وہ مزدوری کرتے تھے۔
ہالوش کے مطابق تین دیگر افراد اس حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر رونما ہوا جب ایران اور پاکستان دوبارہ اپنے سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے اپنے اپنے سفیر ایک دوسرے کے ملکوں میں دوبارہ تعینات کرنے جا رہے تھے۔ چند دن قبل ایران کی طرف سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حملے سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اور اس حملے کے جواب میں پاکستان نے بھی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
ایران کا تیل دنیا بھر میں سب سے سستا ہے۔ یہ تیل پاکستان اور افغانستان سمگل بھی ہوتا ہے۔
ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سراوان میں نو پاکستانیوں کے ہولناک قتل پر گہرا صدمہ ہے، پاکستانی سفارت خانہ سوگوار خاندانوں کی مکمل مدد کرے گا۔
مدثر ٹیپو نے کہا کہ زاہدان میں پاکستانی قونصل جنرل جائے وقوعہ اور ہسپتال کی طرف جا رہے ہیں، جہاں زخمی زیر علاج ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران سے پاکستانیوں کے قتل کے واقعے پر مکمل تعاون کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سی پیک کو متاثرہ علاقوں سے گزارنے کے بجائے اسے لاہور سے گزار دیا گیا: بلاول بھٹو
،تصویر کا ذریعہ@BBHUTTOZARDARI
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کو متاثرہ علاقوں سے گزارنے کے بجائے اسے لاہور سے گزار دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک کا پیسہ اورنچ ٹرین پر ضائع کیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ جب صدر زرداری دس دس دورے کر کے چین سے آتے تھے تو تنقید ن لیگ کرتی تھی۔ ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے تمام سی پیک کے معاہدے دستخط کر دیے گئے تھے۔
ان کے مطابق ’اس کا کریڈٹ بھی چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ن لیگ کا منشور نظر سے گزرا جس پر لکھا تھا کہ ’سچا نواز کا سچا منشور‘۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ نے تین تین دفعہ یہ نواز دیکھا ہے، یہ کتنا سچا نواز ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ انتخابات تیر اور شیر کے درمیان مقابلہ ہے۔ اگر ہم نے شیر کا راستہ روکنا ہے تو تیر پر ٹھپہ لگانا ہے۔‘
آٹھ فروری کو ووٹ دے کر نواز شریف کو ایک اور بار وزیر اعظم بنائیں: شہباز شریف کا لیاقت باغ جلسے سے خطاب
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری آنے والا ہے اور لگ پتا جائے کہ جب شیر دھاڑیں مارے گا۔ انھوں نے روالپنڈی کے عوام سے اپیل کی کہ نواز شریف کو ایک بار پھر ووٹ دے کر وزیراعظم بنائیں۔
انھوں نے کہا کہ میں نے راولپنڈی کو لاہور نہ بنا دیا تو پھر میرا نام شہباز شریف نہیں ہے۔
ان کے مطابق راولپنڈی شہر میں 30 ارب روپے پانی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت راول ڈیم اور خان پور ڈیم سے موجودہ مقدار سے دگنا پانی لایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ راولپنڈی کا رنگ روڈ کا منصوبہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان کے مطابق دو مہینوں میں آئی جے پی روڈ پر بجلی سے چلنے والی بسیں چلیں گی۔
ان کے مطابق اس سے قبل راولپنڈی کے لیے دل کے امراض کے ایک ہسپتال کا تحفہ بھی انھوں نہ دیا ہے۔ انھوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ 8 فروری کو اسے ووٹ دیں، جس نے آپ کی خدمت کی ہو۔
مہنگائی کو کم کرنے کا پلان بنا لیا، نواز شریف نے منصوبہ بنا لیا کہ بجلی 30 فیصد سستی کیسے کرنی ہے: مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف نے منصوبہ بنا لیا کہ بجلی 30 فیصد کیسے سستی کرنی ہے۔ ایبٹ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مانسہرہ کے جلسے کے بعد پیغام ملا ایبٹ آباد والے یاد کر رہے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ خانہ کعبہ کی نشان والی گھڑی بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لیے، کیا خیبرپختونخوا نے وہیں کھڑے رہنا ہے یا ترقی کرنی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ہم وہیں کام کرسکتے ہیں، جہاں ہمیں مینڈیٹ ملے، خدا کا واسطہ ہے، سوچ سمجھ کر ووٹ دیں، ہم نے مہنگائی کم کرنے کا پلان بنالیا، نوازشریف نے منصوبہ بنا لیا کہ بجلی 30 فیصد کیسے سستی کرنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ووٹ ایک پرچی نہیں آپ کی تقدیر کا فیصلہ ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کبھی کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا، جو پورا نہ ہوا ہو، اگر ہمیں منتخب کیا تو ایک ایک وعدہ پورا کریں گے، عوام کی تکالیف دور کریں گے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک کے چپے چپے پر نواز شریف کی خدمت کے نشانات ہیں، کیا پنجاب میں موجود منصوبے ایبٹ آباد کےعوام کا حق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ ضرورری باتیں ایبٹ آباد کے عوام سے کرنی ہیں، نواز شریف نے اپنا منشور آج پیش کیا ہے اور منشور کاغذ کا ٹکڑا نہیں، سچا وعدہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق منشور وہ نہیں ہوتا، جو ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے۔
مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کرنےکا وعدہ پورا کیا، ہم نے آپ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر منشور بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جس (تحریک انصاف) کی خیبرپختونخوا میں دس سال حکومت رہی، اس نے منشور نہیں دیا، پوری قوم جانتی ہے اس کا منشور پیٹرول بم ہے۔‘
انھوں مزید کہا کہ انھوں نے قوم کے بچوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے دیے، کیا یہ لوگ قوم کے ہمدرد ہوسکتے ہیں؟
ہمارے ڈنڈے والے استاد: محمد حنیف کا کالم
’نیب کا خاتمہ اور باہمی احترام کی بنیادوں پر انڈیا سے تعلقات‘: پاکستان مسلم لیگ ن کا انتخابی منشور جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے 2024 کے الیکشن سے 11 روز قبل اپنا انتخابی منشور جاری کردیا ہے جس میں زراعت، خارجہ پالیسی، موسمیاتی تبدیلی، قانونی اور عدالتی اصلاحات، گورننس سسٹم میں اصلاحات، تعلیمی نظام، سستی بجلی کی فراہمی، عوامی فلاح و بہبود، انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری، سمندر پار پاکستانیوں، برآمدات، سیاحت اور کھیل کے حوالے سے اپنی ترجیحات شامل کی ہیں۔
ن لیگ کے انتخابی منشور کے مطابق ’خطے کے امن و امان، معاشی ترقی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر انڈیا سے تعلقات استوار کیے جائیں گے جس کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق 5 اگست 2019 کا یکطرفہ غیر آئینی اقدام واپس لے۔ جموں و کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے۔‘
انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنے اور اقتصادی راہداری کے اگلے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کی جائے گی۔
ن لیگ کے منشور کے مطابق ترکی، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی، معاشی، دفاعی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت نے اپنے منشور میں امریکہ، روس، برطانیہ اور یورپین ممالک کے ساتھ بھی معیشت، تجارت، انسداد دہشتگردی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معاملات پر ساتھ کام کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
جماعت کے انتخابی منشور میں لکھا گیا ہے کہ جماعت پارلیمان کی بالادستی کو یقینی بنائے گی اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو ان کی اپنی حالت میں بجال کرے گی۔
انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ’مشکل مقدمات کا فیصلہ ایک سال کے اندر جبکہ چھوٹے مقدمات کا فیصلہ دو ماہ میں سنایا جائے۔‘
ن لیگ کی جانب سے نیب کا خاتمہ کرنے اور انسدادِ بدعنوانی کے اداروں اور ایجنسیوں کو مضبوط کرنے کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کے حوالے سے ن لیگ کے منشور میں لکھا ہے کہ جماعت ملک بھر بھٹہ مزدوروں کے لیے سکولز قائم کرے گی اور دانش سکولز کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔ جماعت کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سالانہ اندراج 10 فیصد تک بڑھانے کا ادارہ رکھتے ہیں۔
پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت بجلی کے بلوں میں 20 سے 30 فیصد کمی لائے گی اور بجلی کی پیداوار میں 15 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کرے گی۔
بریکنگ, سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ’مہم‘: ایف آئی اے نے چار درجن سے زائد افراد کو نوٹسز جاری کر دیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کے خلاف ’بدنیتی پر مبنی‘ مہم چلانے پر صحافیوں، یوٹیبرز اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے نوٹسز چار درجن افراد سے زائد افراد کو جاری کیے گئے اور انھیں 30 اور 31 جنوری کو ایف آئی کے دفتر میں پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
واضح رہے پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے 16 جنوری کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کے خلاف جاری سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کرنے کے لیے چھ رُکنی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم قائم کی تھی۔
اس تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے، انٹیلیجنس بیورو اور آئی ایس آئی کے افسران کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی میں کم نشستیں یا تنظیم سازی کا فقدان۔۔۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اب تک بلوچستان میں جگہ کیوں نہیں بنا سکیں؟
ماہ رنگ کے سر پر ’بلوچی پاگ‘: کیا بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں صوبے میں اپنی ساکھ کھو رہی ہیں؟
سائفر کیس: ایک مقدمہ، تین اہم گواہ اور وکیل صفائی کا مؤقف ’عمران خان وزیراعظم تھے، کلرک نہیں‘
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم: سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی اسیر کارکن صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہPTI/Getty Images
سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریک انصاف کی اسیر کارکن صنم
جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر کردہ اپیل کی سماعت پر فیصلہ
سناتے ہوئے انھیں 8 فروری کو ہونے والے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ اپنے فیصلے
میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو احکامات جاری کیے ہیں کہ صنم جاوید
کا نام بطور امیدوار بیلٹ پیپرز میں شامل کیا جائے۔
جسٹس منیب اختر کے سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ
نے جمعہ کی دوپہر اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا صنم جاوید کے
کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ صنم جاوید کے قومی اسمبلی کے
دو حلقوں این اے 119 اور این اے 120 کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 150 سے
کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز این اے
119 سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور اب صنم جاوید بطور تحریک انصاف کی حمایت
یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر ان کا مقابلہ کریں گی۔ صنم جاوید کو نو مئی کے
واقعات کے تناظر میں گرفتار کیا گیا تھا اور گذشتہ کئی ماہ سے جیل میں ہیں۔
سپریم کورٹ کے اسی بینچ نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد
امیدوار شوکت بسرا کے بھی این اے 163 سے
کاغذات نامزدگی منظور کیے ہیں۔
مجموعی طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعہ کے روز تحریک
انصاف سے تعلق رکھنے والے چار رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے الیکشن
کمیشن آف پاکستان کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ان رہنماؤں کے نام 8 فروری کو ہونے
والے عام انتخابات کے بیلٹ پیپرز میں شامل کیا جائے۔ ان رہنماؤں میں تحریک انصاف
کے صدر چوہدری پرویز الہی سمیت صنم جاوید، شوکت بسرا اور عمر اسلم شامل ہیں۔
جمعہ ہی کے روز جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ
کے تین رکنی بینچ نے پرویز الہی کو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 سے انتخابات
لڑنے کے لیے اہل قرار دیا تھا۔
پرویز الہی سے متعلق کیس کی
سماعت کے دوران بینچ کے ایک رکن جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ ’ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو
عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے۔‘
جبکہ تحریک انصاف کے خوشاب
سے تعلق رکھنے والے رہنما عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران
سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے
نہیں روکا جا سکتا۔
فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلے پر اپیل سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
فوجی عدالتوں کو بحال کرنے سے متعلق اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔ آئندہ ہفتے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں لارجر بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں، جس پر مستعفی ہونے والے جج اعجاز الااحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ درخواستیں منظور کرتے ہوئے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے اقدام کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے اس فیصلے پر سٹے آرڈر دیا تھا۔ اب وفاقی حکومت، شہدا فاؤنڈیشن بلوچستان اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کو بحال کرنے کے لیے دائر کی گئیں اپیلوں پر سپریم کورٹ سماعت کرے گی۔
خیال رہے کہ نو اور دس مئی کے پرتشدد احتجاج میں ملوث سیاسی کارکنوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کے سامنے ہیں۔
بریکنگ, سابق وزیرِاعلی پنجاب پرویز الٰہی کو صوبائی اسمبلی سے الیکشن کی اجازت مل گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعلی پنجاب پرویز الٰہی کو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 گجرات سے انتخابات لڑنے کی دے دی ہے۔
جمعے کے روز، ہائی کورٹ اور الیکشن ٹربیونل کے خلاف دائر پرویز الٰہی کی درخواست کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کی۔
پرویز الٰہی کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت
کو بتایا کہہ انھیں ابھی تک ریٹرننگ افسر کا مکمل آرڈر نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی پر یہ
اعتراض عائد کیا گیا کہ ہر انتخابی حلقے میں انتخابی خرچ کے لیے الگ الگ اکاؤنٹ
نہیں کھولے گئے۔ پرویز الٰہی پانچ حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ قانون
میں کہاں لکھا ہے کہ پانچ انتخابی حلقوں کے لیے پانچ الگ الگ اکائونٹس کھولے جائیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر اگر انتخابی مہم میں حد سے زائد خرچہ ہو
تو الیکشن کے انعقاد کے بعد اکاؤنٹس کو دیکھا جاتا ہے۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ایک اعتراض یہ
عائد کیا گیا کہ سابق وزیرِاعلی نے پنجاب میں دس مرلہ پلاٹ کی ملکیت چھپائی۔
انھوں نے کہا کہ اعتراض کیا گیا 20 نومبر 2023کو دس مرلہ
پلاٹ خریدا۔
پرویز الٰہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے
مؤکل نے ایسا پلاٹ کبھی خریدا ہی نہیں، اس وقت وہ جیل میں تھے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’ہماری دوسری دلیل یہ ہے کہ اثاثے ظاہر
کرنے کی آئندہ کٹ آف ڈیٹ 30 جون 2024 ہے۔‘
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے
الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے
محروم نہ کرے۔
دورانِ سماعت، جسٹس جمال خان مندوخیل نے
کہا کہ جائیدادیں پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہو امیدوار کے جیتنے سے قبل
کتنے اثاثے تھے اور بعد میں کتنے ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر درخواست گزار پلاٹ
کی ملکیت سے انکار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پلاٹ
کا اعتراض تب ہی بنتا تھا جب جج کا فیصلہ موجود ہو پلاٹ فلاں شخص کا ہے۔
سابق وزیرِاعلیٰ کے کا کہنا تھا اگر حکومت
کو اس جائیداد پر اعتراض ہے تو خود رکھ لے۔
سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی
کو پی پی 32 گجرات سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ بعد ازاں پرویز
الٰہی نے قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے متعلق اپنی اپیلیں واپس لے لیں۔
پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
سپریم کورٹ نے پینجاب کے حلقے پی پی 19
سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل مسترد
کر دی۔
جمعے کے روز الیکشن ٹریبونل کے فیصلے
خلاف عارف عباسی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی
سربراہی میں تین رکنی بنچ کی۔
درخواست گزار کے وکیل عبدالرزاق نے موقف
اپنایا کہ ریٹرننگ آفیسر نے ان کے مؤکل کی نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد
کردییے تھے۔
دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے کہا
کہ درخواست گزار نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تزکرہ ہی نہیں کیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے دو
فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔
جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ جس
شخص کیخلاف دو فوجداری ایف آئی آرز درج ہیں وہ پورے شہر بھر میں گھوم رہا ہے۔
انھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ ضمانت کیلئے ٹرائل کورٹ جانے میں آپ
کو کیا مسئلہ تھا۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ریٹرننگ آفیسر
نے عارف عباسی سے بیٹے کی لندن میں موجود جائدادوں کا پوچھا لیکن اس کا بھی جواب
نہیں دیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان
کے مؤکل کیخلاف وارث خان تھانے میں دو ایف آئی آرز درج تھیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے درخواست
گزار کے وکیل کو کہا کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں، کیس چلانا ہے تو حقائق بتائیں۔
عارف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں
نے اپنے بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آپ
درخواست دیتے ہیں تو ہم فوراً سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں مگر تیاری تو کر کے آئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ سچ بولنے
کیلئے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
سماعت کے بعد تین رکنی بینچ نے الیکشن
ٹریبیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے عارف عباسی کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
عدالت نے عمر اسلم این اے 87 خوشاب اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے انتخابات لڑنے کے لیے اہل قرار دیا۔
واضح رہے کہ عمر اسلم کے نومئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر کاغزات نامزدگی مسترد کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے جمعے کے روز ہونے والی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا، دیں کہاں لکھا ہے؟‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی کیوں مسترد ہوئے؟ کیا عمر اسلم اشتہاری ہیں؟
وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمر اسلم حفاظتی ضمانت حاصل کر کے ضمانت قبل ازگرفتاری پر ہیں۔ انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ’عمر اسلم کی انتخابات لڑنے کی ایک آئینی درخواست مسترد جبکہ دوسری منظور ہوئی۔
تحریک انصاف کی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پرسماعت کے دوران سپریم کورث نے الیکشن کمیشن کو 11 بجے تک تیاری کا وقت دے دیا ہے۔
وکیل درخواست گزار صنم جاوید نے عدالت کو بتایا کہ ’اس کیس میں بھی مشترکہ اکاؤنٹ کا نکتہ ہے۔ ان کے مطابق کاغذات پردوسرا اعتراض جیل سپریٹنڈنٹ کے دستخط نہ ہونے کا ہے۔
تیسرا اعتراض صنم جاوید کے دستخط جعلی ہونے کا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسرکونیا سنگل اکاؤنٹ ایڈجسٹ کرنے کی درخواست دی ہے۔
نہیں اس کیس میں ریٹرننگ افسر نے کوئی درخواست نہیں دی۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’وکیل
الیکشن کمیشن بھی گیارہ بجے تیاری کرکے جواب دیں۔‘
سپریم کورٹ میں پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت بھی 11 بجے ہو گی۔
جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
پاکستان کے ہندو اکثریتی علاقوں میں بھی ہندو سیاسی قوت کیوں نہیں بن پا رہے؟
’یہ پاکستان کی جانب سے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی انڈیا مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دینے کی تازہ ترین کوشش ہے‘: انڈیا
انڈیانے پاکستان کی جانب سے انڈین
ایجنٹس کے دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے سے متعلق دعووں کے ردعمل میں کہا
ہے کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی انڈیا مخالف پروپیگنڈے کو فروغ
دینے کی تازہ ترین کوشش ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے جمعرات
کی شام یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس
کے ایما پر دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے ’کرائے کے قاتلوں‘ اور اُن کے
سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے
دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ٹھوس
شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا دو پاکستانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین پر
ہونے والی ہلاکتوں سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔‘
پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے تفصیل
سے اس بارے میں بھی آگاہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی ان دو وارداتوں کی
منصوبہ بندی کیسے کی گئی تھی اور اس میں کون کون ملوث تھا۔
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے
الزام عائد کیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کو
بھرتی کیا، ان کو مالی مدد اور حمایت فراہم کی اور انھیں دو پاکستانی شہریوں کو
قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
تاہم اب اس معاملے پر ردعمل دیتے
ہوئے انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’دنیا جانتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت
گردی، منظم جرائز اور غیرقانونی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ انڈیا اور
دیگر ممالک نے پاکستان کو عوامی سطح پر متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنے دہشت اور تشدد
پھیلانے کے کلچر کا خود نشانہ بنے گا۔‘
انڈیا نے مزید کہا کہ پاکستان نے
جو بویا ہے وہی کاٹے گا۔
’اپنے کرتوتوں کا الزام دوسروں کے
سر عائد کرنے نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ کوئی حل ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لاہور ہائیکورٹ نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سُنا دیا: ’الیکشن کمشن درخواست گُزار کا موقف سُنے‘
،تصویر کا ذریعہAFP
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو
رکنی بینچ نے سلمان اکرم راجہ کو آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف درخواست پر محفوظ
فیصلہ سنا دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے
اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کے خلاف الیکشن کمیشن درخواست گزار کا موقف سن
کر فیصلہ کرے، درخواست گزار الیکشن کمیشن سے رجوع کرے۔‘
اس سے قبل سلمان اکرم راجہ نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی
تھی جس میں اُن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’میں پی ٹی آئی کا اُمیدوار ہوں لیکن الیکشن
کمیشن نے مجھے آزاد اُمیدوار قرار دیا ہے، اُنھوں نے استدعا کی تھی کہ مجھے پارٹی
کا اُمیدوار قرار دیا جائے۔‘
تاہم الیکشن کمیشن کا جواب آنے کے بعد جس میں الیکشن کمیشن
نے قرار دیا کہ پارٹی کا اُمیدوار قرار دیے جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن بیلٹ
پیپر پر نشان جاری نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 80 فیصد بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں۔
الیکشن کمشن کی جانب سے جواب کے بعد فاضل عدالت نے فیصلہ
محفوظ کیا تھا۔