بائیڈن کا تین لاکھ افغان فوجی تیار کرنے کا دعویٰ کتنا درست ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا: ’ہم نے کوئی تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل افغان ملٹری کو تربیت دی اور سامان فراہم کیا۔‘
کئی ماہرین کے نزدیک یہ اعداد و شمار مبالغے پر مبنی ہیں۔
صدر بائیڈن نے یہ اعداد و شمار افغانستان کی صورتحال کی نگرانی کے لیے بنائے گئے امریکی ادارے سے لیے مگر انھیں سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کرنا گمراہ کن ہے۔
امریکہ کے سپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیرِ نو نے اپریل 2021 میں افغان سکیورٹی فورسز کی کُل تعداد تین لاکھ 699 بتائی ہے۔
مگر اس میں آرمی اور ایئر فورس کے اہلکار (ایک لاکھ 82 ہزار 71) اور افغان پولیس کے اہلکار (ایک لاکھ 18 ہزار 628) شامل ہیں۔ پولیس کو افغان فوج کی طرح تعینات نہیں کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں کئی ’گھوسٹ‘ سکیورٹی اہلکاروں کا بھی انکشاف کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سالانہ 30 کروڑ ڈالر افغان سکیورٹی فورسز میں ایسے لوگوں کی تنخواہوں پر خرچ کیے گئے جو وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔
بی بی سی نیوز نائٹ کی ایک تحقیق کے مطابق افغان فوج کی تعداد زیادہ سے زیادہ 50 ہزار تک بھی ہو سکتی ہے۔























