القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بائیڈن کا تین لاکھ افغان فوجی تیار کرنے کا دعویٰ کتنا درست ہے؟

    افغانستان

    امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا: ’ہم نے کوئی تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل افغان ملٹری کو تربیت دی اور سامان فراہم کیا۔‘

    کئی ماہرین کے نزدیک یہ اعداد و شمار مبالغے پر مبنی ہیں۔

    صدر بائیڈن نے یہ اعداد و شمار افغانستان کی صورتحال کی نگرانی کے لیے بنائے گئے امریکی ادارے سے لیے مگر انھیں سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کرنا گمراہ کن ہے۔

    امریکہ کے سپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیرِ نو نے اپریل 2021 میں افغان سکیورٹی فورسز کی کُل تعداد تین لاکھ 699 بتائی ہے۔

    مگر اس میں آرمی اور ایئر فورس کے اہلکار (ایک لاکھ 82 ہزار 71) اور افغان پولیس کے اہلکار (ایک لاکھ 18 ہزار 628) شامل ہیں۔ پولیس کو افغان فوج کی طرح تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

    اس رپورٹ میں کئی ’گھوسٹ‘ سکیورٹی اہلکاروں کا بھی انکشاف کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سالانہ 30 کروڑ ڈالر افغان سکیورٹی فورسز میں ایسے لوگوں کی تنخواہوں پر خرچ کیے گئے جو وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔

    بی بی سی نیوز نائٹ کی ایک تحقیق کے مطابق افغان فوج کی تعداد زیادہ سے زیادہ 50 ہزار تک بھی ہو سکتی ہے۔

  2. ذبیح اللہ مجاہد: طالبان دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں مگر مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے

    طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ تمام ممالک کے ساتھ ’دوستانہ تعلقات‘ چاہتے ہیں۔

    آریانہ نیوز ٹی وی کے مطابق افغانستان کے یومِ آزادی سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان کسی بھی ملک کے خلاف معاندانہ جذبات نہیں رکھتے۔

    اُنھوں نے کہا کہ تاہم اگر کسی ملک نے افغانستان میں مداخلت کی تو وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

    اُنھوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایک ’متنوع نظام‘ بنانے میں اُن کی مدد کریں۔

  3. عالمی برادری افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کی مدد کرے: چین

    افغانستان
    ،تصویر کا کیپشنچین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی (دائیں) اور برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب (بائیں)

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ دنیا کو افغانستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کی رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے۔

    جمعرات کو ہونے والی اس بات چیت میں روئٹرز کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ نے کہا افغانستان میں صورتحال غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے اور عالمی برادری کی مدد اور حمایت استحکام لانے میں مددگار ہوگی۔

    چین نے اب تک طالبان کو باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے تاہم گذشتہ ماہ وانگ یی نے طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے چین کے شہر تیانجن میں ملاقات کی تھی۔

    طالبان

    اب سے کچھ دیر قبل طالبان ترجمان سہیل شاہین نے چین کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ چین چاہے تو افغانستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکتا ہے۔

    چین نے روس اور ایران کی طرح افغانستان میں اپنا سفارت خانہ کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کئی مغربی ممالک وہاں اپنے سفارت خانے بند کر چکے ہیں۔

    وانگ یی نے ڈومینیک راب سے گفتگو میں کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کو جیوپولیٹیکل میدانِ جنگ کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی آزادی اور اس کے لوگوں کی امنگوں کا احترام کرنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیرِ اعظم برطانیہ بورس جانسن نے کہا تھا کہ طالبان کو اُن کے الفاظ سے نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھا جائے گا۔

    بدھ کو برطانوی پارلیمان میں ہونے والی بحث میں حکومت کو افغانستان سے انخلا کی حکمتِ عملی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل نک کارٹر نے بھی گذشتہ روز بیان دیا تھا کہ طالبان اب ممکنہ طور پر 1990 کی دہائی والے سخت گیر طالبان نہیں ہیں۔

  4. بریکنگ, طالبان: چین افغانستان کی ترقی میں حصہ لے سکتا ہے

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ چین اگر چاہے تو مستقبل میں افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

    یہ بات اُنھوں نے چین کے سرکاری سی جی ٹی این ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں کہی ہے۔

  5. روس: ’طالبان امن امان بحال کر رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے آمادہ نظر آ رہے ہیں‘

    روس

    روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے کہا ہے کہ طالبان سرگرمی سے ’امن و امان بحال‘ کر رہے ہیں اور اُنھوں نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ماریہ زخروفا نے کہا کہ طالبان ’شہریوں کے مفادات بشمول خواتین کے حقوق‘ پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ روس نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس کا سفارت خانہ کھلا رہے گا۔

    گذشتہ ماہ ماسکو نے طالبان وفد کو اپنے ملک کے دورے پر مدعو بھی کیا تھا۔

    ماریہ زخروفا نے اپنی پریس بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ روس کا اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    ’لیکن پھر بھی اُن روسی شہریوں کے لیے چارٹرڈ طیاروں کا بندوبست کرنے کے لیے منصوبے موجود ہیں جو افغانستان چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک افغان شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو اپنے پاس بلا کر پناہ دینا چاہتا ہے، تو روس اس کام کے لیے اپنی سول ایوی ایشن خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے ایسے لوگوں کی تعداد کتنی بھی ہو۔

  6. ’خواتین کے حقوق کا معاملہ فوجی طاقت سے حل نہیں ہو سکتا‘

    بائیڈن

    اے بی سی نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں جو بائیڈن نے افغان خواتین کے معاملے پر بھی بات کی۔

    اُنھوں نے کہا: ’یہ معقول خیال نہیں ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا معاملہ فوجی طاقت سے حل ہو سکتا ہے۔‘

    ’بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں خواتین جبر کی شکار ہیں۔ ان سے نمٹنے کا طریقہ ان پر اقتصادی، سفارتی اور بین الاقوامی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں۔‘

    بائیڈن نے کہا کہ اُنھوں نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ امریکی انخلا کے آپریشن میں جس قدر ممکن ہو اتنی خواتین کو افغانستان سے باہر نکالیں۔

    ’ہمیں چاہیے کہ جتنی خواتین کو نکال سکیں اُن کو نکالیں۔‘

  7. پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمت جنم لے رہی ہے: روسی وزیرِ خارجہ

    روس

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ افعانستان کی وادی پنجشیر میں امراللہ صالح اور احمد مسعود کی قیادت میں طالبان مخالف مزاحمت جنم لے رہی ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرگئی لاوروف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے پاس اب بھی پورے ملک کا قبضے نہیں ہے۔

    ’وادی پنجشیر سے اطلاعات ہیں کہ وہاں مزاحمت جنم لے رہی ہے جہاں امراللہ صالح اور احمد مسعود موجود ہیں۔‘ اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں تمام دھڑوں کی ’نمائندہ حکومت‘ بنانے کے لیے کثیر فریقی مذاکرات پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ پنجشیر وادی افغانستان کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

    سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی اتحاد کے ہلاک رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود وہاں امراللہ صالح کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف گوریلا مزاحمت کی تیاری کر رہے ہیں۔

  8. افغانستان میں طالبان کی فتح انڈیا اور علاقائی امن کا امتحان ہو گا

  9. طالبان: ’غیر ملکیوں اور افغانوں کو محفوظ راستہ دے رہے ہیں‘

    افغانستان

    طالبان نے کہا ہے کہ وہ کابل سے غیر ملکیوں کے انخلا میں غیر ملکی افواج کی مدد کر کے اپنے ’وعدے کی پاسداری‘ کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان عہدیدار نے کہا کہ ’ہم نہ صرف غیر ملکیوں بلکہ افغانوں کو بھی ملک چھوڑنے کے لیے محفوظ راستہ دے رہے ہیں۔‘

    ’ہم ایئرپورٹ پر افغانوں، غیر ملکیوں اور طالبان کے درمیان کسی بھی قسم کے جسمانی اور لفظی تصادم کو روک رہے ہیں۔‘

    تاہم اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ طالبان سفری دستاویزات کے حامل افراد کو بھی کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے نہیں دے رہے۔

  10. افغانستان میں یومِ عاشور کی جھلکیاں

    دنیا بھر کی طرح آج افغانستان میں بھی یومِ عاشور کے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور عزاداری کی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں میں نکالے جانے والے ان جلوسوں پر طالبان جنگجو پہرہ دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    کابل
    ،تصویر کا کیپشنکابل
    کابل
    ،تصویر کا کیپشنکابل
    ہرات
    ،تصویر کا کیپشنہرات
    مزار شریف
    ،تصویر کا کیپشنمزار شریف
    کابل
    ،تصویر کا کیپشنکابل
  11. امریکی فوجی 11 ستمبر کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہ سکتے ہیں: بائیڈن

    بائیڈن

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی فوجی افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان جنگجو ملک چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کو کابل ایئرپورٹ پہنچنے سے روک رہے ہیں جبکہ 15 ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

    صدر بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ کابل میں بحران یقینی ہے۔ غیر ملکی حکومتیں اپنے شہریوں اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے افغان لوگوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔

    واشنگٹن نے بھی تمام امریکی شہریوں بشمول 50 سے 65 ہزار افغانوں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افغان امریکی فوج کے ساتھ بطور مترجم کام کر رہے تھے۔

    جب اے بی سی نیوز نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ افراتفری میں انخلا کے معاملے پر کوئی غلطی قبول کریں گے یا نہیں، تو اُنھوں نے کہا: ’نہیں۔‘ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کون سا راستہ ہے کہ افراتفری کے بغیر انخلا ہو گیا ہوتا۔‘

    جب اُن کی توجہ امریکی طیارے سے گرتے ہوئے افغانوں کی وائرل ہونے والی تصاویر کی جانب دلائی گئی تو وہ دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے بولے کہ وہ چار پانچ دن پرانی تصاویر ہیں۔

    اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان پر طالبان کے سرعت کے ساتھ قبضے کی وجہ افغان حکومت اور افغان فوج کی ناکامی کو قرار دیا۔

    صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ گذشتہ ماہ تو اُنھوں نے کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے ’امکان انتہائی کم‘ ہے۔ تو اس پر اُنھوں نے کہا کہ انٹیلیجنس رپورٹس یہ تھیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کا زیادہ امکان سال کے آخر تک تھا۔

    انٹرویور نے پوچھا کہ ’آپ نے ’انتہائی کم امکان‘ کہتے ہوئے وقت کا تعین تو نہیں کیا تھا۔ آپ نے تو صرف کہا تھا کہ ’طالبان کے غلبے کا امکان انتہائی کم ہے۔‘ اس پر صدر بائیڈن نے کہا: ’ہاں۔‘

  12. افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ

    شام بخیر۔ اگر آپ ہمارے لائیو پیج میں ابھی شامل ہوئے ہیں تو آپ کے لیے آج کی اہم خبروں کا خلاصہ یہ ہے:

    • انڈیا نے کہا ہے کہ طالبان نے سرحد پار تجارت بند کر دی ہے جس کے لیے پاکستان کے زمینی راستے استعمال ہوتے ہیں، تاہم طالبان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے کسی ملک کے ساتھ تجارت بند نہیں کی ہے۔
    • امریکہ نے اپنے ملک میں موجود افغانستان کی قومی دولت کو منجمد کر دیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد معطل کر رہے ہیں۔
    • طالبان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز سے لے کر جمعرات تک کابل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں اب تک 12 اموات ہوئی ہیں۔
    • القاعدہ کی یمن میں کام کرنے والی شاخ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی مبارک باد دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
    • افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بدھ کی شب خلیل الرحمان حقانی سمیت طالبان کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلیٰ عہدے داران بھی موجود تھے۔
    • عبداللہ عبداللہ کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان کے عوام کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
    • ترکی نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے باوجود ترکی نہ صرف امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا دفاع کرنے بلکہ طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
  13. ’افغان عملے کو باہر نکالنا ای یو کی اخلاقی ذمہ داری ہے‘

    EU

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ای یو کے ساتھ کام کرنے والے پہلے 106 افغان افراد کو ملک سے باہر نکالا جا چکا ہے۔

    تاہم، انھوں نے کہا کہ تین سو افغان مزید باقی ہیں جو ایئرپورٹ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھیں ’کابل کی سڑکوں پر روکا گیا ہے۔‘

    ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ یہ ای یو کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے کہ وہ اس مشکل صورتحال میں ان افراد کو ملک سے نکالے۔

  14. ترک صدر رجب طیب اردوغان : ترکی کابل کے ایئرپورٹ کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے

    turkey

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے باوجود ترکی نہ صرف امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا دفاع کرنے بلکہ طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    کابل کا فضائی اڈہ سٹریٹجک طور پر نہایت اہم ہے اور اگر دیگر ممالک افغانستان میں سفارتی موجودگی قائم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایئرپورٹ کی حفاظت ضروری ہے اور ترکی ماضی میں بھی یہ پیشکش کر چکا ہے۔

    طالبان کی جانب سے گذشتہ اتوار کو کابل قبضے میں لیے جانے کے بعد حالات واضح نہیں تھے اور امریکہ نے اپنے شہریوں کی بحفاظت انخلا کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ فوجی اس وقت تعینات کر دیے ہیں۔

    البتہ بدھ کو ایک خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ ان کا ملک ابھی بھی اپنی پیشکش پر قائم ہے۔

    ’طالبان کے قبضے کے بعد اب ایک نئی تصویر سامنے آئی ہے اور ہم اپنے منصوبے ان نئی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے بنا رہے ہیں۔‘

    ترک صدر نے مزید کہا کہ وہ طالبان رہنماؤں سے بات چیت کرنے کے لیے راضی ہیں۔

    ’ہم کسی طرح کے بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔ طالبان رہنما ترکی سے تعلقات قائم کرنے میں کافی حساس ہیں۔‘

  15. ’انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی حمایت کرتا رہے‘

    afg
    ،تصویر کا کیپشنانڈیا نے افغانستان کی پارلیمان کی عمارت تعمیر کرنے میں مدد کی ہے

    افغانستان سے آنے والی کئی خبروں سے انڈیا میں اس بات کا خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ وہاں کی گئی سرمایہ کاری کو طالبان کے طاقت میں آنے سے خطرہ ہے۔

    گذشتہ کئی برسوں میں انڈیا نے افغانستان کیں مختلف نوعیت کی سرمایہ کاری کی ہے جس کی مالیت تین ارب ڈالر کے قریب ہے اور اس کی مد میں انھوں نے نہ صرف افغانستان کی پارلیمان کی عمارت قائم کی ہے بلکہ افغانستان کا ایک اہم ڈیم بھی انھوں نے بنا کر دیا ہے۔

    ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ابھی تک طالبان کے اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ انڈیا کی مدد سے بنائے ہوئے انفراسٹرکچر کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

    ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا نے سوچ سمجھ کر سرمایہ کاری کی ہے اور اس کی مدد سے افغانستان میں انڈیا کے لیے اچھے تاثرات قائم ہوئے ہیں۔

    افغانستان میں انڈیا کے سفیر رہنے والے گوتم مکھوپدھیا نے بی بی سی کے وکاس پانڈے کو بتایا کہ ’انڈیا نے اپنی سرمایہ کاری کا ثمر حاصل کر لیا ہے وہاں کی عوام کے دلوں کو جیتنے میں۔ یہ سرمایہ کاری افغان عوام کے لیے تھی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی حمایت کرتا رہے۔

    انڈیا
    ،تصویر کا کیپشناس کے علاوہ انڈیا نے افغانستان میں ڈیم، سڑکیں، سکول وغیرہ بھی تعمیر کروائے ہیں
  16. افغانستان میں پاکستانی سفیر کی سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقات

    Twitter

    افغانستان میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحت کی اعلی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی جہاں انھوں نے افغانستان میں دیرپا استحکام کے حوالے سے گفتگو کی۔

  17. بریکنگ, طالبان کی جانب سے تجارت روکے جانے کے انڈین دعوے کی تردید: ’ہم نے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی بات نہیں کی‘

    Spox

    انڈیا کی جانب سے تجارت روکے جانے کے الزام پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا ہے کہ ’امارات اسلامی تمام ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے۔

    ’ہم نے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی بات نہیں کی۔ ہم ان افواہوں کو مسترد کرتے ہیں جو سچ نہیں ہیں۔‘

    spox
  18. طالبان وفد کی افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلی کونسل کے اراکین سے ملاقات

    twitter

    افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بدھ کی شب خلیل الرحمان حقانی سمیت طالبان کے وفد سے ملاقات کی جہاں انھوں نے افغانستان کے سرکاری موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایک خود مختار اور متحد افغانستان کے خواہشمند ہیں جہاں انصاف کا بول بالا ہو۔

    سلسلہ وار ٹویٹس میں انھوں نے بتایا کہ سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلی عہدے داران کی موجودگی میں یہ ملاقات ہوئی تھی جہاں افغانستان کے عوام کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    انھوں نے طالبان وفد پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی جان و مال کا خیال رکھیں۔

    اس ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ تاریخ یہ واضح طور پر دکھاتی ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کی غیر موجودگی اور لوگوں کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں قبمی اتحاد قائم رکھنا ناممکن ہے۔.

    طالبان کی جانب سے خلیل الرحمان حقانی نے کہا کہ وہ کابل کے شہریوں کے لیے سکیورٹی کا پورا انتظام کریں گے اور ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کی مدد اور حمایت چاہتے ہیں تاکہ ملک بھر کے عوام کو تحفظ دیا جا سکے۔

    Twitter
  19. ’لیتھیم کا سعودی عرب‘ کہلائے جانے والے افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟

  20. القاعدہ عرب جزیرہ نما کی جانب سے طالبان کی ’جیت‘ پر انھیں مبارک باد

    kabul

    القاعدہ کی یمن میں کام کرنے والی شاخ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی مبارک باد دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیں جاری رکھیں گے۔

    القاعدہ عرب جزیرہ نما (اے کیو آئی پی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوریت کا کھیل اور امن پسندی صرف ایک نظر کا سراب ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اے کیو آئی پی کے اس بیان کو جہادی نیٹ ورکس کی نگرانی کرنے والے ’سائٹ انٹیلیجنس‘ گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔

    امریکہ اے کیو آئی پی کو القاعدہ کے عالمی نیٹ ورک میں سے سب سے خطرناک گروہ سمجھتا ہے اور ان کے خلاف یمن میں متعدد بار ڈرون حملے کر چکا ہے۔

    یمن میں گذشتہ سات سالوں سے جاری جنگ کے باعث اس گروہ نے اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

    دنیا بھر میں دیگر جہادی تنظیموں کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بی بی سی کے گرینک گارڈنر لکھتے ہیں کہ آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کی یہ تحریر پڑھیے۔