القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
طالبان کی افغانستان میں فتح پوری اسلامی امت کی فتح ہے: تحریکِ طالبان پاکستان
،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اپنے رہنماؤں، افغان جہادیوں اور مجاہدین کو مبارکباد دی ہے۔
یہ بیان تحریک طالبان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود (ابو منصور عاصم) کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔
بیان کی ابتدا قرآن کی ایک آیت سے کی گئی ہے، قرآن کی ایک آیت کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد لکھا گیا ہے، ’یہ ایک حقیقت ہے کہ شریعت کے دائرے میں اسلامی حکمرانی کا نفاذ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ان چیلنجز میں کامیاب ہونا بھی اللہ کی رحمت سے ہے۔‘
اس کے بعد بیان میں طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ، سراج الدین حقانی، مولوی محمد یعقوب اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر کو مبارکباد دی گئی۔
تحریک طالبان پاکستان نے اس فتح کو ’پوری اسلامی امت کی فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل اس پر منحصر ہے۔
طالبان کے ترجمان کی ملا عبدالغنی برادر کی کابل آمد کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل میں طالبان کے ترجمان احمد اللہ وثیق نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر، گروپ کے نائب رہنما اور قطر میں گروپ کے سیاسی دفتر کے سربراہ، افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے ہیں۔
برادر ملا عبدالغنی طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے تین دن بعد گذشتہ منگل کو جنوبی قندھار پہنچے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق مسٹر بردار نے ایک فوجی طیارے میں دوحہ سے قندھار کے لیے اڑان بھری۔
اگرچہ افغانستان کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان قیادت میں سے کس کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ یہ بھی اعلان نہیں کیا گیا کہ طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کب کابل واپس آئیں گے۔
طالبان کابل سے ہزاروں افراد کے منظم انخلا کا احترام کریں: نیٹو وزرا خارجہ
نیٹو کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کی موجودہ مشکل صورتحال کے بارے میں ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی مستقبل کی حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے افغانستان کی تمام امداد معطل کی جا رہی ہے۔
نیٹو کے وزرا نے افغانستان کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسی جامع حکومت کے لیے کام کریں جس میں خواتین اور اقلیتیں شامل ہوں اور یہ کہ افغانستان کو دوبارہ کبھی بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کو کابل چھوڑنے کی اجازت دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے ’ہم افغانستان میں اقتدار میں رہنے والوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ملک سے نکلنے والے افراد کے محفوظ اور منظم انخلا کا احترام کریں اور انھیں سہولت فراہم کریں۔‘
نیٹو کا کہنا ہے کہ ’ہمارا فوری کام اپنے شہریوں اور ان لوگوں کو جو خطرے میں ہیں اور خاص طور پر ان لوگوں کو نکالنا ہے جنھوں نے ہماری مدد کی ہے۔‘
’یہ وہ وقت ہے جب ہزاروں لوگ کابل ائیرپورٹ پر جمع ہو چکے ہیں اور وہاں سے نکلنے کے منتظر ہیں۔‘
کیا پنجشیر وادی طالبان کی پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گی؟
کابل: جیٹ طیاروں کی نیچی پروازیں، ایئرپورٹ کی دیوار پھلانگنے پر مجبور خواتین اور فائرنگ سن کر روتے بچے
طالبان کی کابل ائیرپورٹ پر لوگوں کو ملک چھوڑنے سے روکنے سے متعلق خبروں کی تردید
طالبان کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے جنگجو کابل ائیرپورٹ پر لوگوں کو ملک چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔
طالبان عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو روئٹرز کو بتایا ’ہم صرف ایسے لوگوں کو واپس بھیج رہے ہیں جن کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں اور وہ صرف کابل ائیرپورٹ کے گیٹ پر افراتفری پھیلا رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ کابل کے ہوائی اڈے کے اطراف میں ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجوؤں کے گشت کرنے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ علاقے میں گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان کے ساتھ امریکیوں کو ایئرپورٹ کی رسائی دینے کا معاہدہ ہے، جو بائیڈن
صدر بائیڈن سے سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کابل میں مزید فوجی بھیجے گا تاکہ ایئرپورٹ نہ پہنچ پانے والے امریکیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے؟
اس پر صدر نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ’ہمارا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اب تک امریکی پاسپورٹ رکھنے والے ہر شخص کو ایئرپورٹ تک جانے دیا گیا ہے۔
’امریکہ کی ساکھ پر کوئی سوال اٹھتے نہیں دیکھا‘
،تصویر کا ذریعہReuters
بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے طالبان کو بتا دیا ہے کہ اگر اُنھوں نے انخلا کے آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کی جانب سے ’فوری اور بھرپور ردِعمل‘ آئے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
صدر بائیڈن نے کہا: ’گذشتہ ہفتہ نہایت دل شکن رہا ہے۔‘
’ہم نے بدحواس لوگوں کو انتہائی بے تابی کے عالم میں دیکھا ہے۔ یہ سب قابلِ فہم ہے۔ وہ خوف زدہ ہیں، وہ اداس ہیں۔ وہ غیر یقینی کے شکار ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ پانچ ہزار امریکی سپاہی اب بھی کابل ایئرپورٹ پر ہیں اور آئندہ کچھ گھنٹوں میں مزید ایک ہزار سپاہیوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کے طالبان کے قبضے میں جانے سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
اس پر اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے امریکہ کے اتحادیوں کی جانب سے ’ہماری ساکھ پر کوئی سوال نہیں‘ دیکھا۔
’میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔‘
صدر جو بائیڈن: بڑی تعداد میں امریکیوں اور افغانوں کو نکال رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سات عالمی طاقتوں جی سیون کا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا جس میں افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
صدر جو بائیڈن تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ اُنھوں نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کا امکان انتہائی کم ہے،
تاہم طالبان نے امریکی افواج کے مکمل انخلا سے قبل ہی پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔
ایسی صورتحال میں مختلف مغربی ممالک بشمول امریکہ تیزی سے اپنے شہریوں اور اُن کے افغان ساتھیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکیوں اور افغانوں کو بڑے پیمانے پر افغانستان سے نکالا جا رہا ہے تاہم یہ ایک پرخطر آپریشن ہے اور وہ حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتے۔
اُنھوں نے بتایا کہ 14 اگست سے لے کر اب تک 13 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کا طالبان سے قریبی رابطہ ہے تاکہ امریکہ سے منسلک افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے دیا جائے۔
افغانستان کا وہ علاقہ جہاں اب بھی طالبان نہیں پہنچے ہیں
،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان کی ایک علاقہ ایسا بھی ہے جو اب تک طالبان کی دسترس سے دور ہے۔
یہ وادی پنجشیر کا علاقہ ہے جو شمال مشرقی افغانستان میں واقع ہے۔
پنجشیر میں مزاحمت کی تاریخ طویل رہی ہے۔
اس کے مشہور ملٹری کمانڈر احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ کے دوران اور پھر طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا دفاع کیا یہاں تک کہ 2001 میں اُن کی ہلاکت نہیں ہو گئی۔
کم از کم دو سابق افغان عہدیداران بشمول احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود پنجشیر میں موجود ہیں۔
مگر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پنجشیر اب طالبان کے بھرپور حملے میں محفوظ نہیں رہ پائے گا۔
افغان اُمور کے ماہر سوربون یونیورسٹی پیرس کے جائلز ڈورونسورو نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس وقت مزاحمت صرف لفظی ہے کیونکہ طالبان نے پنجشیر میں داخل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘
سوئیڈن میں مقیم محقق عبدالسید نے اے ایف پی کو بتایا: ’طالبان نے پنجشیر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ مسعود کے بیٹے دو ماہ سے زیادہ عرصے تک مزاحمت کر سکیں گے۔ اس وقت اُن کے پاس کوئی مضبوط حمایت موجود نہیں ہے۔‘
بورس جانسن: طالبان کے ساتھ کام کرنا ضروری ہوا تو کریں گے
،تصویر کا ذریعہPA Media
وزیرِ اعظم برطانیہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو برطانیہ طالبان کے ساتھ مل کر بھی کام کرے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے اس موقع پر اپنے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کا دفاع بھی کیا جو افغان صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر تنقید کی زد میں ہیں۔
بورس جانسن نے میڈیا کو بتایا: ’میں اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان کا حل تلاش کرنے کے لیے ہماری سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہیں گی، جس میں ضرورت پڑنے پر طالبان کے ساتھ کام کرنا بھی ہے۔‘
اس سے قبل بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ وہ طالبان کو اُن کے الفاظ نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھیں گے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں اب بھی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب پر اعتماد ہے تو اُنھوں نے کہا: بالکل
واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل سر نک کارٹر بھی طالبان کے لیے بظاہر نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔
بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ طالبان اب بدل گئے ہوں۔
افغانستان کی ہزارہ برادری خوف میں مبتلا
،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں ہزارہ برادری تیسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ یہ لوگ اکثریتی طور پر شیعہ مسلمان ہیں اور انھیں عمومی طور پر سنی طالبان کے ہاتھوں تفریق اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اب ان میں سے بہت سے لوگوں کو وہی دور واپس آنے کا خدشہ ہے۔ جمعے کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ جولائی کے مہینے میں طالبان جنگجوؤں نے غزنی صوبے میں کئی ہزارہ افراد کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔
غزنی میں رہنے والے علی (فرضی نام) نے کہا کہ طالبان در در جا کر اُن لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں جو پچھلی حکومت یا افغان پولیس کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
علی نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اور میرے گھر والے باہر نہیں جا رہے کیونکہ ہم محفوظ نہیں محسوس کر رہے۔ میرے دوستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، طالبان نے میرے ایک دوست پر تشدد کیا۔‘
فاطمہ (فرضی نام) کابل میں ایک سماجی کارکن ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اپنی برادری اور دیگر نسلی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خوف محسوس ہو رہا ہے۔
بریکنگ, دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلّط نہیں کرنی چاہیے، ولادیمیر پوتن
،تصویر کا ذریعہReuters
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کو کہا ہے کہ دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلّط نہیں کرنی چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ ماسکو میں جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔
صدر پوتن نے اُمید کا اظہار کیا کہ طالبان اپنے وعدے پورے کریں گے اور یہ اہم ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان سے نکل کر خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکا جائے۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ’باہر سے بیٹھ کر اجنبی اقدار مسلّط کرنے اور اُن ممالک کے لیے اجنبی ماڈل کی جمہوریت تیار کرنے کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کو رکنا چاہیے جس میں تاریخی، قومی اور مذہبی روایات کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔‘
’ہم افغانستان کو جانتے ہیں، ہم اُن لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور ہم نے سیکھا ہے کہ یہ ملک کیسے کام کرتا ہے، اور اس کی روایات کے برعکس سیاسی اور سماجی نظام اس پر نافذ کرنا کتنا نقصاندہ ہو سکتا ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا: ’ایسے کوئی بھی سیاسی اور سماجی تجربے ماضی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور اس سے صرف ریاستوں کی بربادی اور اُن کے اپنے سیاسی اور سماجی نظام کی تباہی ہوئی ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ طالبان نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور سفارتکاروں کی سلامتی کی یقین دہانی کروائی ہے اور اُنھیں اُمید ہے کہ اس سب پر عمل ہوگا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ روس اور افغانستان کا تعلق نہایت پیچیدہ اور تلخ رہا ہے۔ سنہ 1978 میں سرد جنگ کے دوران افغانستان میں کمیونسٹ بغاوت ہوئی اور اس انقلاب کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو کچلنے کے لیے سوویت یونین نے اگلے ہی سال افغانستان پر حملہ کر دیا۔
سوویت فورسز نے مجاہدین کہلانے والے مقامی جنگجوؤں کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ ان جنگجوؤں کو پاکستان اور امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ سوویت افغان جنگ 10 سال تک جاری رہی اور افغانستان کے لیے نہایت ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔
دس لاکھ کے قریب افغان مارے گئے۔ جنگ کے بعد مجاہدین میں آپسی لڑائیوں کے بعد طالبان ابھر کر سامنے آئے۔
سنہ 1992 میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مختلف ملکوں میں بٹ گیا۔ عام خیال یہی ہے کہ افغانستان کی جنگ نے براہِ راست سوویت یونین کے ٹوٹنے میں کردار ادا کیا۔
جامعہ حفصہ پر امارتِ اسلامیہ کے پرچم حکام نے اتروا دیے, سحر بلوچ، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہTwitter/@ghulamabbasshah
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی سیون تھری میں لال مسجد سے منسلک جامعہ سیدہ حفصہ پر لہرایا گیا اماراتِ اسلامیہ افغانستان کا پرچم اسلام آباد انتظامیہ نے اتروا دیا ہے۔
جامعہ حفصہ پر 19 اگست کی صبح اماراتِ اسلامیہ کے چار سے پانچ پرچم لگائے گئے تھے۔ لال مسجد شہدا فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق، پرچم لگنے کے کچھ دیر بعد اسلام آباد کی انتظامیہ کے افسران بمع ڈپٹی کمشنر جامعہ حفصہ مذاکرات کرنے پہنچے اور ’درخواست‘ کی کہ یہ جھنڈے ہٹا دیے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اطلاع ملنے پر اسلام آباد پولیس و ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے جھنڈا اتروا دیا ہے۔
لال مسجد میں مبینہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے خلاف سنہ 2007 میں فوجی آپریشن کیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز پہلے پشاور کے علاقے حیات آباد میں افغانستان کا پرچم لہرانے پر نو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق کارروائی میں حیات آباد فیز تھری سے نو افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ افغانستان کے دو پرچم بھی ضبط کر لیے گئے لیکن اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی مسجد پر طالبان کا جھنڈا لہرانے پر تاحال نہ کوئی پرچہ کاٹا گیا ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی کی جا رہی ہے۔
لال مسجد کے ترجمان ہارون غازی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز نے جمعے کو فتحِ مبین کے نام سے کانفرنس رکھی گئی تھی اور اس کی تیاری کے لیے پرچم لگائے گئے تھے۔
اُنھوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد افغان طالبان سے یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ تاہم اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کانفرنس سیکیورٹی محاصرے کے باعث نہیں ہو سکی۔
’کرکٹ کو طالبان سے خطرہ نہیں، ٹیم میں جوش موجود ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ حامد شنواری نے کہا ہے کہ اُن کی ٹیم ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کی تیاری کر رہی ہے جو دو ہفتے بعد سری لنکا میں ہونی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ افغان قومی ٹیم کابل میں اپنی پریکٹس دوبارہ شروع کر کے ’پرجوش‘ محسوس کر رہی ہے۔
اُنھوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ میں ماحول بہت پرجوش ہے اور جیسے ہی فلائٹ آپریشن بحال ہوتا ہے تو ٹیم کو سری لنکا بھیج دیا جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ حکام سے رابطے میں ہیں۔
حامد شنواری نے مزید کہا کہ کرکٹ کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’کرکٹ طالبان کی پچھلی حکومت میں بھی مسئلہ نہیں تھا اور اس مرتبہ بھی نہیں ہوگا۔
مجھے نہیں یاد کہ طالبان نے کبھی کرکٹ کے معاملے پر کوئی مسائل پیدا کیے ہوں۔‘
شنواری نے کہا کہ وہ اس وقت ویمنز کرکٹ پر تبصرہ نہیں کر سکتے مگر آئندہ چند ہفتوں میں اس حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے 10 ستمبر سے کابل میں اپنی ٹی 20 لیگ کے آغاز کا اعلان بھی کیا ہے۔
’ہم افغانستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں۔
ہمارے انڈین اور پاکستانی کرکٹ بورڈز کے ساتھ زبردست تعلقات ہیں اور ہم بین الاقوامی کرکٹ برادری کا حصہ ہیں۔‘
افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ترکی کی ضرورت ہے: سہیل شاہین
،تصویر کا ذریعہReuters
طالبان نے کہا ہے کہ اُنھیں افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
طالبان ترجمان سہیل شاہین نے ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔
ہم افغانستان کی تعمیرِ نو کریں گے اور ہر علاقے کو نئے سرے سے استوار کریں گے۔ ہمیں اس معاملے میں ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ترکی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ یہ ایک باعزت اور مضبوط عالمی ملک ہے اور اسلامی برادری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ترکی اور افغانستان کے تعلقات کا موازنہ کسی اور ملک سے نہیں کیا جا سکتا۔‘
اس سے قبل سہیل شاہین ایک اور ترک حکومت نواز نیوز چینل پر ترکی کو ایک ’برادر اسلامی ملک‘ قرار دے چکے ہیں۔
کابل پر قبضے کے صرف ایک دن بعد سولہ اگست کو اس گفتگو میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
جمعے کو ترک صدر رجب طیب اردوگان نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی طالبان سے بات کر سکتا ہے۔
’اگر ضرورت پڑی تو ہم طالبان سے بات کر سکتے ہیں۔ ہمارا دروازہ جب بھی بجایا گیا، ہم دروازہ کھولیں گے۔‘
افغان مترجمین کو تنہا چھوڑنے کا الزام، برطانوی وزیرِ خارجہ تنقید کی زد میں
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کو افغانستان میں پیدا ہونے والے بحران کے معاملے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ جمعے کو یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی فوج کی مدد کرنے والے مترجمین کی مدد کے لیے جو فون کال اُنھوں نے گذشتہ ہفتے کرنی تھی، وہ نہیں کی۔
ایک جونیئر وزیر کو افغانستان میں حکام سے بات کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا تاہم دفترِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث افغان حکومت کے ختم ہونے سے قبل فون کال کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔‘
اس دوران وزیرِ خارجہ یونان میں چھٹیوں پر تھے۔
جب یہ بات سامنے آئی کہ ڈومینیک راب افغان وزیرِ خارجہ حنیف اتمر کو گذشتہ ہفتے کال کرنے کے لیے موجود نہیں تھے تو اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران اُن افراد کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے جنھوں نے برطانوی فوج کے لیے مترجم کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
کابینہ میں اُن کے ساتھیوں نے وزیرِ خارجہ کی حمایت کی ہے جو استعفے کے مطالبے مسترد کر رہے ہیں تاہم اُن کی اپنی جماعت کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ بھی ان سے خوش نہیں ہیں۔
طالبان کے آنے سے ’مستقبل میں خطرات میں اضافہ ہوگا‘
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سابق سربراہ لارڈ
جوناتھن ایوانز نے کہا ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان مں
انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر توجہ دینے کے بجائے تعمیر نو پر توجہ دینا اس ’بڑی
ناکامی‘ کا سبب بنا ہے۔
بی بی سی ریڈیو فور سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا
کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ’ہمیں چاہیے تھا کہ ہم انسداد دہشت گردی کے مقاصد پر کام
کرتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اب آنے والے وقتوں میں
افغانستان سے دو مختلف نوعیت کے خطرات سامنے آئیں گے۔
’میرے خیال میں دو مسئلے ہیں۔ اب وہاں پر القاعدہ
جیسے گروہ کو مزید جگہ ملے گی اور پھر یہ بھی خبریں ہیں کہ دولت اسلامیہ کے عناصر
وہاں موجود ہیں۔ اگر ان گروہوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنی موجودگی مستحکم کر لیں
تو یہ مغربی ممالک کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
’دوسرا نفسیاتی اثر جو لوگوں پر آئے گا یہ دیکھتے
ہوئے کہ مغربی ممالک افغانستان میں شکست کھا گئے تو یہ ان کو مزید راغب کرے گا اور
اس کی وجہ سے وہ گروپ جو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہیں انھیں مزید حوصلہ ملے
گا۔ تو میرے خیال میں نہ صرف عملی طور پر بلکہ نفسیاتی طور پر بھی آنے والے مہینوں
اور سالوں میں خطرات میں اضافہ ہوگا۔ ‘
کابل ایئرپورٹ: آزادی کی منزل یا خطرات سے بھرا راستہ
گذشتہ اتوار کو طالبان کے قبضے کے بعد سے کابل کا
حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہزاروں افراد کے لیے امید کی آخری کرن کے طور پر
ابھرا ہے جہاں وہ تمام افراد جو ملک چھوڑنے کے لیے بیتاب ہیں وہ وہاں کا رخ کر رہے
ہیں۔
افغان شہری ہوں یا غیرملکی، تمام افراد کی ساری امید
اب اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ کس طرح کابل ایئرپورٹ میں داخل ہو جائیں۔
لیکن طالبان نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ افغان
افراد ملک چھوڑ کر جائیں۔ انھوں نے ایئرپورٹ جانے والے مرکزی راستے میں جگہ جگہ
رکاوٹیں قائم کر دی ہیں اور ان افراد پر کہیں کہیں حملے
بھی کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان
ترجمان نے کہا ہے کہ ان واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایئرپورٹ کے کمپاؤنڈ اندر چار ہزار امریکی
فوجی تعینات ہیں جنھوں نے ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کے بعد سے کمپاؤنڈ کے اندر کم از
کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چار افراد وہ تھے جو ملک چھوڑنے کی کوشش میں
امریکی طیارے سے لپٹ گئے لیکن پرواز کے بعد گر کر ہلاک ہو گئے۔
ان ہلاک ہونے والوں میں سے ایک افغانستان کی یوتھ فٹبال
ٹیم کا ایک کھلاڑی بھی شامل ہے۔
افغانستان کے پڑوسی ممالک سے پناہ گزینوں کے لیے سرحدیں کھولنے کی اپیل
،تصویر کا ذریعہEPA
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی
آر نے جمعہ کو کہا کہ وہ افغان جو ملک چھوڑے نے کے خواہشمند ہیں ان کی بڑی تعداد ایسا
کرنے سے قاصر ہے اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں اگر انھیں ’باہر جانے کا راستہ نہ
ملا۔‘
یو این ایچ سی آر کی ترجمان شبیہ منتو نے اس بات پر زور
دیا کہ افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک اپنی سرحدیں کھولیں تاکہ پناہ حاصل کرنے
والے افغان افراد وہاں جا سکیں۔
جنیوا میں ایک پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ان کا
کہنا تھا کہ ’یو این ایچ سی آر کو افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے
خدشات ہیں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں۔‘