القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, طالبان: چین افغانستان کی ترقی میں حصہ لے سکتا ہے

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ چین اگر چاہے تو مستقبل میں افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

    یہ بات اُنھوں نے چین کے سرکاری سی جی ٹی این ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں کہی ہے۔

  2. روس: ’طالبان امن امان بحال کر رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے آمادہ نظر آ رہے ہیں‘

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے کہا ہے کہ طالبان سرگرمی سے ’امن و امان بحال‘ کر رہے ہیں اور اُنھوں نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ماریہ زخروفا نے کہا کہ طالبان ’شہریوں کے مفادات بشمول خواتین کے حقوق‘ پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ روس نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس کا سفارت خانہ کھلا رہے گا۔

    گذشتہ ماہ ماسکو نے طالبان وفد کو اپنے ملک کے دورے پر مدعو بھی کیا تھا۔

    ماریہ زخروفا نے اپنی پریس بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ روس کا اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    ’لیکن پھر بھی اُن روسی شہریوں کے لیے چارٹرڈ طیاروں کا بندوبست کرنے کے لیے منصوبے موجود ہیں جو افغانستان چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک افغان شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو اپنے پاس بلا کر پناہ دینا چاہتا ہے، تو روس اس کام کے لیے اپنی سول ایوی ایشن خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے ایسے لوگوں کی تعداد کتنی بھی ہو۔

  3. ’خواتین کے حقوق کا معاملہ فوجی طاقت سے حل نہیں ہو سکتا‘

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اے بی سی نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں جو بائیڈن نے افغان خواتین کے معاملے پر بھی بات کی۔

    اُنھوں نے کہا: ’یہ معقول خیال نہیں ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا معاملہ فوجی طاقت سے حل ہو سکتا ہے۔‘

    ’بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں خواتین جبر کی شکار ہیں۔ ان سے نمٹنے کا طریقہ ان پر اقتصادی، سفارتی اور بین الاقوامی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں۔‘

    بائیڈن نے کہا کہ اُنھوں نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ امریکی انخلا کے آپریشن میں جس قدر ممکن ہو اتنی خواتین کو افغانستان سے باہر نکالیں۔

    ’ہمیں چاہیے کہ جتنی خواتین کو نکال سکیں اُن کو نکالیں۔‘

  4. پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمت جنم لے رہی ہے: روسی وزیرِ خارجہ

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ افعانستان کی وادی پنجشیر میں امراللہ صالح اور احمد مسعود کی قیادت میں طالبان مخالف مزاحمت جنم لے رہی ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرگئی لاوروف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے پاس اب بھی پورے ملک کا قبضے نہیں ہے۔

    ’وادی پنجشیر سے اطلاعات ہیں کہ وہاں مزاحمت جنم لے رہی ہے جہاں امراللہ صالح اور احمد مسعود موجود ہیں۔‘ اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں تمام دھڑوں کی ’نمائندہ حکومت‘ بنانے کے لیے کثیر فریقی مذاکرات پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ پنجشیر وادی افغانستان کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

    سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی اتحاد کے ہلاک رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود وہاں امراللہ صالح کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف گوریلا مزاحمت کی تیاری کر رہے ہیں۔

  5. افغانستان میں طالبان کی فتح انڈیا اور علاقائی امن کا امتحان ہو گا

  6. طالبان: ’غیر ملکیوں اور افغانوں کو محفوظ راستہ دے رہے ہیں‘

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    طالبان نے کہا ہے کہ وہ کابل سے غیر ملکیوں کے انخلا میں غیر ملکی افواج کی مدد کر کے اپنے ’وعدے کی پاسداری‘ کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان عہدیدار نے کہا کہ ’ہم نہ صرف غیر ملکیوں بلکہ افغانوں کو بھی ملک چھوڑنے کے لیے محفوظ راستہ دے رہے ہیں۔‘

    ’ہم ایئرپورٹ پر افغانوں، غیر ملکیوں اور طالبان کے درمیان کسی بھی قسم کے جسمانی اور لفظی تصادم کو روک رہے ہیں۔‘

    تاہم اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ طالبان سفری دستاویزات کے حامل افراد کو بھی کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے نہیں دے رہے۔

  7. افغانستان میں یومِ عاشور کی جھلکیاں

    دنیا بھر کی طرح آج افغانستان میں بھی یومِ عاشور کے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور عزاداری کی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں میں نکالے جانے والے ان جلوسوں پر طالبان جنگجو پہرہ دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنکابل
    کابل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنکابل
    ہرات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنہرات
    مزار شریف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنمزار شریف
    کابل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنکابل
  8. امریکی فوجی 11 ستمبر کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہ سکتے ہیں: بائیڈن

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی فوجی افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان جنگجو ملک چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کو کابل ایئرپورٹ پہنچنے سے روک رہے ہیں جبکہ 15 ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

    صدر بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ کابل میں بحران یقینی ہے۔ غیر ملکی حکومتیں اپنے شہریوں اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے افغان لوگوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔

    واشنگٹن نے بھی تمام امریکی شہریوں بشمول 50 سے 65 ہزار افغانوں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افغان امریکی فوج کے ساتھ بطور مترجم کام کر رہے تھے۔

    جب اے بی سی نیوز نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ افراتفری میں انخلا کے معاملے پر کوئی غلطی قبول کریں گے یا نہیں، تو اُنھوں نے کہا: ’نہیں۔‘ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کون سا راستہ ہے کہ افراتفری کے بغیر انخلا ہو گیا ہوتا۔‘

    جب اُن کی توجہ امریکی طیارے سے گرتے ہوئے افغانوں کی وائرل ہونے والی تصاویر کی جانب دلائی گئی تو وہ دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے بولے کہ وہ چار پانچ دن پرانی تصاویر ہیں۔

    اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان پر طالبان کے سرعت کے ساتھ قبضے کی وجہ افغان حکومت اور افغان فوج کی ناکامی کو قرار دیا۔

    صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ گذشتہ ماہ تو اُنھوں نے کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے ’امکان انتہائی کم‘ ہے۔ تو اس پر اُنھوں نے کہا کہ انٹیلیجنس رپورٹس یہ تھیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کا زیادہ امکان سال کے آخر تک تھا۔

    انٹرویور نے پوچھا کہ ’آپ نے ’انتہائی کم امکان‘ کہتے ہوئے وقت کا تعین تو نہیں کیا تھا۔ آپ نے تو صرف کہا تھا کہ ’طالبان کے غلبے کا امکان انتہائی کم ہے۔‘ اس پر صدر بائیڈن نے کہا: ’ہاں۔‘

  9. افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ

    شام بخیر۔ اگر آپ ہمارے لائیو پیج میں ابھی شامل ہوئے ہیں تو آپ کے لیے آج کی اہم خبروں کا خلاصہ یہ ہے:

    • انڈیا نے کہا ہے کہ طالبان نے سرحد پار تجارت بند کر دی ہے جس کے لیے پاکستان کے زمینی راستے استعمال ہوتے ہیں، تاہم طالبان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے کسی ملک کے ساتھ تجارت بند نہیں کی ہے۔
    • امریکہ نے اپنے ملک میں موجود افغانستان کی قومی دولت کو منجمد کر دیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد معطل کر رہے ہیں۔
    • طالبان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز سے لے کر جمعرات تک کابل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں اب تک 12 اموات ہوئی ہیں۔
    • القاعدہ کی یمن میں کام کرنے والی شاخ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی مبارک باد دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
    • افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بدھ کی شب خلیل الرحمان حقانی سمیت طالبان کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلیٰ عہدے داران بھی موجود تھے۔
    • عبداللہ عبداللہ کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان کے عوام کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
    • ترکی نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے باوجود ترکی نہ صرف امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا دفاع کرنے بلکہ طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
  10. ’افغان عملے کو باہر نکالنا ای یو کی اخلاقی ذمہ داری ہے‘

    EU

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ای یو کے ساتھ کام کرنے والے پہلے 106 افغان افراد کو ملک سے باہر نکالا جا چکا ہے۔

    تاہم، انھوں نے کہا کہ تین سو افغان مزید باقی ہیں جو ایئرپورٹ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھیں ’کابل کی سڑکوں پر روکا گیا ہے۔‘

    ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ یہ ای یو کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے کہ وہ اس مشکل صورتحال میں ان افراد کو ملک سے نکالے۔

  11. ترک صدر رجب طیب اردوغان : ترکی کابل کے ایئرپورٹ کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے

    turkey

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے باوجود ترکی نہ صرف امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا دفاع کرنے بلکہ طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    کابل کا فضائی اڈہ سٹریٹجک طور پر نہایت اہم ہے اور اگر دیگر ممالک افغانستان میں سفارتی موجودگی قائم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایئرپورٹ کی حفاظت ضروری ہے اور ترکی ماضی میں بھی یہ پیشکش کر چکا ہے۔

    طالبان کی جانب سے گذشتہ اتوار کو کابل قبضے میں لیے جانے کے بعد حالات واضح نہیں تھے اور امریکہ نے اپنے شہریوں کی بحفاظت انخلا کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ فوجی اس وقت تعینات کر دیے ہیں۔

    البتہ بدھ کو ایک خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ ان کا ملک ابھی بھی اپنی پیشکش پر قائم ہے۔

    ’طالبان کے قبضے کے بعد اب ایک نئی تصویر سامنے آئی ہے اور ہم اپنے منصوبے ان نئی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے بنا رہے ہیں۔‘

    ترک صدر نے مزید کہا کہ وہ طالبان رہنماؤں سے بات چیت کرنے کے لیے راضی ہیں۔

    ’ہم کسی طرح کے بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔ طالبان رہنما ترکی سے تعلقات قائم کرنے میں کافی حساس ہیں۔‘

  12. ’انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی حمایت کرتا رہے‘

    afg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا نے افغانستان کی پارلیمان کی عمارت تعمیر کرنے میں مدد کی ہے

    افغانستان سے آنے والی کئی خبروں سے انڈیا میں اس بات کا خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ وہاں کی گئی سرمایہ کاری کو طالبان کے طاقت میں آنے سے خطرہ ہے۔

    گذشتہ کئی برسوں میں انڈیا نے افغانستان کیں مختلف نوعیت کی سرمایہ کاری کی ہے جس کی مالیت تین ارب ڈالر کے قریب ہے اور اس کی مد میں انھوں نے نہ صرف افغانستان کی پارلیمان کی عمارت قائم کی ہے بلکہ افغانستان کا ایک اہم ڈیم بھی انھوں نے بنا کر دیا ہے۔

    ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ابھی تک طالبان کے اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ انڈیا کی مدد سے بنائے ہوئے انفراسٹرکچر کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

    ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا نے سوچ سمجھ کر سرمایہ کاری کی ہے اور اس کی مدد سے افغانستان میں انڈیا کے لیے اچھے تاثرات قائم ہوئے ہیں۔

    افغانستان میں انڈیا کے سفیر رہنے والے گوتم مکھوپدھیا نے بی بی سی کے وکاس پانڈے کو بتایا کہ ’انڈیا نے اپنی سرمایہ کاری کا ثمر حاصل کر لیا ہے وہاں کی عوام کے دلوں کو جیتنے میں۔ یہ سرمایہ کاری افغان عوام کے لیے تھی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی حمایت کرتا رہے۔

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناس کے علاوہ انڈیا نے افغانستان میں ڈیم، سڑکیں، سکول وغیرہ بھی تعمیر کروائے ہیں
  13. افغانستان میں پاکستانی سفیر کی سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقات

    Twitter

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    افغانستان میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحت کی اعلی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی جہاں انھوں نے افغانستان میں دیرپا استحکام کے حوالے سے گفتگو کی۔

  14. بریکنگ, طالبان کی جانب سے تجارت روکے جانے کے انڈین دعوے کی تردید: ’ہم نے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی بات نہیں کی‘

    Spox

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی جانب سے تجارت روکے جانے کے الزام پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا ہے کہ ’امارات اسلامی تمام ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے۔

    ’ہم نے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی بات نہیں کی۔ ہم ان افواہوں کو مسترد کرتے ہیں جو سچ نہیں ہیں۔‘

    spox

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

  15. طالبان وفد کی افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلی کونسل کے اراکین سے ملاقات

    twitter

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بدھ کی شب خلیل الرحمان حقانی سمیت طالبان کے وفد سے ملاقات کی جہاں انھوں نے افغانستان کے سرکاری موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایک خود مختار اور متحد افغانستان کے خواہشمند ہیں جہاں انصاف کا بول بالا ہو۔

    سلسلہ وار ٹویٹس میں انھوں نے بتایا کہ سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلی عہدے داران کی موجودگی میں یہ ملاقات ہوئی تھی جہاں افغانستان کے عوام کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    انھوں نے طالبان وفد پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی جان و مال کا خیال رکھیں۔

    اس ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ تاریخ یہ واضح طور پر دکھاتی ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کی غیر موجودگی اور لوگوں کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں قبمی اتحاد قائم رکھنا ناممکن ہے۔.

    طالبان کی جانب سے خلیل الرحمان حقانی نے کہا کہ وہ کابل کے شہریوں کے لیے سکیورٹی کا پورا انتظام کریں گے اور ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کی مدد اور حمایت چاہتے ہیں تاکہ ملک بھر کے عوام کو تحفظ دیا جا سکے۔

    Twitter

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

  16. ’لیتھیم کا سعودی عرب‘ کہلائے جانے والے افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟

  17. القاعدہ عرب جزیرہ نما کی جانب سے طالبان کی ’جیت‘ پر انھیں مبارک باد

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    القاعدہ کی یمن میں کام کرنے والی شاخ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی مبارک باد دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیں جاری رکھیں گے۔

    القاعدہ عرب جزیرہ نما (اے کیو آئی پی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوریت کا کھیل اور امن پسندی صرف ایک نظر کا سراب ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اے کیو آئی پی کے اس بیان کو جہادی نیٹ ورکس کی نگرانی کرنے والے ’سائٹ انٹیلیجنس‘ گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔

    امریکہ اے کیو آئی پی کو القاعدہ کے عالمی نیٹ ورک میں سے سب سے خطرناک گروہ سمجھتا ہے اور ان کے خلاف یمن میں متعدد بار ڈرون حملے کر چکا ہے۔

    یمن میں گذشتہ سات سالوں سے جاری جنگ کے باعث اس گروہ نے اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

    دنیا بھر میں دیگر جہادی تنظیموں کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بی بی سی کے گرینک گارڈنر لکھتے ہیں کہ آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کی یہ تحریر پڑھیے۔

  18. کابل میں ’معمول‘ کی زندگی کا ’نیا‘ انداز

    Kabul

    بی بی سی کے نامہ نگار برائے افغانستان، سکندر کرمانی ملک کے دارالحکومت کابل میں موجود ہیں اور وہاں کے حالات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ اس وقت ادھر کیا ماحول ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر کے ایئرپورٹ پر ’افرا تفری‘ مچی ہوئی ہے جہاں بڑی تعداد میں شہری ملک چھوڑنے کے لیے باہر جانے والی پروازوں پر شامل ہونا چاہ رہے ہیں لیکن دوسری جانب شہر میں ماحول کافی حد تک پرسکون ہے اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔

    سکندر کرمانی کا کہنا ہے کہ شہر میں انتہائی بڑی تعداد میں طالبان جنگجو موجود ہیں اور مسلح جنگجو شہر میں پیدل یا اپنی گاڑیوں پر گشت کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ بینک اور سرکاری دفاتر ابھی بھی بند ہیں اور عوامی مقامات پر خواتین کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

  19. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ پر اتوار سے لے کر آج تک 12 اموات

    kbl

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز سے لے کر جمعرات تک کابل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں اب تک 12 اموات ہوئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان اہلکار نے بتایا کہ یہ اموات گولی چلنے یا بھگدڑ مچنے کے باعث ہوئی ہیں۔

    اہلکار نے ایئرپورٹ کے داخلی دروازوں پر موجود عوام سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں تو وہ واپس گھر جائیں اور یہ کہ ’طالبان ایئرپورٹ پر کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔‘

    واضح رہے کہ اتوار سے کابل کے فضائی اڈے پر ہزاروں افراد کا رش جمع ہو رہا ہے جہاں سے لوگ بیرون ملک جانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    ایئرپورٹ امریکی فوج کے کنٹرول میں ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کے رستوں پر طالبان جنگجو موجود ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق طالبان کے مسلح افراد کئی لوگوں کو ایئرپورٹ تک پہنچنے سے روک رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس سفری دستاویزات موجود ہیں۔

  20. ’لوگ اپنے گھروں سے نکلنے سے ڈر رہے ہیں‘, فرانسس ماؤ، بی بی سی نیوز

    kbl

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل میں رہنے والی ایک نوجوان لڑکی نے مجھے صورتحال کے بارے میں بتایا۔ یہ طالبہ کا کانفرنسز میں شرکت کرتی تھی لیکن آج وہ گھر کے اندر محصور ہے۔

    ’طالبان نے کہا ہے کہ ہر کوئی واپس کام پر جائے۔ لیکن لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور وہ اپنے گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے۔ ہم سب کوشش کر رہے ہیں کہ گھروں میں رہیں۔‘

    ایئرپورٹ جانے والے کئی افراد کو طالبان نے مارا پیٹا ہے اور اس کے علاوہ ننگرہار صوبے میں صحافیوں کو مظاہروں کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔طالبان گھروں کی بھی تلاشی لے رہے ہیں حالانکہ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ملک میں اتنی بے یقینی کی کیفیت ہے کہ ان کے اعلانات اور بیانات ان کے عملی اقدامت سے نہیں ملتے۔ ‘

    اس طالبہ نے مزید یہ بھی کہا کہ انھیں ان کے رشتے داروں نے بتایا کہ طالبان صرف غیر ملکی لوگوں کو ایئرپورٹ جانے دے رہے ہیں۔

    ’اب لوگوں کو باہر لے جانے والی پروازیں خالی جا رہی ہیں کیونکہ طالبان نے ایئرپورٹ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔‘