طالبان کے آنے سے ’مستقبل میں خطرات میں اضافہ ہوگا‘

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سابق سربراہ لارڈ جوناتھن ایوانز نے کہا ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان مں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر توجہ دینے کے بجائے تعمیر نو پر توجہ دینا اس ’بڑی ناکامی‘ کا سبب بنا ہے۔
بی بی سی ریڈیو فور سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ’ہمیں چاہیے تھا کہ ہم انسداد دہشت گردی کے مقاصد پر کام کرتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اب آنے والے وقتوں میں افغانستان سے دو مختلف نوعیت کے خطرات سامنے آئیں گے۔
’میرے خیال میں دو مسئلے ہیں۔ اب وہاں پر القاعدہ جیسے گروہ کو مزید جگہ ملے گی اور پھر یہ بھی خبریں ہیں کہ دولت اسلامیہ کے عناصر وہاں موجود ہیں۔ اگر ان گروہوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنی موجودگی مستحکم کر لیں تو یہ مغربی ممالک کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
’دوسرا نفسیاتی اثر جو لوگوں پر آئے گا یہ دیکھتے ہوئے کہ مغربی ممالک افغانستان میں شکست کھا گئے تو یہ ان کو مزید راغب کرے گا اور اس کی وجہ سے وہ گروپ جو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہیں انھیں مزید حوصلہ ملے گا۔ تو میرے خیال میں نہ صرف عملی طور پر بلکہ نفسیاتی طور پر بھی آنے والے مہینوں اور سالوں میں خطرات میں اضافہ ہوگا۔ ‘















