عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کے بجائے پمز میں معائنہ، گھنٹوں میں جیل واپسی اور حکومتی توجیہ پر اٹھتے سوال

    • مصنف, شہزاد ملک اور عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سپریم کورٹ کے حکم پر علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقلی کی ڈیڈ لائن جمعرات کی شب ختم ہونا تھی۔

جمعرات کی شام تک عمران خان کو ہسپتال لے جانے کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر اقدامات سامنے نہیں آئے تھے تاہم جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نجی ہسپتال کے باہر اور اندر سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور راستوں کی بندش سے لگنے لگا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہونے کو ہے۔

اسی دوران عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی الشفا ہسپتال کے راستے پر اور گرد ونواح میں جمع ہو گئے۔ چند کارکن عمران خان کی متوقع آمد کی خوشی میں ان شاہراہوں پر پھولوں کی پتیاں تک بکھیرتے رہے جہاں سے ان کے خیال میں سابق وزیر اعظم کی گاڑی نے گزرنا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ مقامی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی ہسپتال کے باہر اس انتظار میں شامل ہو گئے۔

نصف شب کے بعد چند سرکاری گاڑیاں ہسپتال کے اندر داخل ہوئیں اور جہاں مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں چلیں کہ عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے وہیں اسلام آباد پولیس کے حکام اور ڈیڑھ بجے کے قریب خود تحریکِ انصاف کے عالمی ذرائع ابلاغ کے لیے مقرر کردہ ترجمان نے تصدیق کی کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاہم اس دوران حکومت کی طرف سے اس معاملے پر مکمل خاموشی رہی اور عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ عمران خان کو تو الشفا انٹرنیشنل لایا ہی نہیں کیا۔

پی ٹی آئی سے جڑے چند سوشل میڈیا صارفین اور چند صحافیوں کی طرف سے یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ عمران خان کو الشفا کی جگہ اسلام آباد کے جی ایٹ سیکٹر میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز یعنی پمز منتقل کیا گیا اور یہ بھی کہ وہاں معائنے کے بعد عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس بات کی تصدیق بعد میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کی لیکن ایسا ہوا کیوں اور الشفا ہسپتال کے باہر سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات اور سکیورٹی کے حصار میں شفا انٹرنیشنل میں داخل ہونے والا قافلہ کس کے لیے تھا؟

اسلام آباد پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کو نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل کی طرف لے جایا ہی نہیں گیا۔ انھوں نے بتایا کہ شفا انٹرنیشنل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات یہ تاثر دینے کے لیے تھے کہ عمران خان کو وہاں لایا جائے گا۔

جبکہ پمز کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات اتنے واضح نظر نہیں آ رہے تھے۔ پولیس اہلکار کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل سے سیدھا پمز لایا گیا اور معائنے کے بعد واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔

اس بارے میں جمعے کو اپنے ٹویٹ میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے وضاحت پیش کی کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے سکیورٹی کی جو صورتحال الشفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے۔‘

اڈیالہ جیل اور شفا ہسپتال کے باہر موجود صحافیوں نے کیا دیکھا؟

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر موجود صحافی بابر ملک کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد میں واقع شفا انٹرنیشنل میں منتقل کرنے کے حوالے سے سکیورٹی اور روٹ سے متعلق تیاریاں جمعرات کی رات عشا کے بعد شروع ہو گئی تھیں اور اڈیالہ جیل کے قریب تمام مارکیٹوں کو بند کروانے کے ساتھ ساتھ تمام سٹریٹ لائٹس کو بھی بند کروا دیا گیا تھا۔

ان کے مطابق جیل کے حکام سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن عظمی خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو جیل کے اندر لے گئے جبکہ ان کی بڑی بہن علیمہ خان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے سڑکوں کو بند نہیں کیا گیا اور گاڑیوں کی آمدو رفت تو جاری تھی لیکن وہاں پر موجود میڈیا کے نمائندوں کو جیل کے مرکزی دروازے سے دور بھیج دیا گیا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو رات بارہ بجکر 35 منٹ پر اسلام آباد کے لیے روانہ کیا گیا اور ان کے ساتھ جانے والے سکواڈ میں اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے حکام کے علاوہ ایمبولینس بھی موجود تھی۔

راولپنڈی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم کو تاخیر سے اسلام آباد بھیجنے کی وجہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں آئی ایٹ اور ایچ ایٹ سیکٹرز میں موجودگی تھی۔ یاد رہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں واقع ہے۔

راولپنڈی پولیس کے ایک اور اہلکار کے مطابق سکیورٹی کی وجہ سے عمران خان کو اسلام آباد کے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے دو سکواڈ تشکیل دیے گئے تھے جن میں سے ایک سکواڈ کو اڈیالہ روڈ سے صدر بازار اور پھر اسلام آباد کی طرف جانا تھا جبکہ دوسرے سکواڈ کو چکری کے راستے اسلام آباد روانہ کیا گیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق جس سکواڈ کو صدر سے اسلام آباد کی جانب روانہ کیا گیا اس میں گاڑیوں کی تعداد پانچ تھی جبکہ چکری کی طرف سے جانے والی گاڑیوں کی تعداد اس سے زیادہ تھی۔

قمر المنور بھی ان صحافیوں میں سے تھے جو کہ جمعرات کی شام سے ہی شفا ہسپتال کے باہر موجود تھے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی پانچ گاڑیوں کا سکواڈ رات سوا ایک بجے کے قریب ہسپتال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تاہم کسی نے بھی عمران خان کو گاڑی سے اتر کر ہسپتال کے اندر جانے ہوئے نہیں دیکھا۔

شفا ہسپتال پہنچنے والے قافلے میں عمران خان تو نہیں تھے لیکن ڈاکٹر فیصل ضرور موجود تھے۔ انھوں نے بعد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’مجھے پہلے اڈیالہ جیل میں انتظار کروایا گیا اور وہاں سے مجھے الشفا انٹرنیشنل ہسپتال لے گئے جہاں تین چار گھنٹے انتظار کروانے کے بعد میں نے پوچھا عمران خان صاحب کہاں ہیں؟ تو انھوں نے کہا ابھی بس پہنچ رہے ہیں۔ آخر میں بتایا گیا کہ عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔‘

صحافی قمر المنور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل اسلام آباد پولیس کے سربراہ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے سکیورٹی کو بنیاد بناتے ہوئے متعدد بار ہسپتال کا دورہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ آئی ایٹ انٹرچینج کے اوپر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی جو ’گاڑیوں میں بیٹھ کر شفا ہسپتال کے اردگرد شاہراہوں پر پھول پھینکتے رہے جہاں سے ان کے خیال میں ممکنہ طور پر عمران خان نے گزر کر جانا تھا۔‘

اس دوران بی بی سی نے اسلام اباد کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جس کمرے میں عمران خان کو علاج معالجے کے لیے رکھا جائے گا تو کیا اس کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے تو ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے ’نو کمنٹس‘ کہہ کر فون بند کر دیا۔

جب بی بی سی نے اسلام آباد پولیس کے ایک اعلی افسر سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا عمران خان کو ہسپتال لے جایا گیا ہے تو انھوں نے ہاں میں جواب دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ انھیں کس ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

سرکاری ہسپتال، عدالتی حکم اور ’ڈراپ سین‘

اس معاملے کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کی صبح سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا۔

ان کے بیان سے یہ بات واضح ہوئی کہ نجی ہسپتال کے باہر اور اندر سیکیورٹی کے انتظامات اور ہسپتال کے اندر جاتا قافلہ 'چکمہ' دینے کے لیے تھا۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے پہلے بیان میں صرف اتنا بتایا کہ ’قیدی کو مناسب سیکیورٹی انتظامت میں 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب ہسپتال لے جایا گیا۔‘ انھوں نے قیدی کا نام نہیں لکھا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ انھیں کس ہسپتال لے جایا گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ مستند ڈاکٹروں کی ٹیم جس میں آنکھوں، دل اور دیگر امراض کے ماہر شامل تھے انھوں نے ہسپتال میں ان کا معائنہ کیا اور انھیں فٹ قرار دیا۔ ’اس دوران ان کی بہن ڈاکٹر عظمی خان بھی تمام مراحل میں وہاں موجود رہیں۔‘

وزیر اطلاعات کے مطابق معائنہ مکمل ہونے پر لگ بھگ صبح پانچ بجے انھیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

تاہم ان کے اس پہلے بیان کے بعد بھی بہت سے سوالات باقی رہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جانا تھا، تو کیا انھیں اس ہسپتال منتقل کیا گیا؟

عدالت کے حکم کے مطابق عمران خان کو عدالت میں اس مقدمے کی آئندہ سماعت تک ہسپتال ہی میں زیر علاج رکھا جانا تھا۔ تو انھیں جیل واپس کیوں منتقل کیا گیا؟

پہلے بیان کے چند ہی منٹ بعد وفاقی وزیر برائے اطلاعت نے ایک اور وضاحتی بیان جاری کیا جس میں انھوں نے ان خبروں کی تصدیق کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا نہیں بلکہ پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق ’معائنہ پمز میں کروایا گیا جس میں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔‘

’ان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

عمران خان کو پہلے بھی اسی طرح سرکاری ہسپتال میں طبی معائنے اور علاج کے لیے لایا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان کی جماعت اور خاندان کے افراد کا یہ مطالبہ تھا کہ انھیں نجی ہسپتال سے علاج معالجے کا موقع دیا جائے۔

یہی استدعا لے کر وہ سپریم کورٹ گئے تھے اور سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا تھا کہ انھیں دو روز میں نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے جہاں وہ اگلی سماعت تک زیر علاج رہیں گے۔

حکومت نے انھیں ہسپتال منتقل کیا تاہم وہ نجی ہسپتال نہیں تھا اور عدالتی حکم کے برعکس انھیں ہسپتال میں رکھنے کے بجائے واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خاندان کے افراد کی جانب سے سوالات اٹھائے ہیں کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔

عطا اللہ تارڑ کی ٹویٹس کے بعد عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ساتھ جمعرات کی شب اڈیالہ جانے والے ڈاکٹر فیصل نے ایک پریس کانفرنس کی اور دعویٰ کیا کہ جہاں ڈاکٹر فیصل کو تو الشفا ہسپتال لے جایا گیا وہیں عظمیٰ خان اسی مغالطے میں رہیں کہ پمز میں معائنے کے بعد عمران خان کو الشفا ہسپتال لے جایا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔

عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ ان کی عمران خان سے ملاقات پمز ہسپتال میں ہی ہوئی جہاں عمران خان کی آنکھ کا معائنہ ہوا اور انھیں انجیکشن دیا گیا۔

انھوں نے اس حکومتی دعوے کی تردید کی کہ جمعرات کی شب عمران خان کے دل کا معائنہ بھی کیا گیا۔ عظمیٰ خان کے مطابق آنکھ کے علاج کے علاوہ ان کے بھائی کا صرف بلڈ پریشر ناپا گیا۔

عظمیٰ خان نے تحریکِ انصاف کے حامیوں اور کچھ صحافیوں کے ان دعووں کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان الشفا ہسپتال جانا ہی نہیں چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پمز میں موجودگی کے دوران ’عمران خان نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے تو میں نے بتایا کہ آپ کو ہم نے الشفا لے کر جانا ہے جہاں آپ کا مکمل معائنہ ہو گا اور اگر علاج کی ضرورت ہوئی تو وہ ہو گا۔

’وہ خوش تھے کہتے تھے ٹھیک ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو آپ کو واپس لے جائیں گے اس پر بھی کہنے لگے ٹھیک ہے۔‘

عظمیٰ خان نے کہا کہ ’میں نے انھیں بتایا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ آپ کا مکمل معائنہ ہو گا، ضروری علاج ہو گا پھر آپ کو واپس اڈیالہ لے جائیں گے، یہ نہیں کہ آپ کو ہسپتال میں رکھنا ہے تو کہنے لگے ٹھیک ہے۔‘