اسرائیل نے غزہ میں پانچ سالہ ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی تصدیق کر دی, یولاند نیل، نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ، یروشلم
اسرائیلی فوج نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ غزہ جنگ کے دوران غزہ سٹی میں پانچ سالہ ہند رجب اور ان کے خاندان کے چھ افراد کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔
جنوری 2024 میں ہونے والے حملے میں ابتدائی طور پر تو ہند رجب زندہ بچ گئی تھیں، تاہم ان کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ البتہ چند روز بعد ان کی لاش ان کے رشتہ داروں کی لاشوں کے ساتھ برآمد ہوئی۔
حملے کے بعد ہند رجب فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی کی ایک ٹیلی فون کال کا جواب دینے میں کامیاب رہی تھیں۔ یہ گفتگو کئی گھنٹے جاری رہی۔ بعد ازاں انھیں بچانے کے لیے بھیجی جانے والی ایمبولینس، جس کی نقل و حرکت اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے میں طے کی گئی تھی، گولہ باری کا نشانہ بنی جس میں دو طبی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جائزے کے بعد اس واقعے کی فوجداری تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’فلسطینی ہلالِ احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت کے لیے رابطہ کاری میں مبینہ ناکامیوں کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کی فوجی پولیس کے شعبۂ فوجداری تحقیقات کے ذریعے مجرمانہ تحقیقات کی جائیں گی۔‘
آئی ڈی ایف نے ابتدا میں کہا تھا کہ ہند رجب کی ہلاکت کے وقت اس علاقے میں اس کے کوئی اہلکار موجود نہیں تھے، تاہم اس دعوے پر جلد ہی سوالات اٹھنے لگے۔
بعد ازاں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے غزہ سٹی کے مختلف علاقوں، جن میں تل الہوا بھی شامل تھا جہاں ہند رجب موجود تھیں، میں ’دہشت گردی کے اہداف‘ کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔
ہند رجب کی ہلاکت کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی، خاص طور پر اس آڈیو ریکارڈنگ کے بعد جس میں وہ طبی اہلکاروں سے گفتگو کر رہی تھیں اور جو دنیا بھر میں نشر کی گئی۔
ہند اور ان کا خاندان غزہ سٹی میں اپنے علاقے پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جب ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔
ہند کی مدد کی اپیلیں اُس وقت ختم ہو گئیں جب مزید فائرنگ کی آوازوں کے درمیان فون لائن منقطع ہو گئی۔
ہند رجب کی کہانی پر مبنی ایک فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ بھی بنائی گئی، جسے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ہند کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا تھا، جس کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔
ہند اور ان کے خاندان کے واقعے کے علاوہ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ گذشتہ سال جنوبی غزہ کے شہر رفح کے قریب 15 فلسطینیوں، جن میں طبی کارکن اور اقوامِ متحدہ کا ایک اہلکار بھی شامل تھا، کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرے گی۔