اشرف غنی کہاں ہیں اور ان کی افغانستان واپسی پر بحث کیوں شروع ہوئی؟

    • مصنف, ضیا شہریار
    • عہدہ, بی‌ بی‌ سی دری
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پانچ برس قبل انھی دنوں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور وہ ازبکستان روانہ ہوئے تھے۔

وہاں ایک رات قیام کے بعد انھوں نے متحدہ عرب امارات میں پناہ لی جہاں وہ اب سے دو ماہ قبل تک مقیم رہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات سے روانگی کا اعلان کرنے کے بعد سے اشرف غنی نے دو ماہ سے زائد عرصے سے اپنی نئی رہائش گاہ کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

افغانستان کے سابق صدر محمد اشرف غنی کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس وقت لبنان میں مقیم ہیں، جہاں انھوں نے کئی برس پہلے تعلیم حاصل کی تھی۔ یاد رہے کہ اشرف غنی کی اہلیہ رولا غنی بھی لبنان کی شہری ہیں۔

پانچ برس قبل صدر محمد اشرف غنی اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ہمراہ دو ہیلی کاپٹروں میں صدارتی محل سے ازبکستان روانہ ہوئے تھے۔

اسی روز 20 برس بعد اسلامی جمہوریہ افغانستان کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں سابق افغان صدر کا نام ایک بار پھر افغان سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے، تاہم اس بار وجہ ان کی سیاسی سرگرمیاں نہیں بلکہ ان کے مستقبل اور موجودہ ٹھکانے سے متعلق سوالات ہیں۔

اس وقت کئی حلقوں میں سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اشرف غنی کہاں ہیں اور وہ اپنی موجودہ رہائش گاہ کو عوامی سطح پر ظاہر کیوں نہیں کرنا چاہتے؟

یہ سوال حالیہ دنوں میں اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اشرف غنی کی افغانستان واپسی کے امکان پر بات کی ہے جبکہ سابق صدر کی جانب سے ان کے بیان پر سخت ردِعمل بھی سامنے آیا۔

بی بی سی نے اشرف غنی کی لبنان میں رہائش کی حیثیت کے بارے میں وضاحت کے لیے لبنانی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا۔

لبنانی حکام سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا سابق افغان صدر کو سیاسی پناہ دی گئی ہے یا ان کی موجودگی لبنان میں عارضی نوعیت کی ہے۔

لبنان کی وزارتِ خارجہ کے ایک مشیر نے اشرف غنی کی ملک میں موجودگی کی تصدیق یا تردید کیے بغیر بی بی سی سے کہا کہ سوالات تحریری طور پر بھیجے جائیں تاکہ ان کے جواب فراہم کیے جا سکیں۔

تاہم لبنانی وزارتِ خارجہ نے تاحال بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ یاد رہے کہ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اشرف غنی اور ان کے رشتہ دار ’عام معافی‘ کے دائرے میں آتے ہیں اور وہ افغانستان واپس آ کر ایک عام شہری کی طرح ملک میں رہ سکتے ہیں۔

تاہم طالبان حکومت کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اشرف غنی سیاسی میدان میں ’اپنا امتحان دے چکے ہیں۔‘

’ طالبان کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاؤں گا‘

ذبیح اللہ مجاہد کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے اشرف غنی نے اپنے سے قریبی سمجھے جانے والے نجی میڈیا ادارے ’ای بی این‘ سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کے لیے معافی کی ضرورت ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’طالبان حکومت کو عوام کے ووٹ کا احترام کرنا چاہیے تاکہ سیاسی عمل آگے بڑھ سکے۔‘

ساتھ ہی انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ’کبھی طالبان کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔‘

اشرف غنی نے ایک عرصے تک اپنی نئی رہائش گاہ کے بارے میں خاموشی اختیار کی اور اسے خفیہ رکھنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی ہے۔

اس سال 26 مئی کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے پیغام میں چھ ماہ کی خاموشی کے بعد محمد اشرف غنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات چھوڑ چکے ہیں اور اب ایک ’محفوظ‘ مقام پر موجود ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’کچھ عرصے تک مجھے آپ سے بات کرنے سے روکا گیا اور میری آواز خاموش کر دی گئی تھی۔‘

اگرچہ گذشتہ دو ماہ کے دوران اشرف غنی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات اور تبصروں میں اضافہ کیا ہے لیکن انھوں نے اب تک اپنے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں خاموشی برقرار رکھی ہے اور اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

کیا اشرف غنی کو سیاسی پناہ مل سکتی ہے؟

اشرف غنی کے ایک قریبی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی موجودہ رہائش گاہ کے بارے میں اعلان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک اپنے پسند کے ملک اور مقام پر مستقل طور پر آباد نہیں ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس وقت اشرف غنی کے پاس تین مختلف ممالک میں رہائش کے تین آپشن موجود ہیں تاہم انھوں نے ابھی یہ حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ طویل مدت کے لیے کس ملک میں رہنا چاہتے ہیں۔‘

اس اہم ذریعے کے مطابق اشرف غنی کسی اسلامی ملک میں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی آئندہ رہائش گاہ ایسی ہو جہاں وہ افغانستان سے متعلق مسائل پر آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں اور افغان عوام تک اپنے خیالات پہنچا سکیں۔

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے گذشتہ سال نومبر سے اشرف غنی پر سیاسی امور پر عوامی تبصرہ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ان کے مطابق سابق صدر اشرف غنی نے ابوظبی کے حکام کو بھی ایک احتجاجی خط میں لکھا تھا کہ وہ اس پابندی کو قبول نہیں کرتے اور ملک چھوڑنے کے لیے ضروری سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پابندی کی درست وجہ واضح نہیں ہے۔

اشرف غنی کے قریبی ذریعے نے کہا کہ خود اشرف غنی کا خیال ہے کہ اس فیصلے کا طالبان حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور ممکن ہے اس کے پیچھے ’امریکہ کا دباؤ‘ ہو۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ممالک نے بظاہر ’امریکی ردِعمل یا دباؤ کے خدشے‘ کے باعث سابق افغان صدر کو رہائش دینے سے انکار کیا ہے، تاہم انھوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اشرف غنی کی روانگی کی وجہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

امریکہ اور اشرف غنی

2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد امریکہ نے اشرف غنی کے ساتھ اپنے تعلقات یا رابطوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا۔

تاہم افغانستان کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے سیگار (سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ریکنسٹرکشن) نے اشرف غنی سے ان الزامات پر وضاحت طلب کی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان چھوڑتے وقت اپنے ساتھ بڑی رقم ساتھ لے گئے تھے۔

سیگار کی ان تحقیقات میں 15 اگست 2021، یعنی افغان جمہوریہ کے خاتمے کے دن، سابق صدر محمد اشرف غنی پر لگائے گئے مالی بے ضابطگیوں اور رقوم کی منتقلی کے الزامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اگست 2022 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سیگار نے الزام عائد کیا کہ اشرف غنی نے اپنے وکیل کے ذریعے ادارے کے 56 سوالات میں سے صرف چھ کے جواب دیے تھے۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق سیگار سے بات کرنے والے تمام عینی شاہدین نے کہا کہ اشرف غنی ہیلی کاپٹر میں اپنے ساتھ زیادہ سامان نہیں لے گئے تھے۔

اشرف غنی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی آزاد بین الاقوامی یا اقوام متحدہ کی تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔

حالیہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ اشرف غنی نے برطانیہ میں رہائش کے لیے درخواست دی ہے۔

بی بی سی نے اس بارے میں برطانوی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے معاملہ وزارتِ داخلہ کو بھیج دیا جبکہ وزارتِ داخلہ نے کہا کہ وہ عام طور پر انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتی۔

’اشرف غنی کے لیے بہترین راستہ افغانستان واپسی‘

سابق صدر اشرف غنی کو برسوں سے جاننے والے سیاسی تجزیہ کار طارق فرہادی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات اور اشرف غنی کی عمر کو دیکھتے ہوئے انھیں افغانستان واپس آ جانا چاہیے اور حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کی طرح ملک میں رہنا چاہیے۔

طارق فرہادی نے کہا کہ ’شاید یہ اشرف غنی کی اپنی حیثیت اور افغانستان، دونوں کے لیے بہتر ہو۔ افغان تاریخ میں امان اللہ خان کی مثال بھی موجود ہے۔ انھیں 1929 میں افغانستان چھوڑنا پڑا تھا۔ وہ پہلے برطانوی ہند اور پھر اٹلی گئے، اور بالآخر 1960 میں زیورخ میں فوت ہوئے۔‘

ان کے مطابق ’امان اللہ خان 31 برس تک ملک سے باہر رہے اور اس عرصے میں افغانستان کے حالات پر ان کا کوئی اثر نہیں رہا۔ یہ افسوسناک بات ہے۔ شاید بہتر ہوتا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے ملک واپس آ جاتے۔‘

طارق فرہادی کے مطابق ’سیاسی رہنماؤں کی ملک واپسی اور افغانستان کے اندر موجودگی فکری اور سیاسی خلیج کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ افغان تاریخ کے تناظر میں یہ بھی بہتر ہو سکتا ہے کہ ملکی رہنما اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی اپنی سرزمین پر رہیں اور قومی مسائل کے حل کے عمل کا حصہ بنیں۔‘

طارق فرہادی کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں اور خصوصاً ابوظہبی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سکیورٹی تشویش کے باعث اشرف غنی کو اماراتی حکام سے ملک چھوڑنے کی درخواست کرنے کا موقع ملا جسے قبول کر لیا گیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اشرف غنی جس بھی ملک میں رہیں گے انھیں ممکنہ طور پر اسی نوعیت کی پابندیوں کا سامنا رہے گا اور انھیں وسیع سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

’حکومت کی تبدیلی‘ مغربی ممالک کے ایجنڈے پر نہیں

اشرف غنی کی صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے طارق فرہادی ان عالمی رہنماؤں کی مثال دیتے ہیں جو سیاسی تبدیلیوں کے بعد اپنے ممالک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ ’تیونس میں ’جیسمین انقلاب‘ کے بعد صدر زین العابدین بن علی نے عجلت میں ملک چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لی۔ اس کے بعد وہ عملاً عوامی اور سیاسی منظرنامے سے الگ ہو گئے۔ شام میں بشار الاسد بھی حالات خراب ہونے کے بعد روس چلے گئے اور کچھ عرصہ بعد اعلان کیا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہ کر کاروباری معاملات میں مصروف ہیں۔‘

ان کے مطابق جلاوطنی اختیار کرنے والے رہنماؤں کا مستقبل اکثر میزبان ممالک کے سیاسی مفادات اور حالات پر منحصر ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’شیخ حسینہ کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ وہ بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد انڈیا چلی گئیں لیکن نئی دہلی نے اپنے مفادات اور بنگلہ دیش سے متعلق پالیسیوں کے پیشِ نظر انھیں فی الحال پناہ دے رکھی ہے اور ان کے مستقبل کے بارے میں غور کر رہا ہے۔‘

’اس کے برعکس اگر ہم محمد رضا شاہ پہلوی کی مثال دیکھیں تو ایرانی انقلاب کے بعد، بہت سے مغربی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود، انھیں رہائش کے لیے ملک ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار مصر کے صدر انور سادات نے انھیں پناہ دی اور وہ وہیں وفات پا گئے۔‘

طارق فرہادی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مغرب کے 20 سالہ تجربے کے بعد کئی یورپی حکومتیں ملک کے سابق رہنماؤں سے متعلق معاملات میں دوبارہ شامل ہونے سے گریز کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اشرف غنی ان ممالک میں بااثر شخصیات کو جانتے ہیں، لیکن جب ان کی رہائش کا معاملہ سامنے آتا ہے تو لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا ملک انھیں قبول کرنے کی ذمہ داری لے۔‘

طارق فرہادی کے مطابق ’اس وقت افغانستان میں حکومت کی تبدیلی مغربی ممالک اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایجنڈے میں شامل نہیں اور اسی وجہ سے یہ ممالک اشرف غنی کے ساتھ سیاسی سطح پر رابطہ رکھنے یا ان کے سیاسی مستقبل میں کردار ادا کرنے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔‘