نئی دلّی میں امریکی سفیر اور وسطی و جنوبی ایشیا کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سرجیو گور جوں ہی سرینگر کا دورہ کرکے لداخ روانہ ہوئے تو ان کے بیان پر وادی کی سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ چھِڑ گئی ہے۔
جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صوبائی رہنما سُنیل شرما نے سرجیو گور کی طرف سے کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دینے کو انڈیا کی بڑی سفارتی فتح قرار دیا وہیں کانگریس کے صوبائی صدر طارق حمید نے ’کشمیر کے معاملات میں بیرونی مداخلت‘ کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
سُنیل شرما کا کہنا ہے کہ ’سرجیو گور کا بیان انڈیا کے لیے بڑی سفارتی فتح ہے اور پاکستان کی طرف سے کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔‘
دوسری جانب کانگریس کے رہنما طارق حمید کا کہنا ہے کہ ’اس میں کیا شک ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے لیکن جب بیرونی ممالک کے سفیر آتے ہیں تو مبہم لہجہ استعمال کرتے ہیں، وہ اٹوٹ انگ نہیں کہتے، اہم حصہ کہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔‘
اس دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ایک تقریب کے دوران پاکستان کے ردعمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان اور امریکہ کا باہمی مسئلہ ہے، اس پر دھیان نہ دیا جائے۔‘
حزب اختلاف پی ڈی پی کی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے سرجیو گور کے ساتھ ملاقات کو ضاَئع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عمرعبداللہ کو چاہیے تھا وہ سفیر کو اُن حالات سے آگاہ کرتے
جن کا کشمیریوں کو سامنا ہے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں ہیں، لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، نوکریوں سے نکالا جارہا ہے، جائیدادیں قرق کی جارہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’آج ہی ایک تلاشی مہم کے دوران پلوامہ میں فورسز نے ایک امام مسجد کی پٹائی کی، ان واقعات سے کشمیر میں گھٹن کا ماحول ہے۔ وزیراعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ کم از کم سفیر کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے۔‘
تاہم محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ کی اس بات کے ساتھ اتفاق کیا کہ ’ہمارے مسائل کا حل واشنگٹن میں نہیں، نئی دلّی میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا میں جہاں بھی مداخلت کی وہاں تشدد اور تباہی کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ فلسطین اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت پر بات کرتے، کیونکہ وہاں کے حالات بھی کشمیر کو متاثر کرتے ہیں۔
محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ کہ غیرملکی شخصیات کی کشمیر آمد کو 2019 کے پس منظر میں دیکھنا چاہیئے۔
’آرٹیکل 370 کی منسوخی سے پہلے کوئی بھی سفیر یہاں آتا تو سبھی مکاتب فکر سے ملتا، زمینی حقائق کا جائزہ لیتا، لیکن 2019 کے بعد یہ دورے سرکاری کنٹرول اور مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔‘
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی سفیر بُدھ کے روز کشمیر کے دورے پر پہنچے تھے جہاں انھوں نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ’کشمیر بہت خوبصورت ہے، یہ انڈیا کا اہم حصہ ہے۔‘
اس پر پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کیا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی سفیر کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے دوران دیے گئے ان ریمارکس پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جن میں انھوں نے جموں و کشمیر کو انڈیا کا ایک ’اہم حصہ‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو دیے گئے احتجاجی مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکی سفیر کا بیان مسئلۂ کشمیر کے بارے میں امریکہ کے طویل المدتی اور دستاویزی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلۂ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو سراہا ہے، تاہم امریکی حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق ہوں۔
جمعرات کی صبح سرجیو گور لداخ روانہ ہوئے جہاں انھوں نے نِمو کے مقام پر بودھوں کے مقدس مقام ’سنگم‘ کا دورہ کیا۔ نِمو میں زانسکار اور دریائے سندھ آپس میں ملتے ہیں۔
اس کے بعد انھوں نے سندھ کے تیز بہاؤ والے پانی میں رافٹنگ بوٹ کی سواری کی۔ گور کے سٹاف کے مطابق وہ لداخ میں جمعہ کو بھی قیام کریں گے اور سنیچر کے روز نئی دلّی روانہ ہونگے۔
جمعہ کے روز لیہہ بودھسٹ ایسوسی ایشن اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس سے ان کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ یہ دونوں گروپ مشترکہ طور لداخ کو باقاعد ریاستی درجہ دینے اور وسیع آئینی اختیارات کے لئے گذشتہ برس سے تحریک چلارہے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک مذہبی تقریب کے سلسلے میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ بھی لیہہ میں موجود تھے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ سرجیو گور دلائی لاما سے بھی ملاقات کریں گے، تاہم ان کے سٹاف نے ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
2010 میں اُس وقت کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے لداخ کے دورے کے دوران دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات کی تو چین نے امریکہ اور انڈیا دونوں کی نکتہ چینی کی تھی۔
’کشمیر پر گور کے ریمارکس پاکستان-امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا بن سکتے ہیں‘
امریکہ کے انڈیا میں سفیر سرجیو گور کے بیان کے بارے میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا: ’یہ واضح نہیں کہ آیا یہ بیان واقعی امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم نئی دہلی میں اسے یقیناً خوش آئند قرار دیا جائے گا۔ ان کے بقول، ایسے وقت میں جب امریکہ اور انڈیا کے دوطرفہ تعلقات کو تقویت کی ضرورت تھی، گور کے بیان سے ان تعلقات کو ایک اہم سہارا ملا ہے۔‘