انڈیا کے دو ڈاکٹروں کو ’نشان قائد اعظم‘ دینے کی سفارش: جناح کی صحت کو ’ہندوستان کا سب سے زیادہ محفوظ راز‘ کیوں کہا گیا؟

    • مصنف, وقارمصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پنگ پونگ کی گیند سے کچھ بڑے دو سیاہ دائروں کے گرد سفید حلقے اور پھیپھڑوں پر پھیلے سفید دھبوں کے جھرمٹ بتا رہے تھے کہ تپِ دق پھیپھڑوں کو کھا رہی ہے۔

یہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے پھیپھڑوں کا ایکس رے تھا۔

لیری کولنز اور ڈومینک لیپیئر نے اپنی کتاب 'فریڈم ایٹ مڈنائٹ' میں لکھا ہے کہ جون 1946 میں بمبئی کے فزیشن ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو نے اسی ایکسرے سے جانا کہ بیماری اس قدر بڑھ چکی ہے کہ جناح شاید صرف ایک یا دو برس ہی زندہ رہ سکیں۔

مگر دونوں ڈاکٹروں نے جناح کے کہنے پر یہ راز خود ہی تک محدود رکھا۔

پاکستان کے قیام کے 79 برس بعد، ان دونوں پارسی ڈاکٹروں کو ان کی ’اس خاموش مگر غیر معمولی خدمت کے اعتراف میں‘ اعلیٰ سول اعزاز، نشانِ قائدِاعظم، کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اور ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ ایک ایسا رازتھا جسے بہت سے مؤرخین بیسویں صدی کے اہم ترین اور تاریخ ساز رازوں میں شمار کرتے ہیں۔‘

’اگر جناح کی بیماری کا علم ان کے سیاسی مخالفین اور برطانوی حکمرانوں کو ہو جاتا تو شاید تقسیمِ ہند مؤخر ہو جاتی، اور پاکستان کا قیام بھی خطرے میں پڑجاتا۔‘

جناح کی گرتی جسمانی صحت

جناح کی بگڑتی صحت اور جسم پر پڑنے والا شدید دباؤ دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔

اکبر احمد نے اپنی کتاب ’جناح ، پاکستان اینڈ اسلامک آئڈنٹٹی : دی سرچ فار صلادین‘ میں لکھا ہے کہ ’جناح کے عمدہ لباس اور باوقار شخصیت نے چھپا رکھا تھا کہ ان کی جسمانی صحت اچھی نہیں۔‘

’سنہ 1938 سے وہ مسلسل اپنے اعصاب اور جسمانی قوت پر’بے پناہ دباؤ‘ کی شکایت کر رہے تھے۔ اس کے بعد وہ باقاعدگی سے بیمار پڑنے لگے، تاہم ان کی بیماری کو پوشیدہ رکھا گیا۔‘

مصنف ہیکٹربولیتھونے ڈاکٹر پٹیل سے بمبئی میں مئی 1952 میں ملاقات کی ۔

ہیکٹر بولیتھو اپنی کتاب ’جناح ، کریئٹر آف پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر پٹیل نے انھیں بتایا کہ ستمبر 1944 میں نے انھوں نے جناح کا معائنہ کیا تو ان کا بلڈ پریشر تقریباً 90 تھا۔

’اس وقت وہ پوری دل جمعی سے کام کر رہے تھے لیکن بہت نحیف اور کمزور تھے، سینے میں کچھ درد اور کھانسی کی شکایت بھی کی۔ ان کے پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں نمونیا کے مکمل طور پر ختم نہ ہونے کے آثار موجود تھے۔‘

ڈاکٹر پٹیل نے بتایا کہ ’میں نے انھیں کیلشیم کے ٹیکے، مقوی دوائیں اور شارٹ ویو ڈائیتھرمی کا علاج تجویز کیا۔ کھانسی ختم ہو گئی اور وہ آرام کے لیے پہاڑی علاقے چلے گئے۔ واپس آئے تو ان کا وزن 18 پاؤنڈ بڑھ چکا تھا۔ یہ خبر اخبارات میں چھپی اور اس کے ساتھ میرا نام بھی آ گیا۔‘

'میں مسٹر جناح کے پاس گیا اور کہا کہ ’کسی احمق نے یہ خبر اخبار تک پہنچا دی ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ وہ احمق میں ہی تھا۔ آخر میں اس شخص کا شکریہ کیوں نہ ادا کرتا جس نے میری اتنی اچھی خدمت کی؟‘

بیماری بڑھ رہی تھی

اکبر احمد کے مطابق سنہ 1945 کے پہلے چھ ماہ میں بھی وہ زیادہ تر بیمار رہے۔

’اسی سال اصفہانی کلیکشن میں شامل نو اکتوبر کے خط کے مطابق انھوں نے اعتراف کیا کہ ’دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ میں بمشکل اسے برداشت کر پاتا ہوں۔‘

’ان کے ڈاکٹروں، ڈاکٹر جل پٹیل اور ڈاکٹر ڈنشا مہتا نے انھیں آرام کرنے، صحت یاب ہونے اور اپنی رفتار کچھ کم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر پاکستان کے لیے جدوجہد شروع ہو چکی تھی اور جناح کے پاس وقت تیزی سے کم ہو رہا تھا۔

لیری کولنز اور ڈومینک لیپیئر نے لکھا ہے کہ جناح ساری زندگی اپنے کمزور پھیپھڑوں کے باعث نازک صحت کا شکار رہے تھے۔

’مئی 1946 کے آخری دنوں میں شملہ میں مسلم لیگ کے ان رہنما کو ایک بار پھر برونکائٹس نے آ لیا۔ جناح کی وفادار بہن فاطمہ انھیں ٹرین کے ذریعے بمبئی لے آئیں، لیکن سفر کے دوران ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ فاطمہ نے فوری طور پر ڈاکٹر پٹیل کو طلب کیا جنھوں نے جلد ہی دریافت کر لیا کہ ان کے مریض کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔‘

سنہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں، جب لیری اور ڈومینک اپنی کتاب کے لیے تحقیق کر رہے تھے تو ڈاکٹرپٹیل نے انھیں جناح کی خفیہ طبی فائل دکھائی جس پر صرف ’ایم۔اے۔جناح ‘ لکھا تھا۔

تب جناح کے ایکسرے کرنے والے ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو کا انتقال ہو چکا تھا۔ چنانچہ لیری نے ان کی بیٹی ہومی سے رابطہ کیا جو اپنے والد کے کلینک میں کام کرتی رہی تھیں۔ ہومی نے بھی وہی تفصیلات بیان کیں جو پٹیل نے فراہم کی تھیں۔

پٹیل اور ڈیبو کا فیصلہ تھا کہ بیماری ناقابلِ علاج مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔

سنہ 1975 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ میں لیری اور ڈومینک نے پہلی بار اس راز کو دنیا کے سامنے رکھا۔

کتاب کے مطابق ڈاکٹر پٹیل نے جناح کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے بمبئی کے ریلوے سٹیشن پر استقبالی ہجوم کا سامنا کرنے کی کوشش کی تو وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے۔

’چنانچہ پٹیل نے انھیں مضافاتی سٹیشن ہی پر ٹرین سے اتارا اور ہسپتال پہنچا دیا۔ وہیں پٹیل نے وہ راز دریافت کیا جو بعد میں ہندوستان کا سب سے زیادہ محفوظ راز بن گیا۔‘

افسوس کے ساتھ پٹیل نے اپنے دوست اور مریض کو جان لیوا بیماری کی خبر دی۔

’انھوں نے جناح کو بتایا کہ ان کی جسمانی قوت کی آخری حد قریب آ چکی ہے۔ اگر انھوں نے اپنے کام کا بوجھ نمایاں طور پر کم نہ کیا، زیادہ وقفوں سے آرام نہ کیا، سگریٹ ترک نہ کیے اور اپنے جسم پر پڑنے والے دباؤ کو کم نہ کیا تو ان کے پاس زندگی کے ایک یا دو برس سے زیادہ نہیں۔‘

پٹیل کے مطابق یہ تلخ خبرسن کر جناح کے چہرے پر کوئی تاثرنہ ابھرا۔

’ان کے زرد چہرے پر ذرا سی جنبش بھی نہ آئی۔ انھوں نے ڈاکٹر پٹیل سے دوٹوک کہا کہ سینیٹوریم کے بستر پر لیٹنے کے لیے اپنی زندگی کی جدوجہد ترک کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

’قبر کے سوا کوئی چیز انھیں اس کام سے نہیں ہٹا سکتی تھی جو انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا—تاریخ کے اس نازک موڑ پر ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت۔‘

جناح جانتے تھے کہ اگر ان کے مخالفین کو معلوم ہو گیا کہ وہ موت کے قریب ہیں تو ان کا پورا سیاسی نقطۂ نظر بدل سکتا ہے۔ وہ شاید جناح کی موت کا انتظار کرنے لگتے اور پھر مسلم لیگ کی قیادت میں موجود ان سے زیادہ ’قابلِ لچک‘ لوگوں کے ذریعے ان کے خواب کو منتشر کرنے کی کوشش کرتے۔

’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ میں لکھا ہے کہ ہر دو ہفتے بعد ڈاکٹر پٹیل کی جانب سے خفیہ طور پر لگائے جانے والے انجیکشنوں سے توانائی حاصل کرکے جناح دوبارہ کام میں جُت گئے۔

’انھوں نے اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔غیر معمولی حوصلےاور جذبے کے ساتھ جناح عمر بھر کے مقصد کی جانب لپکے۔‘

اکبر احمد کے مطابق پاکستان بننے تک جناح کی صحت بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔

’وہ تپِ دق میں مبتلا تھے اور ان کی بھاری سگریٹ نوشی ان کے پسندیدہ برانڈ کریون اے کے روزانہ 50 سگریٹ اور مسلسل کڑی مصروفیت نے بھی ان کی صحت پر اپنا اثر ڈال دیا تھا۔‘

31 جولائی 1947 کو، پاکستان کے قیام سے چند ہفتے قبل، جناح بمبئی کے آرام باغ قبرستان میں اپنی اہلیہ رتن بائی (رتی) کی قبر پر گئے۔ انھیں علم تھا کہ شاید وہ دوبارہ بمبئی نہ آ سکیں۔

پاکستان بنا تو جناح پھر شدید مصروف ہوگئے۔ لیکن ان کے معمولات میں کچھ بہتری ضرورآئی۔

’میں بہت تھک گیا ہوں‘

ہیکٹربولیتھو نے لکھا ہے کہ فروری 1948 کے اوائل میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے دیرینہ پارسی دوست جمشید نسروانجی ایک روزدارالحکومت کراچی میں گورنمنٹ ہاؤس کے باغ میں انھیں تلاش کرتے ہوئے ایک بنچ پر پہنچے جہاں وہ نیم غنودگی کے عالم میں بیٹھے تھے۔

جناح نے آنکھیں کھولیں اور کہا ’میں بہت تھک گیا ہوں، جمشید، بہت تھک گیا ہوں۔‘

بولیتھو کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے وہ ہمیشہ اتنے مصروف رہتے تھے کہ باہر بیٹھ کر اس طرح اونگھنے کا تصور بھی ان کے لیے ناممکن تھا۔

’لیکن اب وہ کبھی کبھی باغ میں بیٹھ کر چند لمحے خاموش بیٹھ کر سوچتے، اور پھر مختصر سی نیند لے لیتے۔ کبھی باغ میں چہل قدمی کے دوران میں جھک کر ایک پھول توڑ کر اپنے کوٹ پر سجا لیتے۔‘

بولیتھو کے مطابق اسی فروری کی ایک صبح ’دی سٹیٹس مین‘ کے سابق مدیر ایان سٹیفنز جناح سے ملاقات کے لیے گئے۔

انھوں نے بعد میں لکھا کہ ’اس وقت، کسی کو احساس نہیں تھا کہ پاکستان کا معمار موت کے سفر پر تھا۔ ان کے پھیپھڑے اُس تپِ دق سے بری طرح متاثر ہو چکے تھے جس کا کسی کو علم نہ تھا اور جس نے چند ماہ بعد ان کی جان لے لی۔‘

ملاقات کے اختتام پر قائد نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ میں بیمار رہا ہوں۔ میں بیمار نہیں تھا۔ میں صرف تھک جاتا ہوں۔ میں اب جوان نہیں ہوں، مجھ پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔۔۔ اس لیے جب میں تھک جاتا ہوں، تو آرام کرتا ہوں۔ میں اپنے ڈاکٹروں سے کہتا ہوں کہ وہ چلے جائیں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے اردگرد بلاوجہ منڈلاتے رہیں۔‘

بولیتھو کے مطابق جناح نے ساڑھے تین برس قبل بمبئی کے ڈاکٹروں کی دی ہوئی تشویش ناک اطلاع کو اپنے سینے میں راز بنا کر رکھا تھا۔

جولائی 1948 تک جناح کی پھیپھڑوں کی دائمی بیماری مزید بگڑ چکی تھی۔ چنانچہ جناح کو بلوچستان کے دور افتادہ پہاڑی مقام زیارت لے جایا گیا جہاں ہوا کم بھاری تھی۔ لیکن زیارت میں بھی جناح کی حالت بہتر نہ ہوئی۔

ان کے ڈاکٹر الہٰی بخش کو جناح کے خون کے ٹیسٹوں اور سینے کے ایکسرے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یقین ہو گیا کہ ان کی دائمی پھیپھڑوں کی بیماری ناقابلِ علاج مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔

شاید ان ہی دنوں میں جناح کے کچھ دوست ان کے علاج کے لیے کوشاں تھے۔

انجان فون کال

اپنی کتاب ’ٹیوبرکلوسس: دی گریٹسٹ سٹوری نیور ٹولڈ‘ میں معالج اور مصنف ڈاکٹر فرینک رائن میں لکھتے ہیں ’مجھے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے سے کچھ پراسرار نوعیت کی فون کالز موصول ہوئیں جن میں کہا گیا کہ مجھے ہنگامی طور پر کراچی، پاکستان آنا ہوگا تاکہ ایک ایسے شخص کا معائنہ کیا جا سکے جس کے نام اور جس کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔‘

’مسئلے کی نوعیت جاننے اور یہ معلوم کرنے کی میری تمام کوششیں کہ میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں، بے سود رہیں۔ چند ہی دن بعد مجھے فون پر بتایا گیا کہ اب میری خدمات کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ مریض وفات پا چکا ہے۔‘

فرینک نے لکھا کہ دو تین برس بعد جب میں سان فرانسسکو منتقل ہو چکا تھا، ایک ڈاکٹر مجھ سے ملنے آئے۔

’انھوں نے بتایا کہ ان فون کالز کے پیچھے وہ تھے اور وہ مریض کوئی اور نہیں بلکہ جناح تھے۔‘

’وہ جناح کے ذاتی معالج رہے تھے۔ اب راز داری کی وجہ بھی واضح ہو گئی۔ ان ڈاکٹر نے چند برس پہلے پاسچر انسٹی ٹیوٹ میں مجھے لیکچر دیتے ہوئے سنا تھا اور میری بعض مطبوعات بھی پڑھی تھیں۔‘

’محمد علی جناح پھیپھڑوں کی دائمی تپِ دق میں مبتلا تھے جس کی پہلی تشخیص ان کے معالج ڈاکٹر پٹیل نے جون 1946 میں کی تھی'۔

جناح کی بیماری کی اصل نوعیت کو راز میں رکھنے کی اہمیت کا انکشاف بعد میں لیری کولنز اور ڈومینک لیپیئر کی کتاب'فریڈم ایٹ مڈنائٹ' میں ہوا۔

’غیرمعمولی راز‘

’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ میں لکھا ہے کہ اگر لوئی ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا موہن داس گاندھی کو اپریل 1947 میں اس غیر معمولی راز کا علم ہوتا تو ہندوستان کی تقسیم شاید ٹالی جا سکتی تھی۔

’جناح اپنے مسلمان ہم وطنوں کے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کے عزم میں اس قدر ثابت قدم تھے کہ انھوں نے آخری وائسرائے کو اس فیصلے تک پہنچنے پر مجبور کر دیا۔‘

ڈومینیک نے بعد میں بیان کیا کہ جب انھوں نے یہ انکشافات لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے رکھے تو ان کا رنگ اڑ گیا اور انھوں نے کہا کہ اگر انھیں اس وقت جناح کی بیماری کی سنگینی کا علم ہوتا تو ان کے خیال میں شاید پاکستان وجود میں نہ آتا۔

’اگر مجھے اُس وقت یہ سب معلوم ہوتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ میں آزادی دینے کا فیصلہ کئی ماہ کے لیے مؤخر کر دیتا۔ پاکستان وجود میں نہ آتا۔‘

’انھوں نے کہا، مجھے یقین نہیں آرہا! پھر گہری حیرت کے عالم میں ’یا خدا!‘ کہتے ہوئے ہانپے جبکہ ان کی عموماً پُرسکون نیلی آنکھیں شدید جذبات سے سکڑ گئی تھیں۔"

کتاب کے مطابق یہ راز اس قدر محفوظ رکھا گیا تھا کہ برطانوی خفیہ سروس بھی اس سے بالکل بے خبر تھی۔

جناح بالآخر11 ستمبر 1948 کو پھیپھڑوں کی تپِ دق کے باعث وفات پا گئے، آزادی کے بمشکل ایک سال بعد ۔

پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اور ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈیبو کی پیشہ ورانہ وفاداری، اگرچہ غیر ارادی طور پر، ان حالات کی تشکیل میں اہم کردار بن گئی جنھوں نے پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔

انڈیا کی حکومت نے ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل کو1962 میں تیسرا سب سے بڑا سول اعزاز پدم بھوشن دیا تھا۔پاکستان نے ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر جل ڈیبو کے لیے ’نشان قائد اعظم‘ کے اعزاز کا اعلان اس سال 14اگست کو کیا ہے جبکہ اسے اگلے سال 23 مارچ کو ایک تقریب میں باقاعدہ عطا کیا جائے گا۔