بابر پہلے ٹیسٹ سے باہر، 30 سال بعد انگلینڈ میں سیریز جیتنے کی خواہش اور سرفراز کی اُمیدیں

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا میچ بدھ سے لیڈز میں شروع ہو رہا ہے۔ کپتان بابر اعظم ہاتھ میں تکلیف کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر ہو گئے ہیں اور سلمان علی آغا پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔

منگل کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے بتایا کہ اُمید ہے کہ بابر اعظم اگلے ٹیسٹ تک ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔

لیڈز ٹیسٹ کی تیاریوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ پریکٹس میچ میں کامیابی کے بعد ٹیم کے حوصلے بلند ہیں اور وہ پہلے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں نمبر پر موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کا حالیہ ٹیسٹ ریکارڈ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ گو کہ ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کرنے میں ناکام رہی، تاہم بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں دو، صفر کی شکست نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے کے امکانات بہت کم کر دیے ہیں۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 1996 میں وسیم اکرم کی قیادت میں انگلینڈ کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں شکست دی تھی۔ اُس وقت پاکستان کے پاس وقار یونس اور مشتاق احمد جیسے منجھے ہوئے بولر تھے جبکہ کپتان وسیم اکرم بھی بھرپور فارم میں تھے۔

’عباس ہمارا مین بولر ہو گا‘

ہیڈنگلے کرکٹ سٹیڈیم کی کنڈیشنز سے متعلق کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ’ہم کنڈیشنز دیکھ کر فائنل الیون کا فیصلہ کریں گے۔‘

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس محمد عباس جیسے تجربہ کار بولر ہیں، وہ ان کنڈیشنز میں یہاں لیگ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں، تو وہ اس دورے پر ہمارے مرکزی بولر ہوں گے۔‘

بابر اعظم کے پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہ ہونے کے سوال پر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان ٹیم کے لیے دھچکہ ضرور ہے، لیکن کوشش کریں گے کہ بابر کے بغیر بہتر ٹیم کمبی نیشن کے ساتھ میچ میں جائیں۔‘

’ابر آلود موسم پاکستان ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے‘

ٹیسٹ سیریز کی کوریج کے لیے انگلینڈ میں موجود سپورٹس جرنلسٹ ذوالقرنین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو پچ پر موجود گھاس کو کم کیا گیا ہے اور اب یہ بیٹنگ وکٹ لگ رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بدھ کو لیڈز میں بارش کا بھی امکان ہے اور ابر آلود موسم میں ٹاس بہت اہمیت کا حامل ہو گا۔

ذوالقرنین شیخ کا مزید کہنا تھا کہ بابر اعظم کے نہ ہونے کا ٹیم پر فرق پڑے گا، کیونکہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر تین سال بعد بیرون ملک ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنا پریکٹس میچ کینٹ کاؤنٹی میں کھیلا تھا جہاں موسم گرم تھا، لیکن لیڈز کا موسم کچھ سرد ہے اور یہاں کی کنڈیشنز پاکستانی بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتی ہیں۔

’یہ پاکستانی ٹیم کے لیے دھچکہ ہے‘

سوشل میڈیا پر پاکستان کرکٹ انتظامیہ کی جانب سے سلمان علی آغا کو کپتان بنانے پر بعض حلقے تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ شان مسعود جیسے تجربہ کار بلے باز اور سابق کپتان کے ہوتے ہوئے سلمان علی آغا کو کپتانی سونپنا اچھا فیصلہ نہیں ہے۔

سپورٹس تجزیہ کار مظہر ارشد نے ایکس پر لکھا کہ سلمان آغا نے اب تک صرف چار فرسٹ کلاس میچوں میں کپتانی کی ہے اور یہ 2022 میں اس وقت ہوا تھا جب سینئر کھلاڑی آسٹریلیا میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں مصروف تھے۔

برطانوی سپورٹس جرنلسٹ لارنس بوتھ نے لکھا کہ بابر اعظم کا پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہ ہونا پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

سپورٹس جرنلسٹ سلیم خالق نے لکھا کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم کی عدم موجودگی پاکستان ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ نئے کپتان سلمان علی آغا کو نہ صرف ٹیم کو ایک فاتح یونٹ میں تبدیل کرنا ہوگا بلکہ اپنی بیٹنگ کے ذریعے عملی مثال قائم کرتے ہوئے قیادت بھی کرنی ہوگی۔

پاکستان کا انگلینڈ میں ٹیسٹ ریکارڈ

خیال رہے کہ نوے کی دہائی میں پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ میں ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔

پاکستان نے سنہ 1992 میں جاوید میانداد کی کپتانی میں انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان ریٹائر ہو چکے تھے اور پاکستان کی ٹیم ون ڈے ورلڈ کپ کی فاتح تھی۔

چار سال بعد پاکستان نے سنہ 1996 میں ایک بار پھر انگلینڈ کو شکست دی، اس مرتبہ پاکستان ٹیم کی کپتانی وسیم اکرم کر رہے تھے۔

لیکن اس کے بعد پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ اور نیوٹرل وینیو متحدہ عرب امارات میں تو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتتا رہا ہے۔ لیکن 30 سال گزرنے کے باوجود دوبارہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

سنہ 2016 میں مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے چار ٹیسٹ میچز کی سیریز دو، دو سے برابر کی تھی۔

سنہ 2018 میں بھی پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک، ایک سے برابر کی تھی۔

پاکستان نے آخری مرتبہ سنہ 2020 میں انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی جس میں اسے ایک، صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ 27 اگست کو لارڈز جبکہ تیسرا ٹیسٹ میچ نو ستمبر کو برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔