آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. ترکی اور شام کی مدد کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز

    ترکی اور شام میں زلزلے کی تباہی کے بعد عالمی مدد کی اپیل کی جا رہی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے ترک حکام سے رابطہ قائم کیا ہے اور ہر طرح کی مدد کی پیشکش کی ہے۔

    فوجی اتحاد نیٹو نے کہا ہے کہ وہ اپنے رکن ملک ترکی میں متاثرین کی مدد کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔

    یورپی یونین نے ترکی اور شام کی مدد کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس نے کہا ہے کہ ملک میں امدادی سرگرمیوں کے لیے عالمی مدد کی فوری طور پر ضرورت ہے۔

  2. ترکی میں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟

    ترکی متعدد فالٹ لائنز پر یا ان کے آس پاس واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں زیادہ زلزلے آتے ہیں۔

    فالٹ لائن کا مطلب زیرِ زمین پلیٹوں کا ٹوٹ کر مختلف حصوں میں تقسیم ہو جانا ہے جو زمین کے نیچے حرکت کرتے رہتے ہیں اور یہ حصے دباؤ جمع کرتے رہے ہیں۔ زیر زمین فالٹ لائن جب حرکت کرتی ہے تو وہ زلزلے کا سبب بنتی ہے۔

    ترکی کی اکثر علاقہ اناطولیہ کی ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے جو کہ دو بڑی پلیٹس -- یورایشیا اور افریقی -- اور ایک چھوٹی پلیٹ -- عرب -- کے بیچ و بیچ ہے۔

    اس کا مطلب ہے کہ وہاں زلزلے کے جھٹکے معمول کا حصہ ہیں۔ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے 2022 میں 22 ہزار سے زیادہ زلزلے ریکارڈ کیے تھے۔

    ان میں سے کئی زلزلے مالی و جانی نقصان کا باعث بھی بنتے ہیں۔ جیسے ازمیت میں 1999 کے دوران 7.6 کی شدت کے زلزلے میں 17 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  3. عمران خان کا ترکی اور شام میں زلزلے سے تباہی پر اظہارِ افسوس

  4. شام میں 320 ہلاکتیں، صدر بشار الاسد نے ہنگامی اجلاس بلا لیا

    شام کے صدر بشار الاسد نے زلزلے کے بعد صبح ہنگامی اجلاس بلایا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کی سمت کا تعین کیا جائے۔

    شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس کا کہنا ہے کہ شمال مغربی شام میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہونے بعد ان کی ٹیمیں (جو ترک سرحد کے قریب باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی کام کرتی ہیں) متاثرین کو مدد فراہم کر رہی ہیں۔

    شام میں کئی سال تک جاری جنگ، سست رفتار تعمیر نو اور دمشق میں قائم مرکزی حکومت پر سخت عالمی پابندیوں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔

    برطانیہ میں قائم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 320 تک جا پہنچی ہے۔

  5. یورپی رہنماؤں کا ترکی اور شام کو امداد پہنچانے کا وعدہ

    نیدر لینڈز کے وزیر اعظم مارک روتہ نے اعلان کیا ہے کہ ڈچ امدادی ٹیمیں ترکی اور شام میں متاثرین کی مدد کے لیے جلد پہنچ جائیں گی۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں ترک صدر سے ہمدردی ظاہر کی اور کہا کہ ’ہم اس سنگین قدرتی آفت کے تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    ادھر یونان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ بھی متاثرین کے لیے فوراً وسائل روانہ کر رہے ہیں۔

    سربیا اور سویڈن کے رہنماؤں نے بھی زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں تک مدد اور امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کہتے ہیں کہ ’برطانیہ ہر طرح سے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔‘

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ ان کا ملک ’ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچائے گا۔‘

  6. زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش

    ترکی میں صبح کے اندھیرے میں زلزلہ اس وقت آیا جب اکثریت اپنے گھروں میں سو رہی تھی۔ مختلف شہروں میں کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور امدادی کارکنان ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دیار بکر میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے۔۔۔

  7. ترکی اور شام میں زلزلہ: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • دونوں ملکوں میں مجموعی طور پر 500 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں
    • یہ ممکنہ طور پر ترکی کا سب سے بڑا زلزلہ ہے جس کے بعد 40 سے زیادہ جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں
    • زلزلے کے مقام کے قریب شامی پناہ گزین کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ ترکی نے عالمی سطح پر سب سے زیادہ شامی پناہ گزین کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد 37 لاکھ ہے
    • کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ خراب موسم کی وجہ سے بھی امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں
  8. ترک علاقے ملاطیہ میں زلزلے سے تباہی

  9. ’مجھے ایسا لگا جیسے میں بچے کے جھولے میں ہوں‘

    ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب اس کی شدت کے بارے میں عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

  10. زلزلے کی شدت سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریکارڈ

    ترکی میں ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے پیر کی صبح آنے والے زلزلے کی شدت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

  11. بریکنگ, ترکی میں زلزلے سے 284 ہلاکتوں کی تصدیق

    ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے کی تباہی سے اب تک 284 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 2323 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یوں جنوبی ترکی اور شمالی شام میں اموات کی مجموعی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔

  12. جنوبی اٹلی میں سونامی کی وارننگ ختم

    اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں زلزلے کے بعد ملک کے جنوبی علاقوں میں سونامی کی تنبیہ جاری کی گئی تھی جسے اب واپس لے لیا گیا ہے۔

    گذشتہ رات لوگوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ساحلی علاقوں سے دور رہیں اور انھیں متنبہ کیا گیا تھا کہ سونامی کی لہروں کا خطرہ موجود ہے۔

    پیر کی صبح اٹلی کے جنوبی و ساحلی علاقوں میں ٹرینوں کی سروس ایک گھنٹے کے لیے معطل کی گئی تھی جو اب بحال ہوچکی ہے۔

  13. ترکی میں ایمرجنسی نافذ، شہریوں سے موبائل فونز استعمال نہ کرنے کا مطالبہ

    ترکی نے زلزلے کی تباہی کے پیش نظر ریاستی سطح پر ایمرجنسی (یعنی ہنگامی صورتحال) نافذ کر دی ہے۔

    شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز استعمال نہ کریں تاکہ امدادی رضاکار آپس میں رابطہ قائم کر سکیں۔

  14. ترکی میں گذشتہ 80 سال کا سب سے بڑا زلزلہ

    بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترکی اور شام میں حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔

    امپیریکل کالج لندن کے ماہر سٹیفن ہِکس نے بتایا کہ اس سے قبل ترکی میں دسمبر 1939 کے دوران 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 30 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

    حال ہی میں جنوری 2020 کے دوران مشرقی شہر العزیز میں 6.7 کی شدت کے زلزلے میں 41 افراد ہلاک اور 1600 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    شام میں زلزلوں پر نظر رکھنے والے قومی مرکز کے سربراہ رئیس احمد نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ ’یہ ہمارے مرکز کی تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔‘

    یہ مرکز 1995 میں قائم کیا گیا تھا۔

  15. ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بارے میں تازہ ترین صورتحال

    • شام اور ترکی میں پیر کی صبح آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد اب تک 500 سے بڑھ چکی ہے
    • ترکی میں 284 جبکہ شام میں 237 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں
    • یہ ممکنہ طور پر ترکی کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ تھا
    • حکام کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں
    • ترکی میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے کے مرکزی جھٹکے کے بعد اب تک کم اور زیادہ شدت کے 40 جھٹکے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں
    • ترکی میں جس مقام پر زلزلہ آیا اس کے گردونواح میں لاکھوں شامی پناہ گزین مقیم ہیں
  16. اسرائیل کی ترکی کو امدادی سرگرمیوں میں مدد کی پیشکش

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے پیر کو ترکی میں زلزلہ متاثرین کی مدد کی پیشکش کی ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک مؤثر امدادی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔

  17. بریکنگ, شام میں زلزلے سے 200 سے زیادہ ہلاکتیں: وزارت صحت

    شام کی وزارت صحت نے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں پر ایک اپ ڈیٹ دی ہے۔

    اس کے مطابق ملک بھر میں 237 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شام کے متاثرہ علاقوں میں حلب، لاذقیہ، حماہ اور طرطوس شامل ہیں۔

    شام کی وزارت صحت کے مطابق 600 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  18. شام اور ترکی میں زلزلے سے کم از کم 195 افراد ہلاک

    شام اور ترکی میں زلزلے کے بعد امدادی کارکنان ملبے تلے دبے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی اور شام میں زلزلے سے کم از کم 195 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں نصف کی تعداد شام سے ہے جو کہ پہلے ہی جنگ سے متاثرہ ملک ہے۔ ادھر ترکی نے متاثرین کی مدد کرنے کے لیے عالمی مدد کی اپیل کی ہے۔

    وزارت صحت اور ایک مقامی ہسپتال نے بتایا ہے کہ شام میں حکومت کے زیر انتظام خطے اور ترک حمایتی گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں مجموعی طور پر کم از کم 119 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ادھر ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے ابتدائی طور پر 76 ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیے مگر ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

    ترکی میں اموات کی تعداد اس لیے بھی بڑھ سکتی ہے کیونکہ وہاں موسم سرد ہے اور کئی رہائشی عمارتوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

    یہ زلزلہ پیر کی صبح اندھیرے میں آیا جس کے بعد امدادی کارکنان متاثرہ علاقوں میں پہنچنے لگے۔

  19. شام میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے بڑھ گئی: سرکاری میڈیا

    شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک میں زلزلے سے 100 سے زیادہ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔

    شام کے مغربی ساحل سے لے کر دارالحکومت دمشق تک جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

    اس سے ترک-شام سرحد پر واقع علاقوں میں بھی نقصان ہوا ہے جو اپوزیشن کے زیر کنٹرول ہیں۔ یہاں صحت کی محدود سہولیات ہیں اور اکثر لوگ خراب حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں امدادی کارروائیاں دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ حلب میں صبح کے اندھیرے میں ہی ریسکیو اہلکار متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ کئی رہائشی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ لوگوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کریں۔

  20. ترکی میں 7.8 شدت کے زلزلے سے کئی شہروں میں تباہی