برطانیہ میں یارک شائر کے رہائشی 29 برس کے ٹموتھی وائٹنگ ترکی میں اپنی چھٹیاں گزارنے گئے ہوئے تھے جب ترکی میں زلزلہ آیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو وہ گیسٹ ہاؤس میں تھیں اور جھٹکے سے جاگ گئے اور بہت خوفزدہ ہو گئے۔ تاہم وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔
ٹموتھی کے مطابق وہ دو منزلہ عمارت کی دوسری منزل پر تھے۔ ان کے مطابق شاید یہی خوش قسمتی کا پہلو تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے اوپر گرنے کے لیے مزید کوئی مزلیں نہیں تھیں۔‘
انھوں نے وہاں عمارتوں کے منہدم ہونے اور تباہی کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے جوہری بم سے حملہ کیا گیا ہو۔
ان کے مطابق شہر کا شہر زمین بوس ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق وہاں پانچ اور چھ منزلہ عمارتیں ان کی طرف تھیں۔
ٹموتھی انتاکیہ شہر میں ہاتائی کے مقام پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ وہ وہاں سے پیدل ہی چل نکلیں اور پھر ایک کار نے انھیں ادنہ تک لف دی، جہاں پر وہ اب تھیں۔
ان کے مطابق وہاں ہر طرف سے لوگ آ رہے تھے اور آدھے لوگوں تو ننگے پاؤں ہی وہاں پر آ گئے تھے۔ یہ افراتفری والا سماں تھا۔
ملبے تلے دبے لوگوں کا آوازیں آوازیں آ رہی تھیں۔ ان کے مطابق ہم کسی کو بھی وہاں سے نکالنے کے قابل نہیں تھے۔