آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. جھولتی عمارتوں کے دل دہلا دینے والے مناظر جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے

    گذشتہ روز شام اور ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین اس بارے میں بات بھی کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ اس دوران کیا ہوا تھا تاہم بی بی سی نیوز نے ان معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ہے۔

    زلزلے کے جھٹکے صبح چار بج کر 17 منٹ پر محسوس ہوئے اور یہ مرکز سے کئی سو میل تک محسوس کیے جاتے رہے۔

    شہری بتاتے ہیں کہ کیسے وہ نیند سے جاگے اور بھاگ کر اپنی گاڑی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    ایردیم نام ایک شہری نے کہا کہ ’اپنی 40 سالہ زندگی میں میں نے کبھی ایسے محسوس نہیں کیا۔ ہم تین مرتبہ بہت بری طرح جھنجھوڑے گئے، جیسے کسی بچے کو جھولے میں ہلایا جاتا ہے۔

    بی بی سی نیوز کی جانب سے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ہونے والی تباہی کے حوالے سے معلومات کو جوڑا گیا ہے۔ اس میں عینی شاہدین کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کا سہارا بھی لیا گیا ہے۔

  2. رضاکاروں کو گاڑیوں میں متاثرہ علاقوں تک نہ جانے کی ہدایت

    ترک ہلال احمر نے رضاکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ امدادی سامان لے جانے کے لیے گاڑیوں پر متاثرہ علاقوں کا رُخ نہ کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’گاڑیاں سڑکوں پر 50 میٹر گہری کھائی میں گِری ہیں۔ سڑکوں پر برف بھی ہے۔‘

    انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہلال احمر کو کھانا اور گرم رہنے کے لیے دیگر سامان جیسے کمبل، کوٹ اور بوٹ عطیہ کریں تاکہ ایسی چیزوں کو آگے پہنچا کر تقسیم کیا جاسکے۔

    ہلال احمر نے اس سے قبل خون کے عطیہ کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ زخمیوں کو بچایا جائے۔

  3. زلزلوں کی شدت کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے؟, پال گوش، بی بی سی سائنس

    زلزلوں کی پیمائش جس پیمانے پر کی جاتی ہے اسے مومنٹ میگنیٹیوڈ سکیل کہتے ہیں۔

    انسان 2.5 شدت کا زلزلہ محسوس نہیں کر پاتے مگر آلات کی مدد سے ان کی تصدیق ہوسکتی ہے۔ پانچ کی شدت کے زلزلے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔

    ترکی اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے کو کافی زیادہ نقصان دہ خیال کیا جا رہا ہے۔

    آٹھ کی شدت کے زلزلے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور اپنے اردگرد کی تعمیرات کو منہدم کرسکتے ہیں۔

  4. آسٹریلیا متاثرین کی بحالی کے لیے ایک کروڑ ڈالر دے گا

    آسٹریلوی وزیر اعظم نے منگل کو اعلان کیا کہ ان کا ملک ابتدائی طور پر فلاحی تنظیموں کو ایک کروڑ ڈالر امداد دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا کی مدد ان لوگوں کے لیے ہوگی جنھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘ انھوں نے متاثرین کے لیے اپنی ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔

    ادھر نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم، جو آسٹریلیا کے دورے پر موجود ہیں، نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت متاثرین کی امداد کے لیے 15 لاکھ ڈالر مختص کرے گی۔

  5. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتیں 4300 سے بڑھ گئیں

    ترکی اور شام میں جہاں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب تک 4300 سے زیادہ اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ملک میں زلزلے سے اب تک 2921 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 15834 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔

    مجموعی طور پر اب تک زلزلے سے 4365 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

  6. بریکنگ, ہلاکتوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کر گئی، شدید سردی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات

    ترکی کے نائب صدر نے بتایا ہے کہ ترکی میں اب ہلاک ہونے والے کی تعداد 2379 ہو گئی ہے جبکہ 14 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

    ان کے مطابق اب تک ملبے سے 7840 افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ 4748 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔ یوں اس ہلاکت خیز زلزلے کے باعث 3500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ترکی اور شام میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس دوران موسم ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور جگہ جگہ بارش اور شدید ٹھنڈ کے باعث امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  7. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تین ہزار سے تجاوز کر گئی

    اب تک ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس بات کی اندیشہ ہے کہ یہ ہلاکتوں کی اصل تعداد موجودہ تعداد کا آٹھ گنا ہو سکتی ہے۔

    ملک میں آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے مطابق اب تک ترکی میں 2316 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہمسایہ ملک شام میں حکومت اور ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1293 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  8. بریکنگ, زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے تجاوز کر گئی

    ترکی میں آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1762 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم ایک ہزار ہے۔ یوں مجموعی طور پر گذشتہ روز آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 ہو چکی ہے۔

    ادھر عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے اندیشہ ہے۔

  9. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے 2600 سے زیادہ ہلاکتیں، ترکی میں سات روزہ سوگ کا اعلان

    تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    اگر آپ اس وقت ہمارے لائیو پیج کا رخ کر رہے ہیں تو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد ہونے والے نقصان کی تازہ ترین تفصیلات کچھ یوں ہیں:

    • اب تک اس زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2600 سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
    • ریسکیو اہلکار اس وقت شدید ٹھنڈ اور برفباری والے موسم میں ملبے ہٹانے اور اس میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اس صورتحال کو ایک شہری نے ’قیامت‘ سے تشبیہ دی ہے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے زلزلے کے بعد سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
  10. ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری

    ترکی کے نائب صدر کے مطابق ملک میں پیر کو آنے والے زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1541 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک کے جنوب اور جنوب مشرق میں آنے والے زلزلے میں 9700 لوگ زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں کتنی تھی یا اس کے باعث ہلاکتیں ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔

    دونوں زلزلوں کے بعد 145 آفٹر شاکس آ چکے ہیں جن میں سے تین کی شدت چھ سے زیادہ کی تھی۔

    نائب صدر کا کہنا تھا کہ تقریباً 3500 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

  11. ترکی میں دو بڑے زلزلوں کے بعد آنے والے آفٹر شاکس

    ترکی میں آج دو بڑے زلزلے رپورٹ ہوئے اور اس کے بعد سے پورے خطے میں درجنوں آفٹر شاکس بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اوپر دیے گئے نقشے میں ان زلزلوں کی شدت دکھائی گئی ہے اور ان کا زلزلے کے مرکز کے اعتبار سے ان کا محلِ وقوع بھی دکھایا گیا ہے۔

    جیسے کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے اکثر جھٹکے چھ سے زیادہ شدت کے ہیں جو کہ ایک شدید زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔

  12. زلزلہ زدگان سے اظہار یکجہتی: اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی

    اقوام متحدہ نے رواں برس اپنی ترجیحات کے تعین کے لیے منعقدہ اجلاس میں ترکی اور شام میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ خاموشی اختیار کی۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجنے جانے والی ٹیمیں اس وقت اس متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔

    ان کے مطابق یہ ٹیمیں وہاں متاثرین کی ضروریات کا خیال رکھ رہیں ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

  13. امریکہ کا ترکی اور شام میں ریسکیو آپریشن میں امداد کا اعلان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ترکی اور شام میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن میں ہر ممکن کریں گے۔

    صدر بائیڈن نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ترکی کے صدر مل کر اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور جہاں اور جس طرح کی امداد کی ضرورت ہے اسے یقینی بنائیں۔

  14. پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا ترکی کے صدر طیب اردوغان سے ٹیلی فونک رابطہ، امداد کا اعلان

  15. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی کم از کم تعداد 2300 ہو گئی ہے

    ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2300 تک پہنچ چکی ہے۔

    ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1498 ہو گئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق شام میں ہلاکتوں کی تعداد 810 تک پہنچ گئی ہے۔

  16. ’ہمیں لگا کہ قیامت آ گئی ہے‘

    ترکی کے یکے بعد دیگرے زلزلے پر عینی شاہدین نے اپنے تاثرات شیئر کیے ہیں۔

    تولن اکایا دیاربکر کی رہائشی ہیں۔ یہ جگہ زلزلے کے مرکز سے مشرق میں کوئی 180 میل کی دوری پر واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی پہلے زلزلے کے غم سے اپنے آپ کو باہر نکالنے کی کوشش میں تھیں کہ دوسرے زلزلے نے انھیں آن لیا۔

    انھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ بہت سہمی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق میں نے اسے بہت شدت سے محسوس کیا کیونکہ میں بالائی منزل پر رہتی ہوں۔

    ان کے مطابق ہم افراتفری میں باہر کی طرف بھاگے۔ ان کے مطابق میں اب اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نہیں جا سکتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب آگے کیا ہو جائے گا۔‘

    ترکی میں پہلے زلزلے کا مرکز غازی عنتیپ تھا اور اس کی شدت 7.8 تھی جبکہ دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور یہ جگہ پہلے زلزلے کے مرکز سے شمال میں 80 میل کی دوری پر کہرمان مرعش صوبے میں واقع ہے۔

    ملیسا سلمان کہرمان مرعش کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے والے زون میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اس طرح کے جھٹکے لگتے رہتے ہیں۔

    مگر ان کے مطابق آج جو ہوا یہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    ان کے مطابق ’ہمیں لگا کہ یہ قیامت ہے۔‘

    ہالس اکتیمر دیاربکر کے رہائشی ہیں۔ وہ ان پہلے لوگوں میں شامل تھے جو پہلی بڑی عمارت گرنے کے بعد اس جگہ تک پہنچے اور پھر ملبے سے لوگوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

    ان کے مطابق ہم تین لوگوں کی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ مگر دو لوگ مر چکے تھے۔ ان کے مطابق دسرے زلزلے کے بعد میں کہیں نہیں جا سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب انھیں میری مدد کی ضرورت ہوگی۔

  17. روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی ترکی اور شام کے لیے امداد کا اعلان

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ترکی اور شام کے نام تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور زلزلہ سے متاثرہ دونوں ممالک کے لیے امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر پوتن نے شام کے صدر بشاالاسد سے کہا کہ ہم تمام زخمیوں کے جلد صحت یابی کے دعاگو ہیں اور اس قدرتی آفت سے نمنٹے کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے نام ایک پیغام میں صدر پوتن نے کہا کہ ان کی طرف سے متاثرین کے خاندانوں تک ہمدردی اور مدد کا اظہار کیجیے۔ انھوں نے کہا کہ روس اس مشکل میں ہر مدد دینے کو تیار ہے۔

  18. زلزلے سے اموات کی کم از کم تعداد 1900 ہو گئی

    ترکی اور شام میں زلزلے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 1900 ہو گئی ہے۔ ترکی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1121 جبکہ شام میں مرنے والوں کی تعداد 783 بتائی جا رہی ہے۔

    ابھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی میں آنے والے دوسرے زلزے میں کوئی ہلاکت یا ہلاکتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔

  19. جب زلزلے سے متاثرہ عمارت نیچے آ گری

    ترکی کے علاقے شانلی اورفہ میں ریکارڈ کی جانے والی اس فوٹیج میں زلزلے کے کئی گھنٹے بعد ایک کثیر المنزلہ عمارت کو منہدم ہوتے اور لوگوں کو محفوظ مقام کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  20. ’پاکستان ترکی کے ساتھ کھڑا ہے‘