آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. شمال مغربی شام میں پہلا امدادی قافلہ پہنچنے والا ہے, ایلس ڈیویز، بی بی سی نیوز لائیو رپورٹر

    ہماری نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ اینا فوسٹر ہمیں بتا رہی ہیں کہ شمالی شام میں باغیوں کے قبضے میں موجود علاقوں میں امداد پہنچانا کس قدر مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

    یہ علاقے زلزلے سے بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پر اب ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کرنے والا پہلا امدادی قافلہ ترکی کی جنوبی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے امدادی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھ امدادی ٹرکس آج دن میں کسی وقت باب الحوا سرحدی ناکے سے شام میں داخل ہوں گے۔

    اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ یہ قافلہ امداد کے منتظر لاکھوں لوگوں کے لیے ’لائف لائن‘ کی طرح ہو گا۔

    واضح رہے کہ یہاں پر زلزلے سے قبل بھی حالات نہایت خراب تھے پر اب صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ سینکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور کم از کم 1700 افراد مارے جا چکے ہیں۔

  2. لوگوں کو بچانے کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے: ریسکو اہلکار

    ترکی میں زلزلے متاثرین کو امداد پہنچانے اور ریسکیو کے کاموں میں مدد فراہم کرنے والے اسلامک ریلیف کے ایک ریسکیو اہلکار صالح ابوگلسیم کا کہنا ہے کہ ’امدادی کارکن اب بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور انھیں اب بھی کسی معجزے کی توقع ہے۔ کیونکہ اب بھی ملبے تلے زندہ افراد کے نکلنے کے معجزے ہو رہے ہیں۔ لیکن امدادی کاموں کے دوران ملبے تلے بے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے ہم وقت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں ہے۔ ایسے میں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔‘

    جنوبی ترکی کے شہر گازینتم سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف اہلکار کا کہنا تھا کہ اب 72 گھنٹے گزر چکے ہیں اور سرد موسم اور خراب صورتحال میں لوگوں کے زندہ بچنے کی امید بہت کم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بطور امداد اہلکار اب ہمیں نکاسی آبکی ضرورت ہے، لوگوں کو بیماری سے بچانے کی ضرورت ہے۔ صاف پانی کی کمی سے لوگوں میں وبا پھیلنے کا خدشہ ہے اور ہم لوگوں سے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ شام میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ان کے ساتھیوں کے مطابق وہاں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔

  3. متاثرہ افراد کو زندہ رکھنا اگلا چیلنج ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ترکی میں زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کرنے والے اداروں کو یہ مشکل کا سامنا ہے کہ متاثرین جو زلزلہ میں زندہ بچ گئے ہیں ان کی زندگی کو یقینی بنایا جائے۔

    جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رسپانس منیجر کا کہنا ہے کہ ’اب ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے مشکل اور نامصائب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں انھیں خوراک، پانی، بجلی کی بحالی اور رابطوں کا فقدان ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’زلزلے کے بعد ہمیں ایک اور ممکنہ تباہی کے سامنے کا خطرہ ہے اور اگر ہم نے اسی رفتار سے کام نہ کیا جس رفتار سے ہم نے سرچ اور رسکیو کے کام کیے ہیں تو ہزاروں متاثرہ افراد کو ابتدائی تباہی سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

    یہ آسان کام نہیں ہے کیونکہ اس آپریشن کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔

  4. متاثرین کو بنیادی امداد پہنچانے میں اب بھی مشکل ہے، سیو دی چلڈرن

    بچوں کے تحفط و حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ زلزلے کو آئے آج چوتھا روز ہے لیکن متاثرین کو خوراک، خیمے، ادویات اور بنیادی اشیا پہنچانے کے لیے اب بھی مسائل کا سامنا ہے۔

    جنوبی ترکی اور شام میں سوموار کی صبح آنے والے زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق 23 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں جو اس وقت کھلے آسمان تلے سرد موسم میں حالت سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو کمبلوں اور صاف پانی کی اشد ضرورت ہے اور عارضی خیموں میں نکاسی آب کا مسئلہ بھی اہم ہو رہا ہے۔

    ترکی کے علاقے حاطے میں سیو دی چلڈرن کے ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے کورڈینیٹر برنے کوروگلو کا کہنا ہے کہ ’وہاں صفائی اور حفظان صحت کی بنیادی سہولیات محدود پیمانے پر میسر ہیں۔‘

  5. ترکی اور شام میں زلزلہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    سوموار کو جنوبی ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے میں اب تک تقریباً 16 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور چوتھے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    تاہم حکام کی جانب سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    سرد موسم کے باعث چوتھے روز عمارتوں کے ملبے تلے افراد میں کسی کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ترکی میں عوام کی جانب سے ایمرجنسی سروسز پر امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوام کا دعویٰ ہے کہ زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا اور لوگ کئی روز تک مدد کے منتظر رہے۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ روز اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ حکومت کو ابتدا میں کچھ مسائل کا سامنا تھا مگر اب صورتحال ’قابو میں ہے۔‘

    ادھر شام میں بھی امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ برسوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے باعث ملک کا انفرادسٹریکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    زلزلے سے متعلق مزید خبروں کے لیے بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

  6. ’قیامت کا منظر تھا، میں سوچنے لگا اپنے بیٹے کو ملبے سے کیسے نکالوں گا؟‘

  7. زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کتنے وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

  8. وہ تصویر جو ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد تباہی اور درد کی داستان سناتی ہے

  9. ترکی: زلزلے کے بعد ملبے تلے زندگی کے آثار, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز، سکندرون، ترکی

    بدھ کے دن ترکی کےجنوبی شہر سکندرون میں ریسکیو حکام نے اس وقت خاموشی اختیار کرنے کی درخواست کی جب ان کو ملبے تلے زندگی کے آثار سنائی دیے۔

    یہ ایک عمارت کا ملبہ تھا جو سوموار کو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے سے متاثر ہو کر گر گئی تھی اور متاثرہ عمارت کے مکینوں کے دوست احباب اور ہمسائے اس امید پر آس پاس ہی موجود تھے کہ شاید کوئی زندہ بچ گیا ہو۔

    ریسکیو حکام کی اس درخواست پر یہ سب لوگ خاموش ہو گئے اور تمام مشینری کو بھی بند کر دیا گیا۔

    چند منٹ کی خاموشی کے بعد ریسکیو حکام نے ایک ایمبولنس بلوائی اور تصدیق کی کہ ایک خاتون کو زندہ پایا گیا ہے۔

    یہ خبر سنتے ہی ہجوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ اس چھ منزلہ عمارت کے ملبے سے پہلی بار کسی کو زندہ نکالا گیا ہے۔

    مقامی افراد نے بتایا کہ یہ ایک 50 سالہ خاتون تھیں جو عمارت میں اکیلی رہتی تھیں۔ تاہم دیکھنے والوں کے مطابق اس پیش رفت نے ان کو ایک نئی امید دی کہ شاید ان کے رشتہ دار بھی ملبے تلے اب تک زندہ ہوں۔

  10. ’ملبے تلے دبے گھر والوں سے بات کی ہے، مگر نکالا نہیں جا سکا‘

    شام کے شہر حلب میں زلزلے کے باعث ملبے کا ڈھیر بن جانے والی ایک عمارت سے تھوڑا دور 25 سالہ یوسف دو دن سے اپنے والد، والدہ، بھائی، بہن اور بھانجے کے متعلق کسی خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ ان کی آوازیں سن سکتے ہیں اور ان سے بات بھی کی ہے تاہم امدادی کارکنان ان تک پہنچ نہیں سکے ہیں۔

    یوسف نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میں نے ان سے بات کی اور ان کی آواز سنی، مگر بدقسمتی سے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ لوگ بہت سست روی سے کام کر رہے ہیں اور ان کے پاس کافی تعداد میں آلات نہیں ہیں۔‘

    قریبی شہر جندیرس میں ایک منہدم ہو چکی عمارت میں رہنے والوں کے رشتے داروں نے بتایا کہ اُنھوں نے اب تک کسی بھی شخص کو زندہ نکالے جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔

    ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مشینری کی کمی کی وجہ سے کنکریٹ کی بھاری سلیں نہیں ہٹائی جا پا رہیں جن کے نیچے ان کے پیارے دبے ہوئے ہیں۔

    امدادی کارکنوں کی کوشش ہے کہ وہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں تک پہنچیں مگر وہ خراب موسم اور تباہ سڑکوں کی وجہ سے مشکلات کے شکار ہیں۔

    اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں ایندھن اور بجلی بھی ختم ہو چکی ہے۔

  11. پاکستانی اور ترک فالٹ لائنز کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق نہیں: محکمہ موسمیات

    پاکستان کے محکمہ موسمیات نے کہا کہ پاکستان اور ترکی میں موجود فالٹ لائنز کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے جو پاکستان، ایران اور افغانستان میں بھی زلزلوں کی وجہ بن سکے۔

    اپنے ایک اعلامیے میں محکمے نے کہا ہے کہ ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اگلے چند دنوں میں پاکستان میں اتنی ہی شدت کا زلزلہ آ سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے کہا کہ پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک میں کسی بڑے زلزلے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے مگر یہ کب اور کہاں آئیں گے، یہ بتانا موجودہ ٹیکنالوجی کے بس سے باہر ہے۔

  12. اردوغان: اتنے وسیع پیمانے پر آنے والی تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے زلزلے پر ریاست کے ردِ عمل پر بڑھتی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اتنے وسیع پیمانے پر آنے والی تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں ہے۔‘

    رجب طیب اردوغان نے حطائے کے دورے کے دوران بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نو ہزار 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حطائے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اُنھوں نے سکیورٹی فورسز کو بالکل بھی نہیں دیکھا وہ ’اشتعال‘ پھیلا رہے ہیں۔

    صدر نے کہا: ’یہ اتحاد اور یکجہتی کا وقت ہے۔ اس طرح کے وقت میں میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ سیاسی مفاد کے لیے منفی مہم چلائی جائیں۔‘ واضح رہے کہ آج تباہی کے شکار علاقوں کے دورے میں اُنھوں نے کچھ ابتدائی مسائل کا اعتراف کیا تھا تاہم کہا تھا کہ صورتحال اب ’کنٹرول میں ہے۔‘

    دوسری جانب عوام اور اپوزیشن کی جانب سے تنقید بڑھ رہی ہے۔

    کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہنگامی کوششیں بہت سست رہی ہیں اور ان کے آٹھ سالہ دورِ حکومت میں زلزلوں کے خطرے کی زد میں موجود اس علاقے کے لیے کچھ نہیں کہا گیا۔

  13. یورپی یونین شام کو 35 لاکھ یورو کی امداد دے گی

    یورپی یونین نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ شام کو 35 لاکھ یورو کی امداد فراہم کریں گے۔

    واضح رہے کہ بدھ کو ہی شام نے یورپی یونین سے امداد کی درخواست کی تھی۔

    یورپی یونین نے اسی امدادی پروگرام کے تحت ترکی کو بھی 30 لاکھ یورو دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  14. جنگ سے فرار ہونے والی شامی شہری ترکی میں زلزلے کے باعث خوفزدہ

    لاکھوں شامی شہری اپنے ملک میں جاری خانہ جنگی سے بھاگ کر ترکی پہنچے مگر اب وہاں بھی ان کے لیے مسائل کھڑے ہیں۔

    زلزلے کے مرکز سے مشرق میں واقع دیاربکر میں ایک مردہ خانے کے باہر بہت سے لوگ جمع ہیں۔

    ایک 17 سالہ خاتون مرکان نے بتایا کہ وہ حلب میں اپنے خاندان سے بات نہیں کر پا رہیں۔ اُنھوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم شام میں موت سے بھاگے اور اب ترکی میں زلزلہ آ گیا ہے۔ ہم سو نہیں سکتے۔ ہم ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک اور سخت آفٹرشاک کا ڈر ہے۔‘

    اے ایف پی نے بتایا کہ رضوان نامی 42 سالہ شخص نے دو راتیں ایک مقامی مسجد میں سو کر گزاری ہیں۔

    اُنھوں نے کہا: ’جب ہم جنگ میں تھے تو ہمیں سر پر پرواز کرتے طیاروں کی آوازیں سن کر پناہ لینے کا وقت مل جاتا تھا، جب زلزلہ اس قدر غیر متوقع وقت میں آیا تو ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا۔‘

  15. عرب ممالک سے شام کے لیے امداد پہنچنی شروع

    اطلاعات ہیں کہ عراق، ایران، اردن، متحدہ عرب امارات اور مصر سے امدادی پروازیں شام پہنچ رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت نے عالمی برادری بشمول یورپی یونین سے مدد کی درخواست کی ہے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق شام کے سرکاری خبر رساں ادارے سانا نے امداد کی آمد کو نمایاں کوریج دی ہے، چاہے اتحادی ممالک کی امداد ہو یا پھر کم قریب سمجھے جانے والے ممالک کی۔

    شمال مغربی حصوں میں زلزلہ آنے سے قبل بھی اس ملک میں امداد پہنچانا کافی مشکل تھا۔ بشار الاسد کی حکومت 12 سال طویل خانہ جنگی کے باوجود اب بھی ملک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

    اس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے باغیوں کے قبضے میں رہ جانے والے آخری صوبے ادلب میں امداد نہیں پہنچنے دی ہے۔

    لاکھوں لوگ اس صوبے میں غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان بھی یہیں ہوا ہے۔

    حکومت نے صرف ترکی سے بذریعہ سڑک امداد آنے کی اجازت دی ہے۔ اس حوالے سے اطلاعات متضاد ہیں کہ کوئی امدادی سامان یہاں پہنچا بھی ہے یا نہیں۔

    یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اپنے ارکان کی طبی سامان اور خوراک بھیجنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں مگر خبردار کیا کہ شامی حکومت انھیں اپنے کنٹرول سے باہر موجود علاقوں تک پہنچنے سے نہ روکے۔

  16. انطاکیہ میں لوگ اپنے پیاروں کے متعلق معلومات کے لیے پریشان

    امداد کے لیے طویل انتظار کے ساتھ ساتھ ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنے پیاروں کے متعلق مصدقہ معلومات نہیں مل پا رہیں۔

    انطاکیہ کے ایک ہسپتال کے باہر درجنوں لاشیں زمین پر پڑی ہیں جن میں سے کچھ لاشوں کے لیے مخصوص تھیلوں میں ہیں جبکہ کچھ پر صرف چادریں یا کمبل ڈال دیے گئے ہیں۔

    ایک شخص نے اپنا نام بتائے بغیر روئٹرز کو بتایا کہ ’میری اہلیہ ترک زبان نہیں بولتیں جبکہ میں ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتا۔ ہمیں ہر چہرہ دیکھنا پڑے گا، ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔‘

    انطاکیہ میں موجود نمائندہ بی بی سی کوئنٹن سومروِل نے کہا کہ وہاں تباہی اس وسیع پیمانے پر ہوئی ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے اس سے نمٹنا مشکل ہو گا۔

  17. ترک صدر کا متاثرہ علاقوں کا دورہ، مسائل کا اعتراف مگر حالات کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ کئی لوگوں کا شکوہ ہے کہ حکومت نے اب تک کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں اور ان تک مدد نہیں پہنچی ہے۔

    ایک خاتون آرزو دیدی اوغلو نے ایک بی بی سی رپورٹر کو بتایا کہ گذشتہ رات جنوبی ترکی کے ضلع اسکندرون میں ان کی دو بھانجیاں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور ایک دن گزر جانے کے بعد بھی کوئی مدد نہیں پہنچی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’ہمارے دو بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، عائشہ گل اور الائیدا، وہ اب جا چکی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ جا چکی ہیں۔ یہ لوگ پہلے کیوں نہیں آ سکے؟‘ جنوبی شہر انطاکیہ میں

    ملک نامی 64 سالہ خاتون نے کہا: ’خیمے کہاں ہیں؟ خوراک کے ٹرکس کہاں ہیں؟‘ بدھ کو روئٹرز سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ہم نے یہاں خوراک کی کوئی تقسیم نہیں دیکھی، یہ گذشتہ قدرتی آفات سے بہت مختلف ہے۔ ہم زلزلے سے تو بچ گئے ہیں مگر یہاں ہم بھوک یا سردی سے مر جائیں گے۔‘

    سوشل میڈیا پر دیگر افراد کا بھی کہنا ہے کہ حکومت کا ردِ عمل نامناسب رہا ہے اور کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ متاثر علاقوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ’ریاست اپنا کام کر رہی ہے۔‘ اُنھوں نے کہا کہ ’شروعات میں ایئرپورٹس اور سڑکوں پر مسائل تھے مگر اب چیزیں آسان ہو رہی ہیں اور کل یہ اور بھی آسان ہو جائیں گی۔‘

    رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ریاست کے ابتدائی ردِ عمل میں کچھ مسائل تھے مگر چیزیں اب ’کنٹرول میں ہیں۔‘

  18. شام کی یورپی یونین سے امداد کی باضابطہ درخواست

    شام کی حکومت نے اب یورپی یونین سے باضابطہ طور پر امداد کی درخواست کر دی ہے۔ یہ درخواست یورپی یونین کے سول پروٹیکشن مکینزم نامی ایک پروگرام کے تحت دائر کی گئی ہے جس کا مقصد قدرتی آفات کے شکار ممالک کی امداد کرنا ہے۔

    ترکی نے پہلے ہی یہ درخواست کر دی تھی مگر اب اس نے بھی کمبلوں، خیموں اور ہیٹرز کے لیے مزید درخواست کی ہے۔

    برسلز میں ایک کرائسز مینیجمنٹ سینٹر میں حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح کی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔

    شام میں امدادی ٹیمیں بھیجنا ترکی کی بہ نسبت مشکل ہے کیونکہ شمالی حصوں میں کنٹرول کہیں حکومت تو کہیں باغیوں کے پاس ہے۔

    گذشتہ روز یورپی یونین نے کہا تھا کہ وہ پہلے سے موجود امدادی نیٹ ورکس کے ذریعے شام میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

    برسلز بشار الاسد کو شام کا جائز حکمران تسلیم نہیں کرتا اور اس نے شامی حکومت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    دمشق اور برسلز کے درمیان بہت کم رابطہ کاری ہے۔ یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا کہ ٹیموں کو شامی حکام کی حمایت حاصل ہونی چاہیے ورنہ ایک مؤثر اور محفوظ انداز میں امداد فراہم کرنا ناممکن ہو گا۔

  19. اپنے بھائی کی تلاش میں ترک شخص کا بحرین سے جنوبی ترکی کا سفر

    رواں ہفتے استنبول ایئرپورٹ پر اپنی ایک تاخیر کی شکار پرواز کا انتظار کرتے ہوئے سامت یلماز نے اپنے فون میں ایک ملبے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی اسماعیل اس کے نیچے دفن ہیں۔

    سامت بحرین میں رہتے ہیں مگر وہ زلزلے کے بعد جنوبی ترکی جانے والے ہزاروں افراد میں سے ایک ہیں۔

    26 سالہ اسماعیل ایک سپرمارکیٹ کیشیئر ہیں اور وہ شامی سرحد کے ساتھ حطائے صوبے میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہ رہے تھے۔

    سامت نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے اس کی بہت یاد آ رہی ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے کے لیے بحرین سے ترکی آیا ہوں۔ وہ میرا اکلوتا بھائی ہے۔‘

    ترکی آنے کے بعد سامت گھنٹوں تک استنبول کے ایئرپورٹ پر جنوبی ترکی میں ادانہ جانے کے لیے بیٹھے رہے مگر پھر اُنھوں نے سڑک کے ذریعے جانے کا فیصلہ کیا۔

    ان کے پاس رکنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی چنانچہ اُنھوں نے رات میں خود کو آگ کے گرد بیٹھ کر گرم کیا اور دن کی روشنی کا انتظار کرتے رہے تاکہ اسماعیل کی تلاش شروع کر سکیں۔

  20. ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار سے بڑھ گئی

    ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اب 11 ہزار 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ترک حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں 8574 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    شام سے ہلاکتوں کی درست تعداد حاصل کرنا دشوار ہے تاہم اب تک تصدیق شدہ تعداد 2662 ہے۔