امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘
غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
لائیو کوریج
غزہ پر اسرائیلی بمباری ’انتہائی تباہ کن‘ ثابت ہوئی: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز
،تصویر کا ذریعہReuters
ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے غزہ میں تعینات سربراہ ہیلن اوٹنز پیٹرسن نے کہا ہے کہ غزہ پر گذشتہ ایک ہفتے سے ہونے والی بھاری بمباری ایک ’سانحہ‘ بن چکی ہے۔
ان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سڑکیں، پانی، اور بنیادی ضروریات سے منسلک دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس سے اس علاقے میں پہلے سے ہی کمزور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انھوں نے بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتالوں تک رسائی اب انتہائی مشکل ہو چکی ہے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے چاہنے والوں کو سٹریچرز پر اٹھا کر ہسپتالوں تک لا رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ غزہ کے پاور پلانٹ میں تیل کی جلد کمی ہونے والی ہے۔ اس کا صحت کے نظام پر بہت برا اثر پڑے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہاں موجود عام شہریوں کی حفاظت کے لیے فکرمند ہیں اور ہمیں بڑھتی ہلاکتوں اور صحت کے نظام پر موجود دباؤ کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔‘
اوٹینز پیٹرسن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اس وقت غزہ میں لوگ ذہنی طور پر شدید دباؤ میں ہیں۔ میری یہاں موجود سٹاف اور طبی عملے سے فون پر بات ہوئی ہے اور وہ اس وقت اس دباؤ کو سہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
بریکنگ, امریکہ کو ’پرتشدد حملوں پر شدید تشویش ہے‘
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے ڈینمارک کے دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطینیوں سے عام شہریوں کو اس تنازع کے دوران نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو اس بڑھتی کشیدگی اور سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے علاوہ بچوں کو ملبے سے باہر نکالنے جیسی خبروں پر شدید تشویش ہے۔‘
’ہمیں اس حوالے سے بھی خدشہ ہے کہ کیسے صحافیوں اور طبی عملے کو اس دوران خطرات کا سامنا ہے۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو کسی بھی دوسرے ملک کی طرح حفاظت سے جینے کا حق ہے۔‘
انھوں نے دونوں اطراف کو عام شہریوں، خاص کر بچوں کو محفوظ رکھنے کا کہا ہے اور انھوں نے زور دیا کہ ’اس کی اضافی ذمہ داری اسرائیل پر اس لیے ہے کیونکہ وہ ایک جمہوریت ہے۔‘
انھوں نے کوپنہیگن میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ’ہم سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
’اگر دونوں اطراف سے فائر بندی کی خواہش کا اظہار ہو تو ہم مدد کے لیے تیار ہیں۔‘
اسرائیل فلسطین تنازع دوسرے ہفتے میں داخل
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنغزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کو بھجانے کی کوششیں جاری
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر آج پھر بھاری بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت 200 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں اور 1200 سے زیادہ زخمی ہیں جبکہ حماس کے جوابی راکٹ حملوں کے نتیجے میں 10 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
غزہ اور اسرائیل میں بنائی جانے والی کچھ تازہ ترین تصاویر یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنآگ بھجانے والا عملہ غزہ کی ایک فیکٹری میں لگی آگ بھجانے میں مصروف
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنخبررساں ادارے ای پی اے گذشتہ رات غزہ سے اسرائیل کی جانب فائر کیا گیا راکٹ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں منہدم ہونے والی عمارت جس کے ملبے سے ایک شخص کچھ تلاش کر رہا ہے
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشناسرائیلی توپ خانہ سرحد کے قریب سے غزہ میں مختلف اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے
بریکنگ, حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ فائر، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات
جنوبی اسرائیل کے مختلف مقامات پر خطرے کے
سائرن سنائی دیے گئے جب عکسریت پسند گروپ حماس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرف راکٹ
فائر کر رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق راکٹوں کے حملوں سے
کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں ج ب حماس کے راکٹ اشدود شہر میں جا گرے۔
حماس کے مسلح ونگ نے کہا کہ اسرائیل پر راکٹ
سے حملہ پیر کی صبح اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیرشیبا، اشدود اور
اشکیلون میں سائرن کی آواز سنائی دی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اسرائیل غزہ تنازع: حماس کے ہتھیاروں کی طاقت اور کمزوریاں کیا ہیں؟, جوناتھن مارکس، خارجہ امور تجزیہ کار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ اسرائیل اور غزہ پٹی میں فلسطینی عسکریت
پسندوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں دونوں جانب تباہی اور ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر اس لڑائی
میں دونوں فریق برابری کے نہیں ہیں۔
اسرائیل کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اس کے پاس فضائیہ
ہے، مسلح ڈرون ہیں، انٹیلیجنس جمع کرنے کے نظام ہیں اور وہ جب چاہے غزہ پٹی کو نشانہ
بنا سکتا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ صرف ان مقامات کو نشانہ
بناتا ہے جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم فلسطینی علاقوں کی گنجان آبادی
کی وجہ سے عام شہریوں کی اموات نہ ہونا تقریباً ناممکن ہے۔
حماس اور اسلامک جہاد اگرچہ اس تنازع میں کمزور
فریق ہیں تاہم ان کے پاس اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہتھیار ہیں۔
حماس کے اسلحے اور اس کی قابلیت اور صلاحیت
کے بارے میں جاننے کے لیے جوناتھن مارکس کا یہ مضمون پڑھیے۔
،تصویر کا ذریعہbbc
بریکنگ, چھ سالہ فلسطینی بچی سوزی اشکنتانہ، جو اسرائیلی حملے میں زندہ بچ گئی
،تصویر کا ذریعہReuters
اس فلسطینی خاندان کا گھر اتوار کی صبح اسرائیلی
حملے میں تباہ ہو گیا۔ غزہ کے حکام کے کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں 10 بچوں
سمیت کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 200 تک
پہنچ چکی ہے۔
اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی
میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس نے 1500 راکٹ اسرائیل کی جانب داغے ہیں تاہم
ان میں سے زیادہ تر اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے فضا میں ہی تباہ کر دیے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام
آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے۔
آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے
ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور انھیں روکنے کے لیے انٹرسیپٹ کرنے والے میزائل داغتا ہے
اسرائیل فلسطین تنازع: چین کی امریکہ پر تنقید
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنچین کے وزیر خارجہ وانگ یی
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کے روز کہا
کہ انھیں بہت افسوس ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کو اس تشدد کے خلاف کھل کر بات کرنے کی
اجازت نہیں دے رہا ہے۔
وانگ یی نے اقوام متحدہ کے ورچوئل سیشن میں کہا
’یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ ایک ملک (امریکہ) کی وجہ سے سلامتی کونسل ایک آواز میں
بولنے کے قابل نہیں ہے۔ ہم امریکہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔‘
چین نے کہا کہ غزہ میں خونریزی روکنے کے لیے
عالمی برادری کو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ نے کیا کیا؟
درحقیقت اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکہ
نے گذشتہ ہفتے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے معاملے پر ہونے والی میٹنگ ملتوی کردی تھی
اور اس بارے میں کوئی بیان دینے میں کوئی جوش و خروش ظاہر نہیں کیا تھا۔
اسی دوران بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ
غزہ میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے ’پردے کے پیچھے‘ رہ کر کام کر رہی ہے اور اس مسئلے کا سلامتی کونسل کے پلیٹ
فارم سے بیان دینے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر بائیڈن نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ
عکسریت پسند جماعت حماس حملوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔
دوسری طرف فلسطین کے حامی ممالک کا کہنا ہے کہ
اپنے دفاع کا مطلب معصوم فلسطینی شہریوں پر حملہ نہیں ہے۔
سلامتی کونسل نے کیا کہا؟
دریں اثنا اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو
گٹیرس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ تنازع بند نہ ہوا تو پورا خطہ ایک ’بے قابو بحران‘
میں الجھ جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اس اجلاس کے
آغاز میں کہا ’غزہ میں تشدد بہت ہی خوفناک ہے اور یہ تنازع فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ترک صدر اردوغان کی پوپ فرانسس سے اسرائیل فلسطین تنازع پر گفتگو، اسرائیل پر ’پابندیاں‘ لگانے کی اپیل
،تصویر کا ذریعہgett
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے
صدر رجب طیب اردوگان نے پیر کو مسیحیوں کے مذہبی رہنما پوپ فرانسس سے اپیل کی کہ
وہ دنیا کو ساتھ ملائیں تاکہ اسرائیل پر فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ کے خلاف پابندیاں
عائد کی جائیں۔
صدر اردوغان اور پوپ فرانسس کے درمیان فون
کال ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ترکی نے سفارتی طور پر اپنی کوششیش تیز کر دی ہیں
تاکہ غزہ کی پٹی میں دس مئی سے جاری قتل و غارت کو بند کیا جائے جس کے نتیجے میں اب
تک تقریباً دو سو فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 58 بچے بھی شامل ہیں،
اور دس اسرائیلیوں کی بھی موت ہو چکی ہے۔
صدر اردوغان نے پوپ فرانسس کو کہا کہ
’فلسطینوں کے ساتھ قتل عام اس وقت تک جاری رہے گا تاوقتیکہ بین الاقوامی برادری
اسرائیل پر پابندیاں لگا کر سزا نہ عائد کرے۔‘
پوپ فرانسس نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ معصومانہ جانوں کا ضیاع ’قابل
مذمت ہے اور ناقابل قبول‘ ہے اور اگر یہ نہ رکا تو معاملہ مزید تباہی کی جانب بڑھ
جائے گا۔
غزہ میں میڈیا اداروں کے دفاتر تباہ ہونے کے بعد ترکی کی جانب سے امداد کی پیشکش
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کی ریاستی خبر رساں ادارے انادلو نے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور قطری میڈیا ادارے الجزیرہ کو
پیشکش کی ہے کہ وہ غزہ میں ان کے دفاتر سے کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل غزہ میں واقع ایک
عمارت جہاں ان دونوں میڈیا اداروں کے دفاتر تھے، اسرائیل نے یہ کہہ کر اسے تباہ کر
دیا کہ اس عمارت میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے ٹھکانے موجود تھے۔
انادلو کے جنرل مینیجر سردار کاراگوز نے ایک
بیان میں کہا: ’جب سے اس حالیہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران،
ہم یہ ایک واضح چیز دیکھ رہے ہیں کہ صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ
اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں اور زمینی صورتحال کے بارے میں خبر نہ دے سکیں۔‘
اسرائیل نے عمارت پر حملہ کرنے سے قبل ایک
گھنٹے کا نوٹس دیا تھا کہ عمارت کو خالی کر دیا جائے اور وہ اپنے دعوی پر قائم رہے
کہ عمارت میں حماس کا دفتر موجود ہے اور اس لیے عمارت کو ’نشانہ بنانا بالکل جائز
تھا۔‘
بریکنگ, ’میں مرنے کے لیے تیار ہو گئی تھی‘
،تصویر کا ذریعہReuters
نجلی شاوا ایک فلسطینی امدادی کارکن ہیں اور
اپنے دو بچوں کے ساتھ وہ غزہ میں رہتی ہیں۔ بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز ڈے پروگرام
سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں کہا کہ پیر کی صبح
ہونے والے حملے اتوار کو ہونے والے حملوں سے زیادہ شدید تھے۔
واضح رہے کہ اتوار کو اسرائیلی جنگی طیاروں
نے غزہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد کی ہلاکت ہو گئی۔
نجلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے ’سب
سے مشکل‘ کام اپنی چار اور چھ سالہ بچیوں کو سمجھانا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔
’جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو میری بڑی بیٹی چیخ
رہی تھی۔ وہ راہداری بھاگ کر جاتی۔ میں بس صرف انھیں بہت زور سے اپنے سینے سے لگا
لیتی، انھیں کہتی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘
لیکن انھیں اپنی کہی ہوئی بات پر خود یقین
نہیں ہے۔
’بحیثیت بالغ، اور وہ جس نے ان تمام جنگوں
کو خود سے دیکھا ہو، میں تو مرنے کے لیے تیار تھی۔ مجھے اس حقیقت کے ساتھ زندہ
رہنا تھا، مجھے اس حقیقت کے ساتھ ہی زندہ رہنا تھا چاہے میں اس ملبے کے نیچے ہی
کیوں نہ ہوں۔ گذشتہ صبح ان لوگوں کی موت ہو گئی جنھیں ہم جانتے تھے، جن کے ساتھ
کام کیا کرتے تھے، عام لوگ، نوکری پیشہ لوگ، بوڑھے، جوان۔‘
اسرائیلی اخبار ہارٹز کے کالم نویس گڈیئون
لیوی نے بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے اسرائیلی
اپنی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں پر کی جانے والی بمباری کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ
انھیں معلوم ہی نہیں کہ ’غزہ میں موت اور تباہی کا کیا عالم ہے۔‘
’کسی بھی اسرائیلی نے غزہ کی اصل تصویر نہیں
دیکھی کیونکہ یہاں کا میڈیا انھیں وہ دکھاتا ہی نہیں ہے۔ اور اسی لیے اس جنگ کے
بارے میں یہاں لوگ اتنا متفق ہیں اور سب اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘
اسرائیلی آپریشن ’پوری قوت‘ سے جاری, پال ایڈمز، بی بی سی نامہ نگار برائے خارجہ امور، یروشلم
،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ روز جنگ بندی کی بین الاقوامی اپیلوں
کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر ’پوری
قوت سے‘ حملے کچھ عرصے تک جاری رہیں گے۔
اتوار کی شب اور پیر کی صبح کو اسرائیلی
جنگی طیاروں کی جانب سے کیے گئے حملے کشیدگی کے اس دور میں سب سے بھاری حملے تھے
جس میں عسکریت پسند جماعت حماس کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مرکزی
شاہراہیں تباہ ہو گئیں اور بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہو گئی۔
اگر ان حملوں کا مقصد حماس کو راکٹ داغنے سے
روکنا ہے، تو یہ قطعی کارآمد نہیں ہے۔ حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیلی شہر بیرشیبا
اور ایشکیلون میں کئی راکٹس داغے گئے۔
امریکی حکام کہتے ہیں کہ پس پردہ وہ مصری ، قطری اور اسرائیلی حکام اور اقوام
متحدہ کے ساتھ مل کر گفتگو کر رہے ہیں تاکہ اس بحران کو ختم کیا جا سکے۔ رات گئے
ایک ٹویٹ میں امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے بھی کہا کہ پر تشدد واقعات
کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔
لیکن جو بائیڈن انتظامیہ نے مکمل جنگ بندی
کا مطالبہ نہیں کیا ہے اور گذشتہ روز امریکہ نے اقوام متحدہ کی اس بارے میں بیان
جاری کرنے کی کاوشوں کو روک دیا تھا۔
بریکنگ, ’وہ سڑکیں جو ہسپتالوں تک جاتی ہیں، وہ سب تباہ ہو گئی ہیں‘
،تصویر کا ذریعہReuters
پیر کی صبح اسرائیل نے بڑی تعداد میں غزہ کی
پٹی پر فضائی حملے کیے جو کہ گذشتہ ہفتے سے جاری لڑائی میں سب سے بھاری حملوں میں
سے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا عسکریت پسند گروہ
حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل کی طرف متعدد راکٹس فائر کیے گئے جس کے جوابمیں انھوں نے جنگی طیاروں کی مدد سے حملہ کر کے
حماس کے رہنماؤں کے مکانات کو نشانہ بنایا۔
تاہم ان حملوں کے نتیجے میں متعدد سڑکیں
تباہ ہو گئیں اور بڑے علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ 20 منٹ کے دورانیے
کے اس حملے میں 50 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور مقامی وقت کے مطابق پیر کو علی
الصبح یہ حملے کیے گئے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق انھوں نے 35 ’اہداف‘
کو نشانہ بنایا اور حماس کی 15 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرنگوں کے نیٹ ورک کو بھی
تباہ کر دیا اور اس کے علاوہ حماس کے کم از کم نو ’اہم رہنماؤں‘ کے گھروں کو نشانہ بنایا۔
غزہ میں ہلال احمر کی ترجمان سہیر زکوۃ نے
بی بی سی کو رات بھر ہونے والی بمباری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ علاقے میں
بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
’یہاں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور انفراسٹرکچر
کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ سڑکیں، وہ سڑکیں جو ہسپتالوں تک جاتی ہیں وہ سب تباہ ہو
گئی ہیں۔ پانی، بجلی، سب کی فراہمی متاثر ہوئی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں
کا ضیاع ہوا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل اور فلسطین تنازعے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس، بین الاقوامی اداروں سے اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہTwitter.@OIC_OCI
اسلامی ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی
سی) نے اتوار کے روز ایک ہنگامی اجلاس میں فلسطینیوں پر حملے کرنے پر اسرائیل کو تنقید
کا نشانہ بنایا۔
اس اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں او آئی سی نے خبردار
کیا ہے کہ جان بوجھ کر مذہبی احساسات کو بھڑکانے کی کوششیں فلسطینی عوام اور عالم اسلام
کے جذبات کو بھڑکانے کی اسرائیل کی کوششوں کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔
او آئی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’القدس (یروشلم) اور
مسجد الاقصیٰ قبلہ اول اور مسلمانوں کی تیسری مقدس مساجد ہیں۔ اسلامی دنیا کے لیے یہ
ایک سرخ لکیر ہے اور اس میں کوئی استحکام یا سلامتی نہیں سوائے اس کے کہ اسے آزاد کردیا
جائے۔‘
بیان میں مشرقی یروشلم سمیت فلسطینیوں کے علاقوں پر اسرائیل
کے قبضے اور ان کے مذہبی مقامات پر اسرائیلی حملوں اور غزہ پر حملوں کی مذمت کی گئی
ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔
’یہ حالات پورے علاقے
اور اس سے باہر کے لیے عدم استحکام پیدا کرسکتے ہیں اور اس سے پورے خطے کی سلامتی پر
اثر پڑ سکتا ہے۔‘
اتوار کو ہونے والے اس اجلاس کے بعد او آئی سی نے مزید کہا
ہے کہ وہ فلسطین کے علاقوں پر اسرائیل کے قبضے اور وہاں امتیازی نظام کے نفاذ کی مخالفت
کرتا ہے۔
او آئی سی کے اجلاس میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی قانونی
کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو ایک خصوصی بین الاقوامی عدالت
اور اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں کے ذریعے فلسطینی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سرکاری
و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے لئے درکار نقصانات اور مواد فراہم کرنے پر مجبور ہونا
چاہئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی وزیر خارجہ کی قطری، سعودی اور مصری وزرائے خارجہ سے فون پر گفتگو
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اسرائیل، غزہ اور غرب اردن
میں حملے کے متعلق قطری، مصری اور سعودی وزرائے خارجہ سے فون پر بات کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بات امریکی وزارت خارجہ نے
اتوار کو کہی ہے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ انتھونی بلنکن نے قطر کے شیخ محمد بن
عبدالرحمان الثانی سے ’شہری جانی نقصان کے پیش نظر اسرائیل، غرب اردن اور غزہ میں امن
کی بحالی کی کوششوں‘ کے متعلق بات چیت کی۔
قطری وزرات خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دو حکام نے مسجد الاقصی
کے احاطے میں بیٹھے نمازیوں اور غزہ پٹی کے محصور لوگوںپر حالیہ اسرائیلی حملے کے متعلق بات چیت کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہالثانی نے ’بین الاقوامی برادری کی جانب سے غزہ اور مقدس الاقصی میں شہریوں
پر اسرائیلی حملے کے خلاف فوری عمل‘ کی ضرورت پر زور دیا۔
دریں اثنا امریکی سینیٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اتوار کو
جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ خارجہ تعلقات پینل کے سینیئر اراکین ڈیموکریٹ جماعت کے
کرس مرفی اور ریپبلکن جماعت کے ٹوڈ ینگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حماس کے راکٹ حملوں
اور اسرائیل کے جواب کے نتیجے میں طرفین کو اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ بہت سی جانیں
تلف ہوئی ہیں اور یہ تصادم میں بڑھنا نہیں چاہیے۔‘
اسی طرح دوسرے 25 ڈیموکریٹ سینٹرز اور دو آزاد اراکین نے بھی
فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دو سو سے زیادہ فلسطینی ہلاک، 1200 سے زیادہ زخمی, حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں دس اسرائیلی ہلاک، 282 زخمی
،تصویر کا ذریعہEPA
غزہ پر اتوار کی شب ہونے والے فضائی حملے ابھی تک کے سب سے زیادہ
شدید حملے تھے جس میں عکسریت پسند جماعت حماس کی سہولیات اور مکانات کے ساتھ اہم سڑکوں
اور بجلی کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دوسرے ہفتے
میں داخل ہو گئی ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں کئی علاقوں کے بجلی
منقطع ہو گئی ہے اور بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اب تک ہونے والے حملوں کے نتیجے میں غزہ میں دو سو سے زائد فلسطینی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 58 بچے شامل ہیں۔
دس مئی سے شروع ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہے۔
حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹ حملوں کے باعث اب تک اسرائیل میں ایک بچے سمیت دس اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 282 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مغربی غزہ کے رہائشی ماد عابد ربو نے
اسرائیلی حملوں پر اپنے ’ڈر و خوف‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اس سے زیادہ
بڑی تعداد میں حملے نہیں دیکھے۔‘
اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق دو بجے
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ان کے جنگی طیارے غزہ کی پٹی میں اہداف کو نشانہ
بنانے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر حملہ 'پوری طاقت' کے ساتھ جاری رہے گا اور اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے گا۔
غزہ میں بی بی سی کے نمائندے رشدی ابوالعوف نے کہا کہ شہریوں کے لیے یہ راب بہت بھاری تھی۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران کے خاتمے کے لیے اسرائیل، مصر، قطر اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے رات گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ تشدد فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
لیکن بائیڈن انتظامیہ نے جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا اور گذشتہ روز امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی بھی طرح کے بیان جاری کرنے کی کوششوں کو روک دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
فلسطین اسرائیل تنازع کو سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ٹک ٹاک نے کیسے کردار ادا کیا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع شدت اختیار کر رہا
ہے وہاں ٹک ٹاک صارفین اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنے تاثرات کا اظہار کرنے کے لیے
استعمال کر رہے ہیں۔
وائرل ڈانس کلپس کے باعث مقبول ہونے والی یہ ویڈیو ایپ اب خبروں
کے پھیلاؤ کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن گئی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی، اسرائیل پر
حماس کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں اور فلسطین کے حق میں مظاہروں کی تصاویر اس ایپ
پر بڑے پیمانے پر شائع کی گئیں۔
اس تنازعے نے فلسطین اور اسرائیل کے لوگوں کو پوری دنیا میں
صارفین کی سکرینوں تک پہنچا دیا ہے۔
اسرائیل، فلسطین تنازع اور انٹرنیشنل قوانین: کیا حماس اور اسرائیل بین الاقوامی قانون پر عمل کر رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
بین الاقوامی قانون ریاستوں کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال
کی نگرانی کرتا ہے اور اسی وجہ سے اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں فریقین کے اقدامات
کی قانونی حیثیت پر شدید بحث جاری ہے۔
غزہ میں اپنی سابقہ کارروائیوں کی طرح امکان ہے کہ اسرائیل دلیل
دے گا کہ اس کی حالیہ کارروائی بھی اپنے دفاع کے تحت جائز ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق نمبر 51 کے مطابق اپنے دفاع کا حق
بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ اگرچہ اس اصول کے کچھ پہلو متنازع ہیں لیکن
عالمی سطح پر اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایک ریاست مسلح حملے کے خلاف اپنا دفاع
کر سکتی ہے۔
تاہم حقِ دفاع کے بنیادی حقائق اکثر متنازع رہے ہیں۔ کسی بھی
تنازعے میں فریقین اس بات پر کم ہی رضا مندی ظاہر کرتے ہیں کہ حملہ آور کون ہے اور
اپنا دفاع کون کر رہا ہے اور اسرائیل اور فلسطین کا تنازع بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو ’تشویش لاحق‘
،تصویر کا ذریعہReuters
سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں انڈیا کے ایلچی
ٹی ایس ترومورتی نے کہا ہے کہ یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو تشویش
لاحق ہے۔
انڈین سفیر نے کہا کہ ’انڈیا ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے
اور فوری طور پر تناؤ ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘
ترومورتی نے کہا: 'انڈیا فلسطینیوں کے جائز مطالبے کی حمایت
کرتا ہے اور دو قومی نظریے کے تحت (اس تنازعے کے) حل کے لیے پرعزم ہے۔'
انہوں نے کہا: ’انڈیا غزہ پٹی سے راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے،
اسی طرح اسرائیلی انتقامی کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری
کا ہلاکا ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں ایک انڈین شہری کی موت ہوگئی
ہےجو اشکلون میں نرس تھیں، ہمیں ان کی موت
کا شدید رنج ہے۔‘
واضح رہے کہ حالیہ دنوں یہ پہلا موقع ہے جب انڈیا نے اسرائیلیوں
اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازعے میں کھل کر اپنی بات رکھی ہے۔
اس سے قبل انڈیا باضابطہ طور پر بیان جاری نہیں کرتا تھا۔
وہ لمحہ جب غزہ میں میڈیا کے دفاتر اسرائیلی حملے میں تباہ ہوئے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔