امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘
غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
لائیو کوریج
بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟
اسرائیل، غزہ تنازع پر امریکہ کے ڈیموکریٹس میں بنیادی تبدیلی
’ایک طرف وہ ہیں جو فالوورز کھونے کے ڈر سے خاموش ہیں، دوسری طرف زویا ناصر ہیں‘
اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر کے بعد غزہ میں امدادی سامان کی آمد
اسرائیلی پابندیوں میں غزہ کے لوگ کیسے رہتے ہیں؟ روز مرہ زندگی کی ایک جھلک
غزہ احتجاج، لڑکیاں اور ایک چینل: یہ گجرے خریدنا کب سے فحاشی ہو گیا؟
شاہ محمود قریشی پر ’یہود مخالف‘ بیان دینے کا الزام کیوں لگایا جا رہا ہے؟
غزہ میں مارے جانے والے بچے: ’اب میرے پاس صرف اس کی یاد ہے اور گھر میں اس کی خوشبو‘
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
اسرائیل فلسطین تنازع سے متعلق مزید خبروں کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر تشریف لائیں۔
اسرائیل حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق، بائیڈن کا معاہدے کا خیر مقدم
اسرائیل کا اقوام متحدہ کو پیغام: ’ہم نے غزہ کے لیے امداد بند نہیں کی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ایک امدادی تنظیم پر غلط بیانی کا الزام لگایا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے نے کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کے لیے امداد کو روک رہا ہے۔
منگل کو اس تنظیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ غزہ کے شہریوں اور اس کے عملے کے لیے امدادی سامان تک رسائی یقینی بنائے۔ تنظیم نے کہا تھا کہ اسرائیل نے ایسی رسائی فراہم نہیں کی اس لیے وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
تاہم بدھ کو اسرائیلی دفتر خارجہ نے اس بیان کو مسترد کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے نہیں بلکہ فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملوں کی وجہ سے منگل اور بدھ کو امدادی سامان کی منتقلی رُک گئی تھی۔
بیان کے مطابق ’یو این آر ڈبلیو اے کا دعویٰ کہ اسرائیل غزہ کے لیے امدادی سامان کو روک رہا ہے غلط بیانی پر مبنی ہے اور جھوٹ ہے۔‘
’دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل سے متعلق اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
ایران کا فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہSepah News/Handout
ایران میں خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک فلسطینوں کی ’صہیونیت پر مبنی ریاست‘ کے خلاف حمایت کرتا ہے۔
ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حسین سلامی نے کہا کہ اس لڑائی سے ثابت ہوا کہ فلسطینی قوم میزائل سے اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماضی میں حماس کو ایران کی مالی اور فوجی حمایت حاصل رہی ہے۔
دونوں میں تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب حماس نے شام میں خانہ جنگی کے دوران ایران کے اتحادی اور شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت سے انکار کیا۔
تاہم اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں فریقین میں اس کے بعد تعلقات بحال ہوگئے تھے۔
حماس: اسرائیل سیز فائر کے لیے بات چیت سے انکار کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کشیدگی کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم اس کے بعد غزہ میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیل سیز فائر کے لیے پُرتشدد واقعات ختم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیز فائر کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی جاسکی کیونکہ تمام بین الاقوامی کوششیں، اور مصری کوششیں، اس اسرائیلی موقف کی وجہ سے رُک گئی ہیں جس میں وہ سیز فائر کے معاہدے سے انکار کر رہا ہے۔‘
انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر اسرائیل نے ’غزہ پر بمباری روک دی۔۔۔ تو امن کی بحالی کے لیے بات چیت کے مواقع پیدا ہوسکتے ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم کا فوجی آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف آپریشن جاری رکھے گی۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک فون کال پر انھیں کشیدگی میں کمی لانے کی تجویز دی ہے۔
نتن یاہو نے اس فون کال سے متعلق بات نہیں کی مگر کہا کہ وہ بائیڈن کی حمایت کے شکر گزار ہیں جس میں امریکہ اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کا تحفظ کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس وقت تک یہ آپریشن جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہوں جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں کر لیے جاتے جو کہ اسرائیل کے شہریوں کے لیے امن و سلامتی بحال کرنا ہے۔‘
سفارتی سطح پر سیز فائر کے مطالبات تاحال کامیاب نہیں ہوسکے۔
امریکہ نے پھر سلامتی کونسل کے سیز فائر کے مطالبے کی حمایت سے انکار کر دیا

،تصویر کا ذریعہDEMOCRATIC NATIONAL CONVENTION
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی اس مجوزہ فرانسیسی قراردار کی حمایت سے انکار کر دیا ہے جس میں اسرائیل-فلسطین کشیدگی پر سیز فائر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی ترجمان نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ ’ہم نے واضح طور پر بارہا کہا ہے کہ ہماری توجہ سنجیدہ سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے تاکہ پُرتشدد واقعات کو ختم کیا جاسکے اور ہم کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے تناؤ میں کمی کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہو۔‘
سلامتی کونسل میں امریکہ پانچ مستقل اراکین میں سے ایک ہے جس کے پاس ویٹو کا حق ہے۔
بائیڈن کی نتن یاہو کو کال میں لہجے میں تبدیلی کا تاثر, باربرا پلیٹ اشر، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے براہ راست اسرائیل پر سیز فائر کے لیے دباؤ ڈالا ہے، یا اس کشیدگی میں فوری کمی کی بات کی ہے۔
اب تک وہ اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق پر زور دے رہے تھے اور حماس سے راکٹ حملے روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
آج انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو بتایا کہ اب تناؤ میں کمی ضروری ہے اور اسرائیل کی جانب سے آپریشن کو روکنا مناسب ہوگا تاکہ سیز فائر کی راہ ہموار ہوسکے۔
انھوں نے اس بات کو حماس کی فوجی صلاحت میں کمی کے حوالے سے پیشرفت اور غزہ میں حالات سے جوڑا جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں۔
بائیڈن پر سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اس تنازع میں مداخلت کریں اور پُر تشدد واقعات ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
جمعرات کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ امریکہ شاید اب اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔
اسرائیل میں ہلاک ہونے والے تھائی لینڈ کے شہریوں کی شناخت ہوگئی
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
گذشتہ روز جنوبی اسرائیل میں فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملے میں تھائی لینڈ کے دو شہری ہلاک ہوگئے تھے جو ایک پیکجنگ فیکٹری میں ملازمین تھے۔
اب ان کی شناخت کر لی گئی ہے۔ یہ 24 سالہ سیکھرن سنگمرام اور 44 سالہ ویراوت کرن بوریراک تھے۔
اسرائیلی چینل کان نیوز نے ان کی تصاویر ٹویٹ کی ہیں۔ تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں آٹھ مزید تھائی ورکر زخمی ہوگئے تھے۔
امریکہ کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ سکتا ہے, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور، یروشلم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر بات کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
بظاہر اس سے یہ لگتا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملوں کی وجہ سے امریکہ کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس ہونے جا رہا ہے جس سے قبل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس میں شاید امریکہ اسرائیل کی اتنی حفاظت نہیں کر پائے گا۔ امریکہ کو اسرائیل کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
نتن یاہو نے آج غیر ملکی سفارتکاروں سے بات چیت میں واضح کیا تھا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی آپریشن کا کوئی ٹائم فریم قائم نہیں کیا جاسکتا۔
گذشتہ شب کے دوران مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے پیشکش کی تھی کہ جمعرات کی صبح تک سیز فائر کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
امریکہ کو ’آج سے کشیدگی میں قبل ذکر کمی کی توقع‘

،تصویر کا ذریعہEPA
جس وقت اسرائیل لبنان میں متعدد اہداف کا تعاقب کر رہا تھا اسی دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی۔
خطے میں حملے اور جوابی حملے شروع ہونے کے بعد سے یہ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان چوتھی فون کال تھی۔
امریکہ کو اسرائیل کے اہم اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس نے اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تنازع پر مشترکہ بیان کو روکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان صورتحال سے متعلق ’تفصیلی بات چیت‘ ہوئی اور اس میں سفارتی سطح پر سیز فائر کی کوششوں پر مشاورت شامل ہے۔
بیان کے مطابق ’صدر نے (اسرائیلی) وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں قبل ذکر کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ’مقاصد کا خیال رکھ رہی ہے‘ اور ’ہم سٹاپ واچ لیے نہیں کھڑے۔‘
اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک سیز فائر کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ حماس کے اہلکار صلح کی کوششوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں تاہم انھوں نے اسرائیل پر ’ہٹ دھرمی‘ کا الزام لگایا ہے۔
