امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. نیتن یاہو: اسرائیلی حملوں نے حماس کو کمزور کر دیا ہے

    Palestine

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے نو روزہ حملوں نے ’حماس کی صلاحیتوں کو کئی سالوں تک کمزور کر دیا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

    دریں اثنا ، اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں اور توپخانے سے حملے جاری ہیں جبکہ حماس کی طرف سے بھی اسرائیل میں راکٹ اور مارٹر گولوں سے جوابی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    اطلاعات کے مطابق منگل کی رات اسرائیلی شہر اشدود اور اسقلان پر راکٹ حملے کیے گئےہیں۔

    اس سے قبل جنوبی اسرائیل میں فلسطینی حملوں میں دو تھائی باشندے ہلاک جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چار فلسطینی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

    دوسری طرف تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں ہیں۔

    فرانس نے مصر اور اردن کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    امریکہ نے ابھی تک سلامتی کونسل کی قرارداد کے مشترکہ اعلامیہ کو روک رکھا ہے لیکن اس نے اور یوروپی یونین نے خطے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اسرائیل نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد کے کم از کم 150 ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔

    غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والے حماس نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 215 افراد ہلاک ہوئے ہیں ، جن میں 100 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے راکٹ حملوں میں دو بچوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 52،000 افراد بے گھر ہوگئے ہیں ، ان میں سے بیشتر سکولوں میں رہائش رکھنے پر مجبور ہیں۔

  2. اسرائیلی فوج غزہ میں ’مزید فضائی حملوں کے لیے تیار‘

    اسرائیلی فوج غزہ میں ’مزید فضائی حملوں کے لیے تیار‘

    اخبار یروشلم پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی گروہ حماس کی جانب سے قائم کردہ زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک پر مزید حملوں کی تیاری کر رہی ہے۔

    خبر کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ہدائی زلبرمین نے کہا ہے کہ آپریشن میں نئے مقامات پر فضائی حملے کیے جائیں گے۔

    آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ انھوں نے درجنوں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے دہشتگردی کی کارروائیاں کی جاتی تھیں اور حماس کی ایک 15 کلو میٹر طویل زیر زمین سرنگ تباہ کر دی ہے۔

    زیر زمین سرنگوں کو نشانہ بنانا اسرائیلی فضائی حملوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ ’ہم سیز فائر کی بات نہیں کر رہے۔ ہمارا دھیان صرف فائرنگ پر ہے۔‘

  3. اسرائیلی فضائی حملے کے بعد غزہ کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی

    اسرائیلی فضائی حملے کے بعد غزہ کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی

    غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پینٹ کے ایک گودام میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    اسرائیلی فضائی حملے کے بعد غزہ کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی

    روئٹرز کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی شب کے دوران ایک شیل اس عمارت پر لگا تھا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس گودام کو نشانہ کیوں بنایا گیا۔

    تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فائر فائٹرز اس آگ پر قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور گودام میں موجود سامان کو بچانے کے لیے عملہ متحرک ہے۔

    اسرائیلی فضائی حملے کے بعد غزہ کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی
  4. غزہ میں ہلاک ہونے والے بچے ’امدادی منصوبے کا حصہ تھے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ناروے کی ایک امدادی تنظیم نے بتایا ہے کہ غزہ میں جاری حملوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے جو اس کے زیر اثر ایک امدادی منصوبے کا حصہ تھے۔

    ناروے ریفیوجی کونسل کے سربراہ جین ایگلینڈ نے کہا ہے کہ ’ہمیں یہ جان کر افسوس ہوا ہے۔۔۔ ہم صدمے سے گزرنے والے ان بچوں کی مدد کر رہے تھے۔ وہ گھروں میں تھے اور انھیں لگا تھا کہ وہ وہاں محفوظ ہوں گے۔‘

    غزہ میں اس حالیہ کشیدگی کی ابتدا سے اب تک کم از کم دو اسرائیلی بچے حماس کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

  5. ’فلسطینی لوگ سیز فائر کے لیے تیار ہیں‘

    ’فلسطینی لوگ سیز فائر کے لیے تیار ہیں‘

    مغربی کنارے میں قائم فلسطینی سیاسی جماعت کے رہنما مصطفیٰ البرغوثی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’فلسطینی عوام سیز فائر کے لیے تیار ہے۔ مگر اسرائیل سیز فائر ہونے نہیں دے رہا‘۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہاہو نے کہا تھا کہ وہ حماس اور دیگر فلسطینی جنگجو گروہوں کی جانب سے راکٹ حملے روکنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے شہریوں کے لیے قیام امن تک فضائی حملے جاری رہیں گے۔

    اس کے برعکس مصطفیٰ البرغوثی نے کہا ہے کہ ’اگر اسرائیل اپنے ایف 16 طیاروں کے ذریعے فضائی حملے اور راکٹ داغنا جاری رکھنا چاہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ فلسطینی اپنا دفاع نہیں کرسکتے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔‘

    انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’سیز فائر کا مطلب ہے کوئی راکٹ نہیں داغے گا، یعنی دونوں فریقین میں سے کوئی بھی حملے نہیں کرے گا۔‘

  6. جرمنی اور اردن کا ’فوری‘ سیز فائر کا مطالبہ

    جرمنی اور اردن کا ’فوری‘ سیز فائر کا مطالبہ

    جرمن چانسلر اینگلا میرکل اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم نے غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے مابین جاری کشیدگی کے دوران فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔

    میرکل کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ’اتفاق کیا ہے کہ فوری طور پر سیز فائر کی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ سیاسی مذاکرات کی بحالی کے لیے ماحول پیدا کیا جاسکے۔‘

    فرانسیسی وزیر اعظم نے بھی پُر تشدد واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے غزہ میں امدادی کارروائیوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ رسائی دی جائے۔

  7. اسرائیل میں فلسطینی جنگجوؤں کے حملے میں تھائی لینڈ کے دو شہری ہلاک

    اسرائیل میں فلسطینی جنگجوؤں کے حملے میں تھائی لینڈ کے دو شہری ہلاک

    جنوبی اسرائیل کے علاقے ایشکول میں فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملوں میں تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے دو ملازمین ہلاک ہوگئے ہیں۔

    تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ حملے میں اس کے دو شہریوں کے ہلاک ہونے کے علاوہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ غزہ کے ساتھ اسرائیلی سرحد سے قریب 14 کلومیٹر دور پیش آیا۔

    وزارت کے مطابق تھائی لینڈ کے یہ دو شہری ایشکول کے علاقے میں ایک زرعی زمین پر کام کر رہے ہیں۔

    بی بی سی تھائی سروس سے بات کرتے ہوئے حملے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ اس وقت پیش آیا جب یہ لوگ کھانے کے وقفے پر تھے۔ ’میں نے آسمان میں دو دھماکے سنے اور تنبیہ کے لیے کوئی گھنٹی نہیں بجائی گئی۔ 10 سے زیادہ ملازمین بنکروں میں چھپ گئے تھے۔‘

    تھائی لینڈ کے ایک سینیئر سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے قریب 4000 شہری غزہ کے اردگرد 100 کلو میٹر کے دائرے میں ملازمت کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

  8. ’غزہ میں شہری خوفزدہ ہیں‘

    ’غزہ میں شہری خوفزدہ ہیں‘

    اقوام متحدہ سے منسلک فلسطینی پناہ گزین کی مدد کے لیے قائم تنظیم یو این آر ڈبلیو اے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غزہ کے شہری ’خوفزدہ‘ ہیں۔

    خطے میں تنظیم کی امدادی کارروائیوں کے سربراہ متھیاس شمال کا کہنا ہے کہ ’میرے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران بھرپور جنگ جیسا محسوس ہوا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ایجنسی کے 58 سکولوں میں قریب 48 ہزار لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

    ’میں نے سنا ہے کہ کم از کم آٹھ ہزار لوگوں کے پاس اب کوئی گھر نہیں جہاں وہ پنا لے سکیں کیونکہ وہ یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا انھیں بُری طرح نقصان پہنچا ہے۔ کئی لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ غزہ کے خوفزدہ عوام ’پریشان ہیں کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا، بم دھماکہ کہاں ہونے والا ہے۔‘

  9. امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟, ریئلٹی چیک

    اسرائیل، امریکہ فوجی امداد، دفاع، مقصد، میزائل

    امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی جانب سے اس نوعیت کے سوالات کا سامنا ہے کہ امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد سالانہ دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔

    سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’ہمیں سالانہ قریب چار ارب ڈالر کی طرف غور سے دیکھنا چاہیے جو ہم اسرائیل کو بطور فوجی امداد دیتے ہیں۔‘

    سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی امداد دی تھی۔ یہ امداد اوباما انتظامیہ کے اس طویل مدتی وعدے کی تکمیل کا حصہ ہے جو سنہ 2028 تک جاری رہے گی۔

    کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق اس امداد کا اکثریتی حصہ فوجی معاونت کے لیے ہے۔ اس سے اسرائیل کا دفاعی نظام مضبوط کیا گیا ہے۔ اس پیسے کی مدد سے اسرائیل اب دنیا کی جدید ترین فوجوں میں سے ایک ہے۔

    اسرائیل نے اس پیسے کے ذریعے ایف 35 طیارے خریدے اور سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو میزائل کا دفاع کرنے والے نظام کے لیے 50 کروڑ ڈالر دیے۔ اس میں اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کے لیے سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو داغے گئے راکٹ حملوں کو روکتا ہے۔

    سنہ 2011 سے امریکہ نے اسرائیل کو آئرن ڈوم کے لیے 1.6 ارب ڈالر جاری کیے ہیں۔

    دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے امریکہ سے سب سے زیادہ غیر ملکی امداد وصول کی ہے۔

    دریں اثنا صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کے لیے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد بحال کر دی ہے جس سے فلسطینی پناہ گزین کی مدد کی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ امداد 2018 میں روک دی تھی۔

  10. اسرائیل نے غزہ کے ساتھ سرحدی راستے بند کردیے, جوابی حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں متاثر

    غزہ

    اسرائیل نے غزہ کے ساتھ سرحد پر واقع معبر كرم ابو سالم اور معبر بيت حانون کراسنگ کو بند کر دیا ہے۔

    ان سرحدی راستوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے کھولا گیا تھا تاہم ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے جنوبی اسرائیل میں حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک امدادی کارروائیوں کی ایک تنظیم او سی ایچ اے کے ترجمان جینس لائیرک کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے رضاکاروں کا غزہ داخل ہونا ’انتہائی ضروری‘ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’آئندہ دنوں میں امدادی سامان کی غزہ رسائی کو برقرار رکھا جائے اور غزہ میں نقل و حرکت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔‘

  11. اسرائیل فلسطین تنازع: 'خان یونس کے قصائی' یحییٰ السنوار کے گھر پر حملہ

  12. اسرائیلی وزیر دفاع: غزہ میں ہزاروں مزید اہداف نشانے پر ہیں

    اسرائیلی وزیر دفاع: غزہ میں ہزاروں مزید اہداف نشانے پر ہیں

    اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ریڈار پر غزہ میں ’ہزاروں مزید اہداف ایسے ہیں جنھیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔‘

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’آئی ڈی یف کا منصوبہ یہ ہے کہ حماس پر حملے جاری رکھے جائیں اور یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم مکمل طور پر اور طویل دورانیے کے لیے امن قائم نہ کردیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ڈی ایف نے سرحدوں پر تعیناتیاں کر دی ہیں اور وہ تیار ہیں۔ اور اسرائیلی کے شہریوں یا اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے غیر ملکی عناصر کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘

  13. غزہ میں تعمیر نو کے لیے مصر 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا

    غزہ میں تعمیر نو کے لیے مصر 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا

    غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے انفراسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کے بعد مصر کا کہنا ہے کہ وہ یہاں تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا۔

    مصر کے صدر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تعمیر نو کے لیے کمپنیوں کو وہاں رسائی فراہم کریں گے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکخواں سے ملاقات کی ہے۔

  14. اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو مزید ہلاکتوں کی اطلاع

    اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو مزید ہلاکتوں کی اطلاع

    اسرائیلی طبی عملے کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو غیر ملکی افراد راکٹ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

    میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ دونوں مرد، جو 30 سال سے زیادہ عمر کے ہیں، زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے۔ وہ دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے۔

    بئر السبع کے شہر میں ایک دوسرے حملہ میں سات افراد زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک فرد تشویشناک حالت میں ہے۔

  15. ’فلسطین کی آزادی‘ کا نعرہ لگانے پر برطانوی پولیس اہلکار زیرِ تفتیش

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    لندن میں ایک پولیس اہلکار نے احتجاجی مظاہرے کے دوران ’فری پیلسٹائن (فلسطین کی آزادی)‘ کا نعرہ لگایا جس کے بعد ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

    اہلکار کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم ان کی کئی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھیں۔

    لندن پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مثبت طریقے سے تعاون کریں تاہم انھیں اس (مظاہرے) میں حصہ لینے یا سیاسی موقف اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔‘

    اس میں مزید کہا گیا کہ ’پیشہ ورانہ معیار کے ڈائریکٹوریٹ کو مطلع کیا جاچکا ہے اور ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا مزید کارروائی مناسب ہوگی۔‘

  16. بریکنگ, ’جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملے سے 10 زخمی‘

    میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے علاقے ایشکول میں ایک راکٹ حملے میں 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔

    اخبار ہاریٹز کے مطابق غزہ میں فلسطینی جنگجوؤں نے اس علاقے پر 50 راکٹ داغے جن میں سے ایک نے گودام کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرا ایک رہائشی علاقے کے قریب جا گِرا۔

    اس سے قبل طبی عملے نے بتایا تھا کہ غزہ کے قریب معبر بيت حانون کراسنگ پر مارٹر شیل سے ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں نے اس وقت حملہ کیا جب امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کراسنگ کو کھولا گیا تھا۔

  17. بریکنگ, غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں کی جانب سے مکمل ہڑتال

    palestine

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل کئی دن سے فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فلسطین اتھارٹی اور اسرائیلی عرب رہنماؤں نے مقبوضہ غرب اردن اور اسرائیل کے عرب علاقوں میں مکمل ہڑتال کی کال دی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند رہیں۔

    ہڑتال کی کال دینے والے منتظمین میں سے ایک عصام بکر نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’ہم ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں یہ کہنے کے لیے کہ اب غزہ میں جارحیت کو بند کیا جائے۔ اور ہم ساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مسجد الاقصی پر حملے بند کیے جائیں اور آبادکاری اور قبضوں کو بند کیا جائے اور فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے۔‘

    غزہ میں لڑائی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب چند روز قبل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس پرتشدد تنازع کا آغاز ہوا۔

    مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں اور خدشات حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

    اس کے بعد آٹھ مئی کو مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں 53 فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔

    اسرائیلی پولیس کی جانب سے جارحیت کے بعد عسکریت پسند گروہ حماس نے غزہ سے اسرائیلی شہروں کی جانب راکٹ داغنے شروع کر دیے جس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کا آغاز ہو گیا۔

    palestine
    palestine
  18. اندرونی اختلافات کے باوجود یورپی یونین کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبہ کی توقع

    gaza

    توقع ہے کہ یورپی یونین منگل کو ہونے والے ایک ایمرجنسی ورچوئل اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین میں جاری پرتشدد واقعات کو روکنے کا مطالبہ کرے گی۔

    ای یو کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے اس سے قبل شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔

    لیکن اس تنازع کے حوالے سے ای یو میں خود اختلافات ہیں اور کئی ممبر ممالک اسرائیلی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور اس پر کئی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ان اختلافات کی وجہ سے ای یو کا اس تنازع کو حل کرنے میں کردار کم ہوگا۔

    france

    دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر مصر کے صدر اور اردن کے بادشاہ کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو کریں گے۔

    توقع ہے کہ ان مذاکرات میں اسرائیل اور فلسطین میں عسکریت پسندوں کے مابین جاری جھڑپوں کو ختم کیے جانے کے بارے میں بات چیت ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتنیاہو سے فون پر بات کی تھی اور انھوں نے جنگ بندی کے مطالبے کی تائید بھی کی تھی۔

    صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے مصر اور دیگر ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    تاہم دوسری جانب امریکہ نے ایک ہفتے کے دوران تیسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش کی گئی قرار داد کو ویٹو کر کے بلاک کر دیا۔

    اس کے علاوہ امریکی اخبار واشنٹگن پوسٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے 735 ملین ڈالر مالیت کے جدید اسلحے کی فروخت کی منظوری دی ہے اور امریکی کانگریس کو اس حوالے سے باضابطہ تصدیق پانچ مئی کو کی گئی تھی۔

  19. ’اسرائیلی حملوں میں شہری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے‘

    gaza

    فلسطین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ شب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں نے غزہ کی پٹی میں شہری عمارتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مغربی حصے میں واقعے علاقے میں اپنے حملوں سے سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور مختلف اضلاع میں بھی حملے کیے۔

    خبر کے مطابق شہریوں کے گھروں پر 50 سے زیادہ حملے کیے گئے تاہم حکام نے کہا کہ ان میں کسی کی موت نہیں ہوئی۔

    واضح رہے کہ پیر کو رات گئے اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ کرنے والی واحد لیب کو تباہ کر دیا گیا اور ہلال احمر کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  20. اسرائیلی حملوں نے حماس کی سرنگیں تباہ کر دی ہیں: اسرائیلی فوج

    gaza

    اسرائیلی افواج نے مقامی میڈیا کو گذشتہ شب کیے جانے والے حملوں سے آگاہ کیا ہے جس میں ان کا دعوی تھا کہ حملوں کی مدد سے عسکریت پسند گروہ حماس کے ’میٹرو‘ نامی سرنگوں کے نیٹ ورک میں 10 سے 15 کلومیٹر کی سرنگوں کو تباہ کر دیا گیا۔

    فوجی ترجمان بریگیڈئیر ہدائی زلبرمین نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے 60 جنگی جہازوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔

    اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق انھوں نے کہا: ’ہمیں زیر زمین اس نیٹ ورک کے بارے میں علم ہے اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس میں داخلی راستے کہاں کہاں ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کی مدد سے انھوں نے حماس کے جنگجوؤں کو مجبور کیا ہے کہ وہ زیر زمین سرنگوں کے بجائے اوپر آ کر جنگ کریں۔

    انھوں نے مزید دعوی کیا کہ آٹھ روز قبل شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک حماس کے 150 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 212 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس میں سے 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔

    ایک اور اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترجمان زلبرمین نے کہا کہ ان کی فوج حماس کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور جب اس آپریشن کا ماحول سازگار ہو جائے گا تو انھیں اپنی کامیابی کی امید ہے۔‘