امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘
غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
لائیو کوریج
بریکنگ, روسی صدر پوتن کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ان بڑھتی ہوئی آوازوں میں اپنی
آواز شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جاری کشیدگی
اور پر تشدد واقعات کو فوراً روکا جائے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انھی
واقعات کی وجہ سے ’ بڑی تعداد میں پر امن افراد کی جانیں گئی ہیں جن میں کئی بچے
بھی شامل ہیں۔‘
’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں فریقین کی جانب سے
پرتشدد اقدامات کو بند ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں
کی روشنی میں حل ڈھونڈنا چاہیے۔‘
’ان حملوں سے غزہ کی عمارتیں ایسے ہل گئیں جیسے کوئی زلزلہ آیا ہو‘
بی بی سی کے غزہ میں نامہ نگار رشدی ابوالاعوف گذشتہ شب
ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بارے میں سلسلہ وار ٹویٹس کر رہے تھے جس میں اسرائیل
نے غزہ پر 60 سے زیادہ حملے کیے۔
عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے اسرائیل ہر 90 راکٹس داغے گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
غزہ میں گذشتہ شب کیے گئے اسرائیلی حملوں میں ایک بھی موت نہیں ہوئی: محکمہ صحت
،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت کے حکام
نے کہا ہے کہ دس مئی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں گذشتہ شب پہلا موقع تھا
جب کسی فلسطینی کی موت نہیں ہوئی۔
غزہ کے رہائشیوں کے مطابق گذشتہ شب اسرائیل کی جانب سے 60 حملوں کیے گئے۔
روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسی اثنا میں اسرائیل
پر کیے گئے راکٹ حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
واضح رہے کہ عالمی طاقتیں غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششیش
کر رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مرکزی ترجمان بریگیڈئیر جنرل ہدائی زلبرمین
نے کہا کہ ان کی فوج غزہ آپریشن کم از کم اگلے 24 گھنٹوں تک جاری رکھیں گی اور ان
کے پاس مخصوص اہداف کی فہرست موجود ہے۔
آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی
فوج جنگ بندی کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہی اور ان کی تمام تر توجہ حملوں پر
ہے۔‘
بریکنگ, غزہ گوگل پر دھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟
بریکنگ, اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں کووڈ 19 ٹیسٹنگ کرنے والی واحد لیب تباہ، ہلال احمر کا دفتر بھی متاثر
،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل
کی جانب سے غزہ میں حملوں کے نتیجے میں وہاں کووڈ کی ٹیسٹنگ کے لیے قائم کی گئی
واحد لیبارٹری تباہ ہو گئی ہے۔
غزہ کی پٹی میں دنیا بھر میں کووڈ کی
مثبت شرع دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی شرح میں سے ہے اور اس وقت وہاں کیے
گئے ٹیسٹس میں سے 28 فیصد مثبت آ رہے ہیں۔
اس تازہ ترین حملے کے نتیجے میں ہلال
احمر کا دفتر بھی متاثر ہوا ہے۔
غزہ کی پٹی میں موجود ہسپتال مریضوں سے
بھر گئے ہیں اور اس علاقے میں گذشتہ 15 سالوں سے اسرائیلی پابندیاں عائد ہیں اور
سہولیات کی شدید کمی ہے۔
غزہ کی رہائشی روبا ابو ال عوف نے کہا
کہ وہ ایک سخت رات کے لیے تیار ہیں۔
’ہمارے پاس اور کچھ کرنے کو ہے ہی نہیں
بس گھر پر بیٹھنے کے علاوہ۔ موت کبھی بھی آ سکتی ہے۔ یہاں ہونے والے بمباری بہت
زیادہ ہے اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس پر کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی بمباری
کے بعد اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 2500 کے اپنے
مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
غزہ میں معیشت پر تحقیق والے
ادارے پال تھنک سے منسلک عمر شعبان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’بدقسمتی سے
گذشتہ نو دنوں سے ہر رات کو حالات میں خرابی بڑھ جاتی ہے۔ اتنے سارے مقامات کو
نشانہ بنایا گیا ہے۔ صرف دو منٹ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے۔ اتنی
ساری عمارتیں تباہ ہو گئیں اور ہزاروں لوگوں کو اپنے مکانات سے دربدر ہونا پڑا ہے۔
اب تک کم از کم 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور سرحد بند ہونے کے
باعث یہاں پر بجلی بھی نہیں ہے۔‘
اسرائیل اور فلسطین کی حالیہ کشیدگی کے دوران کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بہت سے
ممالک نے اپنی آواز بلند کی ہے اور فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایسے بھی
کئی ممالک ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازع میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا
ساتھ دے رہے ہیں۔
ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور
تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں
کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک
کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو
جائز قرار دیتی ہیں۔
غزہ میں اموات کی تعداد میں اضافے کے باوجود اسرائیلی فوج کا اپنی حکمت عملی کا دفاع, پال ایڈمز، نامہ نگار برائی سفارتی امور، یروشلم
،تصویر کا ذریعہEPA
بین الاقوامی سطح پر
غزہ میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے لیکن ساتھ
ساتھ اسرائیل بھی اپنے فیصلوں کی توجیہات پیش کر رہا ہے۔
ڈھیروں بریفنگ میں
سینئر فوجی اہلکار اپنے حملوں کے اہداف اور اُن کو حاصل کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن
پیش کر رہے ہیں۔
لیکن یہ آپریشن کب
تک چکے گا؟ ایک فوجی افسر کے مطابق صورتحال کافی عرصے تک ایسی ہی رہ سکتی ہے۔
اعدادوشمار کا جائزہ
لیں تو اسرائیل کے مطابق پہلے ہفتے میں اس کی فوج نے 820 مختلف اہداف کو نشانہ
بنایا ہیں میں سے کچھ پر بار بار بمباری کی گئی۔
اس کے برعکس گذشتہ
ایک برس میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں
180 اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
جواب میں حماس اور
دیگر عسکریت پسند تنظیموں نے اسرائیل کی جانب 3150 سے زیادہ راکٹ چلائے۔ اس کے
برعکس 2019 میں غزہ سے اسرائیل کی جانب کُل 2045 داغے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کا آپریشن گارڈیئن آف دی والز یعنی دیواروں کے محافظ حماس کی بنائی گئی سرنگوں سے شروع ہوا تھا، جو اسرائیلی سرحد کے قریب کھلتی ہیں۔
سرنگوں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر اسرائیلیوں کے گھر ہیں اور ان آبادیوں کے دفاع کو جواز بناتے ہوئے یہ آپریشن شروع کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہون ےوالے قریباً دو سو فلسطینیوں میں سے 130 افراد عکسریت پسند تھے، اور یہ ان کے مطابق ایک بہت ’احتیاط سے دیا گیا اندازہ ہے۔‘
یہ تعداد یقینی طور پر فلسطینی صحت حکام کی جانب سے دی گئی تعداد سے کہیں کم ہے جس کا کنٹرول غزہ میں حماس کے پاس ہے۔ ان کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں میں سے سو سے زیادہ بچے اور خواتین کی ہلاکت ہوئی ہے لیکن وہ کبھی بھی جنگجوؤں کے بارے میں نہیں بات کرتے۔
اسرائیل یہ تسلیم کرتا ہے کہ غزہ کے شہری متاثر ضرور ہو رہے ہوں گے لیکن اس کا ذمہ دار وہ حماس کو ٹھیراتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ شہری علاقوں سے اپنے آپریشن کر رہے ہیں۔
اسرائیل فلسطین تنازع: عالمی برادری کی شہریوں کی جانیں بچانے کی اپیل
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام
متحدہ ، امریکہ اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی برادری نے فلسطین اور اسرائیل تنازع میں پھنسے شہریوں کی زندگیاں بچانے
کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ
میں ملبے کے نیچے سے بچوں کی نکالنے کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں شہریوں کی
محفوظ پناہ گاہ کے لیے بھاگتے ہوئے تصاویر پر عالمی برادری نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل
فلسطین تنازعے کی حالیہ لہر اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں جنگ بندی
کے آثار بہت کم ہیں۔
غزہ
کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی
شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی
دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل
کا کہنا ہے کہ غزہ پر ان کے حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد عسکریت پسند
ہیں اور ان حملوں میں بچوں کی ہلاکتیں غیر ارادی ہیں۔
تاہم
غزہ میں عکسریت پسند تنظیم حماس اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔
پیر
کی رات کو بھی اسرائیل کی لبنان کے قریب شمالی اور جنوبی سرحدوں پر سائرن کی
آوازیں گونجتی رہیں اور وہاں راکٹ حملے جاری رہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جبکہ اسرائیلی رہنماؤں نے بھی حملے جاری رکھنے کے عزم کو دوبارہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب عالمی رہنماؤں کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی اور اس میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اس تنازعے میں معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عام شہریوں کے ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کریں لیکن انھوں نے حماس کی جانب سے شہری آبادی کو ڈھال بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر ایک جموری ملک کی حیثیت سے اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بھی پہلے سے مخدوش حالات کا شکار غزہ میں شہری انفراسٹریکچر کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں 40 سکول اور چار ہسپتال ’مکمل طور پر یا جزوی طور‘ پر تباہ ہو چکے ہیں۔
جبکہ صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہنگامی سروسز کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے بھی کہا ہے کہ ہسپتالوں ہر حملوں کو فوری بند کرنا چاہیے۔
’امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے‘: وائٹ ہاؤس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی
وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پیر کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے اور
امریکی صدر نے اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدارتی دفتر وائٹ
ہاوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی
وزیر اعظم کے درمیان پیر کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکی صدر نے اسرائیل اور
فلسطین تنازع میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاوس کے بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن
کے جنگ بندی کے متعلق اظہار خیال پر اسرائیلی وزیر اعظم کے جواب کے متعلق کوئی بات
نہیں کہی گئی ہے۔
وائٹ ہاوس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی صدر نے
ٹیلیفونک رابطے میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس تنازع کے حل کے لیے مصر
اور دیگر فریقین کے ساتھ امریکی رابطے پر بات کی ہے۔‘
دوسری جانب پیر کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملے
جاری رہے جبکہ حماس کی جانب سے بھی جوابی کارروائی میں اسرائیلی شہروں کو راکٹوں
کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری
حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل
ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ
امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس تنازع میں معصوم شہریوں
کی زندگیاں محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے حماس
کے حملوں کے جواب میں اسرائیل کے دفاع کے حق کی بھی بھرپور حمایت کی گئی۔‘
وائٹ ہاؤس کے بیان میں یہ
بھی کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں حماس اور دیگر عکسریت پسند گروہوں کے
خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘
اسرائیل کا حماس کے فوجی اڈے پر بمباری کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شمال میں غزہ کی پٹی پر واقع حماس کے اندرونی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ عمارت حماس کے ’مرکزی انفراسٹرکچر کا حصہ ہے جہاں تنظیم کی فوجی انٹیلیجنس کام کرتی ہے۔‘
ان فضائی حملوں کے بعد اب تک وہاں ہلاکتوں یا زخمیوں کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
امریکہ نے سلامتی کونسل کو ایک بار پھر اسرائیل فلسطین تنازع پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا
،تصویر کا ذریعہEPA
مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے مطابق امریکہ نے ایک ہفتے میں تیسری مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔
چین، تیونس، اور ناروے کی جانب سے مشترکہ اعلامیے کی تحریر میں ’تشدد کے خاتمے اور عالمی قوانین کا احترام اور عام شہریوں اور بچوں کی حفاظت‘ کو یقینی بنانا شامل کیا گیا تھا۔
اسے سلامتی کونسل کے 15 ممبران نے پیر کے روز منظور کرنا تھا لیکن ایک سفارتکار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ نے کہا کہ ’وہ اس اعلامیے کی اس وقت حمایت نہیں کر سکتا۔‘
سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کے روز آن لائن منعقد ہوا اور اس کا انعقاد جمعے کو ہونا تھا، تاہم امریکہ جو اسرائیل کے اتحادی ہے، اس نے یہ اجلاس ملتوی کروایا تھا۔
ایدھی فاؤنڈیشن ’فلسطینیوں کی مدد کے لیے غزہ میں امدادی ٹیم بھیجے گی‘
،تصویر کا ذریعہEdhi Foundation
پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ ان کا فلاحی ادارہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی مدد کے لیے امدادی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔
انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے فلسطینی سفارتخانے سے بات کی ہے اور انھوں نے ہماری مدد کا خیر مقدم کیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو منگل تک فلسطینی سفارتخانے سے ویزا جاری کر دیا جائے گا۔
فیصل ایدھی کے مطابق کچھ امدادی ٹیمیں مصر میں قیام کریں گی جبکہ باقی غزہ میں داخل ہوں گی۔
بعد ازاں فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود بھی مصر اور فلسطین دونوں کا ویزہ لیں گے جس کے بعد وہ پہلے مصر اور وہاں سے فلسطین روانہ ہوں گے۔ وہ اپنا کیمپ مصر میں لگائیں گے جہاں سے ضرورت کے مطابق طبی سامان خرید کر فلسطین روانہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ انڈیا میں کورونا کی صورتحال سنگین ہونے کے بعد فیصل ایدھی نے ایک خط میں وزیراعظم نریندر مودی کو سٹاف اور ایمبولینس بھیجنے کی پیشکش کی تھی تاہم انڈین حکومت نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
فیصل ایدھی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک ہفتے کے اندر ان کے ویزے لگ جائیں گے جس کے بعد وہ اور ان کا بیٹا سعد ایدھی فلسطین روانہ ہوجائیں گے۔
اسرائیل کب تک فائر بندی کی اپیلیں نظر انداز کر سکتا ہے؟, پال ایڈمز، بی بی سی سفارتی نامہ نگار، یروشلم
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ تمام اشارے اس بات کی جانب نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسرائیلی حملے کچھ عرصے تک ایسے ہی جاری رہیں گے۔
حکام کے مطابق سلسلہ وار حملوں کا مقصد دستیاب وقت میں حماس کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔
لیکن انھیں کتنا وقت دستیاب گیا ہے؟
امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے گذشتہ رات ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’تشدد کا فوری خاتمہ ضروری ہے‘
تاہم صدر جو بائیڈن نے اب تک وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کرتے دکھائی دیے ہیں اور کہتے رہے ہیں اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا پورا حق ہے۔
اور امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیل کو حملے بند کرنے کے حوالے سے بیان جاری کرنے روک دیا ہے۔
نیتن یاہو یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے پاس اب بھی غزہ میں مزید کامیابی سمیٹنے کا وقت موجود ہے اگر اسرائیل اس دوران بہت زیادہ عام شہریوں کو ہلاک نہ کرے۔
گذشتہ رات کو کیے جانے والے بھاری حملوں میں ایک عسکریت پسند تنظیم کے سینیئر کمانڈر کے علاوہ کسی کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملیں۔
تاہم اب تک 40 ہزار عام شہریوں کو اس تنازع کے باعث اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں اور اقوامِ متحدہ بگڑتی ہوئی صورتحال کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔
وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
فرانس اور مصر کا فوری طور پر سیز فائز قائم کرنے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس اور مصر نے مشترکہ طور پر غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک باقاعدہ بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی دونوں کو ’پُرتشدد واقعات میں اضافے اور شہری آبادی کے متاثرین کے حوالے سے تشویش ہے۔‘
انھوں نے فوری طور پر سیز فائر کے لیے تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مصری صدر سوڈان پر ایک اجلاس کے سلسلے میں پیرس میں موجود ہیں۔
غزہ میں کل اموات 200 سے بڑھ گئیں, ہلاک ہونے والوں میں 59 بچے، 35 خواتین شامل
،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 59 بچے اور 35 خواتین شامل ہیں جبکہ اب تک 1305 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں 130 مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔
اسی دوران مسلح گروہوں کے راکٹ حملوں سے اسرائیل میں دو بچوں اور ایک فوجی اہلکار سمیت 10 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
بائیڈن نے اسرائیل کو 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دی: امریکی اخبار
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو درست نشانے پر مار کرنے والے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے ہیں۔
اخبار کے مطابق کانگریس کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق پانچ مئی کو بتایا گیا تھا، اور یہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد کے آغاز کے عین ایک ہفتے پہلے کی بات ہے۔
اخبار کے مطابق جو بائیڈن کے چند ساتھی ڈیموکریٹس اب اسلحے کی فروخت پر تنقید کر رہے ہیں۔
کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل ایک ڈیموکریٹ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل پر فائر بندی کا دباؤ ڈالے بغیر ان سمارٹ بموں کی فروخت کی اجازت مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ
آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے اسرائیل-فلسطین تنازع میں حالیہ کشیدگی کے دوران فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس میں نوجوانوں، خواتین اور صحافیوں سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔
ہماری ساتھی سارہ عتیق اس مظاہرے کی کوریج کے لیے پریس کلب میں موجود تھیں۔ مظاہرے میں شریک نوجوانوں نے بتایا کہ انھیں ’سوشل میڈیا کے ذریعے اس مسئلے کے حوالے سے خاص آگاہی ہوئی جس کی وجہ سے وہ یہاں موجود ہیں۔
مظاہرین نے فلسطین کے جھنڈے اور اس کے حق میں نعرے بلند کیے جبکہ مقررین نے اسرائیل اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
مظاہرین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف مذمتی بیانات جاری نہ کریں بلکہ فلسطینیوں کی جدوجہد میں ان کی مدد کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
شرکا نے اظہار یکجہتی کے لیے عربوں کا روایتی رومال کیفیہ پہن رکھا تھا جبکہ فلسطین کا قومی ترانہ بجانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا بھی کی گئی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت 200 فلسطینی ہلاک اور 1200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ حماس کے جوابی راکٹ حملوں کے نتیجے میں 10 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
اسرائیلی سفارتکار: ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے‘
اسرائیلی سفارت کار مارک ریگیو نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے۔‘
ریگیو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سینیئر مشیر ہیں اور برطانیہ میں اسرائیل کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس سے مسائل کا حل کیسے نکلے گا، اگر حماس اگلے ماہ اسرائیل پر راکٹ حملے کرتا ہے اور پھر ہمیں جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘
ہمیں اس حوالے سے ایک حقیقی حل کی تلاش ہے، ہم اس تنازع سے نکل کر ایک عرصے تک امن کے خواہاں ہیں۔ اگر حماس کو فائر بندی کے ذریعے دوبارہ سے منظم ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم قبل از وقت فائر بندی کرتے ہیں تو اس سے حماس کو فتح حاصل ہو گی، اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر حماس اس تنازع سے مزید مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے برا ہے، یہ فلسطینیوں کے لیے بھی برا ہے، یہ امن کے لیے بھی برا ہے۔‘
امریکہ کا اسرائیل سے غزہ میں الجلا ٹاور پر فضائی حملے کی ’وجوہات‘ بتانے کا مطالبہ
امریکہ نے اسرائیل سے سنیچر کو غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت الجلا ٹاور پر فضائی حملے سے متعلق ’تفصیلات‘ اور اس حملے کی ’وجوہات‘ بتانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں سمیت اسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ کے دفاتر بھی تھے۔
امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے کوپنہیگن میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ انھوں نے اب تک اسرائیلی حکام کی جابب سے اس حوالے سے شیئر کی جانے والی کوئی معلومات نہیں دیکھیں، تاہم انھوں اس حملے کی قانونی حیثیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔