بلوچستان میں کورونا سے اب تک 2836 ملازمین متاثر جبکہ 23 ہلاک ہوگئے۔ یہ بات حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بلوچستان میں پہلے کیس کے سامنے آنے کے بعد کورونا کے سو دن مکمل ہونے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتائی۔
انھوں نے بتایا کہ متاثر ہونے والے ملازمین میں ڈاکٹروں کی تعداد 287، پیرا میڈیکس کی تعداد 59 اور نرسز کی تعداد 5 ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ سمیت پانچ ڈاکٹر کورونا سے زندگی کی بازی ہارگئے جبکہ 3 ریٹائرڈ پیرا میڈیکس بھی ہلاک ہوئے۔
لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ متاثرہ ملازمین میں پولیس کے دو ڈی آئی جیز اور دیگر افسروں سمیت 111 اہلکار بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سو دنوں میں بلوچستان میں کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا جس سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر نہ ہوئے ہوں۔
ان کا کہنا تھا اب تک بلوچستان میں مصدقہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 93 ہے جن میں بلوچستان اسمبلی کے رکن اور سابق گورنر بلوچستان سید فضل آغا کے علاوہ دو سابق اراکین بلوچستان اسمبلی بھی شامل تھے۔
بلوچستان حکومت نے کورونا کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے اور اس مناسبت سے کیے جانے والےانتظامات کے لیے اب تک 6 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا کی ٹیسٹنگ کے لیے پانج لیباریٹریز کام کررہی ہیں جن میں ٹیسٹنگ کی روزانہ کی صلاحیت ایک ہزار سے زائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جو ٹیسٹ کیے گئے جن میں 22فیصد کے نتائج مثبت آئے۔
لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے پلازما تھراپی کا آغاز بھی کیا گیا ہے جو دیگر صوبوں میں پرائیویٹ سطح پر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 802 ڈاکٹرز 2635 پرامیڈیکس اس تمام آپریشن میں خدمت سرانجام دے رہےہیں۔