معیشت کو پٹڑی پر لانے کے لیے جاپان نے سفری پابندیاں اٹھا لیں
جاپان نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں عائد سفری پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم شنزو ابے نے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور کنسرٹ سمیت دیگر مشاغل کا حصہ بنیں تاکہ ملک کی معیشت سنبھل سکے۔
کورونا وائرس کے پیش نظر عائد پابندیوں کی وجہ سے دنیا کے دیگر مملک کی طرح جاپان کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس کے متاثرین میں کمی آنے کے بعد جاپان نے مئی سے ہی ان پابندیوں میں نرمی لانی شروع کردی تھیں۔ جمعرات کو ہنگامی حالات کے خاتمےکا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے شہریوں پر عائد تمام پابندیاں واپس لیے ہوئے انھیں باہر نکلنے اور کاروبار زندگی کا حصہ بننے کی ترغیب دی ہے۔
تاہم جاپانی شہریوں کو سماجی فاصلے جیسے اصولوں کا خیال اب بھی رکھنا ہو گا۔
جاپان کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے لوگ باہر نکل کر سیر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں مگن دیکھنا چاہتے ہیں۔
ان اقدامات سے جاپان میں خاص طور پر ٹورازم کی صنعت سے جڑے کاروبار کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ابھی بحالی کا یہ مرحلہ سست رو ہو گا کیونکہ ابھی بھی بہت سے لوگ جمع ہونے سے گریز کرتے ہیں جبکہ ابھی بھی جاپان سفر کرنے سے متعلق متعدد پابندیاں عائد ہیں۔
مئی کے مہینے میں جاپان میں صرف 1700 غیر ملکی آئے۔ جاپان کی نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق یہ سنہ 1964 کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔