القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر سات افغان باشندوں کی ہلاکت ہوئی: برطانوی وزارتِ دفاع

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں سات افغان باشندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے وہاں موجود متعدد افراد افغانستان چھوڑنے کے لیے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’اس وقت وہاں کی صورتحال خاصی چیلنجنگ ہے لیکن ہم اس پر قابو پانے کے لیے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔

    طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد سے ایئرپورٹ کے باہر افراتفری کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں اور اکثر افغان باشندے اور غیرملکی شہری افغانستان سے انخلا کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 4500 امریکی فوجی تعینات ہیں اور 900 برطانوںی فوجی ایئرپورٹ کی حفاظت اور گشت کے لیے موجود ہیں۔

    طالبان کی جانب سے ایسے افغان شہریوں کو ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے جن کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

    • کابل ایئرپورٹ سے خوفزدہ افغانوں کا انخلا جاری

      YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
      Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

      YouTube پوسٹ کا اختتام

      طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے چھٹے روز بھی افغان پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مایوس اور خوفزدہ لوگ بچوں اور عورتوں کو خاردار تاروں کے بیچ ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔۔۔ ویڈیو: فرقان الہی

    • رابطوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہم طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں: یورپی یونین

      یورپی یونین

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیداروں نے سنیچر کو طالبان کو بتایا کہ زیادہ سے زیادہ افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے جاری مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ یورپی یونین گروپ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

      تاہم یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان نے طالبان سے رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

      کونسل آف یورپ کے صدر چارلس مشیل کے ساتھ مل کر انھوں نے سپین کے شہر میڈرڈ کے قریب قائم ایک مرکز کا دورہ کیا جو افغانستان چھوڑنے والوں کو وصول کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

      انھوں نے کہا ’اس نازک وقت میں ہمارے طالبان کے ساتھ آپریشنل رابطے ہیں، کیونکہ ہمیں اس مشکل وقت میں کابل ایئرپورٹ پر لوگوں کی منتقلی کو آسان بنانے کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

      انھوں نے مزید کہا ’لیکن یہ سیاسی مذاکرات سے بالکل مختلف ہے۔ طالبان کے ساتھ کوئی سیاسی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور طالبان کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔‘

      اگرچہ افغانستان کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ طالبان قیادت میں سے کون حکومت کا انچارج ہوگا۔

    • اشرف غنی فرار ہو کر متحدہ عرب امارات ہی کیوں پہنچے؟

    • ’سمجھ نہیں آ رہی طالبان کی کیا پالیسی ہے ہم بھی کنفیوز ہیں کہ برقعہ بیچیں یا عبایہ بیچیں‘, کابل سے بی بی سی کے ملک مدثر

      KABUL

      ،تصویر کا ذریعہBBC/Malik Mudasir

      یہ تصاویر کابل کے علاقے خیر خانہ میں موجود بازار لیسہ مریم کی ہیں۔

      شہر میں عاشورہ کے بعد بھی مکمل طور پر معمول کی خریدو فروخت شروع نہیں ہو سکی۔

      یہ تصاویر لیسہ مریم بازار کی ہیں یہاں دکانیں تو کچھ حد تک کھل چکی ہیں لیکن خواتین کے لیے مخصوص اس بازار میں آج کل گاہکوں کی تعداد معمول سے انتہائی کم ہے۔

      خواتین نے آن کیمرہ بات کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

      KABUL

      ،تصویر کا ذریعہBBC/Malik Mudasir

      چند دکانداروں سے بات کا موقع ملا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی کاروبار نہیں چل رہا گاہک بہت کم ہیں ہم نے دکانیں تو کھولی ہیں لیکن خریدار کوئی نہیں آ رہے۔

      عبایہ کا کاروبار کرنے والے ایک دکاندار نے کہا کہ ابھی سمجھ نہیں آ رہی کہ طالبان کی کیا پالیسی ہے ہم بھی کنفیوز ہیں کہ برقعہ بیچیں، عبایہ بیچیں۔

      KABUL

      ،تصویر کا ذریعہBBC/Malik Mudasir

      KABUL
    • افغانستان سے امریکہ کا انخلا احمقانہ اقدام ہے: ٹونی بلیئر

      ٹونی بلیئر

      ،تصویر کا ذریعہPA

      سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملہ ’افغانستان کو تنہا چھوڑ کر‘ خطرناک اور غیر ضروری عمل تھا۔

      افغان حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے پہلے بیان میں مسٹر بلیئر نے امریکی انخلا کو ’احمقانہ‘ اور ’ایک بڑی حکمت عملی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک سیاسی اقدام پر‘ قرار دیا۔

      انھوں نے اپنے انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں لکھا کہ افغانستان اور اس کے لوگوں کو تنہا چھوڑنا ایک تباہ کن ، خطرناک اور غیر ضروری عمل تھا جو نہ تو ان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ہمارے مفاد میں ہے۔

      ’یہ ضروری نہیں تھا۔ ہم نے صرف یہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

      انھوں نے کہا کہ ’یہ محض 'مستقل جنگوں' کو ختم کرنے کے احمقانہ سیاسی نعرے کی پیروی میں کیا گیا ، جیسے کہ 2021 میں ہماری موجودگی کا 20 یا 10 سال پہلے کے ہمارے عزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    • طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے اردگرد مزید سختی کر دی

      Reuters

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے اتوار کو کابل ایئرپورٹ کے ارد گرد افراتفری کے ماحول پر مزید سخت احکامات نافذ کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کے مرکزی دروازوں کے باہر باقاعدہ قطاریں لگ گئی ہیں۔

      عینی شاہدین نے بتایا کہ موسم صاف ہوتے ہی کسی الجھن یا تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کے مطابق صبح سویرے لمبی قطاریں لگ گئیں۔

      روئٹرز کے مطابق، نیٹو اور طالبان حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے بعد سے کم از کم 12 افراد ہوائی اڈے کے رن وے پر یا اس کے ارد گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

      عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ کچھ فائرنگ سے اور کچھ بھیڑ کے دباؤ سے ہلاک ہوئے۔

    • سوشل میڈیا پر طالبان کی حمایت کرنے پر انڈیا میں 14 افراد گرفتار

      social media

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      انڈیا کے صوبے آسام کے حکام نے کہا ہے کہ گیارہ اضلاع میں پولیس نے 14 افراد کو سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر گرفتار کر لیا ہے جس میں ان افراد نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے طالبان کی حمایت کی تھی۔

      ایک سینئیر پولیس افسر کے حوالے سے این ڈی ٹی وی نے خبر دی ہے کہ اب تک پولیس نے کل 14 افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں ہیلا کنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے طالب علم کو بھی گرفتار کیا ہے جو ایم بی بی ایس کر رہا ہے اور تیز پور میڈیکل کالج میں پڑھتا ہے۔

      گرفتار ہونے والوں میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے لیڈر فضل کریم قاسمی بھی شامل ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد انھیں پارٹی کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

      گرفتار ہونے والوں میں آسام پولیس کا ایک کانسٹیبل بھی شامل ہے۔

      حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے کچھ نے براہ راست طالبان کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے انڈیا اور اپنے ملکی میڈیا پر طالبان کی حمایت نہ کرنے پر ان تنقید کی ہے۔

      گرفتار افراد کو انسداد دہشت گردی کے قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

    • کابل ایئرپورٹ پر دولتِ اسلامیہ کے حملے کا خطرہ ہے: امریکہ

      AIRPORT

      ،تصویر کا ذریعہMalik Mudasir/BBC

      امریکہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ پر جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں ممکنہ طور پر افغانستان میں موجود دولتِ اسلامیہ کا گروہ حملہ کر سکتا ہے۔

      سنیچر کو امریکہ نے ایک سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے اور کابل میں رہنے والے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ایئر پورٹ سے دور رہیں کیونکہ اس کے دروازوں پر سکیورٹی کے حوالے سے خطرات ہیں۔

      اس انتباہ میں کہا گیا ہے کہ صرف امریکی حکومت کے ان نمائندوں کو سفر کرنا چاہیے جنھیں امریکہ نے انفرادی طور پر وہاں جانے کو کہا ہے۔

      امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کابل میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں۔

      امریکہ کی جانب سے کابل ایئر پورٹ پر دولت اسلامیہ کے ممکنہ حملے کے خطرے کے بارے میں مزید کچھ تفصیلات نہیں دی گئیں اور اس گروپ نے کابل میں حملوں کی عوامی سطح پر کوئی دھمکی بھی نہیں دی۔

      خیال رہے کہ امریکہ کا اپنے شہریوں کو یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کابل ائیر پورٹ کے ٹرمنل کے باہر لوگوں کا شدید رش ہے اور ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں بہت سے لوگ اس دھکم پیل میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہزاروں افغان شہری طالبان کے ملک می قبضے کے بعد وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    • ’امریکی شہری کابل ایئر پورٹ کا رخ نہ کریں‘

      افغانستان

      ،تصویر کا ذریعہUS MARINE CORPS/REUTERS

      امریکی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کابل میں ایئر پورٹ ٹرمینل کے باہر ہنگامے اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر پورٹ نہ جائیں۔

      سنیچر کے روز ایک سیکیورٹی الرٹ میں امریکی شہریوں سے کہا گیا کہ وہ گیٹس کے باہر ممکنہ سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ہوائی اڈے سے دور رہیں۔

      الرٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صرف وہ شہری ہوائی اّے پر جائیں جن کو امریکی حکومت کا کوئی نمائندہ ایسا کرنے کے لیے کہے۔

      یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کے قابض ہو جانے کے بعد ہزاروں لوگ ملک سے باہر جانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • پوتن، اردوغان

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      ،تصویر کا کیپشنروسی صدر ولادیمیر پوتن اور ترک صدر رجب طیب اردوغان (فائل فوٹو)

      روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان فون پر رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں ممالک نے افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

      خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی حکومت کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر اردوغان نے پوتن سے کہا: ’افغانستان میں نئی حکومت کو متنوع اور تمام افغان عوام کی نمائندہ ہونا چاہیے۔‘

      دونوں ممالک کے صدور نے افغانستان میں دہشتگردی اور منشیات کے خلاف لڑائی کو اہم قرار دیا۔

      ترکی کی انطالیہ نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں صدور نے مستقبل میں کابل ایئرپورٹ کی انتظام کاری، نئی افغان حکومت، اور طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات سے متعلق امور پر بھی بات کی۔

    • افغانستان سے نکالے گئے لوگ جرمنی میں امریکی اڈے پر منتقل

      امریکہ، افغانستان

      ،تصویر کا ذریعہUS Air Force

      افغانستان سے نکالے گئے متعدد افغان شہریوں کو جرمنی میں امریکہ کی ریمسٹائن ایئر بیس پر پہنچ دیا گیا ہے۔

      جمعے کو سو سے زیادہ افغان شہری یہاں پہنچے ہیں۔ بریگیڈیئر جنرل جوش اولسن نے کہا کہ جمعے کو پہنچنے والے افراد ’اچھی حالت میں ہیں۔ وہ بہت تھکے ماندے لگ رہے تھے۔‘

      اب نکالے گئے ان افراد کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور سیکیورٹی جائزے کے بعد انھیں رجسٹر کیا جائے گا۔

      امریکہ، افغانستان

      ،تصویر کا ذریعہUS Air Force

      اس بیس پر متوقع طور پر آئندہ چند دنوں میں پانچ ہزار لوگوں کو رکھا جائے گا مگر اس میں توسیع کر کے 10 ہزار لوگوں کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔

      ریمسٹائن جنوب مغربی جرمنی میں واقع ہے اور امریکی ایئر فورس کا یورپی ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہاں 16 ہزار فوجی، سویلین اور کنٹریکٹرز موجود رہتے ہیں۔

    • کابل میں آج صورتحال کیا رہی؟

      کابل میں ہمارے نامہ نگار برائے افغانستان سکندر کرمانی سنیچر کو صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔

      وہ بتاتے ہیں کہ سڑکوں پر موجود طالبان کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور دارالحکومت معمول سے زیادہ پرامن معلوم ہو رہا ہے۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

      جیسا کہ ہم نے پہلے رپورٹ کیا تھا، بینک اور سرکاری دفاتر اب بھی بند ہیں اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس پیسے اور کھانے پینے کی اشیا ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

      کئی مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی صورتحال خاصی خراب ہوئی ہے۔

      جرمن حکومت نے کہا ہے کہ وہاں صورتحال ’نہایت خطرناک‘ ہے جبکہ امریکہ نے اپنے شہریوں سے ’ممکنہ سیکیورٹی خطرات‘ کے پیشِ نظر ایئرپورٹ نہ جانے کے لیے کہا تھا۔

      سکائے نیوز نے کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایئر پورٹ کے باہر جمع ہیں اور طالبان جنگجو مقامی افراد کو ’ڈنڈوں سے پیٹ رہے ہیں۔‘

    • 'میں اپنے بچوں کے ساتھ اس ہجوم سے کیسے نکل سکتا ہوں؟'

    • ایران: افغانستان کے ساتھ سرحدی راستے کھلے ہیں، تجارت جاری ہے

      ایرانی کسٹم حکام نے کہا ہے کہ اُن کے ایران کے ساتھ تین سرحدی پوائنٹس کھلے ہوئے ہیں جہاں سے تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

      سرکاری خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق افغانستان میں تنازعے کے سبب ایک ماہ سے کچھ عرصہ قبل ان سرحدی پوائنٹس پر تجارت تھم گئی تھی تاہم یہ بتدریج بحال ہو گئی ہے۔

      ایرانی کسٹم حکام کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے افغانستان کے ساتھ تمام تین چیک پوائنٹس کھلے ہوئے ہیں۔

    • طالبان: ہم کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے ذمہ دار نہیں ہیں

      طالبان

      ہزاروں لوگ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر جمع ہیں تاکہ ملک سے باہر نکل سکیں۔

      طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر ہونے والی اس افراتفری کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

      ایک طالبان ترجمان نے کہا کہ مغربی قوتوں کے پاس لوگوں کو نکالنے کے لیے بہتر منصوبہ ہونا چاہیے تھا۔

      جمعے کو کابل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل رہنے کے بعد سنیچر کو فضائی آپریشن دوبارہ بحال ہو چکا ہے۔

      دوسری جانب ایئرپورٹ پر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں جبکہ کئی لوگ ایئرپورٹ تک پہنچنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

      امریکی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ ایئرپورٹ سے دور پھنسے رہ جانے والے لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایئرپورٹ تک پہنچا رہے ہیں اور اب تک سات امریکیوں کو ایئرپورٹ تک پہنچایا گیا ہے۔

    • کابل کے طالبان انچارج کی حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ سے ملاقات

      طالبان

      ،تصویر کا ذریعہTwitter/@DrabdullahCE

      کابل صوبے کے طالبان انچارج عبدالرحمان منصور نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے۔

      عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ اُنھوں نے طالبان حکام سے کہا ہے کہ ’کابل کے لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ سب لوگوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔‘

      اُن کے مطابق طالبان نے بھی اس موقع پر کہا کہ وہ ’کابل کے لوگوں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔‘

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • کابل میں میڈیا کے مسائل پر کمیٹی بنا دی گئی، طالبان

      طالبان نے کہا ہے کہ اُنھوں نے کابل میں میڈیا کے مسائل کے معاملے پر کمیٹی بنا دی ہے۔

      طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’کابل میں میڈیا کے اطمینان و تسلی کی خاطر ایک تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔

      اس کمیٹی میں ثقافتی کمیشن، فیڈریشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا انسٹیٹیوشنز اور کابل پولیس کے ایک ایک رکن شامل ہوں گے۔‘ اُنھوں نے کہا کہ یہ کمیٹی کابل میں میڈیا کے مسائل حل کرے گی۔

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • روس اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو

      سنیچر کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں دونوں نے طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

      روسی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ایک نمائندہ حکومت کے قیام کے لیے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے اور ملک میں استحکام و امن و امان کی بحالی کے لیے مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    • حقانی نیٹ ورک کیا ہے؟

      حقانی

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      ،تصویر کا کیپشنجلال الدین حقانی (دائیں) حقانی نیٹ ورک کے بانی تھے جو سنہ 2018 میں اپنی وفات تک اس گروہ کے سربراہ رہے۔ اب اُن کے بیٹے سراج الدین حقانی اس گروہ کے قائد ہیں۔

      افغان طالبان میں حقانی نیٹ ورک کو عسکری بازو کی حیثیت حاصل ہے چنانچہ متوقع ہے کہ وہ طالبان کے نئے سیٹ اپ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

      اے ایف پی کے مطابق جلال الدین حقانی اس گروپ کا قیام عمل میں لائے تھے اور سنہ 1980 کی دہائی میں سوویت مخالف جنگ میں اس گروپ نے نمایاں انداز میں کارروائیاں کیں۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور اس کے اتحادیوں مثلاً پاکستان نے ان کی امداد کی۔

      اس جنگ کے دوران اور سوویت یونین کے انخلا کے بعد بھی اس گروپ کا اثر و رسوخ برقرار رہا اور بعد میں جلال الدین حقانی سنہ 1996 میں طالبان کے ساتھ مل گئے اور پہلے طالبان دورِ حکومت میں وزیر بھی رہے۔

      سنہ 2018 میں طالبان نے اعلان کیا کہ جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں اور اُن کے بیٹے سراج الدین حقانی باقاعدہ طور پر گروپ کے سربراہ بن گئے۔

      اُن کے چھوٹے بھائی انس حقانی کابل پر قبضے کے بعد سے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

      سنہ 2019 میں انس حقانی کی افغان حکومتی حراست سے رہائی کو امریکہ اور طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی شروعات کے طور پر دیکھا گیا جو بالآخر امریکہ کے افغانستان سے انخلا پر منتج ہوا۔

      حقانی نیٹ ورک کی مالی مضبوطی اور عسکری طاقت کی وجہ سے اُنھیں طالبان کے اندر بھی نیم خود مختار تصور کیا جاتا ہے۔

      اس گروپ کو امریکہ نے غیر ملکی دہشتگرد گروہ قرار دے رکھا ہے اور اقوامِ متحدہ نے بھی ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔