میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. اعظم خان: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری کون ہیں؟

    اعظم خان

    ’لالا! میں نے تنگ آ کر پرویز خٹک کو لکھ دیا ہے کہ میں اس کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔‘ سگریٹ کا کش لگاتے سیکریٹری داخلہ خیبر پختونخوا نے اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس احسان غنی کو ان کے گھر کے برآمدے میں گپ شپ لگاتے ہوئے بتایا۔

    سیکریٹری داخلہ اور آئی جی میں اتنا بھائی چارہ تھا کہ سیکریٹری داخلہ آئی جی کو ’لالا‘ یعنی بڑا بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔

    یہ سنہ 2013 کی بات ہے۔

    خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک وزیراعلیٰ تھے اور سیکریٹری داخلہ کی مختلف امور پر ان سے ٹھن چکی تھی۔

    روایت تو یہ ہے کہ صوبے میں تعینات سیکریٹری اپنی نوکری بالخصوص اہم تقرری بچانے کے لیے سر جھکاتے اور وزیراعلیٰ کی ہاں میں ہاں ملا کر کام چلاتے ہیں مگر یہ سیکریٹری داخلہ ٹیڑھے مزاج کے آدمی تھے۔

    انھیں اپنے کام میں مداخلت پسند نہ تھی جس پر انھوں نے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ کام کرنے سے دو ٹوک انکار کر دیا۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ 1990 میں سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس) کے امتحان میں ٹاپ کر کے ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی جس کا نام تبدیل ہو کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یعنی پی اے ایس رکھ دیا گیا) میں شمولیت اختیار کرنے والے اعظم خان تھے۔

    اعظم خان کے حوالے سے صحافی اعزاز سید کی اگست 2020 میں شائع ہونے والی مکمل تحریر پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے۔

  2. اعظم خان لاپتہ ہوئے یا وہ خود ہی کہیں روپوش ہوئے ہیں، ابھی حتمی طورپر نہیں کہا جا سکتا: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے حوالے سے درخواست پر انکوائری کا عمل مکمل کیا جائے گا تاہم ابھی حتمی بات نہیں کی جا سکتی کہ وہ لاپتہ ہوئے یا وہ خود ہی کہیں کسی جگہ پر روپوش ہیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانذادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اعظم خان کے لواحقین نے اپنی درخواست میں یہ نشاندہی نہیں کی کہ کن لوگوں نے ان کو اپنے ساتھ لیا ہے یا وہ کہاں سے غائب ہوئے ہیں، تو اس بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘

    خیبرپحتونخوا میں تحریک انصاف کے سابق وزرا کے گھروں سے گاڑیاں لے جانے کے سوال پر رانا ثنا اللہ کہا کہ وہ سرکاری گاڑیاں تھیں۔

    ’خیبرپختونخوا میں نگران حکومت کے چیف سیکریٹری سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ یہ حکومت کی گاڑیاں تھیں اور انھوں نے اپنے استحقاق سے ذیادہ حکومت کی ان گاڑیوں کو رکھا ہوا تھا۔ انھیں متعدد بار کہا گیا کہ ان کو واپس کریں لیکن انھوں نے کوئی رد عمل نہیں دیا نہ واپس کیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذاتی گاڑیاں تھیں تو وہ ان کا ریکارڈ پیش کریں۔ وہ سرکاری گاڑیاں تھیں جو ناجائز طور پر انھوں نے رکھی ہوئی تھیں۔‘

    رانا ثنا اللہ نے پرویز الہی سے متعلق سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ رولز کے مطابق نہ ان کو ان کے حقوق سے محروم کیا گیا نہ ان کی ایذا پہنچائی گئی۔

    ’پرویز الہی کو جیل میں تمام میڈیکل سہولیات حاصل ہیں لیکن ہے تو وہ جیل ہی۔ تاہم یہ سارا پروپیگنڈا ہے جیسے خواتین کے ساتھ نارروا سلوک کے بارے میں کیا گیا تھا۔ میری اطلاعات کے مطابق چوہدری صاحب وہاں کمفرٹیبل ہیں۔‘

    وفاقی وزیر داخلہ نے عمران خان کی مقبولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ اب وہ (عمران خان) کبھی بھی اس ملک کی سیاست میں مرکزی رول ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس ملک میں سیاسی اختلاف رائے کو عروج دیا اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’نو مئی کے بعد عمران خان کی خام خیالی ہے کہ ان کا ووٹ بینک بڑھا ہے۔ جب بھی انتخاب ہو گا ان کی پارلیمانی اکثریت سامنے نہیں آئے گی۔‘

    انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’نگران سیٹ اپ آنا چاہیے ہمیں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر جانا چاہیے۔ہم کبھی بھی انتخابات سے نہیں بھاگے نہ بھاگیں گے۔ دو صوبوں میں انتخابات سے اختلاف جائز بات تھی۔ اکتوبر یا نومبر میں عام انتخابات ہوں گے۔‘

  3. چین سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر وصول: سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو چین کی جانب سے ایک ارب ڈالر وصول ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو چین کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر ملیں گے جس میں سے ایک ارب ڈالر ایک دو دن میں وصول ہو جائیں گے۔

    پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت فنڈز کا انتظام کرنا ہے۔

  4. اسلام آباد میں اعظم خان کی گمشدگی پر اغوا کا مقدمہ درج

    اعظم خان

    اسلام آباد پولیس نے وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی گمشدگی پر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    اعظم خان کے بھانجے محمد سعید خان کی مدعیت میں تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اعظم خان 15 جون کی شام ساڑھے چھ سے سات بجے اسلام آباد میں ہی ایک کام کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے اور تب سے لاپتہ ہیں۔ تاحال ان کا خاندان میں کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    اعظم خان کے خاندان کا مؤقف ہے کہ ان کا فون مسلسل بند جا رہا ہے لہذا ان کی گمشدگی پر اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔

    خاندان کی درخواست پر پولیس نے دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس پر تبصرہ کیا ہے کہ ’جسے بھی میرے نزدیک سمجھا جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ اعظم خان عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں اور اس وقت ایک سرونگ گریڈ 22 ای اے ایس افسر ہیں۔

    20 اگست 2020 کی تحریر: اعظم خان کون ہیں؟

  5. پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پُرعزم ہے: وزارت خزانہ

    وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پُرعزم ہے اور اتحادی حکومت نے پہلے ہی سیاسی قیمت پر کئی مشکل فیصلے کئے ہیں۔

    جمعے کو جاری کردہ ایک پیغام میں اس کا کہنا ہے کہ ’معاملے کے خوش اسلوبی سے حل کے لیے ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔‘

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نے آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ کے بیان کاجائزہ لیا ہے۔

    ’آئی ایم ایف کے ساتھ نواں جائزہ فروری 2023 میں ہوا، حکومت پاکستان نے برق رفتاری سے تمام تکنیکی امور مکمل کر لیے تھے۔ واحد معاملہ بیرونی فنانسنگ سے متعلق تھا جو کہ ہمارا خیال ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے درمیان 27 مئی کو ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت میں احسن طریقے سے حل ہوا۔‘

    اس کے مطابق ’اگرچہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ کبھی بھی نویں جائزے کا حصہ نہیں رہا تاہم آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے وزیراعظم کے کمٹمنٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ بجٹ کے اعداد و شمار شئیر کیے جبکہ بجٹ کے دوران بھی ہمارا آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا۔‘

    وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ریزیڈنٹ نمائندہ ایستھر پیریز کی جانب سے جہاں تک ٹیکس کی بنیاد سے متعلق معاملہ ہے تو ایف بی آر نے جاری مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 11لاکھ 61 ہزار نئے ٹیکس گزاروں کوشامل کیا ہے، ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ کی شرح 26.38 فیصدبنتی ہے، یہ ایک جاری مشق ہے اوریہ سلسلہ چلتا رہے گا، نان فائلرز کے لیے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقوم نکلوانے پر0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اسی سمت میں ایک اور قدم ہے۔

    بیان کے مطابق بجٹ میں جن شعبہ جات کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے وہ معیشت کے حقیقی شعبہ جات ہیں جو نمو کے انجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’یہ شہریوں کو روزگار دلانے کا ایک پائیدار راستہ ہے، اس چھوٹ کا حجم بہت کم ہے۔ معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے اقدامات صرف بی آئی ایس پی سے استفادہ کرنے والوں تک محدود نہیں ہے۔ اس بجٹ کاحجم 400 ارب سے 450 ارب کردیاگیاہے، فروری 2023 میں یہ بجٹ 350 سے بڑھا کر400 ارب کر دیا گیا تھا۔‘

    ’ملک میں غربت کی لکیر سے اوپر بھی دسویں لاکھوں لوگ موجود ہیں جومعاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، بجٹ میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعہ 5 ضروری اشیا پر35 ارب تک کی سبسڈی دی جا رہی ہے، اس اسے استفادہ کرنے والوں کا سکور 32 سے بڑھا کر40 کر دیا گیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’یہ سہولت بی آئی ایس پی سے استفادہ کرنے والوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔ جہاں تک ایمنسٹی کا تعلق ہے تو واحد تبدیلی آئی ٹی آرڈیننس کے متعلقہ پرویژنز کے تحت قدر کو ڈالرائز کرنا ہے، یہ سہولت آئی ٹی آرڈیننس کے سیکشن 111 چار کے تحت پہلے سے موجود ہے۔ ایک کروڑ روپے کی کیپ 2016 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس کیپ کوایک لاکھ ڈالرکے مساوی روپوں کے زریعہ حل کیا گیا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ’آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پرعزم ہے اور نویں جائزے کو مکمل کرنے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے، اتحادی حکومت نے پہلے ہی سیاسی قیمت پر کئی مشکل فیصلے کئے ہیں، معاملہ کے خوش اسلوبی سے حل کے لیے ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔‘

  6. اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچنے والوں کو پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں: شہباز شریف

    شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پارٹی میں جو لوگ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، انھیں پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

    انھیں مسلم لیگ ن کے جنرل کونسل اجلاس میں پارٹی صدر منتخب کیا گیا تو اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل کونسل اجلاس مؤخر کرتا رہا تاکہ نواز شریف خود اس میں شرکت کر سکیں۔ ناگزیر وجوہات کی بدولت ایسا نہ ہوسکا، الیکشن کمیشن کی تلوار لٹک رہی تھی لہذا آج یہ انتخاب کرایا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’جس دن نواز شریف آئیں گے یہ امانت ہم انھیں واپس کر دیں گے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے ہم الٹے سیدھے ہوگئے۔ قلیل مدتی تقاضہ تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کر کے ملک کو ترقی کے راستے پر لے جائیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ شدید مالی مشکلات کے باوجود تنخواہوں و پنشنز میں اضافہ کیا گیا۔‘

    ’آئی ایم ایف سے آج بھی ہمارے سنگھ پھنسے ہوئے ہیں۔ دعا کریں ہم اس سے نکل جائیں گے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ نواز شریف آئیں اور اگلا الیکشن لڑ کر چوتھی بار وزیر اعظم بنیں۔

    ’پارٹی کے جو لوگ اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں انھیں پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انھوں (اسحاق ڈار) نے (ملک کی خاطر) اپنی صحت خراب کر لی۔‘

  7. ’اسلام آباد پولیس اعظم خان کی گمشدگی کے حوالے سے قانونی کارروائی عمل میں لائے گی‘

    سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی گمشدگی پر ترجمان اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس اس معاملے پر قانونی کارروائی عمل میں لائے گی۔

    ’درخواست دہندہ متعلقہ تھانہ سے رابطہ کرے تاکہ قانونی کارروائی کی جا سکے۔ اعظم خان کے حوالے سے کسی کے پاس کوئی بھی اطلاع ہوتو پکار 15 پر اطلاع دیں۔‘

  8. اسی سال نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع کریں گے: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر اللہ نے ہمیں دوبارہ موقع دیا تو اسی سال نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔‘

    مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’نو مئی کے بعد جو حالات ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کا انصاف ہے۔

    ’مسلم لیگ ن اور نواز شریف کو اس واقعے نے سرخرو کیا ہے اب حالات ایسے ہیں کہ آپ پورے حوصلے اور جرات کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اللہ ہمیں دوبارہ موقع دے گا کہ ملک کی ترقی اور عوام کی خدمت کا سفر جو جولائی 2017 میں روکا گیا تھا وہ اسی سال نواز شریف کی قیادت میں دوبارہ شروع ہو۔‘

    رانا ثنا اللہ نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جو کہتا تھا میں بہت مقبول ہوں، اس سے آج کوئی رابطہ نہیں کرتا۔

    ’جو منھ سے آگ برساتے تھے، آج ان کا حال یہ ہے کہ میڈیا پر آ کر کہتے ہیں قید تنہائی میں تھا، اب تحریک انصاف کو خدا حافظ۔۔ ان سے ایک ہفتے کی قید برداشت نہیں ہو رہی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہی فرق ہے سیاسی جماعت، سیاسی لیڈر اور کارکن میں۔ اللہ نے کیسا انصاف کیا ہے، میرے قائد اور دوسرے قائدین کو سرخرو کیا۔ پارٹی پر بُرا وقت آیا تو کسی نے اس قسم کی آوازیں سنی تھیں؟

    ’یہ خود کو سیاسی لیڈر اور کارکن کہتے تھے۔ ہماری بہنوں، بیٹیوں کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کہ ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے۔‘

  9. پاکستان کے تجارتی خسارے میں ساڑھے سترہ ارب ڈالر کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    تجارتی خسارے

    پاکستان کے تجارتی خسارے میں موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں 40.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 43.4 ارب ڈالر تھا جو موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں 25.8 ارب ڈالر رہ گیا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ ملکی درآمدات میں ہونے والی کمی ہے جو زیر جائزہ مہینوں میں 29.2 فیصد کمی کے بعد 51.2 ارب ڈالر رہ گئیں۔

    گذشتہ سال کے ان مہینوں میں ملکی درآمدات کا حجم 72.2 ارب ڈالر تھا۔ تاہم ان مہینوں میں ملکی برآمدات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جب 12.1 فیصد کمی کے بعد ان کا حجم 25.3 ارب ڈالر رہ گیا جو گذشتہ مالی سال میں 28.8 ارب ڈالر تھیں۔

    برآمدات کے شعبے میں سب سے بڑے برآمدی شعبے ٹیکسٹائل سمیت سب شعبوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔

  10. ’اعظم خان لاپتہ ہیں، جسے بھی میرے قریب سمجھا جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے‘ عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے دور حکومت کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان گذشتہ شب سے لاپتہ ہیں۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’جسے بھی میرے نزدیک سمجھا جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

    ’میں سابق گورنر لطیف کھوسہ کے گھر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ انھیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اس فاشزم پر تنقید کر رہے تھے جس سے قوم متاثر ہو رہی ہے۔‘

    عمران خان نے اعظم خان کی گمشدگی پر پولیس کو درج کرائی گئی شکایت کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں لکھا ہے کہ اعظم خان کا فون بند ہے اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

  11. ’کسی فرد سے متعلق قانون سازی اچھی قانون سازی نہیں‘

    نااہلی کی مدت پر قانون سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ’آئین بالکل خاموش نہیں ہے، آئین کی تشریح عدالت نے کرنی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’کسی فرد سے متعلق قانون سازی اچھی قانون سازی میں شمار نہیں ہوتی۔ آپ آئینی ترمیم کر دیں۔‘

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ’(آرٹیکل) 62 اور 63 اسلام کا تقاضا ہے۔

    ’یہ قانون سازی مخصوص افراد کے لیے کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کو ایجنڈے کے ہٹ کر سپلیمنٹری ایجنڈے میں کیوں لایا گیا؟‘

    سابق وزیر اعظم اور موجودہ سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے اپنی رائے دی کہ ’جب میری حکومت تھی تو ہم نے 58 ٹو بی کا اختیار صدر سے لے کر پارلیمنٹ کو دیا۔

    ’میں اپنی سزا بھگت چکا لیکن آنے والوں کے راستہ ہموار کرنا چاہتا ہوں۔‘

    دریں اثنا سینیٹر شہزاد وسیم نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی بھی مخالفت کی ہے۔ ’اگر یہ سیدھی بات ہے تو بل کو ضمنی ایجنڈا میں کیوں پیش کیا۔ ضمنی ایجنڈا کا مقصد ہے کہ قانون کو بل ڈوز کیا گیا جہاں آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس کو یہ سادہ قانون سازی کے ذریعے پورا کر رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی قانون آئین سے بالا نہیں ہو سکتا۔ آئین الیکشن تاریخ کے حوالے سے واضح ہے۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ صدر اور گورنر الیکشن تاریخ دے۔

    ’آئین نے کہہ دیا ہے کہ اسمبلی مدت پوری کرے تو الیکشن ساٹھ دن میں اور پہلے تحلیل ہو تو نوے دن میں ہوں گے۔ جو تاریخ ان سے باہر ہو گی وہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔ الیکشن کمیشن کو کھلی اجازت دے دینا آئین کے ساتھ زیادتی ہو گی۔‘

    شہزاد وسیم نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن کی جو حالیہ کارکردگی رہی ہے، قانون سازی سے الیکشن کمیشن کو کھلی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس بل پر دوبارہ غور کریں۔‘

  12. مہنگائی میں اضافے سے چائے، دال، آٹے، چاول، آلو کی قیمتیں بڑھ گئیں, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 35 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ ہفتے میں گذشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں کھانے پینے کی اشیا میں 34.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس مہینے کے گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں موجودہ ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر چائے کی قیمت میں 115 فیصد، آٹے کی قیمت میں 110 فیصد، چاول کی قیمت میں 78 فیصد، آلو کی قیمت میں 67 فیصد اور دال کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  13. بریکنگ, الیکشن ایکٹ میں ترمیم سینیٹ سے منظور: ’آرٹیکل 62، 63 کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو گی‘

    law

    سینیٹ نے الیکشن ایکٹ کی اہلی اور نااہلی سے متعلق سیکشن 232 میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

    ترمیم کے مطابق جہاں آئین میں مدت کا تعین نہیں کیا گیا وہاں نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو گی۔

    ترمیم کے مطابق ’طریقہ اور مدت ایسی ہو جیسا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں فراہم کیا گیا ہے اور جہاں آئین میں اس کے لیے کوئی طریقہ کار، طریقہ یا مدت فراہم نہیں کی گئی ہے، اس ایکٹ کی دفعات لاگو ہوں گی۔‘

    ترمیم کے مطابق ’سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا کسی بھی عدالت کے فیصلے، آرڈر یا حکم کے تحت سزا یافتہ شخص فیصلے کے دن سے پانچ سال کے لیے نااہل ہو سکے گا۔

    ’آئین کے آرٹیکل 62 کی کلاز ون ایف کے تحت پانچ سال سے زیادہ کی نااہلی کی سزا نہیں ہو گی اور اس کے بعد متعلقہ شخص پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔‘

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے الیکشن ایکٹ کو سینیٹ بھیجا گیا تھا جس میں اس مخصوص ترمیم کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب اسے دوبارہ منظوری کے لیے قومی اسمبلی بھیجا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہلی کو تاحیات تصور کیا جاتا تھا اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین کو سنہ 2017 میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی تاحیات نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔