میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی منظوری دے دی

  2. اب نہیں تو کب؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  3. پاکستان پیپلز پارٹی کا تلوار اور تیر سے رشتہ

  4. فوج اور آئی ایس آئی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کے تین مقدمات میں سابق وزیراعظم عمران خان بھی نامزد

  5. نو مئی کے واقعات: خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی قائدین اور کارکن سیاسی وفاداریاں کیوں نہیں بدل رہے؟

  6. وہ کون تھے؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  7. پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

  8. وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا

  9. محمد حنیف کا کالم: اسد عمر، نبیل گبول اور ہماری بےعزتی پروف اشرافیہ

  10. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفکیشن تین ماہ پہلے ہی کیوں کر دیا گیا؟

  11. سرمایہ کاری میں سہولت کاری پر خصوصی کونسل کی تشکیل: کیا محض وعدوں کی بنیاد پر بیمار پاکستانی معیشت کی بحالی ممکن ہے؟

  12. ’میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں‘: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہYoutube

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میں نے کبھی یہ ملک چھوڑ کر نہیں جانا، میں ڈیل کے لیے یہ نہیں کر رہا ہوں، میں یہ سب قوم کے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں۔‘

    ان کے مطابق مائنس ون کی باتیں کی جاتی ہیں مگر وہ ڈیل نہیں کریں گے۔ عمران خان کے مطابق میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں اور یہ میں اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک ملک حقیقی طور پر آزاد نہیں ہوتا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں، 19 کیسز میں ضمانت ہے، کسی بھی کیس میں ضمانت کینسل کر سکتے ہیں، پورا تیار ہوں کہ یہ مجھے پھر سے پکڑ سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ نو مئی کو ہمارے کارکنان کے اندر کچھ لوگ گھسائے گئے جنھوں نے سازش کے تحت اہم تنصیبات پر حملے کیے۔ ان کے مطابق وہ حیران ہیں کہ پولیس نے ان مظاہرین کو کیوں نہیں روکا جو کور کمانڈر ہاؤس چلے گئے یا پھر جو لوگ انھیں جی ایچ کیو لے گئیے۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ’نو مئی کے بعد بہانہ بنا کر قانون کی دھجیاں اڑا گئی ہیں۔‘

    عمران خان کے مطابق اب جیل سے واپس آ کر انھیں کارکنان نے بتایا ہے کہ نو مئی کو ’ایک دم کوئی لوگ آتے تھے اور ایک دم اشتعال دلاتے تھے کہ آؤ جی ایچ کیو چلو، میانوالی جہاز جلاؤ اور آؤ کور کمانڈر گھر جلاؤ۔‘

    عمران خان کے مطابق اس کے بعد پورا ایکشن تیار تھا اور 24 گھنٹوں کے اندر دس ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

  13. یونان میں کشتی حادثہ، پاکستان میں 19 جون یوم سوگ ہوگا

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ 19 جون کو ملک بھر میں یوم سوگ ہوگا۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس دن قومی پرچم سرنگوں رہے گا جبکہ اس حوالے سے دیگر ضروری انتظامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

    19 May

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

  14. جماعت اسلامی کا 23 جون کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا اعلان

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا ہے ’کراچی کے انتخابات میں دھانلی کے خلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر 23 جون کو احتجاج کیا جائے گا۔ سراج الحق کے مطابق کراچی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنا وقار ختم کر دیا ہے۔

    سراج الحق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی خواہش تھی کہ کراچی کا میئر ایک جیالا ہونا چاہیے۔ انھوں نے الزام عائد ہے کہ ’یہ اغوا برائے تاوان کی طرح کارروائی کی گئی ہے۔ سوا تین کروڑ کی آبادی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’بلاول بھٹو کہتا ہے کہ ہم نے ایک مذہبی جماعت کو شکست دی ہے۔‘

    سراج الحق نے کہا ہے کہ وہ کراچی والوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے کراچی کے حقوق اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر کراچی کے لوگوں نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا ہے۔

  15. جلسوں میں باتیں کرنے سے پرہیز کر کے کابینہ میں بیٹھ کر بات کریں: احسن اقبال

    احسن اقبال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے بلاول بھٹو کی تقریر پر درعمل میں کہا ہے کہ ’وزیراعظم کی ہدایت پر تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں۔ تمام پالیسی فیصلوں میں اتحادی پارٹنرز شریک ہوتے ہیں، سب کی زمہ داری ہے کہ ان فیصلوں کا پہرا دیں اور برابر کی اوونرشپ دیں۔‘

    نارووال میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’بجٹ کی تیاری کے موقع پر بھی تمام جماعتوں کو شریک رکھا گیا اور کابینہ میں تمام ممبران شریک تھے جن کے اتفاق رائے سے بجٹ کی منظوری دی گئی۔‘

    احسن اقبال نے کہا ’اتحادی پارٹنرز جب جلسوں کے اندر عوام کے سامنے جب تنقید کر جائے گی تو سیاسی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ جلسوں میں باتیں کرنے سے پرہیز کر کے کابینہ میں بیٹھ کر بات کریں تاکہ سیاسی بے یقینی پیدا نہ ہو اورہم آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نیا فرنٹ نہ کھولیں۔‘

    احسن اقبال نے کہا ’حکومت کی کوشش ہے کہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے۔ جب اتحاد ہوتا ہے تو اس کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں۔ اتفاق رائے پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ تاہم اس کی وسیع البنیاد اثرات اور سپورٹ ہوتی ہے۔‘

    احسن اقبال کے مطابق ’پچھلے سال جب کلائمنٹ ڈزاسٹر آیا تو وفاقی حکومت نےسندھ اور بلوچستان میں تمام محدود وسائل کے باوجود 80 ارب روپے سے زیادہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دریعہ براہ راست مدد دی اور بیرونی دنیا کی امداد بھی وہاں پہنچائی گئی ،جس نے سیلاب سے نکلنے میں مدد دی ۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’شہباز شریف اپنے اتحادیوں کو مسلم لیگ ن سے ذیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ہماری کوشش ہے تمام صوبوں کو ایک آنکھ سے دیکھیں۔‘

    واضح رہے سینیچر کے روز بلاول بھٹو نے سوات میں جلسے میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’بجٹ پر تحفظات پہنچانے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے جو فنڈز رکھنے چاہییں تھے وہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے ہیں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا تھا ’انھیں وزیراعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہوا ہے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اس بجٹ پر پیپلز پارٹی بھی ووٹ ڈالے تو پھر سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز مختص کریں۔

    ان کے مطابق ’وزیراعظم کی ٹیم میں کچھ لوگ ہیں جو انھیں ٹھیک صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم سے درخواست ہے کہ سیلاب متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کریں۔‘

  16. سالٹ رینج کے قریب لاہور-اسلام آباد موٹروے پر بس حادثے میں 10 افراد ہلاک

    سالٹ رینج کے قریب لاہور-اسلام آباد موٹروے پر بس حادثے میں 10 افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ریسکیو 1122 کے مطابق کلر کہار کے قریب لاہور-اسلام آباد موٹروے پر بس حادثے میں کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔

    حادثہ موٹروے ایم ٹو پر سالٹ رینج کے قریب ہوا۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاہور سے اسلام آباد جانے والی بس کی بریک فیل ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا۔

    زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    سالٹ رینج کلر کہار کا لگ بھگ 10 کلومیٹر کا حصہ ہے جہاں اس سے قبل بھی بہت مہلک حادثات ہوتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ سڑک کے اس حصے پر جابجا وارننگ سائن نصب ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بھی اس ایریا میں موجود رہتی ہے اور ڈرائیونگ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کرتی نظر آتی ہے۔

  17. یونان کشتی حادثے میں ملوث عناصر کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے افسران نامزد کر دیے

    یونان کشتی حادثے میں کئی پاکستانیوں کی ممکنہ ہلاکت کے پیش نظر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کے لیے افسران کو نامزد کر دیا۔

    نامزد کئے گئے افسران میں انسپیکٹر ہادی پرستان، انسپیکٹر عبداللہ، انسپیکٹر وقار اعوان اور سب انسپیکٹر ارتضا انصر شامل ہیں۔ یہ افسران ایف آئی اے کے مختلف اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکلز میں تعینات ہیں۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ’افسران کے موبائل نمبرز اور ای میل بھی شئیر کر دیے گئے ہیں۔ عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ کشتی حادثے میں ملوث عناصر کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات شیئر کرنے کے لئے افسران سے رابطہ کریں۔ معلومات شئیر کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔‘

  18. شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور: ’آزمائشیں آتی ہیں، اللہ ہم سب کو سرخرو کرے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نو مئی کے جیلاؤ گھیراؤ پر درج مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو 19 جون کو انھیں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں تفتیشی افسر نے شہریار آفریدی کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

    سماعت کے دوران ان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔ عدالت نے شہریار آفریدی کو کمرہ عدالت میں ہی فیملی سے ملاقات کی اجازت دی۔

    روسٹرم پر آ کر شہریار آفریدی نے کہا کہ ’میرا بھائی فوت ہوا مجھے جنازے میں شریک ہونے نہیں دیا گیا۔ میں نے یونیورسٹی اور کالجز میں جا کے پاکستانیت پر لکچر دیے۔ احتجاج کرنا میرا آئینی حق ہے، میں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔‘

    عدالت نے ان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔

    عدالت کے باہر صحافیوں نے شہریار آفریدی سے پوچھا کہ آیا وہ بھی پریس کانفرنس کریں گے؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ ’میں کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرتا۔ سب میرے لیے قابل احترام ہیں، کس نے (پارٹی کو) اس حالت میں چھوڑا، کیوں چھوڑا یہ تو رب جانتا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’آزمائشیں آتی ہیں، اللہ ہم سب کو سرخرو کرے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے (رانا ثنا اللہ کو) جیل میں نہیں ڈالا تھا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ میجر جنرل نے انٹیلیجنس رپورٹ پر انھیں) گرفتار کیا، ان کے پاس سب کچھ تھا۔۔۔ کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی۔‘

    دریں اثنا اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس میں فواد چوہدری پر 24 جون کو فرد جرم عائد کیا جائے گا۔ لاہور کی ایک انسداد دہشتگردی عدالت نے نو مئی کے واقعات پر تھانہ شادمان میں درج مقدمے میں اعجاز چوہدری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔

  19. شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کر رہا: وزیر خزانہ اسحاق ڈار

    Dar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ شیل کمپنی پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کر رہی بلکہ ان کا کاروبار جاری رہے گا۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ملازمین فارغ نہیں ہوں گے۔ شیل جو بھی فیصلہ کرے گا وہ حکومت پاکستان کی منظوری کے تحت ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شیل ایک بین الاقوامی سرمایہ کار کو شیئرز بیچنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں معمول کے مطابق کاروبار چلے گا۔ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔‘