میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ میں وکیل کے قتل کا مقدمہ: عمران خان کی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اپنے خلاف سینیئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کی ایف آئی آر کی منسوخی کی درخواست خارج کر دی ہے۔

    درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عامر نواز رانا نے کی۔ اس درخواست میں انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان کو 19 جون تک اسلام آباد ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف قتل کی ایف آئی آر غیرقانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کو منسوخ کیا جائے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس درخواست کو نمٹانے تک ایف آئی آر، تحقیقات اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ان کے مؤکل کے خلاف وارنٹ گرفتاری کو معطل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مدعا علیہان کو یہ بھی ہدایت کی جائے کہ درخواست کو نمٹانے تک عمران خان کو اس کیس میں گرفتار نہ کریں۔

    عدالت کے استفسار پر عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ قتل کے مقدمے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں لیکن تاحال ان کے مؤکل کو تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ابھی تک ان کو تفتیش کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔

    وکیل نے عدالت کی توجہ مقتول وکیل کی بیوہ کی پریس کانفرنس کی جانب بھی دلائی جس میں مقتول کی بیوہ نے اپنے رشتہ داروں کو قتل کا ذمہ دار ٹہرایا۔

    سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ مقتول وکیل خود تحریک انصاف کا رکن بھی تھا۔ انھوں نے درخواست کے ساتھ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی تصاویر کو بھی منسلک کیا تھا۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے میں تحقیقات کو نہیں روکا جاسکتا۔

  2. ’آئی ایم ایف سے مذاکرات آپ نے ناکام کیے ہوں گے، میرے نزدیک کوئی ناکام نہیں‘

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی ہی ایک ویڈیو ری ٹویٹ کی ہے جس میں انھیں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ’آپ نے ناکام کیے ہوں گے، میرے نزدیک کوئی ناکام نہیں۔‘

    صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’نواں ریویو ہوگا، اسی مہینے ہوگا۔ ہر چیز کا انتظام موجود ہے۔۔۔ ہر ادائیگی ہو رہی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے میں دس کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران دس کروڑ ستر لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کے زرمبادلہ ذخائر چار ارب ڈالر کی سطح عبور کر گئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے پاس زرمبادلہ ذخائر کی مد میں چار ارب ڈالر موجود ہیں جو گذشتہ ہفتے 3.9 ارب ڈالر تھے۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے کمرشل بینکوں کے پاس 5.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں اور ملک کے پاس مجموعی طور پر 9.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔

  4. آئی ایم ایف چاہتا ہے پاکستان سری لنکا بنے اور پھر مذاکرات کریں: اسحاق ڈار کا دعویٰ

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) چاہتا ہے کہ پاکستان سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کرے جس کے بعد پاکستانی حکومت سے دوبارہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں شرکت کے دوران بریفننگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف چاہتا ہے پاکستان سری لنکا بنے اور پھر ہم مذاکرات کریں۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ ’ہمارے خلاف جیو پولیٹکس ہو رہی کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے۔ گذشتہ حکومت نے سٹیٹ بینک ایکٹ میں جو ترامیم کیں، وہ ناقابل برداشت ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کی ہیں لیکن ابھی مکمل نہیں ہوئی، سٹیٹ بینک پاکستان کا بینک ہے کسی عالمی ادارے کا نہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اولین ترجیح ہے کہ جو ادائیگیاں کرنی ہیں وہ بروقت کی جائیں گی، بانڈز سمیت کوئی ادائیگی تاخیر کا شکار نہیں ہوئی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’پیرس کلب کے پاس قرض ری شیڈول کے لیے نہیں جائیں گے۔‘

    ’چار سالوں میں ستر ارب ڈالر کا قرض سو ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔‘

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے بغیر پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں کچھ شعبوں کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی اس معاملے پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

  5. ’زرداری صاحب نے بلایا تو انکار نہیں کر سکا اور سیاست میں آ گیا‘: پیپلز پارٹی کے پہلے میئر کراچی کون ہیں؟

  6. گرینڈ حیات ہوٹل نظرِ ثانی کیس: ’پیسے کے معاملے میں فیصلہ نہیں دوں گا، بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کروں گا، چییف جسٹس سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں کانسٹیٹوشن ایونیو ون (گرینڈ حیات ہوٹل) سے متعلق نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی ہے جس پر عدالت نے سی ڈی اے اور ہوٹل مالکان کی نظر ثانی درخواستیں غیر موثر ہونے پر نمٹا دی ہیں۔

    سی ڈی اے نے گرینڈ حیات ہوٹل کے ساتھ ہونے والی لیز کو چار ارب روپے سے بڑھا کر سترہ ارب روپے کردیا تھا اور کہا تھا کہ سات سالوں میں اس رقم کو جمع کروایا جائے۔

    تاہم گرینڈ حیات ہوٹل کی طرف سے رقم جمع نہ کروانے پر سی ڈی اے نے ان لی لیز کو کینسل کر دیا تھا جس کے خلاف وہ نظرثانی کی اپیل میں گئے تھے کیونکہ اس سے پہلے سپریم کورٹ ان کی سی ڈی اے کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کو خارج کر چکی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم بڑا واضح ہے۔ ایک بھی قسط ڈیفالٹ کرنے پر سی ڈی اے لیز منسوخ کر سکتا تھا۔

    ہوٹل کے وکیل نے استفسار کیا کہ ’پراجیکٹ کی رقم بڑھانے سے پراجیکٹ چلانا ممکن نہیں رہا وکیل ہوٹل عدالت رقم اور مدت کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’میں کسی پیسے کے معاملے میں فیصلہ نہیں دوں گا۔ بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کر دوں گا۔‘

  7. پاکستان میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اس مالی سال میں نو فیصد سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں ملک کی بڑی صنعتوں کی پیداور میں 9.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ تقریباً تمام صنعتی شعبوں میں منفی گروتھ رہی۔

    موجودہ سال اپریل کےمہینے میں صنعتی پیداوار میں گذشتہ سال اپریل کے مقابلے میں 21 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ اپریل کے مہینے میں مارچ کے مقابلے میں بھی صنعتی پیداوار تقریباً دس فیصد گر گئی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے بڑے صنعتی شعبے ٹیکسٹائل کی پیداوار میں موجودہ مالی سال کے زیر جائزہ مہینوں میں 3.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پٹرولیم، کیمیکل، فارماسوٹیکل، مشروبات، آئرن اور سٹیل، برقی آلات، گاڑیاں بنانے کی صنعتوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔

  8. بریکنگ, پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کو شکست دے کر میئر کراچی منتخب

    murtaza

    ،تصویر کا ذریعہSocial media

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب 173 ووٹ لے کر میئر کراچی منتخب ہو گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ میئر کراچی کے انتخاب کے لیے پیپلزپارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مرتضیٰ وہاب کو 173 ووٹ جبکہ حافظ نعیم کو 161 ووٹ ملے۔

    نتیجے کا حتمی اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

    اس غیر حتمی اعلان کے بعد کراچی کی آرٹس کونسل جسے پولنگ سٹیشن کا درجہ دیا گیا تھا، کے باہر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پی پی پی چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔

    پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں بلاول بھٹو سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک تاریخی کامیابی ملی ہے، یہ کامیابی پورے پاکستان کی فتح ہے۔‘

  9. کراچی کے میئر کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں؟

  10. صرف اسٹیبلشمنٹ اور آرمی چیف سے بات کرنا چاہتا ہوں پی ڈی ایم کے ہاتھ میں کچھ نہیں: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے گذشتہ رات یوٹیوب کے ذریعے نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب تک کور کمانڈر ہاؤس پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں آئی، جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلے پولیس کے اعلٰی عہدیدار کو نوکری سے برخاست کیا گیا تھا، یہاں پولیس کا آئی جی دندناتا پھر رہا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تو پہلے دن سے کہتے ہیں کہ جنھوں نے کور کمانڈر ہاؤس، ریڈیو پاکستان اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائی ان کی نشاندہی کریں اور ان کو سزا دیں۔ نو مئی کا فائدہ کس کو ہوا، پی ٹی آئی کو نہیں ہوا، جس کو فائدہ ہوا وہ اس کا ذمہ دار ہے۔‘

    عمران خان نے خاص طور پر پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کو جیل میں رکھنے کے بارے میں کہا کہ ’شہریار آفریدی کے بھائی کی وفات پر بھی انھیں گھر نہیں جانے دیا گیا۔ جب نواز شریف کی اہلیہ کی وفات ہوئی تھی تو ہم نے انھیں چار دن کا وقت دیا تھا۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’یاسمین راشد تو ویڈیو میں کہہ رہی ہیں کہ کور کمانڈر کے گھر کے اندر نہ جاؤ، انھیں بھی 75 سال کی عمر میں جیل میں رکھا ہوا ہے۔

    ’کوئی ملک بھی ایسے نہیں چل سکتا، مجھے باہر رکھنے کے لیے پورے ملک کی اخلاقیات اور نظام برباد کیا جا رہا ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف اسٹیبلشمنٹ اور آرمی چیف سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ پی ڈی ایم کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے سمت درست کریں، میں کسی سے بھیک نہیں مانگ رہا مجھے صرف اس ملک کی فکر ہے۔‘

  11. حکومت اور تحریکِ لبیک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج

    qadir

    ،تصویر کا ذریعہTLP

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق سے تحریک لبیک پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ہوئی ہے جس میں تحریک لبیک کے وفد میں ڈاکٹر شفیق امینی، غلام عباس فیضی، مفتی محمد عمیر الزہری اور مولانا غلام غوث بغدادی شامل تھے۔

    ملاقات میں وفد نے حکومتی اراکین کو اپنے مطالبات پیش کیے، اب ان مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر منعقد ہو گا۔

  12. فردوس عاشق اعوان استحکام پاکستان پارٹی کی سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن مقرر

    فردوس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کی سابق رہنما فردوس عاشق اعوان کو استحکام پاکستان پارٹی کی سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن مقرر کر دیا گیا ہے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کے بانی جہانگیر خان ترین نے اس بابت اعلان سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. ’الحمدللہ، میں ٹھیک ہوں‘: لندن پولیس کا یوٹیوبر عادل راجہ کی گرفتاری کی تصدیق یا تردید سے انکار

  14. تحریک لبیک کا لانگ مارچ: جی ٹی روڈ جہلم کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند, شہزاد ملک، احتشام شامی

    جہلم

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب آنے والے تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو روکنے کی غرض سے پنجاب پولیس نے ضلع جہلم کے مقام پر جی ٹی روز پر خندقیں کھود دی ہیں۔

    یاد رہے کہ تحریک لبیک کا یہ مارچ چند روز قبل کراچی سے شروع ہوا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن پیر عنایت نے کہا کہ کراچی سے شروع ہونے والہ یہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ کر ہی ختم ہو گا۔

    اس مارچ کے مقاصد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک کا یہ مارچ مہنگائی کے خلاف ہے ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کو مزید کم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ توہین مذہب کے مقدمات کا ٹرائل بھی خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں جس طرح نو مئی کے واقعے میں ملوث افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے ہیں۔

    ضلع جہلم انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کے مارچ کو دیکھتے ہوئے دریائے جہلم کے دونوں اطرف خندقین کھود دی گئی ہیں۔ اہلکار کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے انھیں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی جائے جس کی وجہ سے دریائے جہلم کے دونوں اطراف یعنی لاہور سے راولپنڈی جانے والی اور راولپنڈی سے لاہور جانے والی جی ٹی روڈ پرخندقیں کھو دی گئی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ پرانے ریلوے کے پُل کو بھی جہلم کے مقام پر بند کر دیا گیا ہے۔

    صحافی احتشام شامی کے مطابق سرائے عالمگیر اور جہلم کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا اور اس صورتحال کے باعث جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے ہزاروں مسافر پریشان ہیں۔

    پولیس ترجمان کے مطابق جہلم پُل سمیت جی ٹی روڈ کے مختلف مقامات کو کنٹینرز لگا کر ہر قسم کی ٹریفک بند کر دیا ہے جبکہ مختلف اضلاع کی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جہلم پل پر تعینات کر دی گئی۔

  15. جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ مسرت ہلالی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کر دی

    جسٹس مسرت ہلالی

    ،تصویر کا ذریعہASSOCIATED PRESS OF PAKISTAN

    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مسرت ہلالی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کر دی ہے۔

    کمیشن کا اجلاس بدھ کے روز چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں منعقد ہوا، جہاں جسٹس مسرت ہلالی کے نام کی متفقہ طور پر سفارش کی گئی۔

    اپنے نئے عہدے کا حلف لینے کے بعد جسٹس مسرت ہلالی سپریم کورٹ کی دوسری خاتون جج ہوں گی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں جسٹس مسرت ہلالی پہلی خاتون جج ہیں جنھیں رواں برس ہی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

  16. ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ: ’نظرثانی کے آئینی تقاضے ہیں، اسے اپیل میں نہیں بدلا جا سکتا: چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت دیکھ رہی ہے کہ کیا پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے نظر ثانی کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے؟

    بدھ کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہ انڈیا میں حق سماعت نہ ملے تو نظر ثانی ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں فیصلہ غیر قانونی ہو تو نظر ثانی ہو جاتی ہے۔

    درخواست گزار پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ میںکہا گیا کہ عدالت کو اپنا پرانا فیصلہ ری اوپن کرنے میں بہت ہچکچاہٹ اور احتیاط برتنی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حتمی ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

    بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمات کے ریویو میں صرف نقص دور کیا جاتا ہے جبکہ دیوانی مقدمات میں سکوپ بڑا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ ریے ہیں کیا پارلیمنٹ ریویو سکوپ بڑھا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ’نظر ثانی کے آئینی تقاضے ہیں مگرنظر ثانی کو اپیل میں بدلا نہیں جا سکتا۔‘

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184(3) حتمی احکامات کے لیے بنایا گیا ہے اور آرٹیکل184(3) کی تمام شرائط پوری ہورہی ہوں تو ہی عدالت احکامات دیتی ہے۔

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر آرٹیل 184(3) میں ریویو کی بجائے اپیل دی جائے گی تو آرٹیل 184(3) کے اختیارات کم ہوجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب قانون ساز کہیں کہ وہ آرٹیکل184(3) کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں تو دراصل دائر اختیار کم کیا جا رہا ہوتا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ دراصل آرٹیکل184(3) کو ختم کر رہے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹسکا کہنا تھا کہ ترمیم کے تحت اپیل کو خوش آمدید کہیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آئین آرٹیکل 184(3) کے دائرہ اختیار میں کمی کی اجازت دیتا ہے لیکن صرف آئینی ترمیم کے ذریعے۔‘

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق نظر ثانی اور اپیل کا فرق قانون سازوں کو معلوم تھا اور اسی وجہ سے ہی آرٹیکل184(3) میں نظر ثانی کا حق دیا گیا ہے اپیل کا حق نہیں دیا۔

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں نظر ثانی میں اپیل کا حق دینا عام قانون سازی کے ذریعے نہیں دیا جاسکتا اور پارلیمان صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی سب کچھ کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ ازخود اختیارات میں سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کریں تو موسٹ ویلکم لیکن اس ضمن میں آئینی ترمیم ہونی چاہیے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  17. بریکنگ, بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ: فواد چوہدری ذاتی حیثیت میں 17 جون کو عدالت طلب

    Fawad Ch

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں اسلام آباد کے مقامی عدالت نے فواد چوہدری کو 17 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بدھ کے روز ملزم کی عدم حاضری پر دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔عدالت نے فواد چوہدری کے اسلام آباد اور لاہور والے گھر سے عدالتی سمن کی تعمیل کروانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

    عدالت نے فواد چوہدری اور ضامن کو سمن پر عملدرآمد پر رپورٹ بھی 17 جون کو طلب کی ہے۔عدالت نے سمن پر عملدرآمد نہ کرنے پر پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمن پر تعمیل ایسے کروائی جاتی ہے۔

    مقامی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ تعمیلی رپورٹ پر دستخط کروائے جاتے ہیں،شناختی کارڈ نمبر لکھا جاتا ہے اور ایک گواہ رکھا جاتا ہے۔

    عدالت نے پولیس اہلکار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جونیئر کو آپ ایسے سیکھائیں گے۔

    پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے نمبر پر کال کی نمبر بند تھا،

    عدالت نے ملزم کے لاہور اور اسلام آباد والے گھر پر دوبارہ سمن جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تعمیلی رپورٹ طلب کر لی۔ کیس کی سماعت 17 جون تک ملتوی۔

  18. توشہ خانہ کیس: سیکرٹری الیکشن کمیشن کے پاس فوجداری کارروائی کے لیے اجازت دینے کا اختیار نہیں، وکیل عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں۔ سماعت کے آغاز پر وکیل چیئرمین پی ٹی آئی خواجہ حارث نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے والے جج ہمارے اعتراضات کو ریکارڈ پر نہیں لائے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ متعلقہ عدالت نے کہا کہ اِن اعتراضات کو شہادت ریکارڈ کرتے وقت دیکھیں گے۔

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمپلینٹ مجاز اتھارٹی کی جانب سے دائر نہیں کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ اس معاملہ کو شہادت کے مرحلہ پر دیکھیں گے۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا مجاز افسر ہی کمپلینٹ دائر کر سکتا ہے۔

    انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ دکھانے میں ناکام رہے۔ شکایت درست طور پر فائل نہ ہونے کے باعث قانون کی نظر میں شکایت موجود ہی نہیں۔

    اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن خود اپنے ڈسٹرکٹ کمشنر کے ذریعے شکایت دائر کرتا؟

    جس پر خواجہ حارث نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر شکایت دائر کر سکتا ہے۔ کیس دائر کرتے وقت شکایت کنندہ ڈپٹی الیکشن کمشنر تھے۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ نے حلفیہ تصدیق بھی کی کہ وہ ڈپٹی الیکشن کمشنر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ اتنی جلد بازی میں یہ مقدمہ کیوں دائر کیا گیا۔ شکایت کنندہ کے دو جگہوں پر دستخط مختلف ہیں۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ یہ جعلسازی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی طرف سے ایون فیلڈ کیس کی اپیلوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ مریم نواز کی اپیل میں یہ ابزرو کیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن کریمنل کیس میں میرٹ کو دیکھا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فرض کریں کہ الیکشن کمیشن کا توشہ خانہ کیس میں فیصلہ نہیں ہے، پھر بھی کوئی شکایت درج کراسکتا ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے ایک فیصلہ دیا اور اس کی بنیاد پر فوجداری کمپلینٹ دائر کی گئی۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجداری کارروائی میں الیکشن کمیشن نے شواہد کے ساتھ اپنا کیس ثابت کرنا ہے، سول کارروائی اپنی جگہ لیکن کرمنل میں تو سزا ہونی ہوتی ہے۔ مریم نواز کے کیس میں بھی ہم نے اس نکتے کو طے کیا تھا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ موجود نہ ہو تو کیا پھر بھی فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے؟ کیا پھر بھی کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کی کمپلینٹ دائر ہو سکتی ہے؟

    اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری فوجداری کارروائی کے لیے شکایت دائر کر سکتا ہے۔ جبکہ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے پاس فوجداری کارروائی کے لیے اجازت دینے کا اختیار نہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے واضح لکھا کہ میں بطور سیکرٹری کمیشن اجازت دے رہا ہوں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے یہ نہیں لکھا کہ کمیشن کی طرف سے اجازت دے رہا ہوں۔

    اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری الیکشن کمیشن کی بجائے کسی ممبر نے وہ خط لکھا ہوتا تو پھر درست تھا؟ جی بالکل اتھارٹی الیکشن کمیشن ہے، وکیل چیئرمین تحریک انصاف خواجہ حارث

  19. ارشد شریف قتل کیس: کینیا اور یو اے ای سے باہمی معاہدوں کے لیے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور

    Arshad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں سینئر صحافی ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی گذشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ عدالت کینیا اور یو اے ای سے معاہدوں کے لیے اٹارنی جنرل کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرتی ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے کینیا اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کے معاہدے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا، اٹارنی جنرل کے مطابق اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کے معاہدوں کے لیے مزید وقت لگے گا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کینیا اور یو اے ای سے معاہدوں کے لیے اٹارنی جنرل کی مہلت دینے کی استدعا منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ارشد شریف کی دوسری اہلیہ جویریہ صدیق کے وکیل نے اقوام متحدہ سے تعاون لینے بارے آگاہ کیا۔

    ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے پانچ افراد کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست کی۔

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ معاملے کی تحقیقات میں صرف سہولت کاری کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کسی شخص کو شامل تفتیش کرنے کا نہیں کہہ سکتی، ارشد شریف کے والدہ کے وکیل کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹائی جاتی ہے، جن افراد کو شامل تفتیش کرنا ہے اس کی درخواست جے آئی ٹی کو دی جاسکتی ہے۔

    اس مقدمے کی مزید سماعت جولائی میں ہو گی۔

  20. چیئرمین نادرا طارق ملک نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کر دیا

    چیئرمین نادرا محمد طارق ملک نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران محمد شہباز شریف نے چیئرمین نادرا کے طور پر طارق ملک کی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    ملاقات کے بعد میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں طارق ملک نےکہا کہ ’اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں انھیں پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب پر تیار کی جانے والی 'نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2023' کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے جو ان کے لیے اعزاز ہے۔ ‘

    طارق ملک کے مطابق ’اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے پائیدار ترقی کے عالمی مقاصد (SDGs) کی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ پاکستان میں پارلیمان کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘

    طارق ملک نے کہا کہ ان حقائق کے پیش نظر وہ چیئرمین نادرا کے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں تاکہ پوری لگن اور دلجمعی کے ساتھ اپنی تمام ذمہ داریوں کو انجام دے سکیں۔