حوثیوں کا سعودی عرب پر یمن میں نئی فضائی کارروائیوں کا الزام، ٹرمپ کی الیکشن کے بعد ایندھن کی قیمت میں کمی کی پیشگوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران ’شدت سے‘ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور پھر ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے کم ہو گی۔‘ ادھر حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔

خلاصہ

  • حوثیوں کا سعودی عرب کے اسلحہ ڈپو اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، منی فورسز کا پانچ ڈرون مار گرانے کا اعلان
  • آبنائے ہرمز میں حملے اور سعودی پائپ لائن کی بندش کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی دباؤ کا شکار
  • محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کی درخواست، امریکہ کا براہ راست مداخلت سے گریز
  • حوثیوں نے امریکہ سے یمن میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی ہے: صدر ٹرمپ
  • ہماری سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • حوثیوں کا 200 سے زائد ساتھیوں کو رہا کروانے کا دعویٰ
  • یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں کے باعث کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر: اقوامِ متحدہ

لائیو کوریج

  1. بحیرہ احمر پر حوثیوں کے کنٹرول سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے طویل عرصے تک پر بند رہنے کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات بحیرہ احمر تک پہنچانے کے لیے مشرق سے مغرب جانے والی (ایسٹ-ویسٹ) پائپ لائن کا سہارا لیا۔

    اس سال کے آغاز میں سعودی عرب اپنی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد خلیج کے راستے کے بجائے اس پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ کی جانب منتقل کر رہا تھا۔

    اس پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب بحیرہ احمر میں واقع باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ایشیا کو تیل بھیجنے کے قابل رہا ہے۔

    تاہم، حوثیوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ جزیرہ پیریم تک پہنچ گئے ہیں، جو آبنائے باب المندب کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، اور اس صورتحال سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو گزرنے نہیں دیں گے۔

    East west
  2. سعودی عرب سے حوثیوں کا تنازع کیسے شروع ہوا؟

    حوثی

    پانچ نومبر 2009 کو حوثیوں نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کے دوران سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع سرحدی گاؤں الخوبہ میں دراندازی کی۔ اس کارروائی کا مقصد سرحدی علاقے میں واقع جبل الدخان پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔

    اس کے جواب میں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی اور ان سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جن پر سعودی سرحدی محافظوں پر فائرنگ کا الزام تھا۔ سعودی حکام نے تین روز بعد اعلان کیا کہ انھوں نے جبل الدخان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

    یہ لڑائی فروری 2010 تک جاری رہی۔ اس تصادم کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنی جنوبی سرحد کے لیے ایک ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا، جو بعد کے برسوں میں دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیاد بنا۔

  3. حوثی کون ہیں اور حوثی تحریک کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    10 ستمبر کی تصویر: حوثیوں کے وفادار جنگجو صنعا میں مزید جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے منعقدہ ایک ریلی کے دوران نعرے لگا رہے ہیں۔
    ،تصویر کا کیپشن10 ستمبر کی تصویر: حوثیوں کے وفادار جنگجو صنعا میں مزید جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے منعقدہ ایک ریلی کے دوران نعرے لگا رہے ہیں۔

    حوثی ایک جنگجو گروہ ہے جس کا تعلق یمن کی اقلیتی زیدی شیعہ برادری سے ہے اور یہ اپنے آپ کو ’انصار اللہ‘ بھی کہتا ہے۔ اس تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں ملتی ہیں، جہاں اس کی بنیاد معروف زیدی عالم بدرالدین الحوثی کے صاحبزادے حسین بدرالدین الحوثی نے رکھی۔

    1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بدرالدین الحوثی یمن میں پھیلتے ہوئے سلفی اثرات کے ناقد کے طور پر سامنے آئے۔ حوثیوں کے مطابق اس دور میں یمن میں سعودی حمایت یافتہ وہابی فکر کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا، جس کی انھوں نے مخالفت کی اور اس کے نتیجے میں سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کیا۔

    اس تحریک کی باقاعدہ تشکیل 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی، جب حسین الحوثی نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعت ’الحق‘ کے قیام میں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1993 کے انتخابات میں انھوں نے صوبہ صعدہ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی، جس سے تحریک کو سیاسی شناخت ملی۔

    ابتدائی طور پر حوثی تحریک کا مقصد اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت میں پائی جانے والی بد عنوانی اور سیاسی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ ایک طاقتور عسکری اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس گروہ کا نام بھی اس کے بانی حسین الحوثی کے نام پر رکھا گیا۔

    2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حوثیوں نے ’اللہ اکبر، امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، اسلام کو فتح حاصل ہو‘ کا نعرہ اپنایا اور خود کو حماس اور حزب اللہ کی طرح ایران کے حمایت یافتہ اُن گروہوں کا حصہ قرار دیا جو اسرائیل، امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس سے وابستہ یمن کے امور کے ماہر ہشام العمیسی کے مطابق حوثیوں کی تاریخ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ آج بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو کیوں نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بقول حوثی اپنے اقدامات کو سامراجی طاقتوں اور امتِ مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور یہی بیانیہ ان کے حامیوں میں مقبول ہے۔

  4. سعودی اتحاد کی کمزوری یا بہتر عسکری حکمت عملی: یمنی حوثی اتنی تیزی سے مخا کی اہم بندرگاہ تک کیسے پہنچے؟, منزہ انوار، بی بی سی اُردو، اسلام آباد

    حوثی

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے ملک کے مغربی ساحل پر تیز رفتار پیش قدمی کے بعد 10 ستمبر کو بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر مخا (المَخا) پر قبضہ کیا اور اب اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز کے انخلا کے بعد حوثیوں نے آبنائے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزیرے ’میون‘ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    اس سے قبل حوثیوں نے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم اور سٹریٹجک فوجی مرکز ’العمری فوجی اڈے‘ کا بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

    حوثیوں کے مطابق یہ پیش رفت باب المندب کے اطراف ان کی عسکری پوزیشن کو مزید مضبوط بناتی ہے، جو عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

    اس تیز رفتار پیش قدمی کے پیچھے وجوہات جاننے کے لیے ذیل میں دی گئی رپورٹ پر کلک کریں۔

  5. تصدیق شدہ تصاویر سے مخا کے اہم علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے: بی بی سی ویریفائی

    حوثی

    بی بی سی ویریفائی ایسی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لے رہا ہے جن میں جنگجوؤں کو بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر مخا میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    ٹیلیگرام پر شیئر کی گئی ایک تصدیق شدہ تصویر میں چار مسلح افراد کو مخا ائیرپورٹ کے ٹرمینل کی عمارت کے باہر کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ عمارت مرکزی بندرگاہ کے جنوب میں واقع ہے۔

    ایک ویڈیو میں بھی مسلح افراد کو مخا کے وسط سے گزرنے والی ایک مرکزی سڑک پر چار پک اپ گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ویڈیو میں ایک شخص کو حوثیوں کا ایک معروف نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔

    مخا
  6. سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کے بادل کی نشاندہی

    East West Pipeline

    بی بی بی فارسی کے مطابق جمعرات کے روز حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کا ایک بڑا بادل دکھائی دے رہا ہے۔

    سعودی عرب نے اس علاقے میں کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ حکومتی میڈیا دفتر اور تیل کمپنی آرامکو نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ سعودی تیل کمپنی آرامکو اس کے ذریعے خلیج فارس کے مشرقی ساحل سے تیل بحیرہ احمر کے مغربی ساحل تک منتقل کر سکتی ہے۔ اس سے تیل کی بحری جہازوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے ترسیل کی ضرورت نہیں رہتی۔

    ایرانی میڈیا اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے اوپر دکھائی دینے والا دھواں حوثیوں کے حملے کا نتیجہ ہے۔

  7. خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس بیان حلفی جمع کروائیں کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سرکاری مشینری استعمال نہیں ہو گی: اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    IHC

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف 27 ستمبر کو لانگ مارچ سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور صوبے کی پولیس کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالت میں بیان حلفی جمع کروائیں کہ اس ممکنہ احتجاج کے دوران سرکاری مشینری سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

    جمعہ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کو دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ درخواست اس کے دائرہ سماعت میں آتی بھی ہے یا نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایک ایکٹ کے تحت قائم ہوئی اور اس کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک محدود ہے جبکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسران کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

    واضح رہے کہ اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور پولیس کے سربراہوں کو ذاتی حثیت میں طلب کیا تھا۔

    خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ ہر صوبے اور اسلام آباد کے لیے الگ الگ ہائی کورٹس قائم کی گئی ہیں، آئین کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک بنتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں میں بھی یہ اصول موجود ہے کہ جس علاقے کا دائرہ اختیار ہو، اسی عدالت سے رجوع کیا جائے۔

    شاہ فیصل نے نقطہ اٹھایا کہ اگر عدالت اس درخواست پر پورے پاکستان کے افسران کو طلب کرے گی تو ایسا اقدام دوسرے صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کے زمرے میں آئے گا۔

    خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہوا؟ کیونکہ ابھی تو لانگ مارچ شروع ہی نہیں ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ درخواست گزار نے دلائل نہیں دیے بلکہ ان کی جانب سے اٹارنی جنرل نے دلائل دیے تھے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ انھوں نے اس درخواست کی حق میں دلائل دیے تھے۔

    شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ اس درخواست کو قابل سماعت قرار دے گی تو مقننہ کی دانست ہی ختم ہو جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس درخواست میں صرف ایک سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کیا گیا ہے جبکہ لانگ مارچ صرف ایک جماعت نہیں بلکہ متعدد جماعتیں کر رہی ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آیا انھوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مشاورت کی ہے اور کیا وہ حکومت خیبرپختونخوا کے نمائندے ہیں؟ جس پر شاہ فیصل نے جواب دیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے ہیں۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کی دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک تو وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو ہیں اور دوسرا وہ ایک سیاسی جماعت کے رکن ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ اگر وہ پارٹی کے رکن نہ ہوتے تو وزیراعلیٰ کیسے بنتے۔

    عدالت کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل نے وزیراعلیٰ کے حلف کے متعلقہ حصے بھی پڑھ کر سنائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہیے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وزیراعلی نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون یا ریاست کے خلاف ہو۔

    بینچ کے سربراہ نے سوال کیا کہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ جس پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری نے اسے سیاسی سرگرمی قرار دیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی بھی سیاسی سرگرمی ہے؟

    خیبر پختوخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے اس درخواست میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کو بھی فریق بنانے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    شاہ فیصل نے احتجاج اور لانگ مارچ سے قبل کنٹینرز لگانے کے عمل پر بھی اعتراض کیا۔ انھوں نے عدالت سے وفاقی حکومت کے خلاف نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ کے پی ہاؤس کے باہر بھی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں۔

    عدالت نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیان حلفی طلب کرلیا اور قرار دیا کہ ان دونوں افسران کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی طلب کیا تھا اور انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ 2022 اور سنہ 2024 کے دوران عدالت نے جو احکامات جاری کیے تھے اس کی بھی تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی تھی۔

  8. باب المندب کی آبی گذرگاہ میں واقع جزیرے میون پر حوثیوں کا قبضہ

    یمن کے حوثی حوثی ضنگجوؤں نے باب المندب کی آبی گذرگاہ کے دہانے پر واقع اہم جزیرے میون پر قبضہ کر لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین اور ایک مقامی سرکاری اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حوثیوں نے جزیرہ پیریم، جسے میون بھی کہا جاتا ہے، پر’کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘

    سرکاری اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سرکاری فورسز کے انخلا کے ایک روز بعد مسلح حوثی جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیاں میون جزیرے پر پہنچی ہیں۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز جزیرہ میون سے نکل گئی ہیں۔

    جزیرہ میون، جسے بعض اوقات باب المندب جزیرہ بھی کہا جاتا ہے، اس آبی گذرگاہ کے وسط میں واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔

    اس سے قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ یمن کے ساحلی شہر ذباب پر بھی حوثیوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں باب المندب کی آبی گذرگاہ پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ یہ آبی راستہ سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی تھی۔

    دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے آج دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے درجنوں فضائی حملے کیے ہیں اور حالیہ حملوں میں دو مرتبہ المخا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    المخا کی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں حوثیوں کے قبضے میں آ چکی ہے۔

  9. ایرانی صدر برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے

    Masoud Pazeshkian Brics India

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے۔

    ایرانی صدر کے دفتر کے مطابق مسعود پزشکیان برکس کے مرکزی سربراہی اجلاس، اقتصادی سربراہی اجلاس اور بند کمرہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ان خطابوں کا موضوع جامع عالمی طرزِ حکمرانی اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہو گا۔

    انڈیا میں ہونے والے برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں۔

    اس دورے سے قبل تہران میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا تھا ’برکس میں ہمارا مقصد امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔‘

    مسعود پزشکیان کے مطابق نئے برکس بینک میں ’ڈالر پر انحصار کیے بغیر‘ مشترکہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔

  10. لاہور: چھ سالہ بچی سے ریپ کی کوشش کرنے والے شخص کو 14 سال قید کی سزا, احتشام شامی، صحافی

    Children, Rape

    صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خصوصی عدالت برائے اینٹی ریپ نے چھ سالہ بچی کے ساتھ ریپ کی کوشش کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 14 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کا حکم سُنا دیا ہے۔

    یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ کی عدالت نے سنایا ہے۔

    اس واقعے کا مقدمہ 24 مارچ 2025 کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں ملزم اصغر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر میں والد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ جب 23 مارچ کی شام اپنے گھر پہنچے تو اُن کی چھ سالہ بیٹی نے بتایا کہ اُن کا ایک محلے دار اصغر انھیں اپنے گھر لے گیا اور ریپ کی کوشش کی تاہم بچی کے شور مچانے پر ملزم بچی کو اپنے گھر میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

    پولیس نے اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 بی لگائی گئی تھی جو کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے جنسی استحصال پر لگائی جاتی ہے۔ یہ ایک ناقابل ضمانت جرم ہے جس میں کم از کم سزا 14 برس اور زیادہ سے زیادہ 20 سال تک ہے۔

    اس کیس کی سماعت کےلیے پولیس نے خصوصی عدالت برائے اینٹی ریپ بھجوایا تھا، جہاں ملزم پر سات جولائی 2025 كو فرد جرم عائد كى گئى، ملزم نے صحت جرم سے انكار كیا تھا جس کے بعد كيس كا ئرائل شروع كيا گيا۔

    سیینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بتایا کہ اس کیس میں کل آٹھ گوابان نے اپنے بيانات ریکارڈ کروائے اور ميڈيكل رپورٹ بھی مثل مقدمہ کا حصہ بنائی گئی تھی۔

    دوران سماعت گواہان کے بیانات کی روشنی، میڈیکل رپورٹ، شواہد اور عدالت میں دیے گئے بیانات کی روشنی میں عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیا اور 14 سال قید کی سزا سنائی۔

  11. یمن پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: پاکستان کا سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعادہ

    Yeman

    پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔

    پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کو اپنے علاقے کے دفاع، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ اور قومی اثاثوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔

    پاکستان کے خارجہ سیکریٹری عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مؤقف کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور مملکت کو درپیش کسی بھی خطرے کے مقابلے میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

    یاد رہے کہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس یمن کی تازہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا، جہاں پاکستان نے سعودی عرب کے حقِ دفاع اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اپنے واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔

  12. پاکستان کا ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کی حمایت کا اعادہ: ایرانی میڈیا

    Sajjad Haider
    ،تصویر کا کیپشنترجمان پاکستانی دفتر خارجہ سجاد حیدر

    ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کےمطابق پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے رکن کی حیثیت سے ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول اور استعمال کا جائز حق حاصل ہے۔

    خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ این پی ٹی کے تحت ایران کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی این پی ٹی میں شمولیت اسے پرامن جوہری پروگرام آگے بڑھانے کا قانونی جواز فراہم کرتی ہے۔

    ترجمان کے یہ ریمارکس بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے خلاف پیش کی گئی اس قرارداد کے پس منظر میں سامنے آئے جس کی حمایت امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کی تھی۔ تاہم سجاد حیدر نے آئی اے ای اے میں ان چار ممالک کی کارروائی پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

    انھوں نے اس موقع پر خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے یمن کی صورتحال سے متعلق تہران کو کوئی پیغام بھجوایا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ درست نہیں۔

    علاقائی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سجاد حیدر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کا موجودہ فریم ورک دفاعی نوعیت کا ہے اور فی الحال اس میں کسی نئے رکن کو شامل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان یمن میں امن، استحکام اور سلامتی کا حامی ہے اور بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

  13. حوثیوں کا باب المندب کے قریب العمری فوجی اڈے اور جزیرہ زقر پر کنٹرول کا دعویٰ

    @IrnaEnglish

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز العمری گارژن کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    حوثیوں کے مطابق ان کی بحری فورسز نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے اور جزیرے کو مخالف فورسز سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

    باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں کسی بھی فریق کی عسکری پیش قدمی عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے اہم نتائج مرتب کر سکتی ہے۔

    حوثیوں کے دعوے پر یمنی حکومت یا سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں مغربی یمن کے ساحلی علاقوں میں شدید لڑائی اور حوثیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

  14. ایرانی وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رابطہ، علاقائی کشیدگی اور امن پر مشاورت

    Iran, USA

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    ایرانی حکومت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کے علاقائی امن و استحکام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔‘

  15. ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو

    Iran, Saudi
    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود (فائل فوٹو)

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے خطے کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    یہ فون پر بات چیت جمعرات کو یمن میں تنازع کے تناظر میں ہوئی ہے۔

    سعودی عرب خطے میں عرب ممالک کا ایک فوجی اتحاد بنا کر یمنی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے اور ایران پر بارہا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں حوثیوں کو ہتھیار اور فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، تاہم وہ حوثیوں کی فیصلہ سازی میں کسی مداخلت کی تردید کرتا ہے۔

  16. موخا پر حوثیوں کے قبضے کے بعد ایران کا یمن کی ناکہ بندی ختم کر کے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ

    Iran

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں یمن کی جنگ کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کی فوجی ناکہ بندی ختم کرنے اور سیاسی مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے (ارنا) کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ایران مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کو درپیش چیلنجز کا حل فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی عمل میں ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ مغربی ایشیا اس وقت ایسے حالات سے گزر رہا ہے جہاں تنازعات اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا فریقین کو پرامن حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔

    بیان کے آخر میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی فورسز کی جانب سے یمن کے اہم ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے بندرگاہی شہر موخا (مخا) کے اطراف میں پیش رفت کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    گذشتہ روز یعنی جمعرات کو یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دستے باب المندب کے قریب واقع ایک اور ساحلی مقام، ذباب بندرگاہ، سے بھی پسپا ہو گئے ہیں۔

    موخا بندرگاہ پر کنٹرول حوثیوں کی اس پوزیشن کو مزید مضبوط کر سکتا ہے جس کے ذریعے وہ تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کے ایک اہم بحری راستے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ یہ بندرگاہ آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

    ادھر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں واقع جزیرۂ زقر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت راکٹ حملوں اور مسلح جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیوں کے ذریعے کیے گئے زمینی حملے کے بعد ممکن ہوئی۔

  17. حوثی فورسز باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور: عینی شاہدین نے یمن کے بندرگاہی شہر مخا میں کیا دیکھا؟

    Yeman
    ،تصویر کا کیپشنیمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک یمنی بچی خالی جیری کینوں سے بھری وہیل بیرو دھکیلتے ہوئے عطیہ کیے گئے ایک آبی نلکے کی جانب جا رہی ہے تاکہ پینے کا پانی حاصل کر سکے

    عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے۔

    مخا پر قبضے کے بعد ایران کا حمایت یافتہ گروہ آبنائے باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔

    آبنائے باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی راستے کے جنوبی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے سعودی عرب سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی کا اعادہ کیا ہے۔

    ان کے مطابق سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کے راستے پر انحصار کر رہا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے۔

    حوثیوں، یمنی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت آنے سے تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد سے اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن میں حوثیوں کے زیر اثر علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    یمن کے بندرگاہی شہر مخا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب حکومت نواز افواج کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد حوثی جنگجو شہر میں داخل ہو گئے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

    شہر کے رہائشی ایک شخص نے بی بی سی عربی کے پروگرام مڈل ایسٹ لائف لائن کو بتایا کہ ’شہر پر قبضہ اچانک ہوا، کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ صورتحال اتنی خراب تھی کہ زخمی افراد سڑکوں پر پڑے تھے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔‘

    ایک اور شخص نے بتایا کہ جمعرات کو حوثی جنگجو مخا شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے، جبکہ سرکاری دفاتر اور دکانیں بند تھیں۔

    انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت ہمیں نہیں معلوم کہ انصار اللہ (حوثی) کیا کرے گی۔ ہر شخص اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ ہے۔‘

    بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان مشرق کی جانب شہر عدن کا رخ کر رہے ہیں، جہاں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدارتی کونسل اور حکومت قائم ہیں۔

    ایک خاتون نے بی بی سی عربی کو بتایا ’ہم اپنے بچوں کے ساتھ بھاگ نکلے اور مسلسل دوڑتے رہے۔ ہمارے پاس نہ بستر ہے، نہ گھر اور نہ ہی کوئی سامان۔ ایک گھنٹے کے اندر سب کچھ تباہ ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں نہ کوئی موقع دیا اور نہ ہی پہلے سے خبردار کیا تھا۔‘

    ’ہم ایسی خواتین ہیں جن کے پاس اپنا دفاع کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں اور ہمارے ساتھ معصوم بچے بھی ہیں۔‘

    تاہم حوثیوں کی جانب سے مخا پر قبضے کی باضابطہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔

    حوثیوں سے منسلک المسیرہ ٹی وی کے مطابق انصار اللہ کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی دشمن کے حمایت یافتہ دستوں کو باہر نکالنے کے بعد مغربی ساحلی اضلاع میں جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں۔‘

    یمنی حکومت کی حامی نیشنل رنزسٹنس فورسز کے سربراہ طارق صالح نے بھی کہا کہ انہوں نے مغربی ساحل پر واقع اپنا کمانڈ سینٹر ایک ’محفوظ مقام‘ پر منتقل کر دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فورسز نے ’حالیہ دنوں میں ایران کی منصوبہ بندی اور حمایت سے ہونے والی حوثیوں کی پیش قدمی کا سامنا کرتے ہوئے بھاری قیمت چکائی ہے۔‘

    Yeman

    دوسری جانب ایک یمنی فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر میں واقع جزیرہ زقر پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو مخا سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں نے راکٹ فائر کیے اور کشتیوں کے ذریعے زمینی حملے کے بعد جزیرے کا کنٹرول حاصل کیا۔

    اس دوران یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد علیمی نے عرب ممالک اور دیگر ریاستوں پر زور دیا کہ وہ یمن کے ساحلی علاقوں کے تحفظ اور ملک پر ریاستی کنٹرول کی بحالی میں مدد فراہم کریں۔

    حوثیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے ’(یمن کی) خودمختاری اور علاقائی پانیوں کے دفاع کے اپنے حق‘ پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو یقین دہانی کروائی کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی بدستور محفوظ ہے۔

    تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی بحری جہازوں پر عائد پابندی بدستور برقرار ہے۔

    حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے مغربی صوبوں تعز، الحدیدہ، مأرب اور الجوف میں 64 فضائی حملے کیے۔

    سعودی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    تاہم یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بدھ کی شام کو کہا تھا کہ وہ جنوب مغربی سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور جازان پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک سلسلے کا جواب دیں گے۔

    سعودی حکام کے مطابق منگل کو حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے اور کئی تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے ان کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئیں۔

    حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملے حالیہ دنوں میں ہونے والی درجنوں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

    ان کارروائیوں میں پیر کے روز صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ایک جیل پر حملہ بھی شامل تھا، جس کے بارے میں حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ اس میں کم از کم 23 شہری ہلاک ہوئے۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی تباہ کن خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔

    چار سال سے جاری غیر رسمی جنگ بندی جولائی میں کمزور پڑنا شروع ہوئی، جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ’بحری پابندی‘ کا اعلان کیا اور سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر میں موجود آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔

    حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی پابندیوں کے ساتھ ساتھ صنعا ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک فضائی حملے کا جواب دے رہے ہیں، جس کا الزام انہوں نے سعودی عرب پر عائد کیا۔

  18. یمن میں ’کھلی جنگ‘: علیحدگی پسند تنظیم کا حوثیوں کا مقابلہ کرنے اور آبنائے باب المندب کا تحفظ کرنے کا اعلان

    Yeman

    یمن میں علیحدگی پسند مسلح تنظیم ساؤدرن ٹرانزشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    ایس ٹی سی سے منسلک فورسز پہلے ہی الضالع اور لحج صوبوں کے جنوبی محاذ پر حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

    تاہم ایس ٹی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حوثیوں کا مقابلہ کرنے، آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔

    یمن میں تین ستمبر کے بعد سے شدید ترین لڑائی اس وقت دیکھنے میں آئی جب حوثیوں نے بندرگاہی شہر مخا کی جانب زمینی کارروائی شروع کی۔

    اس حملے کے نتیجے میں متعدد محاذوں پر جنگ چھڑ گئی اور حکومتی افواج نے ملک بھر میں نئے محاذ کھول دیے۔

    باغیوں نے 10 ستمبر کو مخا پر قبضہ کر لیا اور آبنائے باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئے۔ ایران جنگ کے دوران سعودی تیل کی ترسیل کے لیے یہ ایک اہم بحری راستہ بن گیا ہے۔

    حکومت نے اس نئی لڑائی کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد چار سالہ غیر رسمی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پورے ملک پر ریاستی کنٹرول بحال کرنا ہے۔

  19. آبنائے باب المندب کو لاحق خطرہ براہ راست عالمی تجارت کو متاثر کرے گا: یمنی صدارتی کونسل

    Yeman

    یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد محمد علیمی نے کہا ہے کہ ایران حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق علیمی کا کہنا تھا کہ ’باب المندب کے گرد و نواح میں عسکری صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کو یمن کا محض داخلی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

    ’باب المندب کو لاحق کوئی بھی خطرہ براہِ راست بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور عالمی تجارت کو متاثر کرے گا۔‘

    یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ کے مطابق یمن کے ساحلی علاقوں کا تحفظ اور ملک کی سرزمین اور آبی گزرگاہوں پر حکومت کی خودمختاری کی بحالی ’ایک مشترکہ بین الاقوامی مفاد‘ ہے۔

  20. بلوچستان حکومت نے ’غیر حاضری‘ پر 25 خواتین ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا

    ْبلوچستان

    بلوچستان حکومت نے ’غیر حاضری‘ پر 25 خواتین ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ان تمام خواتین میڈیکل آفیسرز کو جان بوجھ کر ملازمت سے غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے ہٹا دیا گیا۔

    ان ڈاکٹروں میں سے 17 کی ملازمت کوئٹہ میں تھی جبکہ باقی خواتین ڈاکٹروں کی تعیناتی دیگر علاقوں میں تھی۔

    محکمہ صحت کے ایک اور نوٹیفیکیشن کے مطابق محکمہ صحت کے پانچ ملازمین کو دہری ملازمت کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔

    دہری ملازمت کی بنیاد پر برطرف کیئے جانے والوں میں ایک خاتون سمیت چار میڈیکل آفیسرز شامل ہیں۔

    دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے محکمہ صحت کی جانب سے 25 خواتین میڈیکل آفیسرز کو ’نامکمل اور متضاد انتظامی ریکارڈ‘ کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’یہ امر انتہائی افسوسناک اور محکمہ صحت کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محکمہ اپنے ہی ڈاکٹرز کی پوسٹنگ، تعیناتی اور حاضری سے متعلق بنیادی ریکارڈ درست رکھنے میں ناکام رہا ہے، لیکن اپنی اس نااہلی اور ناقص نظام کا ملبہ ان ڈاکٹرز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘