حوثیوں کا سعودی عرب پر یمن میں نئی فضائی کارروائیوں کا الزام، ٹرمپ کی الیکشن کے بعد ایندھن کی قیمت میں کمی کی پیشگوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران ’شدت سے‘ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور پھر ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے کم ہو گی۔‘ ادھر حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔

خلاصہ

  • حوثیوں کا سعودی عرب کے اسلحہ ڈپو اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، منی فورسز کا پانچ ڈرون مار گرانے کا اعلان
  • آبنائے ہرمز میں حملے اور سعودی پائپ لائن کی بندش کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی دباؤ کا شکار
  • محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کی درخواست، امریکہ کا براہ راست مداخلت سے گریز
  • حوثیوں نے امریکہ سے یمن میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی ہے: صدر ٹرمپ
  • ہماری سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • حوثیوں کا 200 سے زائد ساتھیوں کو رہا کروانے کا دعویٰ
  • یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں کے باعث کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر: اقوامِ متحدہ

لائیو کوریج

  1. 11 ستمبر کے حملوں کے ذمہ دار ایرانی نہیں بلکہ وہی لوگ تھے جنھیں امریکہ نے خود ہتھیار فراہم کیے: ایرانی ترجمان کا امریکی وزیرِ دفاع کے بیان پر ردِعمل

    Getty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 11 ستمبر کے واقعات کی برسی کے موقع پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے ایران کے خلاف جنگ کا دفاع کیا تھا۔

    پیٹ ہیگسیتھ نے 11 ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کو وہاں بھیجتا رہے گا جہاں ان کی جگہ ہے، یعنی جہنم میں۔‘

    اس کے جواب میں اسماعیل بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ’11 ستمبر کی برسی کے موقع پر امریکی وزیرِ دفاع کی پیش کردہ داستان بنیادی تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی جارحیت کرے، بزدلانہ قتل کرے اور شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرے کہ اسے دہشت گردی کی تعریف طے کرنے اور مختلف فریقوں کے تشدد کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’11 ستمبر کے حملوں کے ذمہ دار ایرانی نہیں تھے، وہی لوگ تھے جنھیں امریکہ نے گزشتہ دہائیوں میں خود ہتھیار فراہم کیے، منظم کیا یا کسی اور طریقے سے تربیت دی تھی۔‘

  2. ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 99 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا: امریکی فوج کا دعویٰ

    Centcom

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 99 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔‘

    سینٹکام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’وہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی سے متعلق قواعد پر سختی اور مکمل طور پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہی ہے۔‘

    پوسٹ میں امریکی بحریہ کے ایک سی ہاک ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی جاری کی گئی، جس میں اسے امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس باکسر پر اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق، باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ کی قیادت کرنے والا یو ایس ایس باکسر ایران کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے لیے کارروائیوں میں مصروف ہے۔

  3. عراقی فوج کا سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا اعلان

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراقی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم علی الزیدی نے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    عراقی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’عراقی حکومت مملکتِ سعودی عرب کے مؤقف اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے عراق کی کوششوں کے جواب کو سراہتی ہے۔‘

    عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوج نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ’ان حملوں کی تفصیلات اور ان کے پسِ پردہ عوامل کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔‘

    وزیرِ اعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ اس واقعے میں ملوث ہونے کا ثبوت ملنے والے ہر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    اس سے قبل بھی عراق کی سرزمین سے سعودی عرب میں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے جواب میں سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے بھی حملے کیے گئے تھے۔ ایسے ہی ایک حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی ارکان بھی ہلاک ہوئے تھے۔

  4. پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ: ایک ہفتے کے دوران پیٹرول 29.95 اور ڈیزل 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز بھی اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد 12 ستمبر سے پیٹرول پانچ روپے دو پیسے اور ڈیزل پانچ روپے 28 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتیں 12 سے 14 ستمبر تک نافذ العمل رہیں گی۔

    تازہ اضافے سے قبل 11 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت میں تین روپے پانچ پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل بھی دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

    گذشتہ چار روز میں پیٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 24 روپے 93 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 19 روپے 99 پیسے فی لیٹر بڑھ چکی تھی۔ آج کے اضافے کے بعد گذشتہ پانچ روز میں پیٹرول مجموعی طور پر 29 روپے 95 پیسے اور ڈیزل 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔

    اس طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت پہلی بار اس تازہ اضافے کے دوران 400 روپے فی لیٹر کی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔

    10 ستمبر 2026 سے پیٹرول کی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 392.67 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    اس سے ایک روز قبل، 9 ستمبر کو پیٹرول 364.35 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 385.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    اور 8 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت 358.77 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 381.77 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    اس سے پہلے 5 ستمبر کو پیٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر کا تھا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 5 ستمبر سے 10 ستمبر کے درمیان پیٹرول کی قیمت میں 21.88 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14.62 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی عالمی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔

  5. یمن میں ہونے والی پیش رفت کا ایران سے کوئی تعلق نہیں: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’یمن میں ہونے والی پیش رفت کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور ایران نے مذاکرات اور امن کے لیے مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔‘

    ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یمن میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کی علامت ہے کہ یمنیوں کا صبر جواب دے رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یک طرفہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے اور کئی برس سے جاری ظالمانہ محاصرے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

    اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ ایران پر الزام عائد کر کے صورتحال کو بگاڑنے اور اسلامی ممالک کے درمیان افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’پابندیاں اور معاشی محاصرہ ایران کے خلاف جنگ ہیں۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی ملک کا معاشی اور بحری محاصرہ جارحیت کا اقدام تصور کیا جا سکتا ہے، لہٰذا ان حالات میں ایران کے اقدامات دفاع کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔‘

  6. عراق نے سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد ایران کے ساتھ شلمچہ سرحدی گزرگاہ بند کر دی

    Reuters

    روئٹرز کے مطابق عراق نے ایران کے ساتھ واقع شلمچہ سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عراقی سکیورٹی کے دو ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عراق نے یہ گزرگاہ احتیاطی اقدامات کے پیشِ نظر بند کی ہے۔ یہ فیصلہ عراق کی سرزمین سے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد کیا گیا۔

    شلمچہ سرحدی گزرگاہ ایران اور عراق کے درمیان آمدورفت کے اہم زمینی راستوں میں سے ایک ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سعودی عرب پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون عراق کے جنوب مشرقی صوبے میسان سے لانچ کیا گیا تھا۔ میسان کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور اس کا انتظامی مرکز العماره شہر ہے۔

  7. حوثیوں کی یمن میں بڑی پیش قدمی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    حوثی

    یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل پر ایک بڑی پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اہم بین الاقوامی بحری تجارتی راستے باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے باب المندب کی آبنائے میں آبی گزر گاہ کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اس سے قبل یہ پیش رفت سامنے آئی تھی کہ فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے اہم ساحلی شہر مخا کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی اب پوری ساحلی پٹی پر قابض ہیں۔

    پیریم کا نقشہ

    حوثیوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی دہرائی۔

    اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ذاتی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔

    ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اب تک امریکی فوج کو براہِ راست مداخلت سے دور رکھا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی ہے۔

    بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا: ’علاقائی استحکام کے حوالے سے ہم سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

    جمعہ کے روز یمن کی حکومت نواز فورسز پیریم (جسے میون بھی کہا جاتا ہے) کے علاقے سے پسپا ہو گئیں۔

    عینی شاہدین اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس کے بعد حوثی فورسز جزیرے میں داخل ہو گئیں۔

    بعد میں حوثیوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو نکال باہر کرنے کے لیے ان کی فوجی کارروائی ’کامیاب‘ رہی ہے اور ’سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے سمندری آمد و رفت محفوظ ہے۔‘

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ ’وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی‘ تین ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے ’ہمارے عزیز عوام کے خلاف کھلی جارحیت‘ کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔

    سریع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے تعز اور الحدیدہ کے علاقوں کے چھ اضلاع سے ’دشمن کی‘ فورسز کو نکال باہر کیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ سینکڑوں فوجی ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔

    تاہم حوثیوں کے بیان میں پیریم جزیرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    سعودی عرب نے حالیہ پیش رفت پر تا حال عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    پیریم جزیرہ باب المندب کی آبنائے کے سب سے تنگ حصے پر واقع ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد اس علاقے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    سعودی عرب ایشیا میں اپنے صارفین تک تیل کی ترسیل کے لیے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی آبنائے پر انحصار کر رہا ہے۔

    حوثی

    حوثیوں، یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں حالیہ شدت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن کے حوثی زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    2015 میں حوثیوں نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد خانہ جنگی میں سعودی فوجی مداخلت شروع ہوئی۔اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔

    اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔

  8. متعدد حملوں کے بعد سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن بند کر دی گئی

    آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعدد حملوں کے بعد ملک نے احتیاطی اقدام کے طور پر خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اہم مشرق۔مغرب پائپ لائن کو بند کر دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق جمعرات کی صبح ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں اس پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن کو محفوظ بنانے اور اس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی اور امدادی ٹیمیں موقع پر بھیج دی گئی ہیں۔

    وزارتِ توانائی نے مزید کہا کہ ’آئندہ کسی بھی پیش رفت سے متعلق معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔‘

    واضح رہے کہ مشرق۔مغرب پائپ لائن سعودی عرب کے مشرق میں واقع بقیق کی تنصیبات سے تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔ اس کی معمول کی گنجائش تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

    سیٹلائٹ تصویر

    جمعرات کے روز حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کا ایک بڑا بادل دکھائی دیا تھا۔

    سعودی عرب نے اس علاقے میں کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم ایرانی میڈیا اور یمن کے حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے اوپر دکھائی دینے والا دھواں حوثیوں کے حملے کا نتیجہ ہے۔

  9. ترک اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر گفتگو

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال اور سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے حالیہ حملوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس گفتگو کے متعلق ایک ترک سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں حوثی گروہ کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔

    گذشتہ ماہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں باہمی دفاع کی ایک شق بھی شامل ہے۔

  10. ایران، امریکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کریں: نریندر مودی

    انڈین وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر پزشکیان

    بی بی سی فارسی کے مطابق انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ انھوں نے سمندری نقل و حرکت کی حفاظت اور بحری عملے کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں کی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات تھی۔ ملاقات میں انڈیا اور ایران کے دو طرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال گفتگو کا مرکزی موضوع رہی۔

    یہ ملاقات پزشکیان کی برکس اجلاس میں شرکت کے لیے انڈین دار الحکومت پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی۔

    ایرانی صدر کی حیثیت سے یہ مسعود پزشکیان کا انڈیا کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

    ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہم نے انڈیا اور ایران کی دوستی پر گفتگو کی۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں طویل مدتی حکمتِ عملی اور باہمی فائدے پر مبنی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’خطے کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ انڈیا پائیدار امن کے حصول کے اپنے عزم پر قائم ہے۔‘

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

    وزارت کے مطابق نریندر مودی نے ’انڈیا کے اس مستقل مؤقف کا اعادہ کیا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘

  11. ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔

    وہ امریکی محکمۂ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون میں 11 ستمبر کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

    اپنی تقریر میں ہیگسیتھ نے کہا: ’گذشتہ چھ ماہ کے دوران ہم نے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی سرپرست کو کچل دیا ہے۔ ہماری افواج نے ایک ایسی حکومت کے خلاف جنگ لڑی ہے جو تقریباً نصف صدی سے ہماری موت کی خواہش رکھتی تھی اور 11 ستمبر کے حملوں پر خوشیاں مناتی رہی ہے۔

    ’ایک ایسی حکومت جو کئی دہائیوں سے امریکیوں کے خلاف دہشت گرد حملوں کی حامی رہی ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے اتحادیوں سمیت ہزاروں افراد عراق اور افغانستان میں مارے گئے ہیں۔‘

    ہیگسیتھ نے اس جنگ میں امریکہ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تعریف کی۔

    امریکی وزیرِ دفاع نے کہا: ’امریکہ نے ان کے (ایران کے) رہنماؤں کو ختم کر دیا، ان کی فضائیہ کو تباہ کر دیا۔ ان کی بحریہ اب سمندر کی تہہ میں ہے اور ان کے دفاعی نظام بھی تباہ ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی انھیں مار رہا ہے اور ان کے تیل بردار جہازوں کو سمندر کی تہہ میں بھیج رہا ہے، ’ہم یہ ضمانت دیتے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ہیگسیتھ نے ایران پر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔

  12. ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست مسترد کر دی: ایگزیوس

    Trump, MBS

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹیلی فون کالیں کیں اور انھیں حوثیوں کے خلاف حملے کرنے کی درخواست کی۔

    ایگزیوس نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی درخواست مسترد کر دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی انتظامیہ حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔

    خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر جمعرات کے روز ہنگامی طور پر سعودی عرب گئے۔

    ایگزیوس کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجی اور سویلین حکام نے اپنے سعودی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق امریکہ کی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ پر مرکوز رہے گی، جبکہ ایک اور فوجی محاذ کھولنے سے گریز کیا جائے گا۔

  13. ایران کا مسقط میں ہونے والے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کا اعلان

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ سوموار کے مسقط میں ہونے والے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس ’علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے فروغ کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع‘ ہے، جو خطے سے باہر کے عناصر کی ’تباہ کن مداخلتوں‘ سے دور رہتے ہوئے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ بحری راستوں کے تعین سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نقشے پر عمان کے ساتھ ایک مفاہمت تک پہنچ چکا ہے اور اس سلسلے میں ایک مشترکہ اعلامیے پر مذاکرات جاری ہیں۔

    ایران کے مطابق امریکہ کی مداخلت اور بحری ناکہ بندی کے باعث اس مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر ہوئی ہے۔

  14. حوثی ہر فیصلہ ایران سے پوچھ کر نہیں کرتے، مگر دونوں کے مفادات پہلے سے زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں, نوال المغافی, سینiئر بین الاقوامی نامہ نگار

    حوثی Houthi

    اکثر حوثیوں کو ایران کا محض ایک پراکسی گروپ قرار دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے حوثی گروپ کی عسکری صلاحیتیں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    کئی برسوں پر محیط عرصے کے دوران تہران نے اس گروہ کو نہ صرف اسلحہ اور ٹیکنالوجی فرہم کی بلکہ ان کی تربیت بھی کی۔ اس سے حوثیوں کو ایک مقامی یمنی باغی تحریک سے ایسی قوت میں تبدیل ہونے میں مدد ملی جو یمن کی سرحدوں سے سینکڑوں میل دور تک جدید میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ تہران حوثیوں کے ہر فیصلے کا تعین کرتا ہے۔

    حوثیوں کی اپنی قیادت ہے، یمن کے اندر اپنے سیاسی اور عسکری اہداف ہیں، اور انھوں نے ایران سے ایک حد تک خودمختاری کا مظاہرہ بھی کیا ہے، جو انھیں تہران کے نام نہاد ’مزاحمت کے محور‘ میں شامل بعض دیگر گروہوں سے مختلف بناتا ہے۔

    اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں کے مفادات ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    حالیہ لڑائی کے دوران ایران نے کھل کر حوثیوں کی حمایت کی ہے، اور اس کی ایک وجہ یمن کی جغرافیائی اہمیت ہے۔

    ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی عالمی جہاز رانی پر نمایاں دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کی باب المندب کی جانب پیش قدمی اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو جزیرہ نما عرب کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔

    اس کا یہ مطلب نہیں کہ حوثی محض تہران کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔

    تاہم موجودہ صورتحال میں یمن کے اندر حوثیوں کے عسکری اہداف اور خطے میں جاری وسیع تر تنازعے کے حوالے سے ایران کے مفادات پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔

  15. حوثیوں نے یمن میں بحیرہ احمر کے تمام ساحلی علاقے کو کنٹرول کر لیا ہے: یمنی عہدیدار کی اے ایف پی کو تصدیق

    ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے پورے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک نامعلوم فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔

    عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مغربی ساحل پر جو کچھ بھی ہمارے کنٹرول میں تھا، وہ سب ہاتھ سے نکل گیا ہے۔‘

    فوجی عہدیدار کے مطابق حوثیوں نے آبنائے باب المندب میں واقع دو مزید جزائر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ دعویٰ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حوثی گروپ نے عالمی جہاز رانی کے لیے اہم آبی گزرگاہ میں واقع پیریم جزیرے کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔

    Red Sea Coast
  16. مسعود پزشکیان کی نریندر مودی سے ملاقات، ’مشترکہ تعاون کے فروغ اور سٹریٹیجک معاہدوں کے تسلسل‘ کی ضرورت پر زور

    Masoud Pezzekian  Narendra Modi

    برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق، جمعہ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان ’مشترکہ تعاون کے فروغ اور سٹریٹیجک معاہدوں کے تسلسل‘ کی ضرورت پر زور دیا۔

    برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممالک کے رہنماؤں میں روس اور چین کے صدور بھی شامل ہیں۔

    کچھ دیر قبل برکس اقتصادی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکاری اور مالیاتی شعبوں میں مزید قریبی تعاون پر زور دیا۔

    امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ممالک کے درمیان ہونے والی جائز تجارت کو خطرہ لاحق ہے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ’رکن ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو وسعت دینا اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ باہمی ادائیگیوں کے لیے ضروری مالیاتی نظام کا قیام بھی ناگزیر ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق موجودہ عالمی مالیاتی نظام محدود تعداد میں کرنسیوں پر انحصار کرتا ہے اس وجہ سے سیاسی دباؤ کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے۔

  17. حوثیوں کی پیش قدمی نے ریاض میں تشویش پیدا کر دی, نوال المغافی، سینئر انٹرنیشنل نامہ نگار

    حوثی

    یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

    جمعرات کو اس گروپ نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ مخا پر قبضہ کر لیا، جو اس سے پہلے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز کے کنٹرول میں تھی۔

    مخا اور اس کے اطراف میں موجود رابطوں نے مجھے بتایا کہ حوثیوں کے داخل ہوتے ہی حکومتی فورسز تیزی سے پیچھے ہٹ گئیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق دکانیں بند ہو گئیں اور خاندانوں نے شہر چھوڑنا شروع کر دیا کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ گروپ مزید کتنی دور تک پیش قدمی کرے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث اب تک 46 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

    لیکن حوثی مخا تک محدود نہیں رہے۔

    جمعے کو حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حوثی فورسز نے پریم، جسے میون بھی کہا جاتا ہے، پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا مگر سٹریٹجک اہمیت کا حامل جزیرہ ہے جو براہِ راست باب المندب آبنائے میں واقع ہے۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے مخا ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔

    اس پیش رفت نے اسٹریٹجک صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

    باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کے درمیان واقع ایک تنگ آبی راستہ ہے اور یہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

    جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب تیل کی برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کے راستے پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔

    حوثیوں کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی محفوظ ہے اور ان کی ناکہ بندی صرف سعودی بحری جہازوں کے خلاف ہے۔ تاہم ان کی حالیہ پیش قدمی نے انہیں ایسا کہیں زیادہ مضبوط مقام فراہم کر دیا ہے جہاں سے وہ، اگر چاہیں، اس جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اور بظاہر یہی بات ریاض میں اتنی تشویش کا سبب بن رہی ہے: 2022 سے بڑی حد تک منجمد رہنے والا ایک تنازع اچانک دنیا کی سب سے اہم سٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں سے ایک تک پہنچ گیا ہے۔

  18. اہم بحری راستے پر واقع سٹریٹجک اہمیت رکھنے والا افریقی ملک, سِمی جولاوسو، بی بی سی افریقہ کی نامہ نگار۔

    یمن کے مقابل باب المندب آبنائے کے دوسری جانب واقع چھوٹا افریقی ملک جبوتی اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے افریقہ کے سب سے زیادہ سٹریٹجک اہمیت رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

    افریقی ساحل اور یمن کے درمیان واقع یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیجِ عدن کو بحیرۂ احمر اور اس کے آگے نہرِ سویز سے ملاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ جبوتی کے ساحل کے ساتھ غیر معمولی حد تک فوجی قوت موجود ہے۔

    امریکہ، چین، فرانس، جاپان اور اٹلی سب وہاں فوجی تنصیبات چلاتے ہیں۔

    کیمپ لیمونیئر میں قائم امریکی اڈا تقریباً 4,000 امریکی اور اتحادی فوجیوں کی معاونت کرتا ہے، جبکہ چین نے 2017 میں جبوتی میں اپنا پہلا بیرونِ ملک فوجی معاونتی اڈا قائم کیا تھا۔ دونوں اڈے ایک دوسرے سے صرف چند میل کے فاصلے پر ہیں۔

    جاپان کی واحد بیرونِ ملک سیلف ڈیفنس فورس بیس بھی وہیں واقع ہے، جبکہ فرانس کی طویل عرصے سے موجود فوجی فورسز اور اٹلی کا فوجی اڈا بھی جبوتی میں موجود ہیں۔

    ان فوجی مشنز میں بحری قزاقی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، جہاز رانی کے تحفظ، انٹیلی جنس معلومات کا حصول اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

    پانی کے اُس پار جاری لڑائی میں شدت آنے کے بعد اس مقام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جن میں باب المندب آبنائے میں واقع اسٹریٹجک جزیرہ پریم بھی شامل ہے۔

    دنیا کی کئی بڑی فوجی طاقتیں پہلے ہی اس اہم بحری راستے کے قریب اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    لہٰذا، اگرچہ اس وقت زیادہ تر توجہ یمن پر مرکوز ہے، لیکن افریقی ساحل یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس خطے میں داؤ پر لگا معاملہ کتنا بڑا ہے۔

  19. برکس ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت بڑھائی جائے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت کے لیے قومی کرنسیوں کا استعمال کیا جائے۔

    مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کے دار الحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل کے مطابق، برکس بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ’رکن ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو وسعت دینا اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ باہمی ادائیگیوں کے لیے ضروری مالیاتی نظام کا قیام بھی ناگزیر ہے۔

    ایرانی صدر کے مطابق موجودہ عالمی مالیاتی نظام محدود تعداد میں کرنسیوں پر انحصار کرتا ہے اس وجہ سے سیاسی دباؤ کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو حقیقی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو رکن ممالک میں بنیادی انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کا مرکزی محرک بننا چاہیے۔

    مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز، مقامی کرنسیوں میں فنانسنگ اور نجی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ضمانت فراہم کی جانی چاہیے۔

  20. آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟

    آبنائے باب المندب

    آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔

    بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔

    115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔

    بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔

    آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔

    امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

    مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔

    آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔

    سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔

    خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔

    مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں