حوثیوں کا سعودی عرب پر یمن میں نئی فضائی کارروائیوں کا الزام، ٹرمپ کی الیکشن کے بعد ایندھن کی قیمت میں کمی کی پیشگوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران ’شدت سے‘ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور پھر ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے کم ہو گی۔‘ ادھر حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔

خلاصہ

  • حوثیوں کا سعودی عرب کے اسلحہ ڈپو اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، منی فورسز کا پانچ ڈرون مار گرانے کا اعلان
  • آبنائے ہرمز میں حملے اور سعودی پائپ لائن کی بندش کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی دباؤ کا شکار
  • محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کی درخواست، امریکہ کا براہ راست مداخلت سے گریز
  • حوثیوں نے امریکہ سے یمن میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی ہے: صدر ٹرمپ
  • ہماری سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • حوثیوں کا 200 سے زائد ساتھیوں کو رہا کروانے کا دعویٰ
  • یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں کے باعث کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر: اقوامِ متحدہ

لائیو کوریج

  1. برکس سمٹ 2026 کا اعلامیہ جاری، پہلگام حملے سمیت دہشت گردی کی مذمت، فلسطین کی حمایت اور عالمی اصلاحات پر زور

    BRICS

    انڈیا میں جاری برکس 2026 سمٹ کے اختتام پر 45 صفحات پر مشتمل 140 نکات پر مبنی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں دہشت گردی، فلسطین، غزہ، عالمی تجارت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کے کردار سمیت متعدد اہم عالمی معاملات پر رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں تاہم 2024 میں روس کے شہر قازان میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے دوران اس کی رکنیت میں توسیع کی گئی تھی۔

    نئے اراکین میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کو شامل کیا گیا۔

    12 ستمبر کو نئی دہلی میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

    برکس ممالک نے اعلامیے میں کہا ہے کہ ’ہم دہشت گردی کے کسی بھی عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں، جو مجرمانہ ہو اور اسے کسی بھی طرح سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، چاہے اس کا مقصد کہیں بھی، جب بھی، یا جس نے بھی کیا ہو۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’ہم جموں و کشمیر میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔"

    برکس ممالک نے دہشت گردی، اس کی مالی معاونت، سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا ان کی حمایت کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کے خاتمے پر زور دیا۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    اعلامیے میں نوجوانوں میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت، انسانی سمگلنگ، اسلحہ کی سمگلنگ، منی لانڈرنگ، سائبر جرائم، بدعنوانی اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    brics summit

    یکطرفہ ٹیرف اور اقتصادی پابندیوں کی مخالفت

    برکس نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد کے برخلاف یکطرفہ ٹیرف، غیر ٹیرفی اقدامات اور تحفظ پسند پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ایسے اقدامات عالمی تجارت اور سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں اور معاشی عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

    گروپ نے یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور دیگر زبردستی اقتصادی اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور کہا کہ ان کے اثرات غریب اور کمزور طبقات پر غیر متناسب انداز میں پڑتے ہیں۔

    عالمی امن اور سلامتی

    برکس ممالک نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری، ثالثی اور تنازعات کی روک تھام پر زور دیا۔

    اعلامیے میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات، جوہری خطرات اور ہتھیاروں کی دوڑ پر تشویش ظاہر کی گئی اور تخفیف اسلحہ، ہتھیاروں کے کنٹرول اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔

    گروپ نے جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    برکس نے کیوبا پر عائد یکطرفہ پابندیوں اور ناکہ بندی کو سخت کرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

    فلسطین اور غزہ

    برکس ممالک نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

    اعلامیے میں غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔

    برکس نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور غزہ کے جغرافیائی محل وقوع یا آبادی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کی۔

    گروپ نے کہا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کا منصفانہ اور دیرپا حل صرف پُرامن ذرائع سے ممکن ہے۔

    برکس نے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہوئے 1967 کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

    اعلامیے میں غزہ کی انسانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں، طبی مراکز اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹوں کی مذمت کی گئی۔

    برکس ممالک نے کہا کہ وہ ایسے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کرتے جس سے مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل ہو۔

    برکس نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس کی شرائط پر عمل کریں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔

    اعلامیے میں سوڈان میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری اور مستقل جنگ بندی اور مذاکراتی حل پر زور دیا گیا۔

    شام کے حوالے سے گروپ نے اس کی خودمختاری اور جامع سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

    اقتصادی شعبے میں برکس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

    گروپ نے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی نمائندگی، شفافیت اور فیصلہ سازی میں زیادہ کردار کی حمایت کی۔

    اعلامیے میں آئی ایم ایف کے کوٹہ نظام میں اصلاحات اور عالمی بینک میں ترقی پذیر ممالک کے حصے میں اضافے کی بھی حمایت کی گئی۔

    برکس ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات اور ایک کھلے، شفاف، منصفانہ، جامع اور قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کے فروغ کے عزم کا اظہار کی اجبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اقتصادی اور پائیدار ترقی کے لیے اہم موقع قرار دیا ہے۔

    اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو محفوظ، قابلِ اعتماد، جامع اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

    برکس ممالک نے موسمیاتی تبدیلی سے منسلک بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر آفات کے خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  2. یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں کے باعث کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر: اقوامِ متحدہ

    Yemen migration

    اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ حوثیوں اور یمنی حکومت اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 76 ہزار افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں یمن کے تنازعے کو ایک ایسے بحران سے تعبیر کیا گیا ہے جو تیزی سے بگڑ رہا ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید پھیلتا اختیار کرتا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چند روز قبل بے گھر ہونے والوں کی تعداد46 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر 76 ہزار ہو چکی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد مختصر عرصے میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جبکہ لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ یہ اعداد و شمار گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں چار گنا تک بڑھ گئے ہیں۔

    ادارے کی سربراہ ایمی پوپ کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی علاقے اور جنوبی تعز کے محاذوں پر لڑائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تعز سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے، جہاں آٹھ ہزار 300 خاندان، یعنی تقریباً 50 ہزار افراد، اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بڑی تعداد جبل حبشی، المعافر، مقبنہ، موزع اور الوزعیہ سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔

  3. ایرانی سرحد کے نزدیک مبینہ ڈرون لانچ پیڈز کی اطلاعات، عراق نے مشترکہ تحقیقات کی ایرانی درخواست منظور کر لی

    عراق کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم علی زیدی نے عراق-ایران کی سرحد کے قریب دریافت ہونے والے ڈرون لانچ پیڈز کے معاملے پر مشترکہ تحقیقات کی ایرانی درخواست سے کر لیا ہے۔

    بیان کے مطابق، اس تحقیقات میں سرحدی علاقے میں ملنے والے ان پلیٹ فارمز کی دریافت سے متعلق حالات اور تفصیلات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ لانچ پیڈز ماضی میں سعودی عرب کی ایسٹ۔ویسٹ تیل پائپ لائن پر حملوں کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔

    اس پیش رفت کے بعد ایران کی سرحد کے قریب واقع الطیب کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے، جہاں سے سعودی عرب پر ڈرون حملے کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مشترکہ تحقیقات کا مقصد واقعے کے حقائق کا تعین کرنا اور حملوں کے پس منظر سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔

  4. برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اماراتی ولی عہد سے ملاقات

    Iran President UAE crown prince

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے سنیچر کے روز نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی ہے۔

    اس سے قبل اپنے دورے کے پہلے روز مسعود پیزشکیان نے برکس کے مرکزی اجلاس، اقتصادی سربراہی اجلاس اور بند کمرہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے انڈیا کے مذہبی رہنماؤں، ممتاز شخصیات اور کاروباری حلقوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران تہران کی جانب سے متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔

    ایرانی صدر برکس اجلاس میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں اور حکام سے بھی ملاقاتیں اور تبادلۂ خیال کریں گے۔

    برکس سربراہی اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سمیت مختلف ممالک کے رہنما شریک ہیں۔

  5. سعودی عرب کی ایسٹ۔ویسٹ تیل پائپ لائن پر حملے کے پیچھے ’شاید‘ ایران کا ہاتھ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    Trump

    آئرلینڈ کے دورے پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی ایسٹ۔ویسٹ تیل پائپ لائن پر حالیہ حملے کے پیچھے ’شاید‘ ایران کا ہاتھ ہے۔

    ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیا ’میرا خیال ہے کہ وہ ہیں۔ غالباً وہی ہیں۔‘

    اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ سعودی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون عراق سے روانہ ہوئے تھے۔

    اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل دیے گئے اپنے مؤقف کو بھی دہرایا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نومبر میں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گی۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آ جائے گی۔

  6. عراقی ملیشیا کی سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید

    سیٹلائٹ تصاویر اُن مقامات کو دکھاتی ہیں جہاں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نواز عراقی مسلح گروہوں کے اتحاد اسلامی مزاحمت برائے عراق (آئی آر آئی) نے سعودی عرب میں ایک اہم تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    گروہ کی جانب سے 12 ستمبر کو ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے اس بات پر حیرت ہے کہ عراقی حکومت نے معتبر شواہد یا ٹھوس تحقیقات کے بغیر ان الزامات کو اتنی جلدی قبول کر لیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یمنی عوام کو ’سعودی افواج اور ان کے کرائے کے جنگجوؤں کے خلاف میدانِ جنگ میں مسلسل کامیابیاں‘ حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔

    عراقی ملیشیا نے خبردار کیا ہے کہ عراق کو ان ’صہیونی۔امریکی سازشوں‘ کا حصہ نہ بننے دیا جائے، جن کا مقصد ملک کو ایسے بحرانوں میں دھکیلنا ہے جو صرف اس کے دشمنوں کے مفاد میں ہیں۔

    گروہ کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کسی بھی سرکاری کمیٹی سے تعاون کے لیے تیار ہے۔

    عراقی ملیشیا کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے ایک ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد اسے بند کر دیا ہے۔

    عراق نے تسلیم کیا ہے کہ سعودی عرب کی ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملے اس کے ایک ایسے صوبے سے کیے گئے تھے جو ایران کی سرحد سے متصل ہے۔ اس کے بعد عراقی حکام نے ایک عسکری کمانڈر کو برطرف کرنے اور واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔

  7. حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کا ذمہ دار ایران ہے: سعودی میڈیا

    Houthi

    ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے پر تیزی سے قبضے کو سعودی میڈیا خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

    سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے 10 ستمبر کو کہا کہ تہران آبنائے ہرمز سے دباؤ منتقل کرکے آبنائے باب المندب کی جانب لے جانا چاہتا ہے۔

    حوثیوں نے مخا کی بندرگاہ اور آبنائے باب المندب کے اطراف میں کئی مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع عالمی جہاز رانی کی ایک اہم گزرگاہ ہے۔

    اس ساحلی علاقے کا کنٹرول اس سے قبل سعودی حمایت یافتہ یمن کی حکومتی افواج کے پاس تھا۔

    ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے پہلے ہی خلیجی ممالک کی بحری تجارت نمایاں طور پر متاثر ہیں اور اس کے نتیجے میں بحیرۂ احمر کے ذریعے سعودی برآمدات کے متبادل راستوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

    الاخباریہ کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی پیش قدمی ایران کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد دونوں اہم بحری گزرگاہوں پر دباؤ ڈالنا اور ’عالمی معیشت کو بلیک میل کرنا‘ ہے۔

    سعودی نشریاتی ادارے العربیہ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ سعودی عرب کا دیرینہ علاقائی حریف ایران اس کارروائی کے پیچھے ہے۔

    العربیہ پر گفتگو کرتے ہوئے ایک مہمان نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ماہرین حوثیوں کی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تہران باب المندب کی جانب پیش قدمی کی حمایت میں اپنی ’مکمل عسکری طاقت‘ استعمال کر رہا ہے۔

    العربیہ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ پاکستان نے تہران کو سعودی عرب کا سخت پیغام پہنچایا ہے جس میں حوثیوں کو قابو میں رکھنے اور ان کی پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 10 ستمبر کو علاقائی کشیدگی کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے۔

    ایران نے اس کارروائی کی ہدایت دینے کی تردید کی ہے، جبکہ اس نے یمن کے ’غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرے‘ عائد کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سخت گیر میڈیا نے حوثیوں کی جنگی کامیابیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

  8. بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں چار افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقع ضلع میں جیوانی کے علاقے میں پیش آیا۔

    بی بی سی نے اس واقعے کے حوالے سے تین سینیئر اہلکاروں سے رابطہ کیا جنھوں نے چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی پولیس کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ایران کے ساتھ سرحد کے قریب روڈ سے نیچے ایک گاڑی اور ایک موٹر سائیکل گرگئی ہیں۔

    اہلکار کے مطابق جب پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں چار لاشیں پڑی ہوئی تھیں جبکہ ایک گاڑی جلی ہوئی تھی اور ایک موٹر سائیکل بھی پڑا ہوا تھا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ تمام چاروں افراد کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

    اہلکار نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے افراد کا تعلق ایک سرکاری محکمے سے تھا۔

    اہلکار کے مطابق اس واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں ۔ تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

    جیونی ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں ماضی میں بھی سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

  9. ’ایران اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا‘:ایرانی فوج کے کمانڈر اِن چیف امیر حاتمی

    ایران
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈروں نے آج ایک اہم اجلاس کے دوران فوج اور آئی آر جی سی کے درمیان تعاون اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیا ہے اور اس عزم کو دہرایا ہے کہ ایران قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    ایرانی میڈیا کی جانب سے اسے دشمن کے منصوبوں کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط قوت قرار دیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد واحدی نے کہا کہ ’ایران کی فوجی طاقت دشمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس جنگ میں دشمن نے ہماری فوج کی اصل طاقت دیکھ لی ہے۔‘

    ایرانی فوج کے کمانڈر اِن چیف امیر حاتمی نے کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوج اور آئی آر جی سی نے متحد، تیز اور مضبوط جواب دیا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

  10. دہلی سمٹ برکس اتحاد کے لیے ایک امتحان, بی بی سی کی نامہ نگار آزادہ موشیری کا دہلی سے تجزیہ

    برکس اجلاس

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت عالمی رہنما برکس سربراہی اجلاس کے لیے اس وقت دہلی میں جمع ہیں۔

    یہ گروپ امریکہ اور مغربی یورپ کو ایک توازن فراہم کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں نے اس میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔

    یہ سربراہی اجلاس برکس کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ مغرب کے لیے سیاسی اور معاشی توازن کے طور پر اپنی حیثیت ظاہر کرے لیکن یہ اس کے اتحاد کا ایک بڑا امتحان بھی ہے۔

    عالمی تنازعات نے گہری تقسیم کو بے نقاب کیا ہے۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات اس سال ایران کے متعدد ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

    گزشتہ چھ ماہ کے دوران برکس کے اجلاس کسی مشترکہ بیان پر متفق نہیں ہوئے، مبینہ طور پر ایران پر شدید اختلافات اور اسرائیل سے متعلق تنازعات سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافات اس کی وجہ ہے۔

    ایک اور مسئلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ تجارتی محصولات عائد کرنے کی اُن کی دھمکیاں برکس کے رکن ممالک کے لیے متحد ہونا زیادہ اہم بناتی ہیں، لیکن اسی وقت اُن کا سامنا کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے برکس کی بعض تجاویز کو ’امریکہ مخالف‘ قرار دیا ہے اور بہت سے ممالک امریکی صدر کو ناراض کرنے سے گریز کریں گے۔

  11. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سے ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر 8.62 فیصد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    پاکستان میں موجودہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 8.62 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی جانب سےجاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ ہفتے میں ایک سال پہلے کے اس ہفتے کے مقابلے میں پیاز کی قیمت میں 125.52 فیصد، ایل پی جی میں 55.42 فیصد، ڈیزل میں 45.26 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 39.10 فیصد اضافہ ہوا۔

    اسی طرح گندم کے آٹے کی قیمت 30.18 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی کے نرخ 25.24 فیصد، پسی ہوئی مرچ 16.37 فیصد، مٹن 15.92 فیصد، بیف 13.28 فیصد، کیلے 10.51 فیصد، تازہ دودھ 8.12 فیصد اور سادہ ڈبل روٹی 8.09 فیصد مہنگی ہوئی۔

    اس ہفتے کے دوران کچھ اشیاء میں قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ۔ آلو کی قیمت میں 35.21 فیصد، مرغی کے گوشت میں 24.30 فیصد، چینی میں 20.88 فیصد، انڈوں میں 19.95 فیصد، ٹماٹر میں 17.65 فیصد، نمک پاؤڈر میں 13.96 فیصد، چنے کی دال میں 13.52 فیصد اور مسور کی دال میں 12.26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

  12. شی جن پنگ کا سات سال بعد انڈیا کا دورہ کیوں اہم ہے؟

    China

    چینی صدر شی جن پنگ سات سال بعد انڈیا پہنچے ہیں، جہاں وہ 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انڈیا اور چین کے تعلقات برسوں کی کشیدگی کے بعد بتدریج بہتری کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اگرچہ چینی وزارتِ خارجہ نے دورے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ صدر شی اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان باضابطہ دوطرفہ ملاقات ہوگی یا نہیں۔ شی جن پنگ کا انڈیا کا آخری دورہ 2019 میں ہوا تھا، جب انھوں نے چنئی کے قریب مملا پورم میں مودی کے ساتھ غیر رسمی سربراہی ملاقات کی تھی۔

    ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دنیا کی دو بڑی ایشیائی طاقتوں کے درمیان تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے اثرات برکس کے اندر تعاون، علاقائی سفارت کاری اور عالمی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    گلوان کے بعد برف پگھلنے کے آثار؟

    انڈیا اور چین کے تعلقات میں سب سے بڑی دراڑ 2020 میں لداخ کے علاقے گلوان وادی میں ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد پیدا ہوئی تھی، جس میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے اور سرحدی تنازع تجارتی و سفارتی روابط پر بھی اثرانداز ہوا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں دونوں فریق تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے ہیں۔ گذشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے سلسلے میں چین کا دورہ کیا، جہاں ان کی شی جن پنگ سے ملاقات بھی ہوئی۔ اس کے بعد سرحدی تنازعات کو محدود رکھنے اور رابطوں کو بحال کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی۔

    اسی سلسلے میں رواں ماہ دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کے درمیان سرحدی علاقوں میں اعلیٰ سطح کی فلیگ میٹنگز بھی ہوئیں، جنھیں اعتماد سازی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    تعلقات میں بہتری، مگر اعتماد کا بحران برقرار

    دہلی میں قائم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہرش وی پنت کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال نے انڈیا اور چین کو اپنے اختلافات کم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

    ان کے بقول، دونوں پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، اسی لیے حالیہ عرصے میں سرحدی تنازع پر نسبتاً نرم رویہ اپنایا گیا ہے۔ تاہم اعتماد کی کمی اب بھی تعلقات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

    China

    تجارت: مواقع بھی، مسائل بھی

    شی جن پنگ کے دورے کی ایک نمایاں بات ان کے ساتھ کاروباری شخصیات کے بڑے وفد کی آمد بتائی جا رہی ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی تعلقات کو نئی سمت دینا چاہتے ہیں۔

    گلوان واقعے کے بعد انڈیا نے چینی سرمایہ کاری پر متعدد پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم رواں سال نئی دہلی نے الیکٹرانکس، سولر سیلز اور بعض صنعتی شعبوں میں ان پابندیوں میں جزوی نرمی کی ہے۔ حال ہی میں انڈین کمپنی ڈکسن ٹیکنالوجیز اور چینی کمپنی ویوو موبائل کے مشترکہ منصوبے سمیت کئی تجارتی منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی۔

    اس کے باوجود کئی بڑے چینی سرمایہ کاری منصوبے اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔ بی وائی ڈی اور گریٹ وال موٹرز جیسی کمپنیوں کو انڈیا میں سرمایہ کاری کے لیے سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔

    ادھر انڈیا کو چین کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر بھی تشویش ہے، جو 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ چینی منڈیوں تک انڈین مصنوعات کی رسائی محدود ہے اور تجارت میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    China

    چین کیا چاہتا ہے؟

    چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے، تاہم وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ نئی دہلی اس سمت میں کتنی سنجیدہ ہے۔

    عالمی سطح پر چین کو امریکہ اور یورپ کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں انڈیا جیسی بڑی منڈی چین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب انڈیا بھی چینی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

    رکاوٹیں اب بھی موجود

    اگرچہ دونوں ممالک تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کر رہے ہیں، لیکن کئی حساس معاملات ابھی حل طلب ہیں۔

    انڈیا نے حال ہی میں علی پے کی ایک تجویز کو قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر مسترد کیا، جبکہ چینی موبائل کمپنی شیاؤمی کے خلاف تحقیقات بھی جاری ہیں۔ دوسری طرف انڈیا کا الزام ہے کہ چین بعض اہم ٹیکنالوجی، صنعتی آلات اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مصنوعات کی فراہمی پر غیر رسمی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

    ان مسائل کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان مکمل اقتصادی بحالی کا راستہ ابھی ہموار نہیں ہو سکا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ شی جن پنگ کا یہ دورہ تعلقات میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے، لیکن اس سے کسی بڑی پیش رفت یا تمام اختلافات کے فوری حل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

    زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں ممالک سرحدی کشیدگی کو قابو میں رکھنے، تجارتی روابط کو وسعت دینے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کے لیے تدریجی اقدامات پر اتفاق کریں گے۔ تاہم گلوان کے بعد پیدا ہونے والی بداعتمادی اور تجارتی تنازعات ایسے مسائل ہیں جو مختصر مدت میں ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔

  13. چینی صدر شی جن پنگ دہلی پہنچ گئے، برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    شی جن پنگ

    چینی صدر شی جن پنگ برکس سمٹ 2026 میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا طیارہ پالم ایئربیس پر اترا۔ شی جن پنگ نے اس سے قبل 2019 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کی اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی چنئی کے قریب مملا پورم میں غیر رسمی سربراہی ملاقات ہوئی تھی۔

    اس سربراہی اجلاس میں میزبان انڈیا، برازیل، جنوبی افریقہ، چین، روس، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت 11 ممالک کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

    ادھر انڈیا میں چین کے سفیر ژو فیہونگ نے جمعہ کی رات انسٹاگرام پر بتایا کہ صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان متوقع دوطرفہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔

    صدر شی کی آمد سے کچھ ہی دیر قبل چائنا سدرن ایئرلائنز نے چھ برس بعد انڈیا اور چین کے درمیان براہِ راست فضائی سروس بحال کرنے کا اعلان بھی کیا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق گوانگزو اور نئی دہلی کے درمیان پروازیں 21 ستمبر سے دوبارہ شروع ہوں گی۔

  14. آئی اے ای اے کانفرنس: ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ ویانا روانہ

    IRAN

    ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70ویں جنرل کانفرنس میں شرکت کے لیے ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔

    محمد اسلامی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی ’عدم تعمیل‘ پر ایران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی قرارداد منظور کی تھی۔

    یہ قرارداد امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے پیش کی تھی، جبکہ بورڈ آف گورنرز کے 35 رکن ممالک میں سے 23 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ ’جاری جنگ اور اس کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں کے باعث ایجنسی کے معائنہ کاروں کی سلامتی کی ضمانت دینا ممکن نہیں رہا ہے۔‘

  15. ایران کا عراق سے ملحق شلمچہ اور چذابہ سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان

    Getty Images

    خوزستان کے گورنر کے سکیورٹی امور کے نائب ولی اللہ حیاتی نے شلمچہ سرحدی گزرگاہ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عراقی حکام کے حکم پر چذابہ سرحد بھی بند کر دی گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عراقی حکام کے اعلان کے مطابق خوزستان صوبے میں شلمچہ اور چذابہ سرحدیں آج صبح سے اگلے حکم تک بند ہیں اور فی الحال ان گزرگاہوں سے نہ سامان اور نہ ہی مسافروں کی آمدورفت ہو رہی ہے۔

    انھوں نے تاجروں، ڈرائیوروں اور مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ان دونوں سرحدی ٹرمینلز کا رخ کرنے سے گریز کریں۔

    دوسری جانب مہرآن کے گورنر نے کہا ہے کہ مہرآن سرحد کھلی ہے۔

    عراق نے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر عراق کی سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ان سرحدی گزرگاہوں کو بند کیا ہے۔

    شلمچہ اور چذابہ خوزستان صوبے میں ایران اور عراق کے درمیان اہم سرکاری سرحدی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہیں۔

  16. عراق اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ میں ٹیلیفونک رابطہ

    عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے درمیان سنیچر کی صبح ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔

    یہ رابطہ عراقی سرزمین سے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کی جانب ڈرون بھیجے جانے کے بعد ہوا۔

    عراقی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ’خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

    بغداد کے مطابق دونوں جانب سے ’دونوں ممالک کے درمیان رابطے، تعاون اور مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت‘ پر زور دیا گیا۔

  17. مخا اور باب المندب میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے، یمنی فوج کا بڑے نقصان کا دعویٰ

    Yeman

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ مغربی یمن کے علاقوں مخا اور ذوباب میں حوثی تنظیم انصار اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    فوجی ترجمان ماجد النزیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں مخا اور ذوباب کے علاقوں میں متعدد اہداف تباہ کر دیے گئے۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں گاڑیاں اور اسلحہ مکمل طور پر تباہ ہوا جبکہ مخا بندرگاہ کے قریب موجود حوثی جنگجو بھی مارے گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ساحلی شہر کے مختلف حصوں میں حوثی گروپ کے دیگر ارکان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول مخا شہر میں ایک شاپنگ سینٹر کے قریب حوثی جنگجوؤں کے بڑے اجتماع پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود عناصر کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔

  18. تیہامہ میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی اور سعودی تیل پائپ لائن پر حملہ، ایران جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز کے سفارتی امور کے نامہ نگار نگار پال ایڈمز کا تجزیہ

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن کے جنوبی علاقوں میں تیہامہ کے وسیع ساحلی میدان میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے بظاہر بیشتر مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔

    تیہامہ یمن کا خشک ساحلی میدان ہے۔ حالیہ عرصے تک ’نیشنل ریزسٹنس‘ کے نام سے جانے جانے والے حوثی مخالف اتحاد کے پاس بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ خاصا بڑا علاقہ تھا، لیکن چند ہی دنوں میں اس کا بڑا حصہ حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

    کچھ اندازوں کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کی سٹریٹجیک اہمیت رکھنے والی ساحلی پٹی کے 130 کلومیٹر (81 میل) تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ کئی برسوں میں حوثیوں کی سب سے نمایاں فوجی کامیابی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 12 سال سے جاری خانہ جنگی، سعودی عرب کے تباہ کن فضائی حملوں اور امریکی، اسرائیلی اور برطانوی فورسز کے حملوں کے باوجود حوثی اب بھی ایک ایسی قوت ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ان کے مخالفین کے حیران اور حوصلہ پست ہونے کے بعد اس بات کا امکان کم ہے کہ حوثیوں کو جلد وہاں سے بے دخل کیا جا سکے گا۔

    برسلز میں قائم یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس کے سینیئر تجزیہ کار ہشام العمیسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب جبکہ وہ وہاں موجود ہیں، وہ اپنی پوزیشن مضبوط کر لیں گے اور انھیں وہاں سے نکالنا کہیں زیادہ مہنگا پڑے گا۔‘

    یقیناً حوثی اکیلے نہیں ہیں۔ انھیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور تہران کے لیے یہ حمایت اس وقت مزید اہم ہو گئی ہے جب ایران کے نام نہاد ’محورِ مزاحمت‘ کے دیگر حصوں، یعنی لبنان کی حزب اللہ، غزہ میں حماس اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کو مشکلات اور شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ہشام العمیسی کے مطابق ’لہٰذا انھوں نے اپنی حمایت حوثیوں کی جانب منتقل کر دی اور ظاہر ہے کہ انھیں اس حمایت کی ضرورت ہے۔‘

    اگرچہ بیشتر تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حوثیوں کو محض ایرانی کٹھ پتلی قرار دینا درست نہیں، تاہم گزشتہ چند روز کے واقعات ایک نئی اور پریشان کن حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر مشترکہ حملہ شروع کیے جانے کے سات ماہ بعد تہران کی حکومت اب دنیا کی صرف ایک نہیں بلکہ دو اہم ترین بحری گزرگاہوں پر اختیار رکھتی ہے، خلیجِ فارس کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر تک رسائی کا راستہ باب المندب، جو نہر سویز کی جانب جانے کا اہم راستہ بھی ہے۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے امریکہ سے مداخلت کی اپیلیں اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔

    ایگزیوس نے لکھا ہے کہ امریکہ ’یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں مبتلا ہے اور سعودی عرب کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ساتھ ہی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز بھی کرنا چاہتا ہے۔‘

    تاہم سعودی عرب میں تشویش کی وجہ صرف باب المندب کو لاحق ممکنہ خطرہ نہیں ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حوثیوں کے بظاہر میزائل اور ڈرون حملے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پائپ لائن رواں سال کے آغاز میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل برآمد کرنے کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن گئی ہے۔

    ان تصاویر سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایران کے یمنی اتحادی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اگر ایران نے براہِ راست اس حملے کا حکم نہ بھی دیا ہو، تب بھی اس حملے سے واضح طور پر ایران کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

  19. ٹرمپ کی پالیسیوں کے سائے میں برکس اجلاس، 11 ممالک کے رہنما انڈیا میں جمع ہوں گے

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ برکس کا رکن نہیں، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات 12 اور 13 ستمبر کو انڈیا میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں نمایاں نظر آ سکتے ہیں۔

    اجلاس میں میزبان ملک انڈیا کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقہ، چین، روس، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت 11 ممالک کے رہنما شرکت کریں گے۔

    سعودی عرب بھی اجلاس میں شرکت کرے گا۔

    ان ممالک کے رہنما کئی اہم معاملات پر تبادلۂ خیال کریں گے، تاہم صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات ان میں سب سے اہم موضوعات میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    ایران کی جنگ اور امریکی محصولات کی دھمکی نے امریکہ کے مخالفین اور اتحادیوں، دونوں کے لیے عالمی توانائی کی منڈی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کے مستقبل کے بارے میں بھی مسلسل غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

    AFP via Getty Images

    ایسے ماحول میں برکس ممالک اپنا سربراہی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ تاہم امکان کم ہے کہ برکس کی جانب سے امریکہ پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا جائے یا ٹرمپ کی پالیسیوں اور جغرافیائی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دی جائے۔

    چینی صدر شی جن پنگ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا پہنچ رہے ہیں

    چینی صدر شی جن پنگ سنیچر کو 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ سے انڈیا روانہ ہو گئے ہیں۔

    چینی میڈیا ادارے گلوبل ٹائمز کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی بھی شی جن پنگ کے ہمراہ انڈیا آنے والے وفد میں شامل ہیں۔

    Mohamed Abd El Ghany/POOL/AFP via Getty Images

    تاہم انڈیا میں چین کے سفیر شو فے ہونگ نے جمعے کی رات ایکس پر لکھا کہ ’چین اور انڈیا صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم نریندر مودی کے درمیان دوطرفہ ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

    چینی سفیر کے مطابق چین انڈیا کے ساتھ بات چیت بڑھانے، تعاون مضبوط کرنے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے پر زور دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’چین اور انڈیا کو ایک دوسرے کی کامیابی میں معاون اچھے ہمسایوں اور شراکت داروں کی حیثیت سے آگے بڑھنا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ شی جن پنگ نے اس سے قبل سنہ 2019 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران چنئی کے قریب ماملاپورم میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی سربراہی ملاقات ہوئی تھی۔

  20. قطر کی سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حملے کی مذمت

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

    سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن ریاض کی تیل برآمدات کے لیے واحد ایسا راستہ ہے جو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتا۔

    قطر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت اقدام، بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی اور کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہے، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر ’برادر ملک سعودی عرب کے ذمہ دارانہ مؤقف کو سراہتا ہے، جس میں عراقی حکومت کی ان کوششوں کی حمایت کی گئی ہے کہ اس کی سرزمین کو سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔‘

    ریاض نے عراقی وزیرِاعظم علی الزیدی کی درخواست کے بعد اعلان کیا ہے کہ ’وہ ان حملوں کا جواب نہیں دے گا۔‘