لائیو, ’مزید انتظار نہیں کر سکتا تھا‘: پرنسپل نے سیلاب سے قبل 900 طلبا کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا

سیلاب سے تباہ ہونے والے نیپال کے ایک سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ انھوں نے علاقے میں سیلاب کے خطرے سے متعلق مسلسل موصول ہونے والی وارننگز کے بعد تقریباً 900 طلبا کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 788 ہو گئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. عمان کے ساتھ عارضی راہداری پر اتفاق، لیکن امریکہ کے وعدوں کی تکمیل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: ایران

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، تاہم ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنایا جاتا۔

    غریب آبادی نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اگر کوئی جہاز اس سے گزرتا ہے تو یہ صرف ایران کی اطلاع اور اجازت سے ممکن ہوتا ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ’بینک مصر‘ کی شاخوں کا معائنہ کیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت مذکورہ بینک کو امریکی مالیاتی نظام سے منقطع کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔

  2. ایرانی سپریم لیڈر کا خلیجی ممالک سے ’اصل دشمن‘ کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی ممالک سمیت مسلم دنیا کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ’اصل دشمن‘ کو پہچانیں اور اس کے خلاف متحد ہو جائیں۔

    اسلامی اتحاد ہفتے کے موقع پر ٹیلیگرام پر شائع ہونے والے ایک تحریری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات ان کے مخالفین کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ امتِ مسلمہ کو مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی دفاع کو فروغ دینا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ جو بھی شخص مسلمانوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتا ہے، خواہ جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر، وہ اسلام کے دشمنوں کی مدد کرتا ہے۔ پیغام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر مسلمان متحد ہوتے تو کیا فلسطینی ’اتنے بے بس‘ رہ جاتے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے خاص طور پر خلیجی عرب حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطے کے عوام اور حکومتیں ’اسلام کے پرچم تلے متحد‘ ہوتیں تو کیا ’گمنام شرپسند عناصر‘ ان کی زمینوں اور وسائل پر نظر ڈالنے کی جرات کر سکتے تھے؟

    واضح رہے کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای چھ ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ ان حملوں میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعے کے روز بھی ایرانی عوام سے خطاب میں قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

  3. شمالی قبرص کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے سات افراد ہلاک، 23 لاپتا

    شمالی قبرص

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    شمالی قبرص کی خود اعلان کردہ ترک جمہوریہ کے وزیر اعظم اونال اوستیل نے ایکس پر کہا ہے کہ کشتی الٹنے کے واقعے میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کے مطابق کشتی میں سوار 267 افراد میں سے 237 کو امدادی ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا ہے جبکہ 23 لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔

    Turkey

    اونال اوستیل نے لکھا کہ ’جہاز میں سوار مجموعی 267 افراد میں سے 237 کو ہماری ٹیموں نے بچا لیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سات افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ 23 لاپتا افراد کو تلاش کرنے کے لیے ہماری تمام تر وسائل کے ساتھ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح لاپتا 23 افراد تک پہنچنا ہے۔

  4. صرف 10 منٹ کا فرق: پرنسپل کے فیصلے نے 900 طلبا کو سیلاب سے بچا لیا

    Nepal

    سیلاب سے تباہ ہونے والے نیپال کے ایک سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ انھوں نے علاقے میں سیلاب کے خطرے سے متعلق مسلسل موصول ہونے والی وارننگز کے بعد تقریباً 900 طلبا کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    نوواکوٹ کے تری بھوون تریشولی سیکنڈری سکول کے سربراہ راجیندر داوادی نے بی بی سی کو بتایا کہ چند ہی منٹوں کے دوران انھیں مختلف افراد کی جانب سے چار فون کالز موصول ہوئیں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

    ان کالز میں یہ اطلاع بھی شامل تھی کہ اوپر کی جانب واقع بستی بیتراوتی میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔

    داوادی کہتے ہیں، ’تب میں نے فیصلہ کر لیا۔ میں نے سوچا کہ مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر سیلاب نہ بھی آتا تو زیادہ سے زیادہ ایک دن کی کلاسیں ہی متاثر ہوتیں۔‘

    ان کے مطابق جب طلبا اور عملے کو بلند مقام کی جانب منتقل کیا جا رہا تھا تو انھوں نے دریا سے تقریباً 100 میٹر دور واقع ایک ہاسٹل کی عمارت کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔

    انھوں نے کہا، ’اگر ہم نے یہ فیصلہ 10 منٹ بعد کیا ہوتا تو آج شاید طلبا سمیت ہم میں سے کوئی بھی آپ سے بات کرنے کے لیے زندہ نہ ہوتا۔‘

  5. متعدد مسافروں کو بچا لیا گیا، زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر تعینات, کیٹی واٹسن، بی بی سی کی نامہ نگار

    boat capsized

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترک حکام کے مطابق کشتی میں 259 مسافر اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔ اگرچہ متعدد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، تاہم لاپتا افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

    ترکی کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے ہیں، جبکہ ریسکیو کیے گئے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

    سمندری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق فِیلو جیٹ ایک تیز رفتار مسافر بردار کشتی ہے جو ترکی کے پرچم تلے چلتی ہے۔

    ویب سائٹ کے مطابق کشتی کی لمبائی 40 میٹر اور چوڑائی 10 میٹر ہے۔

    میرین ٹریفک کا کہنا ہے کہ یہ کشتی اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11:58 پر شمالی قبرص کے شہر گیرنے سے روانہ ہوئی تھی اور شام 5:52 پر ترکی کے ساحلی شہر تاشوجو پہنچنا تھا۔

  6. جانی نقصان ہوا ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں: وزیراعظم کا بیان

    شمالی قبرص

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    موقع سے سامنے آنے والی ویڈیو میں کشتی ایک جانب جھکی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ مسافر لائف جیکٹس پہنے اس کے اوپر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

    شمالی قبرص کی خود ساختہ ترک جمہوریہ کے وزیراعظم اُونال اُستیل نے کہا ہے کہ کیرینیا بندرگاہ کے ساحل سے تقریباً سات کلومیٹر دور ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں گہرا صدمہ اور دکھ ہے۔ اس حادثے میں جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے تمام وسائل کے ساتھ موقع پر موجود ہیں۔‘

    شمالی قبرص کی خود ساختہ ترک جمہوریہ جزیرۂ قبرص کے شمالی حصے میں قائم ایک ریاست ہے جو ترکی کے زیرِ اثر ہے اور صرف ترکی ہی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے۔

  7. کشتی الٹنے کے بعد مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی قبرص کے شہر گیرنے (کیریینیا) کے قریب کشتی الٹنے کے بعد بچائے گئے مسافروں کو ساحل پر منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    جائے وقوعہ اور بندرگاہ پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے ایک ہیلی کاپٹر اور ایمبولینس کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

    حادثے کے بعد حکام کی جانب سے مسافروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔

    شمالی قبرص کے ساحلی شہر گیرنے (کیریینیا) کے میئر مراد شینکول کا کہنا ہے کہ صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے۔

    انھوں نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا کہ شمالی قبرص کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں 270 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔

    تاہم ترکی کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری تازہ بیان کے مطابق جہاز میں 267 افراد سوار تھے۔

    مراد شینکول کے مطابق ساحلی سکیورٹی کے اہلکار اے کے گونلر ایکسپریس (Akgunlerin Express) کے ساتھ مل کر متعدد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے مسافروں کو بچانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

  8. بریکنگ, شمالی قبرص کے ساحل کے نزدیک 270 مسافروں کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی قبرص کے ساحل کے قریب تقریباً 270 مسافروں کو لے جانے والی ایک کشتی الٹ گئی ہے، جس کے بعد امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق حادثے کے بعد مسافروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ساحلی شہر گیرنے (کیریینیا) کے میئر مراد شینکول نے ترک نشریاتی ادارے سی این این ترک کو بتایا کہ کشتی میں سوار 159 افراد تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’صورتحال انتہائی سنگین ہے۔‘

    ترکی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق 259 مسافروں اور عملے کے آٹھ ارکان کو لے جانے والی کشتی میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا تھا اور وہ گیرنے (کیریینیا) بندرگاہ سے چار بحری میل کے فاصلے پر ڈوبنے کے خطرے سے دوچار تھی۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کے بعد تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    بیان کے مطابق کارروائی کے تحت:

    • شمالی قبرص کوسٹ گارڈ کمانڈ کی چار سمندری کشتیوں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔
    • مسافر بردار جہاز AKGÜNLER 3 کو بھی امدادی کارروائی میں شامل کیا گیا۔
    • ترک کوسٹ گارڈ کمانڈ نے مزید پانچ بحری جہاز اور دو ہیلی کاپٹر علاقے میں بھیجے۔
    • ترک بحریہ نے بھی امدادی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے چھ جنگی بحری جہاز تعینات کیے۔

    وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انتہائی احتیاط سے تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  9. ’ہم صرف چند سیکنڈ کے فرق سے بچ گئے‘: طالبہ نے سکول سے انخلا کی داستان سنا دی

    Nepal Flood

    سکول کے پرنسپل کے بروقت فیصلے کے باعث بچائے جانے والے 900 طلبہ میں شامل 16 سالہ یونیشا کا کہنا ہے کہ وہ سیلاب آنے سے محض چند لمحے پہلے محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں اور میری سہیلیاں صرف 10 سیکنڈ کے فرق سے بچ گئیں۔‘

    یونیشا نے بتایا کہ وہ دیگر طلبہ کے ساتھ سکول کے عقب میں موجود ایک تنگ اور کیچڑ بھری پگڈنڈی کے راستے اوپر کی جانب بھاگیں۔

    ان کا کہنا تھا، ’پلک جھپکتے ہی میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بازار کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔‘

    یونیشا، جن کا انٹرویو ان کی والدہ سبینا شریستھا کے ساتھ کیا گیا، نے بتایا کہ سیلاب کی خبر سننے کے بعد ان کے اہل خانہ کئی گھنٹوں تک شدید پریشانی کے عالم میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’میں شدید گھبراہٹ کا شکار تھی۔ میں نے اپنی بیٹی اور اس کے والد کو بار بار فون کرنے کی کوشش کی، لیکن دونوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔‘

    شریسٹھا بتاتی ہیں کہ جب آخرکار ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تو انھیں کچھ اطمینان ہوا، مگر خاندان اس وقت تک پریشان رہا جب تک یونیشا تین روز بعد گھر واپس نہیں آ گئی۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت خوش ہوں اور سکون محسوس کر رہی ہوں۔ خدا نے میری بیٹی کو بچا لیا۔‘

  10. دُکی میں بم دھماکے سے تین بھائی ہلاک، ماشکیل میں پولیس سٹیشن اور کسٹمز دفتر نذرِ آتش, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    Dukki, Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع دُکی میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے، جبکہ گذشتہ روز ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس سٹیشن اور کسٹمز کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ دو روز کے دوران صوبے میں تشدد کے یہ تیسرے بڑے واقعات ہیں۔

    دُکی میں بم دھماکہ کیسے پیش آیا؟

    دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار کے مطابق بم دھماکے کا واقعہ تحصیل لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو کسی نامعلوم شخص نے فون پر اطلاع دی تھی کہ ان کی زرعی اراضی پر نصب سولر پلیٹوں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد چار افراد ایک گاڑی میں اپنی زمین کی جانب روانہ ہوئے۔

    پولیس کے مطابق راستے میں ایک ندی کے قریب ان کی گاڑی کے نزدیک زور دار دھماکہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد علاقے میں پہلے سے نصب کیا گیا تھا۔

    منصور احمد بزدار نے بتایا کہ دھماکے میں تین افراد، جو آپس میں بھائی تھے، ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔ لاشوں اور زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ضلع مستونگ میں مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک فروٹ ٹھیکیدار ہلاک ہو گیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کھڈکوچہ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

    ان کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر ضلع پشین سے تعلق رکھنے والا ایک فروٹ ٹھیکیدار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

    کھڈکوچہ کے علاقے میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے اور سکیورٹی فورسز وہاں کالعدم تنظیموں سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

    ماشکیل میں کیا ہوا؟

    گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد ضلع واشک کے سرحدی شہر ماشکیل کے بعض علاقوں میں داخل ہوئی۔

    مقامی رہائشیوں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ مسلح افراد کی آمد کے بعد شہر کے مختلف حصوں سے دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ایک حکومتی عہدیدار اور ایک پولیس اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ حملہ آوروں نے ایک پولیس سٹیشن اور کسٹمز کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ ان کے مطابق حملہ آور کچھ اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہو گئے۔

    ماشکیل بلوچستان کا ایک دور افتادہ سرحدی علاقہ ہے جو ایرانی سرحد سے تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگرچہ ضلع واشک کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ماشکیل شہر میں یہ نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

    اس سے قبل جولائی کے دوسرے ہفتے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک حجام کی دکان پر حملہ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو قتل کر دیا تھا۔

  11. تبت میں لاپتا افراد کے زندہ ملنے کی امیدیں معدوم، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ, سٹیفن میکڈونل، بی بی سی کے نامہ نگار برائے چین

    Tibet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تبت کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    سرحد کے تبتی علاقے سے آنے والی خبریں نہایت تشویش ناک ہیں۔

    شیگاتسے کے حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کو اب تک مزید کوئی زندہ بچ جانے والا شخص نہیں ملا۔ ریسکیو اہلکار کئی روز سے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ہنگامی صورتحال کے پانچویں روز لاپتا افراد کے زندہ ملنے کی امیدیں بہت کم ہوتی جا رہی ہیں۔

    546 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب انجینیئرز تباہی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تک سڑک کا رابطہ بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ شدید سیلابی ریلے اور مٹی کے تودوں نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا، جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

    تاہم صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ اگرچہ سڑک کا رابطہ جلد بحال ہو جائے، لیکن سیکڑوں لاپتا افراد کے لیے اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

  12. نیپال میں سیلاب سے متاثرہ سکول میں کیچڑ سے اٹے بستے

    Nepal

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نیپال کے ضلع دھاڈنگ کے باگیشوری سیکنڈری سکول میں سیلاب کے بعد کیچڑ سے ڈھکے سکول بیگز دیکھے جا سکتے ہیں۔

    نیپال میں 30 اگست 2026 کو لی گئی اس تصویر میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصان کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔

    نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق، نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب گلیشیئر کے انہدام اور برفانی تودے کے باعث بھوٹیکوشی اور تریشولی دریاؤں کی وادیوں میں آنے والے اچانک سیلاب اور مٹی کے تودوں سے 750 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    اس آفت کے نتیجے میں آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

  13. سیلاب سے کھٹمنڈو کو جوڑنے والی اہم شاہراہ پرتھوی ہائی وے کو بڑے پیمانے پر نقصان

    سیلاب نیپال

    ،تصویر کا ذریعہDoR

    سڑکوں کے محکمے کے سربراہ کے مطابق حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والے شدید کٹاؤ نے نیپال کی اہم شاہراہ پرتھوی ہائی وے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔

    سڑکوں کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے کہا کہ راسووا کے سیلاب کے بعد ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔

    ان کے مطابق گذشتہ بدھ آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ کے کرشنابھیر علاقے میں کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح آنے والے مزید سیلابی ریلے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

    وجے جائسی نے بتایا کہ مسافروں اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ اس سے قبل بتا چکا ہے کہ سیلاب سے اس کے 19 پل متاثر ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  14. ’ہمیں لگا بلی کی آواز آ رہی ہے‘، ملبے سے زندہ نکالی گئی بچی والدین سے مل گئی, آزادہ مشیری اور اینڈریو کلیرنس، بی بی سی نیوز، کٹھمنڈو

    ،ویڈیو کیپشنانتباہ: وہ مناظر جب پانچ سالہ بچی کو نیپال میں سیلاب کے دو روز بعد ملبے سے نکالا گیا

    نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب کے دو روز بعد ملبے تلے سے زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی اپنے والدین سے ہسپتال میں جا ملی ہے۔ ہسپتال حکام کے مطابق منیشا نامی بچی کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ دارالحکومت کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

    ریسکیو اہلکار ضلع راسووا کے علاقے سیابروبیسی کے قریب زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کر رہے تھے کہ انھیں ملبے کے نیچے کسی بلی کے پھنسے ہونے جیسی آواز سنائی دی۔

    نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری کے مطابق امدادی ٹیموں نے علاقے کی تلاشی لی اور ملبہ ہٹانا شروع کیا، جس کے دوران انھیں منیشا ملبے تلے پھنسی ہوئی ملی۔ بچی کو نکالنے کی کارروائی میں تقریباً دو گھنٹے لگے اور آخرکار اسے زندہ ملبے سے باہر نکال لیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جب منیشا کو نکالا گیا تو وہ زندہ تھی لیکن بمشکل جواب دے رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے اسے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خراب موسم کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

    بعد ازاں اسے ریسکیو کیمپ لے جایا گیا جہاں اسے پانی پلایا گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے ہوش سنبھال لیا، جس کے بعد امدادی کارکنوں نے اس کی جسمانی حالت بہتر بنانے کے لیے اسے چاول کا ابلا ہوا پانی پلانا شروع کیا۔

    حکام کے مطابق منیشا شدید ذہنی صدمے کا شکار تھی، تاہم سنیچر کی دوپہر اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال کے شعبۂ اطفال منتقل کر دیا گیا۔

    ہسپتال نے اتوار کو جاری کیے گئے تازہ بیان میں بتایا کہ منیشا کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور وہ صحت یابی کی جانب گامزن ہے۔

  15. اسحاق ڈار سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے

    Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سنیچر کے روز سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں ترکی کے شہر استنبول پہنچ گئے ہیں۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق استنبول پہنچنے پر ان کا استقبال ترکی کے ڈپٹی چیف آف سٹاف برائے انتظامیہ بریگیڈیئر جنرل شینول وارول، ترکی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارتِ خارجہ کے سفیر جہاد ارگینائے اور ترک حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار ترکی میں مختلف سرکاری سرگرمیوں اور ملاقاتوں میں شرکت کریں گے۔

  16. ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری، لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اب بھی کسی خبر کے منتظر

    Nepal

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب کے پانچ روز بعد بھی امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔

    نوواکوٹ ضلع میں واقع ایک فوجی کیمپ میں فوجیوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالے گئے بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    نیپال سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اب بھی کیمپ کے باہر منتظر ہیں اور اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے لیے بے چینی سے امید لگائے ہوئے ہیں۔

    Rescue Operation in Nepal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ریسکیو آپریشن میں ہیلی کاپٹر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    نیپال کے وزیرِ خارجہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ بعض متاثرہ علاقے دلدلی زمین میں تبدیل ہو گئے ہیں، جس کے باعث وہاں زمینی راستے سے پہنچنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

  17. نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 788 ہو گئی، لاپتا افراد کی تعداد 2,500 سے تجاوز

    Nepal

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 788 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل این ڈی آر آر ایم اے اور نیپال پولیس نے 752 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

    ادارے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2,502 افراد لاپتا ہیں، جبکہ اس سے پہلے یہ تعداد 2,498 بتائی گئی تھی۔

  18. دوسرا سیلاب پہلے سے کم شدت کا ہونے کے باوجود سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے: ماہرین کی تنبیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیلاب سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’نیپال اور تبت میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے مزید نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔‘

    یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے ماہر جیف ڈا کوستا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قدرتی آفت کے نتیجے میں بہہ کر آنے والے ملبے نے دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے اور بالائی علاقوں میں نئی جھیلیں بن گئی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دوسرے سیلاب کا پہلا سیلاب جتنا بڑا ہونا ضروری نہیں تاکہ وہ سنگین اثرات مرتب کر سکے۔‘

    ڈا کوستا کے مطابق ’اب یہ نگرانی کرنا انتہائی اہم ہے کہ علاقے میں بننے والی جھیلوں اور پانی روکنے والی رکاوٹوں میں کس طرح تبدیلی آ رہی ہے اور وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چین اور نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ نگرانی سے متعلق معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں کیونکہ بالائی علاقوں میں ہونے والی صورتحال سرحد کے دوسری جانب لوگوں کو بہت تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’معلومات بھی اسی رفتار سے منتقل ہونی چاہییں تاکہ زمینی سطح پر بروقت اور عملی فیصلے کیے جا سکیں۔‘

    ڈا کوستا نے کہا کہ ’موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ بھر میں گلیشیئرز، مستقل جمی ہوئی زمین (پرما فراسٹ) اور پہاڑی ڈھلوانوں کے استحکام کو تبدیل کر رہا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’مزید تجزیے کے بغیر اس آفت کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔‘

  19. تبت میں تباہی کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل کیوں ہے؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تبت چین کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں سخت حکومتی کنٹرول ہے۔ چین نے سنہ 1950 کی دہائی میں اس خطے پر اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔

    تبت میں طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور چین وہاں کسی بھی قسم کے احتجاج یا بدامنی کے حوالے سے انتہائی محتاط رہتا ہے۔

    اسی وجہ سے حالیہ قدرتی آفت کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود امدادی کارروائیوں کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔

    وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کو متاثرہ علاقے میں پہنچے۔ بڑے پیمانے کی کسی قدرتی آفت کے فوراً بعد ان کا اتنی جلدی متاثرہ علاقے کا دورہ کرنا غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

    تبت میں داخلہ آسان نہیں۔ غیر ملکیوں کو وہاں جانے کے لیے خصوصی ویزا اور اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جبکہ غیر ملکی میڈیا کے لیے بھی تبت تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ وہاں مقامی لوگوں سے رابطہ کرنا بھی آسان نہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسی وجہ سے اس وقت تبت میں ہونے والی تباہی کی اصل شدت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ وہاں کی صورتحال جاننے کے لیے بڑی حد تک چینی سرکاری میڈیا کی رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

    نیپال سے مقدس پہاڑ کیلاش جانے والے زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی خصوصی اجازت بھی شامل ہے۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق سنیچر کی شام 6 بجے تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں 16 افراد ہلاک جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

    نیپال اور تبت میں سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈ کی تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے بیشتر عوام لاعلم کیوں ہیں؟

  20. سوئٹزرلینڈ میں تقریب کے دوران فائرنگ، ایک شخص ہلاک، پانچ زخمی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سوئٹزرلینڈ کے شمالی علاقے میں رات گئے ایک تقریب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد نامعلوم حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔ آؤرگاؤ کینٹونل پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نامعلوم ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔‘

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے محرکات اور واقعے کے درست حالات تاحال واضح نہیں ہیں۔

    پولیس نے سوئس میڈیا کو بتایا کہ ’فائرنگ آؤراؤ کے علاقے شاخن میں گھوڑوں کی دوڑ کے میدان کے قریب ہوئی، جو زیورخ سے تقریباً 46 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ علاقے میں اتوار کی صبح تک ایک ریَیو (Rave) پارٹی جاری رہنے والی تھی۔

    پولیس نے گھوڑوں کی دوڑ کے میدان، شہر کے سوئمنگ پول اور کھیل کے میدان کے اطراف کا علاقہ گھیرے میں لے لیا ہے اور عوام سے وہاں جانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کے مطابق احتیاطی طور پر آؤراؤ سے باہر بھی بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    پولیس نے عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز حکام کے ساتھ شیئر کریں۔

    اتوار کی صبح آؤراؤ سے سامنے آنے والی تصاویر میں علاقے میں پولیس کی بھاری نفری موجود دکھائی دی، جبکہ ایک بکتر بند گاڑی نے سڑک کو بند کر رکھا تھا۔

    نشریاتی ادارے ایس آر ایف کے مطابق پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے علاوہ علاقائی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کو بھی کارروائی میں شامل کیا گیا۔ ایس آر ایف نے بتایا کہ ’علی الصبح سوئس فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی علاقے کا فضائی جائزہ لیتا دیکھا گیا۔‘