لائیو, نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 650 سے زائد: لاشوں کو محفوظ رکھنا مشکل، مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین شروع
نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 2,498 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ 219 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نیپالی حکومت نے 500 لاپتہ غیرملکی شہریوں کے نام جاری کیے ہیں، جن میں انڈیا کے 178، امریکہ کے 65 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔
لائیو کوریج
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا جوہری تجربات روکنے پر زور
،تصویر کا ذریعہEPA
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’جوہری تجربات اعتماد کو تباہ کرتے، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دیتے اور ان معاشروں سے غداری کے مترادف ہیں جو آج بھی ماضی کے جوہری تجربات کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘
گوتریس نے اپنے پیغام میں تمام جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ جوہری تجربات پر عائد موجودہ پابندیوں کی پاسداری کریں اور ’جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے پر عمل درآمد کریں۔‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’آئیے جوہری تجربات کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔‘
رنگوں سے بھرا شہر ملبے کا ڈھیر بن چُکا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وسطی نیپال کے علاقے نوواکوت میں واقع دیوی گھاٹ سے سامنے آنے والی نئی تصاویر بدھ کو آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی اور بربادی کو واضح کرتی ہیں۔
یہ مقام ایک مقدس اور اہم زیارتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، جو دریائے تریشولی اور دریائے کالی گنڈکی کے سنگم پر واقع ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیلاب سے ملنے والی سینکڑوں لاشیں اب شناخت کے قابل نہیں رہیں: حکام
،تصویر کا ذریعہReuters
نیپال کے جنوبی وسطی ترائی علاقے میں واقع چتوان ضلع کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد اب تک ملنے والی 233 لاشوں میں سے صرف چار کی شناخت ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ نیپال میں آنے والے سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 616 تک جا پہنچی ہے۔
چتوان کے ضلعی انتظامیہ کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طبی مراکز اور دریاؤں کے کناروں سے ملنے والی لاشیں اور انسانی باقیات گلنے سڑنے کی حالت میں ہیں اور اب ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ ’باقی 229 لاشیں عارضی مراکز اور طبی اداروں میں رکھی گئی ہیں، جبکہ ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔‘
اسرائیلی فوج کا جنین میں فضائی حملہ، حماس کے اہم رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہIsraeli army spokesperson for Arab media
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انھوں نے جمعے کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں ایک ’سیل‘ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے، جس میں حماس کے ایک رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔‘
حماس اور اسلامی جہاد دونوں نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے انھیں مغربی کنارے میں اپنے ’اہم ترین‘ رہنماؤں میں شامل قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جنین میں حملے کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے جنھیں اس نے ’دہشت گرد‘ قرار دیا۔
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہلاک ہونے والوں میں قیس البطاوی بھی شامل تھے، جو جنین کیمپ میں حماس کی مقامی سرگرمیوں کے ذمہ دار تھے۔‘ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کیمپ آپریشن آئرن وال کے دوران ختم کر دیا گیا تھا اور البطاوی متعدد ’دہشت گردانہ سرگرمیوں‘ کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کارروائی فضائی حملے کے ذریعے کی گئی، جس میں البطاوی کے ’دو مزید ساتھی‘ بھی مارے گئے، جبکہ ان کی گاڑی سے ایک ’ہتھیار‘ بھی برآمد ہوا۔‘
،تصویر کا ذریعہwafa
دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے البطاوی کی ہلاکت پر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور انھیں اپنے ان رہنماؤں میں شامل قرار دیا جنھوں نے جنین گورنری میں متعدد ’القسام کارروائیوں‘ کی نگرانی اور انھیں انجام دینے میں کردار ادا کیا۔
ادھر اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے بھی البطاوی کی ہلاکت پر تعزیت کرتے ہوئے انھیں مغربی کنارے میں القدس بریگیڈز کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا۔
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تیل کا معاہدہ: ’ہم نے 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر بڑا کنٹرول حاصل کر لیا ہے،‘ ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن نے وینزویلا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جسے انھوں نے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق مذاکرات وینزویلا کی عبوری حکومت اور نجی شعبے کی شرکت سے ہوئے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے وینزویلا کے ثابت شدہ 65 ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر میں سے نصف سے زیادہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے پر امریکی ٹیکس دہندگان کو کوئی لاگت نہیں آئے گی اور اس سے امریکہ کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے۔‘
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ کے ساتھ تیل کے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس معاہدے سے ملک کی بحالی پر ’نمایاں اثر‘ پڑے گا اور وینزویلا میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری جبکہ حکومت کو 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔‘
معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر کی ہے اور پیٹرول کی بلند قیمتیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہیں۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’معاہدے سے عالمی سطح پر تیل کی رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور طویل مدت میں امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مذاکرات میں وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کیا۔‘
ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ ’معاہدے کے تحت وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے ملک کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔‘
تاہم تیل کے ذخائر کا کنٹرول کس طرح منتقل کیا جائے گا اور یہ عمل کب ہوگا، اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس کے انرجی انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو جارج پینیون کے مطابق ملکیت کی منتقلی کے طریقہ کار اور وقت سمیت کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔
اس سے قبل ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ ’امریکہ اور وینزویلا تقریباً 90 ارب بیرل کے ثابت شدہ ذخائر رکھنے والے 12 تیل کے ذخائر کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ذخائر کی ترقی میں نجی کمپنیوں، جن میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، کا کردار ہوگا۔
نعیم قاسم کا لبنان اسرائیل معاہدے سے ایک بار پھر انکار، ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنلبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم
لبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعے کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی حمایت یافتہ گروپ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘
انھوں نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ’ہم فریم ورک معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات اس وقت شروع ہوئے تھے جب دو مارچ کو حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے کے بعد جنگ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حملوں اور لبنان میں زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لبنانی حکام کے مطابق جنگ میں 4,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جون کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے تھے، جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کا مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ اس عمل کا آغاز ’ٹیسٹ زونز‘ سے ہونا ہے۔
نعیم قاسم نے اس معاہدے کو ’ناجائز، غیر قانونی، توہین آمیز اور لبنان کی خودمختاری کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ ’حزب اللہ ٹیسٹ زونز اور کسی بھی تصدیقی طریقہ کار کی مخالفت کرتی ہے۔‘
انھوں نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد کی حمایت بھی کی اور کہا کہ ’ہم سر بلند رکھیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام پر ایرانی حکام کا ردعمل، حکومت کی حمایت اور ’سماجی اتحاد‘ پر زور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک پیغام سامنے آنے کے بعد کئی ایرانی حکام نے اس پر ردعمل دیا ہے۔ پیغام میں مسعود پزشکیان کی حکومت کی حمایت اور ملک میں ’سماجی اتحاد‘ برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان کی حکومت کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور ناکہ بندی کے دوران عوام کی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ملکی پیداوار بڑھانے اور لین دین میں امریکی ڈالر کا کردار بتدریج ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
رہبرِ انقلاب سے منصوب کیے جانے والے اس بیان میں کہا گیا کہ ’گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی اور ااسرائیلی جارحیت کے باوجود ایرانی قوم نے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
انھوں نے صدر پزشکیان سمیت سرکاری اداروں کے ملازمین اور منتظمین کی ان کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا جن کے ذریعے عوام کو اشیا اور مختلف خدمات کی فراہمی، جنگ سے متاثرہ اہم علاقوں کی بحالی اور توانائی کے انتظام کو یقینی بنایا گیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے مہنگائی، بے روزگاری، اشیا اور خدمات کی قیمتوں و منڈی کے انتظام، اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور اسے ضروری شعبوں کی جانب منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار بڑھانے پر سنجیدہ توجہ دینے پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ڈالر کے کردار کو بتدریج ختم کیا جانا چاہیے اور معیشت سے متعلق تمام پالیسیوں میں ’مزاحمتی معیشت‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان تمام مسائل کے حل کی بنیادی کنجی زیادہ سے زیادہ ملکی پیداوار پر انحصار ہے، تاہم جہاں ملکی پیداوار کافی نہ ہو وہاں درآمدات کا درست اور دانشمندانہ استعمال کیا جانا چاہیے۔‘
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’ایران کا دشمن یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ترقی کا راستہ امریکہ کی پیروی اور اس کے مطالبات تسلیم کرنے میں ہے، لیکن ماضی میں ایران اور اس کے وسائل کے ساتھ امریکہ کے رویے سے اس کے برعکس ثابت ہوتا ہے۔‘
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے ’مایوس کن گفتگو‘ سے گریز کرنے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے روکنے پر زور دینا ایک واضح پالیسی ہے۔‘ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور سماجی اتحاد، قومی طاقت اور سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا کہ ’اس پیغام کو تمام حکام کے لیے ’آنکھیں کھول دینے والا‘ ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی قسم کی ’مایوس کن گفتگو‘ سے گریز کیا جائے، جبکہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والا ہر اقدام قومی اور مذہبی اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔‘
ایران سے رابطہ اور اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں: پاسدارانِ انقلاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران سے رابطہ اور اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حکام کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے سے متعلق بیانات کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی فورس کے مطابق ’امریکہ یہ بیانات تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے دے رہا ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار ہے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ختم نہیں ہوتی اور ایران کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘
امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے امارات میں بینک مصر کی شاخ پر پابندیاں عائد کر دیں
امریکی وزارتِ خزانہ نے متحدہ عرب
امارات میں بینک مصر کی شاخ کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم کرنے کا اعلان
کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے
منصوبے کا حصہ ہے۔
بینک مصر، مصر کا دوسرا بڑا سرکاری
بینک ہے، جس کی متحدہ عرب امارات میں بھی شاخ موجود ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ
امارات میں بینک مصر کی شاخ ’ایرانی حکومت کی امریکی ڈالر تک رسائی کے اہم ترین
راستوں میں سے ایک‘ ہے اور وزارت کے جائزوں کے مطابق اس بینک نے جنوری 2024 سے
رواں سال جون تک 103 کمپنیوں کے لیے تقریباً ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالی لین دین
انجام دی، ایسی کمپنیاں جو ممکنہ طور پر ایران کے ’شیڈو بینکاری نیٹ ورک‘ کا حصہ
ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے
ایکس پر لکھا: ’امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تہران کی معیشت کی باقی ماندہ
شریانیں بھی کاٹ دے گا اور بالآخر ایرانی حکومت کی جانب سے پیدا کیے جانے والے
خطرات کا خاتمہ کرے گا۔ ہم نے ایرانی حکومت کے حامیوں اور سہولت کاروں کو خبردار
کیا تھا کہ وہ امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کے فوائد حاصل نہیں کر
سکتے۔‘
انھوں
نے مزید لکھا کہ امارات میں بینک مصر کی شاخ نے ’اس انتباہ کو آزمانے کے لیے
بھاری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور آج ہم اس بینک کو ایرانی حکومت کی واضح اور
مسلسل حمایت پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے پہلا قدم اٹھا رہے ہیں۔‘
نیپال میں سیلاب: اب تک ہم کیا جانتے ہیں
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
نیپال میں سیلاب کو آئے 60 گھنٹے سے
سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کا
کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے، جبکہ 2000 افراد
تا حال لاپتہ ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ادارے کے مطابق ان لاپتہ افراد میں
517 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم اس سے قبل نیپالی پولیس نے بتایا تھا کہ 575
غیر ملکی شہری لاپتہ ہیں، جن میں 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں
پانچ افراد ہلاک اور 550 سے زائد لاپتہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان اعداد و
شمار میں نیپال میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد شامل ہیں یا نہیں۔
چینی حکام لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے
والی ایک عارضی جھیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جھیل میں شگاف پڑنے اور مزید پانی کے
اخراج کے خدشے کے باعث تلاش کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں، تاہم بعد
میں امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
دنیا
بھر میں متعدد خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر ہیں۔
کرک میں کارروائی کر کے دو شدت پسند ہلاک کر دیے: محکمۂ انسداد دہشت گردی کا دعویٰ
محکمۂ انسداد دہشت گردی (کاؤنٹر
ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سی ٹی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں خفیہ
اطلاع پر کی گئی کارروائی میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کی گئی پریس
ریلیز کے مطابق، اطلاع موصول ہوئی کہ تھانہ خرم کی حدود میں نیکی صاحب زیارت کے
قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور نائب کمانڈر شعیب عرف سیف نے
دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سڑک کو بند کر رکھا ہے اور بارودی مواد نصب کرنے کی تیاری
کر رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے
پر کوہاٹ ریجن کی ٹیموں نے اضافی نفری کے ساتھ علاقے کا رخ کیا۔
حکام کے مطابق اہلکاروں کی آمد پر
مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔
پریس ریلیز کے مطابق دونوں جانب سے
کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ فائرنگ رکنے کے بعد علاقے کی تلاشی لی گئی
تو دو شدت پسندوں کی لاشیں ملیں جبکہ ان کے دیگر ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ
اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے تھے۔
سی
ٹی ڈی کے مطابق ہلاک افراد کے قبضے سے دو سب مشین گنز، دو ہینڈ گرینیڈز، چھ میگزین
اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے جنھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
نجی املاک شدت پسندی کے لیے استعمال ہوئیں تو مالکان کو سہولت کار سمجھا جائے گا: وزیراعلیٰ بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر مستونگ میں انگور کے باغات سے سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوتا ہے تو جائیداد کے مالکان سہولت کار تصور کیے جائیں گے۔
جمعہ کے روز سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت ایسی کارروائیاں نہیں چاہتی جن سے عام شہری متاثر ہوں، اگرچہ شدت پسند اکثر عام انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔
مستونگ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور انگور کے باغات اور نجی جائیدادوں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی باغ سے سکیورٹی فورسز کے قافلوں یا وزیر داخلہ پر حملہ کیا جاتا ہے تو باغات کے مالکان یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے کہ انھیں اپنی زمین پر شدت پسندوں کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔
ان کے بقول اگر نجی ملکیت شدت پسندی کے لیے استعمال کی جاتی ہے تو اس کے مالک کو بھی سہولت کار سمجھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ باغات کے مالکان کو بار بار تنبیہ کی جا رہی ہے۔ اگر شدت پسندی کے لیے نجی جائیدادوں کا استعمال جاری رہا تو حکومت کے پاس لوگوں کو وہاں سے منتقل کر کے دوسری جگہ آباد کرنے یا شدت پسندی کے لیے استعمال کیے جانے والے باغات کو ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
میر سرفراز بگٹی کے مطابق یہ بات قابل قبول نہیں کہ نجی املاک شدت پسندی کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔
بریکنگ, نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 579 ہو گئی:حکام
نیپال میں حکام نے سیلاب سے متاثر افراد کی تازہ اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے۔
نیپال کے قومی ادارہ برائے آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام کی جانب سے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 4,000 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے تاہم 517 غیرملکی شہریوں سمیت تقریباً 2,000 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے 15,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
کچھ دیر قبل ہم نے نیپالی پولیس کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ 575 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔
یاد رہے کہ نیپال کی پولیس اور قومی ادارہ برائے آفات دونوں ادارے الگ الگ ہیں اور ان کے اعداد و شمارجاری کرنے کے دوران دو گھنٹے کا فرق ہے۔
لاپتہ برطانوی خاتون کے شوہر جو ’خود بدترین صورتحال کے لیے تیار کر رہے ہیں‘, جیمس کیلی، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہVikram Kolagatla
،تصویر کا کیپشنوکرم کولگاٹلا اپنی اہلیہ گیتھا ریڈی کے ساتھ
نیپال کے سیلاب میں لاپتہ ایک برطانوی خاتون کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وکرم کولگاٹلا کو اب خدشات ہیں کہ آیا ان کی اہلیہ گیتھا ریڈی اچانک آنے والے سیلاب میں زندہ بچ سکی ہیں یا نہیں۔
لندن سے تعلق رکھنے والے وکرم کا کہنا ہے کہ 43 سالہ گیتھا ہفتے کے روز ایک مذہبی مقام کی زیارت کے لیے اس علاقے گئی تھیں اور انھیں چار ستمبر کو واپس آنا تھا۔
سیلاب آنے کے بعد سے ان کا گیتھا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ان کے بقول برطانوی قونصل خانے سے بھی انھیں ’زیادہ معلومات‘ نہیں مل رہی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ قونصل خانے نے انھیں بتایا ہے کہ وہ ’تازہ معلومات کے لیے نیپال پر انحصار کر رہے ہیں۔‘
50 سالہ وکرم اور ان کی 12 اور 14 سالہ دو بیٹیاں کسی بھی خبر کے انتظار میں بے چینی سے وقت گزار رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ میری دو چھوٹی بیٹیاں ہیں اور ان کے سکول اگلے ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔ بچے اب بھی اس بات پر یقین نہیں کر رہے۔‘
’ان کا خیال ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقے میں پھنسی ہوئی ہیں اور واپس آ جائیں گی۔ موبائل فون کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔ میں انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھیں۔‘
بریکنگ, نیپال میں سیلاب، لاپتہ غیرملکیوں کی تعداد 575 ہو گئی، 149 نیپالی شہری بھی لاپتہ
نیپالی پولیس نے کہا ہے کہ نیپال میں لاپتہ غیرملکی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 575 ہو گئی ہے۔
یہ تعداد تقریباً چھ گھنٹے قبل جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں زیادہ ہے جب حکام نے بتایا تھا کہ تقریباً 537 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔
پولیس کے مطابق 36 ممالک کے شہریوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان میں انڈیا کے 183 شہری، امریکہ کے 65 شہری اور یوکرین کے 62 شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے 33 شہری بھی لاپتہ ہیں۔
پولیس کے مطابق 149 نیپالی شہری بھی تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، اب تک کی صورتحال پر ایک نظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سامنے آ رہا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈ کے باعث بننے والی جھیل پر چینی ماہرین بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کٹھمنڈو میں اس وقت شام ہو چکی ہے۔ بدھ کو ملبے کے ایک بڑے ریلے کے شمالی نیپال کے قصبوں کی جانب بڑھنے کے بعد امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
تازہ پیش رفت کی اگر بات کی جائے تو چینی حکام بدھ کی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی ایک جھیل کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پانی بہنے کے خطرے کے باعث صورتحال اس وقت ایک نازک مرحلے میں ہے۔
اس سے قبل چینی سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ جھیل سے پانی رسنے کے بعد سے امدادی کارروائیاں روکنا پڑی تھیں تاہم بعد میں یہ کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
دوسری جانب چین نے تصدیق کی ہے کہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔
نیپال میں پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 547 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ سیلاب سے کم از کم 1,473 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نیپالی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق تلاش اور لاشوں کی بازیابی کا عمل تیز کرنے کے لیے مزید 1,200 فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب سے اب تک 900 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں، جن میں سینکڑوں غیرملکی سیاح شامل ہیں۔ یہ سیاح انڈیا، امریکہ، یوکرین، ملائیشیا، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
میر رضا ہلاکت کیس: پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم ڈاکٹر کو نوٹسز جاری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار حالات میں ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دونوں پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر جمعے کے روز میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ وکیل جبران ناصر کو بھی کمیشن کے روبرو طلب کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
بعد میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھے، جس کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔
کارروائی کے دوران جبران ناصر نے بتایا کہ 19 اگست کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی بات ہوئی تھی، تاہم اس وقت نئی انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی اس لیے درخواست کی گئی کہ اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم جاری کیا کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا کہ میر رضا کیس کے حوالے سے معلومات رکھنے والے افراد کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے، یہ اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع ہو اور معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔
جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت کو پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹ اور اصل دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے موکل جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
ان کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے کے درمیان کوئی پولیس افسر وہاں نہیں آیا، تاہم سوا 12 بجے دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
جبران ناصر کے مطابق وہ دونوں اہلکار میر رضا کی لاش دیکھنے والے مقامی نرسری کے شخص کی اطلاع پر وہاں پہنچے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ میر رضا کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کیا۔
کمیشن کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی مذمت کی۔
انھوں نے کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود میر رضا کے قتل کے ملزمان کا تعاقب نہیں کیا جا سکا اور انصاف کے لیے احتجاج جاری رہے گا۔
جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے والدین کے لیے وہ ان کا بیٹا تھا اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جبران ناصر کے مطابق جسٹس عمر سیال نے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی عوام کے لیے کھلی رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
انھوں نے کہا کہ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کا کام فیکٹ فائنڈنگ ہے، تفتیش کرنا نہیں جبکہ ملزمان کو گرفتار کرنا اور چالان عدالت میں جمع کرانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔
’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘، مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج
دوسری جانب کراچی میں شاہراہِ فیصل پر احتجاج اور مبینہ طور پر سڑک بلاک کرنے کے الزام میں پولیس نے 20 نامزد افراد سمیت تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 27 اگست کی رات تقریباً ساڑھے 12 بجے نرسری بس سٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً 100 افراد نے صدر سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہِ فیصل کی ٹریک کو مبینہ طور پر بند کر رکھا تھا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینرز تھے جبکہ ایک بینر پر ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘ کا مطالبہ درج تھا۔
مظاہرین مبینہ طور پر آنے جانے والی گاڑیوں کو بھی روک رہے تھے۔
ایف آئی آر میں عدنان رضا، دانش رحمان، دانش رضا، فیضان مونٹا، حمزہ خان، رضا حسن سوریا، علی زبیر عرف زبیری، طلحہ، علی ذوہیب، شہریار، سبطین، عمار، عبداللہ، ضرار خالد، احمد، بلال خان، جمیل، طلحہ شیخ، بابر حمید اور شیخ طلحہ بن ناصر کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد افراد کے ساتھ 75 سے 80 دیگر نامعلوم افراد بھی موجود تھے۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو سڑک کھولنے اور منتشر ہونے کے لیے سمجھانے کی کوشش کی، تاہم ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی۔
پولیس نے مقدمے میں ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع، سرکاری اہلکار کے کام میں مداخلت، راستہ روکنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں یہ مقدمہ درج کیا ہے۔
نیپال میں موسلا دھار بارش جو امدادی کاموں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے, آزادہ مشیری، بی بی سی نیپال
اس وقت نیپال کے مقام تریشولی میں موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔
امدادی کارکن پہلے ہی ہمیں بتا چکے تھے کہ موسم کی خراب صورتحال ان کی امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔
یہ پہاڑی علاقہ ہے اور دریا کے دوسری جانب موجود سب سے زیادہ متاثرہ علاقے اب باقی علاقوں سے کٹ چکے ہیں۔
یہاں موجود پل بہہ گئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہم ابھی تریشولی دریا کے کنارے سے واپس آئے ہیں جہاں ہنگامی صورتحال سے متعلق انتباہات میں نرمی کے بعد ہماری رسائی ممکن ہوئی تھی۔
بدھ کے روز فلیش فلڈنگ سے تباہی کے بعد سڑکیں اور عمارتیں پہلے ہی کیچڑ میں ڈوبی ہوئی تھیں اور امدادی کارکن مزید سیلاب کے خدشے کے پیش نظر مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
ریسکیو اہلکار اس صورتحال سے شدید دباؤ میں ہیں اور یہ بارش ان کے لیے ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگی۔
نیپال میں سیلاب سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ، ریڈ کراس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے نیپال میں وفد کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے ملک میں مزید سیلاب آنے اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات سے بھی آگاہ کیا۔
ڈیوّ فشر نے آج صبح ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں۔‘
آئی ایف آر سی نے فوری جان بچانے والی امدادی کارروائیوں کے لیے دو کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک (23 ملین پاؤنڈ؛ 31 ملین ڈالر) کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے پورے عالمی نیٹ ورک کو متحرک کر دیا ہے۔
نیپال میں اچانک سیلاب، 100 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا: نیپال ٹورازم بورڈ
،تصویر کا ذریعہEPA
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق ملک میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد کم از کم 121 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نیپال میں پولیس کے مطابق اس سیلاب سے مرنے والے کم از کم 547 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
ٹورازم بورڈ کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکی افراد کو بچایا گیا ہے ان میں 85 انڈین شہری، 16 چینی شہری اور نو جنوبی کوریائی شہری شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کی شہریت کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔
اس سے قبل حکام نے 500 سے زیادہ ایسے سیاحوں کی فہرست جاری کی تھی جو اب بھی لاپتہ ہیں۔
ٹورازم بورڈ کے مطابق زخمیوں اور متاثرہ افراد کے ریسکیو اور انخلا کے لیے تمام ضروری کوششیں جاری ہیں۔