لائیو, نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 650 سے زائد: لاشوں کو محفوظ رکھنا مشکل، مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین شروع

نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 2,498 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ 219 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. وزیر داخلہ بلوچستان کا مبینہ طور پر خود کش حملے کے لیے تیار کی گئی دو نو لڑکیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی خفیہ اطلاع پر کی گئی کاروائی میں دو نو عمر لڑکیاں پکڑی گئیں ہیں جنھیں مبینہ طور پر خود کش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

    کوئٹہ میں دونوں لڑکیوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ دونوں کے پکڑے جانے سے ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے انھیں خودکش حملے میں استعمال کرنے کا منصوبے ناکام ہو گیا ہے۔

    حراست میں لی گئی لڑکیوں کی عمر 16 اور 12 سال بتائی گئی ہے۔

    سول سیکریٹریٹ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں صرف چھ سے سات میڈیا کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش گرفتار خواتین نے کالعدم تنظیم کے مذموم عزائم سے پردہ اٹھایا۔

    میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے ہمیشہ سوال کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی ادارے کیا کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک واقعہ ہوجاتا ہے تو ہمارے ادارے ایسے دس واقعات کو روک بھی رہے ہوتے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم نے گرفتار شدہ 16 سالہ لڑکی کے خاندان کے آٹھ سے دس افراد کو قتل کیا جن میں اس کا شوہر بھی شامل ہے۔

    ضیا اللہ لانگو کے مطابق شدت پسند تنظیم کے ایک مقامی کمانڈر نے لڑی کے شوہر کو اپنی تنظیم کے لیے کام کرنے سے انکار پر قتل کردیا تھا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ان لڑکیوں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے دوران سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کی اور انھیں حراست میں لے لیا۔

  2. گل پلازہ آتشزدگی: کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Gul Plaza fire

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    کراچی کے گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی بد انتظامی، عمارت میں غیر قانونی تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کی ناکامی اور سرکاری اداروں کے درمیان ذمہ داری سے گریز شامل ہے۔

    واقعے کے تقریبا آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم کمیشن آف انکوائری کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    کمیشن نے اس پورے واقعے میں ریاستی اداروں کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب لوگ عمارت کے اندر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے تو انھیں بچانے کی ذمہ داری آخر کس ادارے کی تھی؟

    شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے کمیشن کے سامنے صورت حال کو ایک جملے میں بیان کرتے ہوئے اسے ’انتظامی افراتفری‘ قرار دیا ہے۔

    اس واقعے ایک مقتول کی عمر رسیدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہ خاندان اور انتظامیہ دونوں اس حادثے کے تماشائی بنے رہے، فرق صرف اتنا تھا کہ مرنے والے ہمارے بچے تھے۔

    Gul Plaza fire

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آگ کیسے لگی؟

    کمیشن کے مطابق آگ ہفتہ 17 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے سے 10 بج کر 5 منٹ کے درمیان گراؤنڈ فلور کی دکان نمبر 193 میں لگی۔ یہ ایک مصنوعی پھولوں کی دکان تھی جہاں موجود انتہائی آتش گیر سامان نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔

    رپورٹ کے مطابق بچوں کے ماچس سے کھیلنے کے باعث آگ بھڑکنے کی اطلاع سامنے آئی۔ آگ نے پہلے دکان کے سامان کو لپیٹ میں لیا جس کے مرکزی ایئر کنڈیشننگ ڈکٹ اور بجلی کی تاروں کے ذریعے تیزی سے دوسری جگہوں تک پھیلی۔

    تاہم کمیشن کے مطابق اصل تباہی صرف آگ سے نہیں ہوئی۔

    بجلی بند ہوئی اور عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹ بعد پلازہ کی مبینہ انتظامیہ کے ایک نمائندے کی ہدایت پر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے پورے کمپلیکس کی بجلی منقطع کرا دی گئی۔ نتیجتاً عمارت اچانک مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی اور اندر موجود خریداروں، دکانداروں اور ملازمین کے لیے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔

    کمیشن کے مطابق پلازہ میں 16 داخلی و خارجی دروازے تھے لیکن آگ کے وقت ان میں سے صرف دو سے چار کھلے تھے۔

    عمارت کی متعدد کھڑکیوں اور بالکونیوں کو مستقل لوہے کی جالیوں، اینٹوں اور دیگر تعمیراتی رکاوٹوں سے بند کیا گیا تھا، جبکہ کئی جگہ سامان بھی اس طرح رکھا گیا تھا کہ باہر نکلنے کے راستے محدود ہوگئے تھے۔

    اس کے علاوہ رپورٹ میں کہ بھی کہا گیا ہے کہ بالائی منزلوں پر موجود افراد کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی تھی اور کئی لوگ بند دروازوں اور گلی نما راستوں میں پھنس گئے۔

    کمیشن کے مطابق میزنائن فلور پر واقع کراکری کی ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد مدد کے انتظار میں اندر بند ہو گئے تھے اور بالآخر دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔

    Gul Plaza fire

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی: انکوائری کمیشن

    حادثے کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی ذمہ داری کس ادارے کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران کمیشن کے سامنے مختلف اداروں کے مؤقف میں واضح تضاد پایا گیا۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کی تھی۔

    ریسکیو 1122 نے خود کو بنیادی طور پر معاون ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی ذمہ داری کے ایم سی فائر ڈیپارٹمنٹ کی تھی، سول ڈیفنس نے بھی ذمہ داری کے حوالے سے دونوں اداروں کی طرف اشارہ کیا۔

    دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت کی حفاظتی نگرانی اور نفاذ سے متعلق ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔ کمیشن کے مطابق الیکٹریکل انسپکٹریٹ نے بتایا کہ برقی حفاظتی معائنے کا عمل تقریباً دو دہائی قبل صوبائی حکومت کے حکم پر معطل کردیا گیا تھا۔

    یعنی جب کمیشن نے پوچھا کہ ذمہ دار کون تھا؟ تو مختلف اداروں کے جوابات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔

    اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کمیشن نے مصطفیٰ زیدی کے مشہور شعر کا حوالہ دیا ہے۔

    ’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروںتمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘

    کمیشن نے ریسکیو کے دوران وقت کے ضائع ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد تقریباً 10 بج کر 22 منٹ پر ابتدائی ہنگامی کالز کی گئیں، لیکن امدادی کارروائیوں کو شہر کی ٹریفک اور سڑکوں کی صورتحال نے بھی متاثر کیا۔

    کمیشن کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن بی آر ٹی کی تعمیر کے باعث سڑک کا قابل استعمال حصہ بعض مقامات پر صرف تقریباً 12 فٹ رہ گیا تھا جس کی وجہ سے بھاری ریسکیو اور فائر فائٹنگ مشینری کے پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔

    ابتدائی طور پر رضاکاروں اور فلاحی اداروں کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے محدود وسائل کے ساتھ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ کھڑکیوں پر لگی لوہے کی جالیاں کاٹنے کے لیے بھاری مشینری دستیاب نہ ہونے کے باعث بعض جگہ ہاتھ سے استعمال ہونے والے ہتھوڑوں اور سیڑھیوں کا استعمال کیا گیا۔

    کمیشن نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ابتدائی طور پر پہنچنے والے فائر فائٹرز کے پاس مناسب حفاظتی سامان، آکسیجن ماسک اور بھاری لوہے کی جالیاں کاٹنے کے اوزار کی کمی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل اور بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی تقریباً دو گھنٹے بعد رات 12 بج کر 12 منٹ کے بعد ممکن ہو پائی۔ اس وقت تک عمارت کے اندر موجود افراد کے زندہ بچنے کے امکانات انتہائی کم ہو چکے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق آگ کا فوری سبب حادثاتی ہوسکتا ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں اموات صرف آگ کا نتیجہ نہیں تھیں۔ غیر قانونی تعمیرات، بند راستے، کھڑکیوں پر جالیاں، عمارت کے استعمال میں تبدیلیاں، حفاظتی معائنوں کی عدم موجودگی، ریسکیو اداروں کے درمیان واضح کمانڈ کا نہ ہونا اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات نے مل کر صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا۔

    کمیشن نے صرف آگ لگنے کے واقعات کا جائزہ نہیں لیا بلکہ گل پلازہ کی زمین، لیز اور تعمیراتی تاریخ کو بھی دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ زمین برطانوی دور میں 1873 کی ایک رعایت کے تحت ٹرام وے کے لیے دی گئی تھی۔

    کمیشن کے مطابق 1991 میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اس زمین کی 99 سالہ تجدید کی، تاہم اس کے لیے ضروری صوبائی کابینہ کی منظوری، عوامی نیلامی اور زمین کے حق ملکیت سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ دکانیں بھی منظور شدہ تعداد سے زیادہ تھیں۔ منظور شدہ اور بعد میں ریگولرائز کیے گئے منصوبے میں ایک ہزار 102 دکانیں تھیں، لیکن عملی طور پر فعال دکانوں کی تعداد 1153 تک پہنچ چکی تھی۔

    اس کے علاوہ بیسمنٹ میں پارکنگ کے لیے مختص جگہوں کو مبینہ طور پر کمرشل گوداموں اور دکانوں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

  3. نیپال میں فوجی اڈے پر پریشان حال خاندانوں اور امدادی حکام کی بڑی تعداد جمع

    Nepal

    نیپال کے ضلع نوواکوٹ میں موجود بی بی سی کے صحافیوں نے بتایا ہے کہ اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ایک فوجی اڈے پر جمع ہیں۔

    بی بی سی نیپالی کے ساتھیوں نے موقع کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔

    Nepal

    ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اپنے پیاروں کی تلاش میں رشتہ دار بے چینی کے عالم میں جمع ہیں، جبکہ ہیلی کاپٹر زمین پر موجود ہیں اور بعض اوپر پرواز بھی کر رہے ہیں۔

    تصاویر میں یونیفارم میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اس وسیع امدادی اور تلاش کی کارروائی کو منظم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

    Nepal
    ،تصویر کا کیپشننیپال کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شدید متاثرہ بعض علاقوں تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیلی کاپٹر ہیں، کیونکہ وہاں کا زمینی علاقہ دلدلی شکل اختیار کر چکا ہے
  4. تباہی کی شدت کے باعث لاشوں کی شناخت بڑا چیلنج بن گئی, کٹھمنڈو سے بی بی سی نیوز کی نمائندہ آزادہ مشیری

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سب سے بڑا چیلنج ہلاکتوں کا شکار ہونے والوں کی شناخت ہے، کیونکہ آفت کا دائرہ اور تباہی کی شدت بہت زیادہ ہے۔

    میں اس وقت کٹھمنڈو کے ایک مردہ خانے کے باہر موجود ہوں، جہاں حکام نے داخلی دروازوں کے دونوں جانب برآمد ہونے والی لاشوں کی تصاویر آویزاں کر رکھی ہیں تاکہ لواحقین آ کر اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔

    یہ تصاویر انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ان میں مردہ خانے میں موجود لاشوں یا ان کے ملنے کے وقت کی تصاویر شامل ہیں، جن میں بعض بچوں اور شیرخواروں کی تصاویر بھی ہیں۔

    ان تصاویر کی مدد سے شناخت کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ لوگ اپنے موبائل فون اٹھائے تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان میں ان کے عزیز شامل ہیں یا نہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    دوسری جانب ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

  5. نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی

    Nepal

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 2,498 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ 219 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق امدادی اور تلاش کی کارروائیوں کے لیے 18,700 سے زائد امدادی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

  6. عالمی حدت سے ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں, نوین سنگھ کھڈکا، بی بی سی ورلڈ سروس کے ماحولیاتی نامہ نگار

    Nepal

    اس تباہ کن سیلاب کا سبب بننے والے گلیشیئر کے انہدام میں موسمیاتی تبدیلی نے کتنا کردار ادا کیا، اس بارے میں آئندہ دنوں میں تفصیلی اور ہدفی تحقیقات سے زیادہ واضح معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

    تاہم ایک بات پہلے ہی معلوم ہے کہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئرز، برفانی میدانوں، برف کے ذخائر اور مستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئرز کا پتلا ہونا اور پیچھے ہٹنا نہ صرف ان کے ٹوٹنے یا منہدم ہونے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ اس سے برفانی جھیلیں بھی تیزی سے بھر جاتی ہیں، جو بعد میں پھٹ کر تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ برف اور برفانی تہیں پہاڑی ڈھلوانوں کو اسی طرح سہارا دیتی ہیں جیسے سیمنٹ عمارتوں کو مضبوط رکھتا ہے۔ جب یہ برف تیزی سے پگھلتی ہے تو پہاڑ غیر مستحکم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں چٹانیں گرنے، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور ملبے کے سیلاب جیسے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہندوکش۔ہمالیہ خطے میں حالیہ برسوں میں ایسے واقعات زیادہ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے پہاڑوں کی زیادہ بلندی والی جگہوں پر اب برف باری کے بجائے بارش ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جو پہاڑی ڈھانچے کو مزید غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔

    مارچ میں انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیویلپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس خطے میں برف کے ضیاع کی شرح سنہ 2000 کے بعد سے دوگنی ہو چکی ہے۔

  7. نیپال سیلاب: لاشوں کو محفوظ رکھنا مشکل، مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین شروع

    RSS

    ،تصویر کا ذریعہRSS

    نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے تاکہ لواحقین بعد میں انہیں تلاش کر سکیں۔

    بھوٹیکوشی اور ترشولی ندیوں میں آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنا مشکل ہونے کے باعث مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ صحت اور فوڈ ہائیجین کے مشترکہ ترجمان ڈاکٹر سمیر کمار ادھیکاری کے مطابق لاشوں کی تدفین اور انتظام کا کام قومی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ چتوان اور مشرقی نوالپاراسی میں یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ اسی طرح رسووا، نواکوٹ، تناہون، کاسکی، گورکھا اور دیگر اضلاع میں بھی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور انتظام کیا جا رہا ہے۔‘

  8. تبت میں تباہ کن سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی کی تصاویر اب سامنے آ رہی ہیں

    Tibet

    ،تصویر کا ذریعہٰٰCCTV

    چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں آنے والے طوفانی سیلاب کے بعد کی ویڈیوز جاری کی ہیں، جن میں امدادی اور ریسکیو کارکنوں کو کیچڑ اور ملبے کے درمیان لاپتہ افراد کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    Tibet

    ،تصویر کا ذریعہCCTV

    سرکاری میڈیا کے مطابق امدادی ٹیمیں جمعے کی دوپہر گیئرونگ کے متاثرہ علاقے میں پہنچیں۔ امدادی کارکنوں کو وہاں پہنچنے کے لیے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا شکار ندی نالوں کو عبور کرنا پڑا۔

    China

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لہاسا فائر اینڈ ریسکیو ٹیم کے رکن ژاؤ منگ چی نے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علاقے کی صورتحال کو ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’سرحدی چوکی کے قریب پورا علاقہ دلدلی کیچڑ سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہاں قدم رکھتے ہی پاؤں کیچڑ میں دھنس جاتے تھے۔‘

    Nepal, China

    ،تصویر کا ذریعہCCTV

    تبت میں آنے والے اس سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 554 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ حکام سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔

  9. زلفی بخاری کا سی این این کو انٹرویو: عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی وضاحت میں کیا کہا گیا؟

    CNN

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    سی این این نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا انٹرویو نشر کیا ہے، جس میں انھوں نے عمران خان کی صحت، 18 اگست کو ہسپتال منتقلی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد، طبی ریکارڈ تک رسائی اور 16 ستمبر کو ہونے والی سماعت سے متعلق مختلف خدشات کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکومت نے ایک تفصیلی ردعمل دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت نے زلفی بخاری کے انٹرویو کے بعد یہ جواب اسے بھی بھیجا ہے۔

    سی این این کی میزبان بیکی اینڈرسن کے ساتھ انٹرویو میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تو آزاد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کو عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرنے اور ان کی میڈیکل رپورٹس تک رسائی کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم اپنے والد کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ کرکٹ کی دنیا کی متعدد معروف شخصیات نے بھی ان کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    زلفی بخاری کے مطابق ہسپتال منتقلی کے وقت عمران خان نے اپنی بہن سے کہا تھا، ’وہ مجھے آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی ان کا منصوبہ ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل نہ کیے جانے اور ان کے طبی معاملات میں مکمل شفافیت نہ ہونے سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔

    اس کے ردعمل میں حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چند غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے ایک مخصوص سزا یافتہ قیدی (عمران خان) کے بارے میں گمراہ کن رپورٹس نشر کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب سمجھا گیا ہے کہ اس معاملے پر متعلقہ اداروں کے ساتھ پہلے سے شیئر کیا گیا حکومتی مؤقف عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔‘

    بیان کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف حوالہ اور ریکارڈ فراہم کرنا ہے بلکہ اس امر کو بھی اجاگر کرنا ہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت دانستہ طور پر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔

    حکومت نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے حقائق پر مبنی جو نکات وار جواب پہلے ہی متعلقہ اداروں کو فراہم کیا جا چکا ہے، اسے یہاں من و عن دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قید پاکستان جیل رولز، عدالتی ہدایات اور ایک اہم سیاسی شخصیت کے لیے درکار سکیورٹی انتظامات کے مطابق ہے۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی مسترد کیا گیا کہ انھیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے یا بنیادی سہولتوں سے محروم کیا گیا ہے۔

    حکومت کے مطابق عمران خان کو ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد اور ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل ہے۔ انھیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کی سہولت اور مناسب غذائی انتظامات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ان کی رہائش سات سیلوں پر مشتمل علیحدہ حصے میں ہے جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولتیں موجود ہیں۔

    حکومت نے کہا کہ جیل ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دورانِ قید تقریباً 198 ملاقاتیں ہوئیں جن میں 900 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان افراد میں خاندان کے ارکان، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی رہنما اور دیگر منظور شدہ افراد شامل تھے۔ حکومت کے مطابق عمران خان کی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی دی گئی جبکہ آخری ریکارڈ شدہ ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے پاکستان اور بیرونِ ملک اپنے اہلِ خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ رکھا، جس میں 21 مارچ 2026 کو ان کے ایک بیٹے سے ہونے والی گفتگو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست 2026 کو ان کی بہنوں سے ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

    حکومت نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ بیان کے مطابق دورانِ قید ان کا تقریباً 30 مرتبہ ماہر ڈاکٹروں اور میڈیکل بورڈز نے معائنہ کیا، جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ماہرین شامل تھے۔

    حکومت کے مطابق ریٹینا کی بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، ریٹینا امیجنگ، ادویات اور فالو اپ علاج فراہم کیا گیا۔ مختلف طبی جائزوں، جن میں جولائی 2026 اور 21 اگست 2026 کے معائنے بھی شامل ہیں، میں ان کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا۔

    بیان میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا انٹرویو کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عمران خان ’سو فیصد فٹ‘ ہیں، ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق ہے اور ان کی آنکھ کا مسئلہ بھی تقریباً ٹھیک ہو چکا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ تمام طبی معائنے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کیے گئے اور متعلقہ انتظامی اقدامات بھی مکمل کیے گئے۔ حکومت نے زور دیا کہ صحت کے معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور اس معاملے کا جائزہ طبی ریکارڈ اور عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت اور وکلا کو ہدایت کی تھی کہ مزید کارروائی تک عمران خان کی صحت یا طبی رپورٹس میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔ حکومت کے مطابق ایک قیدی کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور اس کی خفیہ طبی معلومات کو سیاسی مہم کا حصہ بنانے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

    حکومت نے عمران خان کے بیٹوں سے متعلق تاثر پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے پاس نائیکوپ موجود ہے، جو پاکستان میں داخلے کے لیے قابلِ قبول سفری دستاویز ہے، اور وہ جب چاہیں ملک آ سکتے ہیں۔ تاہم جیل میں ملاقات کا معاملہ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی طریقۂ کار کے تحت طے ہوتا ہے۔

    حکومت نے آخر میں سی این این پر زور دیا کہ آئندہ رپورٹنگ میں سرکاری ریکارڈ، طبی دستاویزات اور حراست سے متعلق حقائق کو مدِنظر رکھا جائے اور ان میں موجود معلومات اور سیاسی نوعیت کے دعووں کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔

  10. کردستان کے علاقے میں تیل کی پیداوار دوبارہ شروع ہو گئی ہے: عراقی وزیر برائے قدرتی وسائل

    عراق

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty

    عراق کے قدرتی وسائل کے وزیر کمال محمد کا کہنا ہے کہ کردستان کے علاقے میں تیل کی پیداوار دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    عراق کے قدرتی وسائل کے وزیر نے ہفتہ 28 ستمبر کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران ملک کے آئل فیلڈز اور تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد تیل کمپنیوں نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے اور خطے میں تیل کی پیداوار 220,000 سے 230,000 بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

    کمال محمد نے مزید کہا، ’سرسنگ آئل فیلڈ کے استثنا کے ساتھ، جسے کئی ڈرون حملوں کے بعد مزید نقصان پہنچا، تمام آئل فیلڈز نے دوبارہ پیداوار شروع کر دی ہے۔‘ گذشتہ برس، امریکی کمپنی ایچ کے این انرجی، جو عراق کے کردستان ریجن میں سرسنگ آئل فیلڈ کا انتظام کرتی ہے، نے اعلان کیا کہ اس نے منگل، 14 جولائی 2025 کی صبح ڈرون حملوں کے بعد پیداواری کارروائیاں معطل کر دی ہیں، جس کی وجہ سے آئل فیلڈ میں کئی دھماکے ہوئے۔

    ایک روز قبل، کردستان کی علاقائی حکومت کی انسداد دہشت گردی پولیس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ پیر کی شام کو دو ڈرونز نے عراقی کردستان میں خرم اللہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ کردستان کے علاقے میں سیکورٹی ذرائع نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ڈرون ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں سے اڑائے گئے تھے۔

  11. ایک خوابوں کا سفر، آخری واٹس ایپ پیغام اور پھر لاپتا ہونے والی خاتون کی کہانی

    نیپال کا سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہSudipto Bhattacharya

    بدھ کی صبح 08:03 بجے سُبھراشری چکرورتی نے اپنے شوہر سودیپتو بھٹاچاریہ کو آخری واٹس ایپ پیغام بھیجا، ’ہم چین میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ اس سے چند منٹ قبل انھوں نے نیپال کی سرحد پر امیگریشن مکمل ہونے کے بعد پاسپورٹ پر لگنے والی مہر کی تصویر بھی بھیجی تھی۔

    پھر اچانک رابطہ منقطع ہو گیا۔

    43 سالہ سُبھراشری اُن سینکڑوں انڈین شہریوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    سُبھراشری کولکتہ کے ایک ہسپتال میں کریٹیکل کیئر میڈیکل ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ ان کے شوہر کے مطابق وہ جسمانی طور پر فِٹ تھیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت بھی رکھتی تھیں، مگر یہ سب کچھ اُن کے اہلِ خانہ کو اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ 08:03 کے بعد اُن کے ساتھ کیا ہوا۔

    ان کے شوہر کہتے ہیں، ’08:03 کے بعد کیا ہوا؟ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔‘

    ماونٹ کیلاش کا سفر سُبھراشری کا برسوں پرانا خواب تھا۔ لاپتہ ہونے سے چند روز قبل انھوں نے کھٹمنڈو سے اپنے خاندان کو تصاویر بھیجی تھیں جن میں وہ مندروں اور دربار سکوائر کی تاریخی عمارتوں کے درمیان مسکراتی نظر آتی ہیں۔

    ان کے شوہر یاد کرتے ہیں، ’وہ بہت پُرجوش تھیں۔ یہ اُن کے خوابوں کا سفر تھا۔‘

    سُبھراشری 21 اگست کو کولکتہ سے روانہ ہوئیں، نیپال کے راستے کھٹمنڈو پہنچیں اور وہاں چند روز گزارنے کے بعد زائرین کے ایک گروپ کے ساتھ تبت کی جانب روانہ ہوئیں۔

    26 اگست کی صبح وہ سرحد کے قریب تھیں۔ فون پر آخری گفتگو میں انھوں نے شوہر کو بتایا تھا کہ موسم ٹھیک ہے۔ بعد میں پیغام بھیجا کہ نیپالی امیگریشن مکمل ہو چکی ہے اور گروپ تبت میں داخلے کا انتظار کر رہا ہے۔

    اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔

    دوپہر میں جب سیلاب کی خبریں سامنے آئیں تو سودیپتو نے اپنی اہلیہ، اُن کے ساتھی زائرین، ٹور آپریٹر اور گروپ منیجرز سے رابطے کی بارہا کوشش کی، مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔

    کئی دن گزرنے کے باوجود خاندان کو ابھی تک سُبھراشری کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل سکی۔

    ان کے شوہر کہتے ہیں، ’ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ بچ گئی ہیں یا نہیں۔ لاپتہ افراد، ہلاک شدگان اور بچائے گئے لوگوں کی فہرست جاری کی جائے تاکہ ہمیں کوئی خبر مل سکے۔‘

    پھر وہ اپنے کرب کو ان الفاظ میں بیان کرتے، ’میں آپ کو کیا بتاؤں؟ کئی راتوں سے نیند نہیں آئی، بس فون پر خبریں تلاش کر رہے ہیں۔‘

  12. امریکی پابندیوں کے خلاف بینک آف مصر کا قانونی چارہ جوئی کا اعلان

    مصر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بینک آف مصر نے کہا ہے کہ وہ امریکی محکمۂ خزانہ کے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا جس کے تحت متحدہ عرب امارات میں اس کی شاخوں کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    مصر کے بڑے بینکوں میں شمار ہونے والے بینک آف مصر نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں اس کی شاخیں بدستور متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق صارفین کو بینکاری خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

    بینک کے خلاف امریکی اقدام واشنگٹن کی جانب سے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کی مہم کے تحت کی جانے والی پہلی علانیہ کارروائیوں میں سے ایک تھا، جس پر 30 دن کے اندر عمل درآمد ہونا تھا۔

    امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخیں ایران کے ساتھ مالی لین دین اور ایرانی حکومت کی معاونت میں ملوث رہی ہیں، اس لیے انھیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    اس کے جواب میں بینک آف مصر نے کہا ہے کہ وہ ضروری قانونی اور ریگولیٹری اقدامات کرے گا اور مقررہ مدت کے دوران امریکی محکمۂ خزانہ سے رابطہ بھی کرے گا۔

    ادھر مصر کے مرکزی بینک نے جمعے کو واضح کیا کہ ایران سے متعلق امریکی پابندیاں صرف متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخوں تک محدود ہیں اور ان کا اطلاق کسی دوسرے مصری بینک پر نہیں ہوتا۔

  13. توانائی منڈیوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا بوجھ امریکی صارفین اٹھا رہے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کا براہ راست اثر عام امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق توانائی کی منڈیوں کو ’کھیلنے‘ یا ان پر اثرانداز ہونے کی بڑی کوششیں جاری ہیں۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ امریکی حکومت سے وابستہ بعض عناصر میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے قیمتوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ذاتی مفادات حاصل کیے جا سکیں اور امریکی صدر کو ایک ’ہارتی ہوئی جنگ‘ میں الجھائے رکھا جا سکے۔

    عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل کے حامی بعض حلقے جنگ سے متعلق ’حد سے زیادہ پرامید‘ اندازے پیش کر رہے ہیں اور جنگ کے حق میں بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ان تمام سرگرمیوں کا اصل بوجھ امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے، جو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات براہ راست محسوس کر رہے ہیں۔

  14. امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی درآمدات کو مشکلات کا سامنا ہے، پارلیمانی اقتصادی کمیشن کے رکن

    Parliament

    پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے لیے درآمدات کو مشکل بنا دیا ہے۔

    ان کے مطابق ایران کی 210 ملین ٹن درآمدات میں سے 83 فیصد جنوبی بحیرۂ چین کے راستے آتی ہیں، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اس تجارتی راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔

    جعفر قادری نے کہا کہ ایران کو یومیہ 15 سے 20 ملین لیٹر پٹرول کے خسارے کا سامنا ہے، جبکہ ہر لیٹر پٹرول درآمد کرنے پر حکومت کو تقریباً ایک ڈالر خرچ کرنا پڑتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں ماضی کی طرح بلا پابندی پٹرول فراہم کرنا منطقی نہیں، کیونکہ اس کا ایک حصہ سمگل بھی ہو جاتا ہے۔

    رکن پارلیمنٹ کے مطابق حکومت کو توازن برقرار رکھنے کے لیے بعض کنٹرول نافذ کرنے ہوں گے، جن میں کوٹہ کم کرنا یا قیمتوں میں ردوبدل جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

  15. سیلاب سے نیپال میں 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ

    Nepal

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشننیپال فوج کی جانب سے جاری کی گئی اس تصویر میں خاندان کے افراد 29 اگست 2026 کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے پشوپتی شمشان گھاٹ میں راسوا سے تعلق رکھنے والے اچانک آنے والے سیلاب کے متاثرہ شخص روہن شریستھا کو آخری رسومات ادا کر رہے ہیں

    نیپال میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ملک میں ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث تشویش بدستور برقرار ہے۔

    جمعے کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہیں۔‘

    ڈیوڈ فشر کے مطابق بُدھ کے روز آنے والی تباہی سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    ریڈکریسنٹ نے ہنگامی امدادی کارروائیوں اور جان بچانے والی فوری ضروریات کے لیے عطیہ دہندگان سے تقریباً ڈھائی کروڑ سوئس فرانک (تقریباً تین کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر) فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک کر دیا گیا ہے۔

  16. نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی

    نیپال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بدھ کے روز نیپال میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔

    نیپال پولیس نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی گئی تھی۔

    ادھر چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    سیلاب کے بعد نیپال میں بین الاقوامی امدادی اداروں اور کئی ممالک کی حکومتوں نے ہنگامی امداد اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال میں تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔

    یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق دس ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔

  17. ہم چین کے ساتھ مسلسل قریبی رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں: نیپالی وزیر خارجہ

    BBC/Shreejana Shrestha

    ،تصویر کا ذریعہBBC/Shreejana Shrestha

    نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال سے جب صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ اس بحران کے دوران چین کی جانب سے بروقت معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئیں، تو انھوں نے کہا کہ واقعے کی نوعیت ایسی تھی کہ ممکن ہے ابتدائی مرحلے میں خود چینی حکام کے پاس بھی مکمل اور واضح معلومات موجود نہ ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ضروری معلومات اور تفصیلات اب چین کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں۔ ہم واقعے کے بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قریبی سطح پر ہم آہنگی جاری ہے۔‘

    ان کے مطابق چین نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کے مقام پر بننے والی جھیل کی نگرانی کر رہا ہے بلکہ ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات بھی نیپال کو فراہم کر رہا ہے تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

  18. وینزویلا نے امریکہ کے ساتھ تیل کے معاہدے کی تصدیق کر دی

    Venezuela

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنوینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز

    وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تیل کے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے وینزویلا کی معاشی بحالی میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری جبکہ 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث عالمی تیل کی رسد دباؤ کا شکار ہے، جبکہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی بلند قیمتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں رسائی فراہم کرے گا۔ انھوں نے اسے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو ملکی معیشت کی تعمیر نو اور توانائی کے شعبے کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

    تاہم، تیل کے ذخائر پر کنٹرول یا ملکیت کی منتقلی کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کے مطابق کئی اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ذخائر کی ملکیت کس طریقہ کار اور کس وقت منتقل کی جائے گی۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دونوں ممالک 12 آئل فیلڈز سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد نجی کمپنیاں، جن میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، ان شعبوں کی ترقی اور پیداوار بڑھانے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  19. نیپال کے سیلاب میں 320 انڈین شہری تاحال لاپتہ: وزارتِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ ’نیپال میں آنے والے سیلاب کے بعد 320 انڈین شہری تاحال لاپتہ ہیں۔‘

    وزارت کے مطابق اب تک 84 انڈین شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان میں تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 21 افراد بھی شامل ہیں جو جمعے کو انڈیا واپس پہنچے۔ اس کے علاوہ تریشولی-ون منصوبے پر کام کرنے والے 63 افراد کو بھی بحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق مزید 149 انڈین شہری آج چین سے بحفاظت نیپال پہنچے ہیں۔ تقریباً 400 انڈین شہری چین میں محفوظ ہیں اور انڈین سفارتخانہ ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’انھیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔‘

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار جمعے کی رات 10 بجے تک کے ہیں۔

    نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کے مطابق سیلاب اور دیگر واقعات میں اب تک 616 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

  20. پیٹرول کی کمی پوری کرنے کے لیے ذخائر استعمال کریں گے: پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے ترجمان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ملک میں اس وقت یومیہ تقریباً 13 کروڑ 20 لاکھ لیٹر پیٹرول پیدا ہو رہا ہے۔‘

    رضا سپہوند کے مطابق موجودہ حالات میں روزانہ پیٹرول کی کھپت 13 کروڑ 70 لاکھ لیٹر سے زیادہ ہے، جبکہ ستمبر کے اختتام تک یہ مقدار 14 کروڑ لیٹر سے تجاوز کر جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ طلب اور رسد کے اس فرق کو پورا کرنے کے لیے ’پیٹرول کے ذخائر‘ استعمال کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ گزشتہ برسوں میں بھی کیا جاتا رہا ہے، تاکہ آگے چل کر زیادہ کھپت والے دنوں سے نمٹا جا سکے۔‘

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیٹرول کی فراہمی میں مشکلات کو جنگی حالات اور ملک کی آمدنی میں کمی سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’درآمدی راستے بند ہونے کے باعث پیٹرول سمیت اشیا کی ملک میں آمد مشکل ہو گئی ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاریں اور بعض پیٹرول پمپس کی بندش دکھائی گئی ہے، خصوصاً تہران میں۔