لائیو, مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر ترکی پہنچ گئے

ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوگا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ترکی پہنچ گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسحاق ڈار بھی ترکی پہنچے تھے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی افواج کی جانب سے جزیرہ لارک پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنانا جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔

    یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی شدت میں کمی آئی تھی اور جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں یا تو ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی جہاز یا کشتی جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گی، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ ہو چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اسے بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع بدستور جاری ہے۔

  2. ترجمان پاسدارانِ انقلاب: جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی کا کہنا ہے کہ جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتائج امریکہ کو ’اقتصادی اور عسکری محاذوں پر‘ بھگتنا ہوں گے۔

    انھوں نے اس حملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’نام نہاد اقتصادی جنگ‘ کے دوران کی جانے والی ایک ’مہلک سٹریٹجک غلطی‘ قرار دیا ہے۔

    حسین محبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام ’اس کے منصوبہ سازوں کے خلاف طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا‘ اور امریکہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

    دریں اثنا، چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام کی 200 روزہ مزاحمت‘ کے بعد ’دشمن‘ اب نفسیاتی جنگ کے ذریعے ’قومی استحکام اور عوامی ثابت قدمی کو کمزور کرنے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ کا مقصد عوامی اعتماد کو متاثر کرنا اور داخلی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم ایرانی قوم ان کوششوں کے مقابلے میں اپنی مزاحمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

  3. پاسدارانِ انقلاب کی جزیرہ لارک پر ’امریکی حملے‘ کی تصدیق: ’جارحیت کا جواب حملہ آور کو سزا کی صورت میں دیا جائے گا‘

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے جزیرہ لارک پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے ’چند‘ اہلکاروں اور علاقے مکینوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جزیرہ لارک پر دہشت گرد دشمن کی جارحیت کا جواب حملہ آور کو سزا کی صورت میں دیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل تسنیم نیوز ایجنسی نے ابتدائی اور غیر مصدقہ اطلاعات کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    دریں اثنا، امریکی خبررساں ادارے ایگزیوس اور الجزیرہ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے جزیرہ لارک پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار اِن لانچرز کو آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے میزائل داغنے کے لیے تیار کر رہے تھے۔

  4. ایرانی جزیرہ لارک میں دھماکے کی آواز

    Iran, USA

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس نیوز ایجنسی‘ نے مقامی رہائشیوں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جزیرہ لارک کے قریب ایک دھماکے کی آواز سُنی گئی ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس اور الجزیرہ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے جزیرہ لارک پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ابتدائی اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جزیرہ لارک پر امریکی حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    تاہم ایرانی حکام نے تاحال دھماکے کے درست مقام یا اس کی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی اس حملے سے متعلق ابھی تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    تقریباً پانچ گھنٹے قبل سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی بحریہ کے اہلکاروں کی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر رات کے وقت پروازوں کی تصاویر شیئر کیں۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست کشیدگی اور تصادم کی شدت میں کمی دیکھی گئی ہے اور براہ راست حملوں سے گریز کیا گیا ہے۔

    تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر تنازع بدستور برقرار ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ آبی گزرگاہ بحری آمد و رفت کے لیے کھلی ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ رابطے اور مربوط ہم آہنگی کے بغیر تجارتی جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  5. پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی استنبول میں ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات

    @MFATurkiye

    ،تصویر کا ذریعہ@MFATurkiye

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے استنبول میں ملاقات کی ہے۔

    ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار ترکی کے دورے پر ہیں جہاں وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم ہونے والی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ چکے ہیں۔

  6. وینزویلا کے تیل سے امریکی سٹریٹجک ذخائر بھریں گے: ٹرمپ

    Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے تیل کو امریکہ کے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹریٹجک تیل ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

    امریکہ کے سٹریٹجک تیل ذخائر حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیے گئے، جس کے باعث ان کی سطح نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔

    تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ امریکی تیل ذخائر کو کتنی تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکے گا یا قلیل مدت میں امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

    ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کی تباہ حال تیل کی صنعت کی بحالی کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے وسیع سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی درکار ہوگی۔

    امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو 21 اگست تک تقریباً 290 ملین بیرل پر آ گیا تھا، جو گذشتہ 44 برس کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔

    امریکہ نے یوکرین پر روس کے حملے اور ایران سے متعلق کشیدگی سمیت عالمی سپلائی کے مسائل کے دوران، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے ادوار میں اپنے ذخائر سے تیل جاری کیا تھا، جس کے باعث ان ذخائر کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

  7. مکہ معاہدے کے تین رکن ممالک کا پہلا اجلاس پیر کو استنبول میں

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمکہ معاہدے کے بعد ترکی، پاکستان اور سعودی عرب میں سے کسی ایک پر بھی حملے کو خود پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو)

    ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوگا۔

    وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر قومی دفاع یاشار گولر اور ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے حکام شرکت کریں گے۔ پاکستانی آرمی چیف کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی ترکی پہنچ چکے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ تعاون کے فریم ورک میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں شریک ممالک کے درمیان سیاسی، دفاعی اور سکیورٹی امور پر مشاورت کی جائے گی۔

    وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  8. فیلڈ مارشل عاصم منیر ترکی پہنچ گئے، مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس کل متوقع

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ترکی پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے اس دورے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

    تاہم یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والے پہلے اجلاس کا انعقاد کل ترکی میں متوقع ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری نمائندوں کی شرکت کا امکان ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی اس وقت ترکی میں موجود ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق وہ مختلف سرکاری مصروفیات اور ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کی تفصیلات یا مکہ دفاعی معاہدے کے اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

    مکہ معاہدے میں مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت کا امکان بھی زیرِ غور ہے اور اس تناظر میں مصر کا نام لیا جا رہا ہے۔ ایران کا بھی ذکر سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی گئی۔

    معاہدے کے اعلان کے بعد اس کی نوعیت اور مقاصد کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض تجزیہ کار اسے ’سنی اتحاد‘ یا ’اسلامی نیٹو‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ ایران اور اسرائیل جیسے علاقائی ممالک کے لیے ایک سیاسی اور دفاعی پیغام ہے۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ معاہدہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اپنی سلامتی کے معاملات میں امریکہ پر انحصار کم کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

    Makkah Joint Agreement

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی روک تھام ہے اور اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 کی طرح ہے ’کولیکٹو ڈیفنس‘۔

    توقع ہے کہ بات چیت میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو بڑھانے اور دفاعی صنعت بشمول مشترکہ پیداوار اور ترقی میں تعاون کو گہرا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ترکی کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے، پاکستان جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے، اور سعودی عرب تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور مسلمانوں کا قبلہ ہے۔

    دوسری جانب معاہدے کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ چونکہ اس کا مکمل متن تاحال جاری نہیں کیا گیا، اس لیے اس کی شقوں اور عملی اطلاق کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے قومی مفادات ہر معاملے میں یکساں نہیں اور ان کے درمیان کوئی مشترکہ زمینی سرحد بھی موجود نہیں، جس کے باعث اس معاہدے کی عملی مؤثریت پر بحث ہو رہی ہے۔ بعض دفاعی ماہرین کے مطابق معاہدے کا متن منظرِ عام پر نہ آنا اس کی روک تھام کی صلاحیت سے متعلق مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    ترک حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی بنیاد حالیہ علاقائی بحرانوں سے پہلے رکھی گئی تھی اور اس پر مذاکرات دسمبر 2024 سے جاری تھے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔

    ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے بھی نسبتاً محتاط اور مثبت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو ایران مخالف اقدام کے طور پر دیکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ان کے بقول یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کے بعض ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکی ضمانتوں پر انحصار کو کافی نہیں سمجھتے اور متبادل علاقائی تعاون کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

  9. عراق کے نائب وزیر تیل کو سات سال قید کی سزا سنادی گئی

    Iraq

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عراق کے انسداد بدعنوانی کے ادارے فیڈرل انٹیگریٹی کمیشن نے کہا کہ تیل کے نائب وزیر کو، جو کہ امریکی پابندیوں کی زد میں تھے، کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    تیل کی وزارت میں تیل کی تقسیم اور تقسیم کے نائب وزیر علی الباحدلی ان 40 سے زائد سرکاری اہلکاروں میں شامل تھے جنھیں جون میں انسداد بدعنوانی کی کارروائیوں میں متعدد مقامات پر گرفتار کیا گیا تھا، خاص طور پر بغداد کے مضبوط قلعے والے ’گرین زون‘ میں۔

    کمیشن کے بیان کے مطابق انسداد بدعنوانی کی عدالت نے علی الباحدلی کو ’ناجائز دولت حاصل کرنے‘ کے جرم میں سزا سنائی ہے۔

    اس حکم کے مطابق، علی الباحدلی کو 20 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم حکومت کو واپس کرنی ہوگی اور اتنی ہی رقم کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

  10. عمان کے ساتھ عارضی راہداری پر اتفاق، لیکن امریکہ کے وعدوں کی تکمیل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: ایران

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، تاہم ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنایا جاتا۔

    غریب آبادی نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اگر کوئی جہاز اس سے گزرتا ہے تو یہ صرف ایران کی اطلاع اور اجازت سے ممکن ہوتا ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ’بینک مصر‘ کی شاخوں کا معائنہ کیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت مذکورہ بینک کو امریکی مالیاتی نظام سے منقطع کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔

  11. ایرانی رہبر اعلیٰ کا خلیجی ممالک سے ’اصل دشمن‘ کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی ممالک سمیت مسلم دنیا کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ’اصل دشمن‘ کو پہچانیں اور اس کے خلاف متحد ہو جائیں۔

    اسلامی اتحاد ہفتے کے موقع پر ٹیلیگرام پر شائع ہونے والے ایک تحریری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات ان کے مخالفین کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ امتِ مسلمہ کو مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی دفاع کو فروغ دینا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ جو بھی شخص مسلمانوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتا ہے، خواہ جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر، وہ اسلام کے دشمنوں کی مدد کرتا ہے۔ پیغام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر مسلمان متحد ہوتے تو کیا فلسطینی ’اتنے بے بس‘ رہ جاتے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے خاص طور پر خلیجی عرب حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطے کے عوام اور حکومتیں ’اسلام کے پرچم تلے متحد‘ ہوتیں تو کیا ’گمنام شرپسند عناصر‘ ان کی زمینوں اور وسائل پر نظر ڈالنے کی جرات کر سکتے تھے؟

    واضح رہے کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای چھ ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ ان حملوں میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعے کے روز بھی ایرانی عوام سے خطاب میں قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

  12. شمالی قبرص کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے سات افراد ہلاک، 23 لاپتا

    شمالی قبرص

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    شمالی قبرص کی خود اعلان کردہ ترک جمہوریہ کے وزیر اعظم اونال اوستیل نے ایکس پر کہا ہے کہ کشتی الٹنے کے واقعے میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کے مطابق کشتی میں سوار 267 افراد میں سے 237 کو امدادی ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا ہے جبکہ 23 لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔

    Turkey

    اونال اوستیل نے لکھا کہ ’جہاز میں سوار مجموعی 267 افراد میں سے 237 کو ہماری ٹیموں نے بچا لیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سات افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ 23 لاپتا افراد کو تلاش کرنے کے لیے ہماری تمام تر وسائل کے ساتھ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح لاپتا 23 افراد تک پہنچنا ہے۔

  13. صرف 10 منٹ کا فرق: پرنسپل کے فیصلے نے 900 طلبا کو سیلاب سے بچا لیا

    Nepal

    سیلاب سے تباہ ہونے والے نیپال کے ایک سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ انھوں نے علاقے میں سیلاب کے خطرے سے متعلق مسلسل موصول ہونے والی وارننگز کے بعد تقریباً 900 طلبا کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    نوواکوٹ کے تری بھوون تریشولی سیکنڈری سکول کے سربراہ راجیندر داوادی نے بی بی سی کو بتایا کہ چند ہی منٹوں کے دوران انھیں مختلف افراد کی جانب سے چار فون کالز موصول ہوئیں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

    ان کالز میں یہ اطلاع بھی شامل تھی کہ اوپر کی جانب واقع بستی بیتراوتی میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔

    داوادی کہتے ہیں، ’تب میں نے فیصلہ کر لیا۔ میں نے سوچا کہ مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر سیلاب نہ بھی آتا تو زیادہ سے زیادہ ایک دن کی کلاسیں ہی متاثر ہوتیں۔‘

    ان کے مطابق جب طلبا اور عملے کو بلند مقام کی جانب منتقل کیا جا رہا تھا تو انھوں نے دریا سے تقریباً 100 میٹر دور واقع ایک ہاسٹل کی عمارت کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔

    انھوں نے کہا، ’اگر ہم نے یہ فیصلہ 10 منٹ بعد کیا ہوتا تو آج شاید طلبا سمیت ہم میں سے کوئی بھی آپ سے بات کرنے کے لیے زندہ نہ ہوتا۔‘

  14. متعدد مسافروں کو بچا لیا گیا، زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر تعینات, کیٹی واٹسن، بی بی سی کی نامہ نگار

    boat capsized

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترک حکام کے مطابق کشتی میں 259 مسافر اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔ اگرچہ متعدد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، تاہم لاپتا افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

    ترکی کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے ہیں، جبکہ ریسکیو کیے گئے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

    سمندری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق فِیلو جیٹ ایک تیز رفتار مسافر بردار کشتی ہے جو ترکی کے پرچم تلے چلتی ہے۔

    ویب سائٹ کے مطابق کشتی کی لمبائی 40 میٹر اور چوڑائی 10 میٹر ہے۔

    میرین ٹریفک کا کہنا ہے کہ یہ کشتی اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11:58 پر شمالی قبرص کے شہر گیرنے سے روانہ ہوئی تھی اور شام 5:52 پر ترکی کے ساحلی شہر تاشوجو پہنچنا تھا۔

  15. جانی نقصان ہوا ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں: وزیراعظم کا بیان

    شمالی قبرص

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    موقع سے سامنے آنے والی ویڈیو میں کشتی ایک جانب جھکی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ مسافر لائف جیکٹس پہنے اس کے اوپر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

    شمالی قبرص کی خود ساختہ ترک جمہوریہ کے وزیراعظم اُونال اُستیل نے کہا ہے کہ کیرینیا بندرگاہ کے ساحل سے تقریباً سات کلومیٹر دور ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں گہرا صدمہ اور دکھ ہے۔ اس حادثے میں جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے تمام وسائل کے ساتھ موقع پر موجود ہیں۔‘

    شمالی قبرص کی خود ساختہ ترک جمہوریہ جزیرۂ قبرص کے شمالی حصے میں قائم ایک ریاست ہے جو ترکی کے زیرِ اثر ہے اور صرف ترکی ہی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے۔

  16. کشتی الٹنے کے بعد مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی قبرص کے شہر گیرنے (کیریینیا) کے قریب کشتی الٹنے کے بعد بچائے گئے مسافروں کو ساحل پر منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    جائے وقوعہ اور بندرگاہ پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے ایک ہیلی کاپٹر اور ایمبولینس کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

    حادثے کے بعد حکام کی جانب سے مسافروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔

    شمالی قبرص کے ساحلی شہر گیرنے (کیریینیا) کے میئر مراد شینکول کا کہنا ہے کہ صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے۔

    انھوں نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا کہ شمالی قبرص کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں 270 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔

    تاہم ترکی کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری تازہ بیان کے مطابق جہاز میں 267 افراد سوار تھے۔

    مراد شینکول کے مطابق ساحلی سکیورٹی کے اہلکار اے کے گونلر ایکسپریس (Akgunlerin Express) کے ساتھ مل کر متعدد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے مسافروں کو بچانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

  17. بریکنگ, شمالی قبرص کے ساحل کے نزدیک 270 مسافروں کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی قبرص کے ساحل کے قریب تقریباً 270 مسافروں کو لے جانے والی ایک کشتی الٹ گئی ہے، جس کے بعد امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق حادثے کے بعد مسافروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ساحلی شہر گیرنے (کیریینیا) کے میئر مراد شینکول نے ترک نشریاتی ادارے سی این این ترک کو بتایا کہ کشتی میں سوار 159 افراد تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’صورتحال انتہائی سنگین ہے۔‘

    ترکی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق 259 مسافروں اور عملے کے آٹھ ارکان کو لے جانے والی کشتی میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا تھا اور وہ گیرنے (کیریینیا) بندرگاہ سے چار بحری میل کے فاصلے پر ڈوبنے کے خطرے سے دوچار تھی۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کے بعد تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    بیان کے مطابق کارروائی کے تحت:

    • شمالی قبرص کوسٹ گارڈ کمانڈ کی چار سمندری کشتیوں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔
    • مسافر بردار جہاز AKGÜNLER 3 کو بھی امدادی کارروائی میں شامل کیا گیا۔
    • ترک کوسٹ گارڈ کمانڈ نے مزید پانچ بحری جہاز اور دو ہیلی کاپٹر علاقے میں بھیجے۔
    • ترک بحریہ نے بھی امدادی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے چھ جنگی بحری جہاز تعینات کیے۔

    وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انتہائی احتیاط سے تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  18. ’ہم صرف چند سیکنڈ کے فرق سے بچ گئے‘: طالبہ نے سکول سے انخلا کی داستان سنا دی

    Nepal Flood

    سکول کے پرنسپل کے بروقت فیصلے کے باعث بچائے جانے والے 900 طلبہ میں شامل 16 سالہ یونیشا کا کہنا ہے کہ وہ سیلاب آنے سے محض چند لمحے پہلے محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں اور میری سہیلیاں صرف 10 سیکنڈ کے فرق سے بچ گئیں۔‘

    یونیشا نے بتایا کہ وہ دیگر طلبہ کے ساتھ سکول کے عقب میں موجود ایک تنگ اور کیچڑ بھری پگڈنڈی کے راستے اوپر کی جانب بھاگیں۔

    ان کا کہنا تھا، ’پلک جھپکتے ہی میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بازار کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔‘

    یونیشا، جن کا انٹرویو ان کی والدہ سبینا شریستھا کے ساتھ کیا گیا، نے بتایا کہ سیلاب کی خبر سننے کے بعد ان کے اہل خانہ کئی گھنٹوں تک شدید پریشانی کے عالم میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’میں شدید گھبراہٹ کا شکار تھی۔ میں نے اپنی بیٹی اور اس کے والد کو بار بار فون کرنے کی کوشش کی، لیکن دونوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔‘

    شریسٹھا بتاتی ہیں کہ جب آخرکار ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تو انھیں کچھ اطمینان ہوا، مگر خاندان اس وقت تک پریشان رہا جب تک یونیشا تین روز بعد گھر واپس نہیں آ گئی۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت خوش ہوں اور سکون محسوس کر رہی ہوں۔ خدا نے میری بیٹی کو بچا لیا۔‘

  19. دُکی میں بم دھماکے سے تین بھائی ہلاک، ماشکیل میں پولیس سٹیشن اور کسٹمز دفتر نذرِ آتش, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    Dukki, Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع دُکی میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے، جبکہ گذشتہ روز ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس سٹیشن اور کسٹمز کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ دو روز کے دوران صوبے میں تشدد کے یہ تیسرے بڑے واقعات ہیں۔

    دُکی میں بم دھماکہ کیسے پیش آیا؟

    دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار کے مطابق بم دھماکے کا واقعہ تحصیل لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو کسی نامعلوم شخص نے فون پر اطلاع دی تھی کہ ان کی زرعی اراضی پر نصب سولر پلیٹوں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد چار افراد ایک گاڑی میں اپنی زمین کی جانب روانہ ہوئے۔

    پولیس کے مطابق راستے میں ایک ندی کے قریب ان کی گاڑی کے نزدیک زور دار دھماکہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد علاقے میں پہلے سے نصب کیا گیا تھا۔

    منصور احمد بزدار نے بتایا کہ دھماکے میں تین افراد، جو آپس میں بھائی تھے، ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔ لاشوں اور زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ضلع مستونگ میں مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک فروٹ ٹھیکیدار ہلاک ہو گیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کھڈکوچہ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

    ان کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر ضلع پشین سے تعلق رکھنے والا ایک فروٹ ٹھیکیدار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

    کھڈکوچہ کے علاقے میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے اور سکیورٹی فورسز وہاں کالعدم تنظیموں سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

    ماشکیل میں کیا ہوا؟

    گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد ضلع واشک کے سرحدی شہر ماشکیل کے بعض علاقوں میں داخل ہوئی۔

    مقامی رہائشیوں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ مسلح افراد کی آمد کے بعد شہر کے مختلف حصوں سے دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ایک حکومتی عہدیدار اور ایک پولیس اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ حملہ آوروں نے ایک پولیس سٹیشن اور کسٹمز کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ ان کے مطابق حملہ آور کچھ اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہو گئے۔

    ماشکیل بلوچستان کا ایک دور افتادہ سرحدی علاقہ ہے جو ایرانی سرحد سے تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگرچہ ضلع واشک کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ماشکیل شہر میں یہ نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

    اس سے قبل جولائی کے دوسرے ہفتے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک حجام کی دکان پر حملہ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو قتل کر دیا تھا۔

  20. تبت میں لاپتا افراد کے زندہ ملنے کی امیدیں معدوم، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ, سٹیفن میکڈونل، بی بی سی کے نامہ نگار برائے چین

    Tibet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تبت کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    سرحد کے تبتی علاقے سے آنے والی خبریں نہایت تشویش ناک ہیں۔

    شیگاتسے کے حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کو اب تک مزید کوئی زندہ بچ جانے والا شخص نہیں ملا۔ ریسکیو اہلکار کئی روز سے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ہنگامی صورتحال کے پانچویں روز لاپتا افراد کے زندہ ملنے کی امیدیں بہت کم ہوتی جا رہی ہیں۔

    546 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب انجینیئرز تباہی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تک سڑک کا رابطہ بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ شدید سیلابی ریلے اور مٹی کے تودوں نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا، جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

    تاہم صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ اگرچہ سڑک کا رابطہ جلد بحال ہو جائے، لیکن سیکڑوں لاپتا افراد کے لیے اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔