لائیو, مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر ترکی پہنچ گئے
ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوگا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ترکی پہنچ گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسحاق ڈار بھی ترکی پہنچے تھے۔
امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے امارات میں بینک مصر کی شاخ پر پابندیاں عائد کر دیں
لائیو کوریج
نعیم قاسم کا لبنان اسرائیل معاہدے سے ایک بار پھر انکار، ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنلبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم
لبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعے کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی حمایت یافتہ گروپ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘
انھوں نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ’ہم فریم ورک معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات اس وقت شروع ہوئے تھے جب دو مارچ کو حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے کے بعد جنگ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حملوں اور لبنان میں زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لبنانی حکام کے مطابق جنگ میں 4,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جون کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے تھے، جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کا مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ اس عمل کا آغاز ’ٹیسٹ زونز‘ سے ہونا ہے۔
نعیم قاسم نے اس معاہدے کو ’ناجائز، غیر قانونی، توہین آمیز اور لبنان کی خودمختاری کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ ’حزب اللہ ٹیسٹ زونز اور کسی بھی تصدیقی طریقہ کار کی مخالفت کرتی ہے۔‘
انھوں نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد کی حمایت بھی کی اور کہا کہ ’ہم سر بلند رکھیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام پر ایرانی حکام کا ردعمل، حکومت کی حمایت اور ’سماجی اتحاد‘ پر زور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک پیغام سامنے آنے کے بعد کئی ایرانی حکام نے اس پر ردعمل دیا ہے۔ پیغام میں مسعود پزشکیان کی حکومت کی حمایت اور ملک میں ’سماجی اتحاد‘ برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان کی حکومت کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور ناکہ بندی کے دوران عوام کی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ملکی پیداوار بڑھانے اور لین دین میں امریکی ڈالر کا کردار بتدریج ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
رہبرِ انقلاب سے منصوب کیے جانے والے اس بیان میں کہا گیا کہ ’گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی اور ااسرائیلی جارحیت کے باوجود ایرانی قوم نے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
انھوں نے صدر پزشکیان سمیت سرکاری اداروں کے ملازمین اور منتظمین کی ان کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا جن کے ذریعے عوام کو اشیا اور مختلف خدمات کی فراہمی، جنگ سے متاثرہ اہم علاقوں کی بحالی اور توانائی کے انتظام کو یقینی بنایا گیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے مہنگائی، بے روزگاری، اشیا اور خدمات کی قیمتوں و منڈی کے انتظام، اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور اسے ضروری شعبوں کی جانب منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار بڑھانے پر سنجیدہ توجہ دینے پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ڈالر کے کردار کو بتدریج ختم کیا جانا چاہیے اور معیشت سے متعلق تمام پالیسیوں میں ’مزاحمتی معیشت‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان تمام مسائل کے حل کی بنیادی کنجی زیادہ سے زیادہ ملکی پیداوار پر انحصار ہے، تاہم جہاں ملکی پیداوار کافی نہ ہو وہاں درآمدات کا درست اور دانشمندانہ استعمال کیا جانا چاہیے۔‘
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’ایران کا دشمن یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ترقی کا راستہ امریکہ کی پیروی اور اس کے مطالبات تسلیم کرنے میں ہے، لیکن ماضی میں ایران اور اس کے وسائل کے ساتھ امریکہ کے رویے سے اس کے برعکس ثابت ہوتا ہے۔‘
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے ’مایوس کن گفتگو‘ سے گریز کرنے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے روکنے پر زور دینا ایک واضح پالیسی ہے۔‘ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور سماجی اتحاد، قومی طاقت اور سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا کہ ’اس پیغام کو تمام حکام کے لیے ’آنکھیں کھول دینے والا‘ ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی قسم کی ’مایوس کن گفتگو‘ سے گریز کیا جائے، جبکہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والا ہر اقدام قومی اور مذہبی اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔‘
ایران سے رابطہ اور اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں: پاسدارانِ انقلاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران سے رابطہ اور اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حکام کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے سے متعلق بیانات کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی فورس کے مطابق ’امریکہ یہ بیانات تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے دے رہا ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار ہے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ختم نہیں ہوتی اور ایران کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘
امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے امارات میں بینک مصر کی شاخ پر پابندیاں عائد کر دیں
امریکی وزارتِ خزانہ نے متحدہ عرب
امارات میں بینک مصر کی شاخ کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم کرنے کا اعلان
کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے
منصوبے کا حصہ ہے۔
بینک مصر، مصر کا دوسرا بڑا سرکاری
بینک ہے، جس کی متحدہ عرب امارات میں بھی شاخ موجود ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ
امارات میں بینک مصر کی شاخ ’ایرانی حکومت کی امریکی ڈالر تک رسائی کے اہم ترین
راستوں میں سے ایک‘ ہے اور وزارت کے جائزوں کے مطابق اس بینک نے جنوری 2024 سے
رواں سال جون تک 103 کمپنیوں کے لیے تقریباً ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالی لین دین
انجام دی، ایسی کمپنیاں جو ممکنہ طور پر ایران کے ’شیڈو بینکاری نیٹ ورک‘ کا حصہ
ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے
ایکس پر لکھا: ’امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تہران کی معیشت کی باقی ماندہ
شریانیں بھی کاٹ دے گا اور بالآخر ایرانی حکومت کی جانب سے پیدا کیے جانے والے
خطرات کا خاتمہ کرے گا۔ ہم نے ایرانی حکومت کے حامیوں اور سہولت کاروں کو خبردار
کیا تھا کہ وہ امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کے فوائد حاصل نہیں کر
سکتے۔‘
انھوں
نے مزید لکھا کہ امارات میں بینک مصر کی شاخ نے ’اس انتباہ کو آزمانے کے لیے
بھاری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور آج ہم اس بینک کو ایرانی حکومت کی واضح اور
مسلسل حمایت پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے پہلا قدم اٹھا رہے ہیں۔‘
نیپال میں سیلاب: اب تک ہم کیا جانتے ہیں
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
نیپال میں سیلاب کو آئے 60 گھنٹے سے
سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کا
کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے، جبکہ 2000 افراد
تا حال لاپتہ ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ادارے کے مطابق ان لاپتہ افراد میں
517 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم اس سے قبل نیپالی پولیس نے بتایا تھا کہ 575
غیر ملکی شہری لاپتہ ہیں، جن میں 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں
پانچ افراد ہلاک اور 550 سے زائد لاپتہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان اعداد و
شمار میں نیپال میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد شامل ہیں یا نہیں۔
چینی حکام لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے
والی ایک عارضی جھیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جھیل میں شگاف پڑنے اور مزید پانی کے
اخراج کے خدشے کے باعث تلاش کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں، تاہم بعد
میں امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
دنیا
بھر میں متعدد خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر ہیں۔
کرک میں کارروائی کر کے دو شدت پسند ہلاک کر دیے: محکمۂ انسداد دہشت گردی کا دعویٰ
محکمۂ انسداد دہشت گردی (کاؤنٹر
ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سی ٹی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں خفیہ
اطلاع پر کی گئی کارروائی میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کی گئی پریس
ریلیز کے مطابق، اطلاع موصول ہوئی کہ تھانہ خرم کی حدود میں نیکی صاحب زیارت کے
قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور نائب کمانڈر شعیب عرف سیف نے
دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سڑک کو بند کر رکھا ہے اور بارودی مواد نصب کرنے کی تیاری
کر رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے
پر کوہاٹ ریجن کی ٹیموں نے اضافی نفری کے ساتھ علاقے کا رخ کیا۔
حکام کے مطابق اہلکاروں کی آمد پر
مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔
پریس ریلیز کے مطابق دونوں جانب سے
کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ فائرنگ رکنے کے بعد علاقے کی تلاشی لی گئی
تو دو شدت پسندوں کی لاشیں ملیں جبکہ ان کے دیگر ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ
اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے تھے۔
سی
ٹی ڈی کے مطابق ہلاک افراد کے قبضے سے دو سب مشین گنز، دو ہینڈ گرینیڈز، چھ میگزین
اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے جنھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
نجی املاک شدت پسندی کے لیے استعمال ہوئیں تو مالکان کو سہولت کار سمجھا جائے گا: وزیراعلیٰ بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر مستونگ میں انگور کے باغات سے سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوتا ہے تو جائیداد کے مالکان سہولت کار تصور کیے جائیں گے۔
جمعہ کے روز سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت ایسی کارروائیاں نہیں چاہتی جن سے عام شہری متاثر ہوں، اگرچہ شدت پسند اکثر عام انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔
مستونگ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور انگور کے باغات اور نجی جائیدادوں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی باغ سے سکیورٹی فورسز کے قافلوں یا وزیر داخلہ پر حملہ کیا جاتا ہے تو باغات کے مالکان یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے کہ انھیں اپنی زمین پر شدت پسندوں کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔
ان کے بقول اگر نجی ملکیت شدت پسندی کے لیے استعمال کی جاتی ہے تو اس کے مالک کو بھی سہولت کار سمجھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ باغات کے مالکان کو بار بار تنبیہ کی جا رہی ہے۔ اگر شدت پسندی کے لیے نجی جائیدادوں کا استعمال جاری رہا تو حکومت کے پاس لوگوں کو وہاں سے منتقل کر کے دوسری جگہ آباد کرنے یا شدت پسندی کے لیے استعمال کیے جانے والے باغات کو ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
میر سرفراز بگٹی کے مطابق یہ بات قابل قبول نہیں کہ نجی املاک شدت پسندی کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔
بریکنگ, نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 579 ہو گئی:حکام
نیپال میں حکام نے سیلاب سے متاثر افراد کی تازہ اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے۔
نیپال کے قومی ادارہ برائے آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام کی جانب سے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 4,000 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے تاہم 517 غیرملکی شہریوں سمیت تقریباً 2,000 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے 15,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
کچھ دیر قبل ہم نے نیپالی پولیس کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ 575 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔
یاد رہے کہ نیپال کی پولیس اور قومی ادارہ برائے آفات دونوں ادارے الگ الگ ہیں اور ان کے اعداد و شمارجاری کرنے کے دوران دو گھنٹے کا فرق ہے۔
لاپتہ برطانوی خاتون کے شوہر جو ’خود بدترین صورتحال کے لیے تیار کر رہے ہیں‘, جیمس کیلی، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہVikram Kolagatla
،تصویر کا کیپشنوکرم کولگاٹلا اپنی اہلیہ گیتھا ریڈی کے ساتھ
نیپال کے سیلاب میں لاپتہ ایک برطانوی خاتون کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وکرم کولگاٹلا کو اب خدشات ہیں کہ آیا ان کی اہلیہ گیتھا ریڈی اچانک آنے والے سیلاب میں زندہ بچ سکی ہیں یا نہیں۔
لندن سے تعلق رکھنے والے وکرم کا کہنا ہے کہ 43 سالہ گیتھا ہفتے کے روز ایک مذہبی مقام کی زیارت کے لیے اس علاقے گئی تھیں اور انھیں چار ستمبر کو واپس آنا تھا۔
سیلاب آنے کے بعد سے ان کا گیتھا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ان کے بقول برطانوی قونصل خانے سے بھی انھیں ’زیادہ معلومات‘ نہیں مل رہی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ قونصل خانے نے انھیں بتایا ہے کہ وہ ’تازہ معلومات کے لیے نیپال پر انحصار کر رہے ہیں۔‘
50 سالہ وکرم اور ان کی 12 اور 14 سالہ دو بیٹیاں کسی بھی خبر کے انتظار میں بے چینی سے وقت گزار رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ میری دو چھوٹی بیٹیاں ہیں اور ان کے سکول اگلے ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔ بچے اب بھی اس بات پر یقین نہیں کر رہے۔‘
’ان کا خیال ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقے میں پھنسی ہوئی ہیں اور واپس آ جائیں گی۔ موبائل فون کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔ میں انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھیں۔‘
بریکنگ, نیپال میں سیلاب، لاپتہ غیرملکیوں کی تعداد 575 ہو گئی، 149 نیپالی شہری بھی لاپتہ
نیپالی پولیس نے کہا ہے کہ نیپال میں لاپتہ غیرملکی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 575 ہو گئی ہے۔
یہ تعداد تقریباً چھ گھنٹے قبل جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں زیادہ ہے جب حکام نے بتایا تھا کہ تقریباً 537 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔
پولیس کے مطابق 36 ممالک کے شہریوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان میں انڈیا کے 183 شہری، امریکہ کے 65 شہری اور یوکرین کے 62 شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے 33 شہری بھی لاپتہ ہیں۔
پولیس کے مطابق 149 نیپالی شہری بھی تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، اب تک کی صورتحال پر ایک نظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سامنے آ رہا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈ کے باعث بننے والی جھیل پر چینی ماہرین بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کٹھمنڈو میں اس وقت شام ہو چکی ہے۔ بدھ کو ملبے کے ایک بڑے ریلے کے شمالی نیپال کے قصبوں کی جانب بڑھنے کے بعد امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
تازہ پیش رفت کی اگر بات کی جائے تو چینی حکام بدھ کی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی ایک جھیل کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پانی بہنے کے خطرے کے باعث صورتحال اس وقت ایک نازک مرحلے میں ہے۔
اس سے قبل چینی سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ جھیل سے پانی رسنے کے بعد سے امدادی کارروائیاں روکنا پڑی تھیں تاہم بعد میں یہ کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
دوسری جانب چین نے تصدیق کی ہے کہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔
نیپال میں پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 547 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ سیلاب سے کم از کم 1,473 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نیپالی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق تلاش اور لاشوں کی بازیابی کا عمل تیز کرنے کے لیے مزید 1,200 فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب سے اب تک 900 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں، جن میں سینکڑوں غیرملکی سیاح شامل ہیں۔ یہ سیاح انڈیا، امریکہ، یوکرین، ملائیشیا، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
میر رضا ہلاکت کیس: پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم ڈاکٹر کو نوٹسز جاری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار حالات میں ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دونوں پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر جمعے کے روز میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ وکیل جبران ناصر کو بھی کمیشن کے روبرو طلب کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
بعد میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھے، جس کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔
کارروائی کے دوران جبران ناصر نے بتایا کہ 19 اگست کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی بات ہوئی تھی، تاہم اس وقت نئی انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی اس لیے درخواست کی گئی کہ اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم جاری کیا کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا کہ میر رضا کیس کے حوالے سے معلومات رکھنے والے افراد کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے، یہ اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع ہو اور معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔
جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت کو پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹ اور اصل دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے موکل جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
ان کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے کے درمیان کوئی پولیس افسر وہاں نہیں آیا، تاہم سوا 12 بجے دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
جبران ناصر کے مطابق وہ دونوں اہلکار میر رضا کی لاش دیکھنے والے مقامی نرسری کے شخص کی اطلاع پر وہاں پہنچے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ میر رضا کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کیا۔
کمیشن کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی مذمت کی۔
انھوں نے کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود میر رضا کے قتل کے ملزمان کا تعاقب نہیں کیا جا سکا اور انصاف کے لیے احتجاج جاری رہے گا۔
جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے والدین کے لیے وہ ان کا بیٹا تھا اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جبران ناصر کے مطابق جسٹس عمر سیال نے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی عوام کے لیے کھلی رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
انھوں نے کہا کہ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کا کام فیکٹ فائنڈنگ ہے، تفتیش کرنا نہیں جبکہ ملزمان کو گرفتار کرنا اور چالان عدالت میں جمع کرانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔
’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘، مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج
دوسری جانب کراچی میں شاہراہِ فیصل پر احتجاج اور مبینہ طور پر سڑک بلاک کرنے کے الزام میں پولیس نے 20 نامزد افراد سمیت تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 27 اگست کی رات تقریباً ساڑھے 12 بجے نرسری بس سٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً 100 افراد نے صدر سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہِ فیصل کی ٹریک کو مبینہ طور پر بند کر رکھا تھا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینرز تھے جبکہ ایک بینر پر ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘ کا مطالبہ درج تھا۔
مظاہرین مبینہ طور پر آنے جانے والی گاڑیوں کو بھی روک رہے تھے۔
ایف آئی آر میں عدنان رضا، دانش رحمان، دانش رضا، فیضان مونٹا، حمزہ خان، رضا حسن سوریا، علی زبیر عرف زبیری، طلحہ، علی ذوہیب، شہریار، سبطین، عمار، عبداللہ، ضرار خالد، احمد، بلال خان، جمیل، طلحہ شیخ، بابر حمید اور شیخ طلحہ بن ناصر کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد افراد کے ساتھ 75 سے 80 دیگر نامعلوم افراد بھی موجود تھے۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو سڑک کھولنے اور منتشر ہونے کے لیے سمجھانے کی کوشش کی، تاہم ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی۔
پولیس نے مقدمے میں ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع، سرکاری اہلکار کے کام میں مداخلت، راستہ روکنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں یہ مقدمہ درج کیا ہے۔
نیپال میں موسلا دھار بارش جو امدادی کاموں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے, آزادہ مشیری، بی بی سی نیپال
اس وقت نیپال کے مقام تریشولی میں موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔
امدادی کارکن پہلے ہی ہمیں بتا چکے تھے کہ موسم کی خراب صورتحال ان کی امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔
یہ پہاڑی علاقہ ہے اور دریا کے دوسری جانب موجود سب سے زیادہ متاثرہ علاقے اب باقی علاقوں سے کٹ چکے ہیں۔
یہاں موجود پل بہہ گئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہم ابھی تریشولی دریا کے کنارے سے واپس آئے ہیں جہاں ہنگامی صورتحال سے متعلق انتباہات میں نرمی کے بعد ہماری رسائی ممکن ہوئی تھی۔
بدھ کے روز فلیش فلڈنگ سے تباہی کے بعد سڑکیں اور عمارتیں پہلے ہی کیچڑ میں ڈوبی ہوئی تھیں اور امدادی کارکن مزید سیلاب کے خدشے کے پیش نظر مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
ریسکیو اہلکار اس صورتحال سے شدید دباؤ میں ہیں اور یہ بارش ان کے لیے ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگی۔
نیپال میں سیلاب سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ، ریڈ کراس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے نیپال میں وفد کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے ملک میں مزید سیلاب آنے اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات سے بھی آگاہ کیا۔
ڈیوّ فشر نے آج صبح ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں۔‘
آئی ایف آر سی نے فوری جان بچانے والی امدادی کارروائیوں کے لیے دو کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک (23 ملین پاؤنڈ؛ 31 ملین ڈالر) کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے پورے عالمی نیٹ ورک کو متحرک کر دیا ہے۔
نیپال میں اچانک سیلاب، 100 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا: نیپال ٹورازم بورڈ
،تصویر کا ذریعہEPA
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق ملک میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد کم از کم 121 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نیپال میں پولیس کے مطابق اس سیلاب سے مرنے والے کم از کم 547 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
ٹورازم بورڈ کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکی افراد کو بچایا گیا ہے ان میں 85 انڈین شہری، 16 چینی شہری اور نو جنوبی کوریائی شہری شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کی شہریت کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔
اس سے قبل حکام نے 500 سے زیادہ ایسے سیاحوں کی فہرست جاری کی تھی جو اب بھی لاپتہ ہیں۔
ٹورازم بورڈ کے مطابق زخمیوں اور متاثرہ افراد کے ریسکیو اور انخلا کے لیے تمام ضروری کوششیں جاری ہیں۔
نیپال میں سیلاب، اب تک 538 مرنے والوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں: ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاری کے باعث اب تک 538 مرنے والے افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے بعد امدادی اور بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ادارے نے لاپتہ افراد کی تعداد سے متعلق اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن میں 517 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
اس سے قبل نیپال پولیس نے کہا تھا کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 489 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
دونوں ادارے ریسکیو آپریشن کے بارے میں الگ الگ اپ ڈیٹس جاری کر رہے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے
،تصویر کا ذریعہAnwar Hussein/Getty Images
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ 5 (پنجم) 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ انھیں گزشتہ ہفتے خون کی ایک نایاب بیماری کی تشخیص کے بعد علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اوسلو میں شاہی محل نے اس حوالے سے بیان میں کہا کہ وہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق 06:35 پر اوسلو کے نیشنل ہسپتال میں پُرسکون طور پر وفات پا گئے۔
اس خبر کے اعلان کے ساتھ ہی محل کی چھت پر نصب شاہی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔
ان کی وفات سے پہلے شاہی خاندان کے ارکان نے بادشاہ سے عیادت کی جبکہ لوگوں نے محل کے باہر پھول رکھے تھے۔
ہیرالڈ 14ویں صدی کے بعد ناروے میں پیدا ہونے والے ناروے کے پہلے بادشاہ تھے۔ ان کے بعد ان کے 53 سالہ بیٹے ہاکون نے ان کی جگہ سنبھالی ہے جس کے بعد آج وہ حکومت کے ساتھ ریاستی کونسل کا ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد کریں گے۔
ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ ملکہ سونیا، ان کی بیٹی شہزادی مارتھا لوئیز، ان کے بیٹے اور نئے بادشاہ ہاکون، اور چھ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔
دنیا بھر سے تعزیتی پیغام
برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ کی وفات پر اپنی انتہائی دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف نے اپنے تعزیتی پیغام میں انھیں ’میرے، میرے خاندان اور سویڈن کے ایک اچھے دوست‘ کے طور پر یاد کیا اور ساتھ ہی ہاکون کے لیے ’کامیابی اور خوش بختی‘ کی دعا کی۔
شاہی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ سادہ مزاج، قابل احترام اور عوام میں بے حد محبوب تھے، 35 برس تک تخت پر فائز رہنے کے بعد ہیرالڈ کو ایک مقبول اور اصلاحات لانے والی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنھوں نے بادشاہت کو جدید بنایا۔
مبصرین نے ہیرالڈ کو قوم کا سرپرست اور عوامی بادشاہ قرار دیا۔ یہ لقب ان کے والد بادشاہ اولاو پنجم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
حالیہ برسوں میں ہیرالڈ اور ان کے خاندان کو صحت کے مسائل اور چند تنازعات کا بھی سامنا رہا۔
ان میں خاص طور پر ان کی بہو میتے ماریت کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات اور ان کے سوتیلے پوتے ماریئس بورگ ہوئیبی کے خلاف مبینہ ریپ کے مقدمے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
مورخ اور ٹی وی 2 کے شاہی امور کے نامہ نگار اولے یورگن شولسرود ہانسن نے بی بی سی کو بادشاہ ہیرالڈ کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت زیادہ مساوات پسند اور شفاف بنی۔
جب ناروے کی قومی فٹبال ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے واپس لوٹی تو ہیرالڈ نے شاہی محل میں ان کا استقبال کیا۔
دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں جب ایڈولف ہٹلر نے ناروے پر حملے کا حکم دیا تو ہیرالڈ کی عمر صرف تین برس تھی۔
ہیرالڈ کی والدہ اپنے بچوں کے ساتھ سرحد پار کر کے سویڈن چلی گئیں اور بعد میں وہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی دعوت پر امریکہ گئے۔
شہزادہ ہیرالڈ جنگ کے اختتام پر اپنے خاندان کے ساتھ ناروے واپس آئے جہاں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور لازمی فوجی خدمت بھی انجام دی۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشناس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی
روایت سے ہٹ کر عام شہری خاتون سے شادی
ایک عام شہری خاتون سے شادی کر کے روایت سے ہٹ کر قدم اٹھایا اور ناروے کے مشکل ترین اوقات میں اتحاد کی علامت بنے رہے۔
وہ 1957 میں ولی عہد بنے اور 1960 سے 1962 تک آکسفورڈ کے بیلیول کالج میں سماجی علوم، تاریخ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔
ان کی ملاقات ایک کاروباری شخصیت کی بیٹی سونیا ہیرالڈسن سے ایک تقریب میں ہوئی، لیکن ولی عہد کو ان سے شادی کی اجازت ملنے کے لیے نو سال انتظار کرنا پڑا۔
ان کے والد، بادشاہ اولاو، ہمیشہ یہ امید رکھتے تھے کہ وہ کسی یورپی شہزادی سے شادی کریں گے۔
بالآخر انھوں نے اپنے والد سے کہہ دیا کہ اگر انھیں سونیا سے شادی کی اجازت نہ ملی تو وہ ساری زندگی غیر شادی شدہ رہیں گے۔
آخرکار ان کے والد نے رضامندی دے دی، اور اس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی۔
نیپال کے سیلاب زدگان: ’پانی کبھی اندر کھینچتا اور کبھی باہر پھینکتا تھا‘
نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں کی تباہی، سڑکوں کے زیرِ آب آنے اور پلوں کے بہہ جانے کے بعد بچ جانے والے افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ حکام کے مطابق نیپال میں سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور کم از کم 489 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں مزید سیلاب کے خدشے کے پیشِ نظر تیاری کر رہی ہیں۔
،ویڈیو کیپشننیپال کے سیلاب زدگان: ’پانی کبھی اندر کھینچتا تھا کبھی باہر پھینکتا تھا‘
یاد رہے کہ اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید سیلاب بھی آ سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں پر پڑی رکاوٹیں ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔
نیپال اور تبت میں امدادی کاروائیاں جاری، سیلاب کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ
،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images
ہم نیپال اور تبت
کی سرحدی علاقوں کی صورتحال پر آج بھی گہری نظر رکھی ہوئے ہیں کیونکہ اس بات کا خدشہ
برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید
سیلاب آ سکتے ہیں۔
خطے سے موصول ہونے
والی تازہ ترین معلومات کا خلاصہ:
چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے اس اطلاع کے
بعد کہ دی تھی کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل سے پانی کا اخراج شروع
ہو گیا ہے تبت میں امدادی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔ تاہم
بعد میں حکام نے بتایا کہ پانی کا اخراج رک گیا ہے اور امدادی کارروائیاں
دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آئندہ چند
گھنٹوں میں جھیل کی صورتحال کی نگرانی کے لیے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے
جا رہے ہیں۔
نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں
ہلاکتوں کی تعداد اب 475 ہو گئی ہے، جبکہ 900 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
حکام کی جانب سے537 غیر ملکی شہریوں کی فہرست
جاری کی گئی ہے جن کے بارے میں سیلاب کے بعد اب تک کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
ان میں 178 انڈین، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 51 ملائیشین، 33 آسٹریلوی اور 33 برطانوی
شہری شامل ہیں۔
نیپالی فوج کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ
علاقوں سے900 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، جن میں 119 سیاح بھی شامل ہیں۔
فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش اور
غیر متوقع موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان
کے بقول ’میں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کی تباہی نہیں دیکھی۔‘
تبت میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی
تصدیق ہوئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 55 سیاحوں
کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و
شمار نیپال کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں شامل ہیں یا ان سے الگ
ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کیوں آیا؟
،ویڈیو کیپشنزلزلہ یا گلیشیئر: نیپال اور تبت کی سرحد پر سیلاب کیسے آیا؟